حضرت اقبالؒ اور موجودہ وسابقہ حکمران!
10 نومبر 2018 2018-11-10

اگلے روز میں اپنے ایک عزیز سے ملنے ڈیفنس گیا، مجھے ڈرائنگ روم میں بیٹھا دیا گیا، چند لمحوں بعد میرے اس عزیز کا تقریباً دس سالہ بچہ جوایچی سن کالج لاہور کا طالب علم ہے، میرے پاس آکربیٹھ گیا اور کہنے لگا ”ڈیڈی کو ایک ضروری کام سے گھر سے باہر جانا پڑ گیا ہے، وہ کچھ دیر میں واپس آجائیں گے، وہ مجھ سے کہہ گئے تھے انکل آئیں انہیں بیٹھا لینا “ ،....بچے کے ساتھ گپ شپ شروع ہوئی۔ وہ مجھ سے پوچھنے لگا آپ کیا کرتے ہیں؟۔ میں نے بتایا میں گورنمنٹ کالج میں پڑھاتا ہوں،.... وہ بولا ”وہ تو ٹھیک ہے مگر آپ کرتے کیا ہیں ؟ ، میں عرض کیا ”بیٹا بتایا تو ہے میں استاد ہوں اور کچھ نہیں کرتا“۔....اس کے ساتھ مزید اس طرح کی ”آئیں بائیں شائیں“ ہوتی رہیں، پھر وہ مجھ سے پوچھنے لگا ”انکل 9نومبر کو اقبال ڈے کی چھٹی ہے ؟۔ اس کے پوچھنے کا انداز اس طرح کا تھا مجھے لگا نوجوان نسل نے اقبالؒ کی مکمل طورپر چھٹی کروادی ہے۔ اس پر مجھے لاہور کی ایک ماڈرن سوسائٹی میں رہنے والا وہ بچہ بھی یاد آگیا جس کے دادا کتنی ہی دیر اسے پاس بیٹھا کر حضرت قائداعظمؒ کی عظمتوں کی داستانیں سناتے رہے اور اسے احساس دلاتے رہے قائداعظم ؒکتنے بڑے لیڈر تھے۔ بچے نے ان کی ساری باتیں غور سے سنیں اور پوچھا ”دادا ابو قائداعظم ، شاہ رخ خان سے بھی بڑے لیڈر تھے؟“....یہ ایک المیہ ہے ہمارے بچے اب اپنا ”لیڈر“ اداکاروں اور اداکاراﺅں کو مانتے ہیں، بچے کیا بڑے بھی مانتے ہیں۔ ایک فلم قائداعظم ؒ کی زندگی پر بھی بنی تھی، ”ڈونکی راجہ“ نے اس کے مقابلے میں ہزار گنا زیادہ بزنس کیا، .... ہمارے حکمرانوں نے بھی اقبال ڈے کی چھٹی منسوخ کرکے اپنی طرف سے اقبالؒ کی چھٹی کردی ہے۔ یہ کارنامہ مسلم لیگ نون کی حکومت نے شاید اس لیے کیا ہوگا ۔ حضرت اقبالؒ نے پاکستان کے خواب میں یہ کیوں نہیں دیکھا تھا کہ پاکستان میں ہمیشہ نون لیگ کی حکومت رہے گی اور وزیراعظم میاں محمد نواز شریف یا میاں محمد شریف ہی رہیں گے؟۔ سابقہ خادم پنجاب اور نیب کے موجودہ قیدی حضرت شہباز شریف کو اتنے اشعار شاید حضرت اقبالؒ کے نہیں آتے جتنے اسے حضرت قاسمی کے آتے ہیں جسے اب سپریم کورٹ نے بغیر ڈکارکے ہضم کیا ہوا سرکاری مال واپس کرنے کی ہدایت کی ہے۔ قاسمی صاحب کی ایک غزل کے دو اشعار محترم خادم پنجاب تقریباً ہرمحفل میں بڑے جوش وجذبے سے سنایا کرتے تھے، ” خوشبوﺅں کا اب نگر آباد ہونا چاہیے .... اس نظام زر کو اب برباد ہونا چاہیے “ ....اب محترم قاسمی صاحب کا اپنا ”نظام زر“ برباد ہونے جارہا ہے تو امید ہے اپنے حالیہ احساسات بھی اپنے اگلے کسی کالم میں وہ لکھ دیں گے۔ صرف قاسمی صاحب کا ہی نہیں ان کے محبوب شریف سیاستدانوں کا ”نظام زر“ بھی بڑی تیزی سے بربادی کی جانب رواں دواں ہے، ممکن ہے آئندہ کچھ دنوں میں دونوں کی حالت اس شعر جیسی ہو جائے ”آعندلیب مل کے کریں آہ وزاریاں.... تو ہائے گل پکار میں چلاﺅں ہائے دل “....حال دل تو ان کے اللہ ہی جانتا ہے مگر جو کچھ ان کے ساتھ ہوا اور ہونے جارہا ہے اس کا تصور بھی انہوں نے نہیں کیا ہوگا،.... سابقہ حکمرانوں کی قاسمی صاحب نے اتنی خوشامد کرلی کہ موجودہ حکمرانوں کی خوشامد کرنے کے لیے اب ان کے پاس کچھ بچا ہی نہیں۔ ان کا ایک اور شعر محترم خادم پنجاب مختلف محفلوں میں بڑا لہک لہک کر سناتے تھے....” ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ وبازار میں ....عدل کو بھی صاحب اولاد ہونا چاہیے“ ....میں ہمیشہ ان سے کہتا تھا ”عدل“ کو اتنا یاد نہ کیا کریں، جس دن عدل واقعی صاحب اولاد ہوگیا آپ کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ اور وہ مرحلہ اب آیا ہی چاہتا ہے۔ حد تو یہ ہے ایک بار نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے زیراہتمام حضرت اقبالؒ کی یاد میں منعقدہ محفل میں بھی حضرت قاسمی کے اشعار وہ سناتے رہے۔ اللہ جانے حضرت اقبالؒ کی روح پر اس دن کیا گزری ہوگی ؟ حضرت اقبالؒ کا قصور ان کی نظروں میں شاید یہ ہو اقبالؒ کی زندگی نے وفا نہ کی اور وہ میاں صاحبان کے حق میں دوچار غزلیں، نظمیں یا قصیدے وغیرہ نہیں لکھ سکے، .... سنا ہے ایک بار بڑے میاں صاحب اپنی کسی تقریر میں حضرت اقبالؒ کے کچھ اشعار شامل کرنا چاہتے تھے۔ اس سلسلے میں ”رہنمائی “ کے لیے انہوں نے اپنے باورچی اقبال چٹے کو بلالیا تھا، حضرت اقبالؒ تو اس وجہ سے بھی انہیں زہر لگتے ہوں گے انہوں نے ایسے خوبصورت مگر حکمرانوں کو چبھنے والے اشعار کیوں کہے؟“ میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے،.... خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر“ ....اس کے برعکس ہمارے حکمرانوں نے ”خودیاں“ بیچ بیچ کر امیری میں اتنا نام پیدا کرلیا کوئی دوسرے بڑے نمبر کا دولت مند پاکستانی بن گیا کوئی پہلے بڑے نمبر کا بن گیا، دوسری طرف عوام بدحالی کے اس بدترین مقام پر پہنچ گئے جہاں ”بھیک“ اب ہمارا قومی نشان یا قومی فریضہ بن کر رہ گیا ہے، ....وزیراعظم عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے اپنی طرف سے ٹھیک کہتے تھے، ان کا جذبہ واقعی یہی تھا ”ہم بھیک نہیں مانگیں گے“ ....اقتدار میں آنے کے بعد ملک کی معاشی ابتری کے جو مناظر انہوں نے دیکھے ان کے مطابق بھیک مانگنا اپنے اقتدار میں آنے سے پہلے کے اقوال کی حفاظت کرنے سے زیادہ ضروری ہوگیا تھا، .... ویسے ہمارے موجودہ وزیراعظم عمران خان بھی علامہ اقبالؒ کے بڑے شیدائی ہیں، جس کا ایک ثبوت یہ ہے وہ مختلف تقریبات میں کبھی اقبالؒ کے شعر نہیں پڑھتے، کیونکہ اقبالؒ کے ساتھ سچی محبت کا ایک تقاضا یہ بھی ہے ان کے اشعار صحیح پڑھے جائیں، اقبال ؒ کے ساتھ وزیراعظم عمران کی محبت کا ایک سبب میاں یوسف صلاح الدین بھی ہیں، وہ حضرت اقبالؒ کے نواسے اور ہماری ثقافت کے نگہبان ہیں، وہ وزیراعظم عمران خان کے بچپن کے دوست ہیں۔ یہ دوستی پوری آب وتاب سے اب بھی برقرار ہے۔ ایک زمانے میں میاں یوسف صلاح الدین کو بھی سیاست کا بڑا چسکا تھا، اصل میں سیاست خاندانی طورپر ان کا اوڑھنا بچھونا تھا ، یہ صحیح معنوں میں خدمت کی سیاست تھی جو، اب دور دور تک دکھائی نہیں دیتی، اس خاندان کا شمار پاکستان کے ان چند سیاسی خاندانوں میں ہوتا تھا جن پر کرپشن کا ہلکا سا داغ بھی دکھائی نہیں دیتا، ایک تو اس خاندان کی حضرت اقبالؒ کی نسبت کی وجہ سے بڑی عزت ہے، دوسرے اس وجہ سے بھی ہے جب تک یہ خاندان سیاست میں رہا سیاست کی عزت رہی، جبکہ موجودہ سیاست کے بارے میں بالکل ٹھیک کہا جاتا ہے ”گھری ہوئی ہے طوائف تماشبینوں میں “ ....بلکہ اب تو لگتا ہے صرف گھری نہیں ہوئی اس سے آگے کے کسی مقام پر پہنچی ہوئی ہے، .... میاں یوسف صلاح الدین کے چھوٹے بھائی میاں اقبال صلاح الدین بھی بڑے کمال کے انسان ہیں۔ اتنے کمال کے کہ وہ سیاست میں بھی نہیں آئے، اپنے نانا حضرت اقبالؒ کے اصل مقام اور نام کو زندہ رکھنے اور اسے تقویت بخشنے کے لیے ہرممکن کارنامہ انہوں نے کیا، اقبالؒ کا نام دنیا میں ہمیشہ زندہ رہے گا کہ دنیا پرائے ہیروز کی بھی اتنی ہی قدرکرتی ہے جتنی اپنے ہیروز کی کرتی ہے، البتہ پاکستان میں پاکستان کے ہیروحضرت محمدعلامہ اقبالؒ کی قدرو منزلت کو بحال رکھنے اور اس میں اضافہ کرنے کے لیے میاں اقبال صلاح الدین اکیلے ہی کافی ہیں۔ ایک تو اقبالؒ اپنی خدمات کی صورت میں زندہ ہے دوسرے میاں اقبال صلاح الدین کی ”صورت“ میں زندہ ہے !


ای پیپر