” کوئی مائی کا لعل بد عنوانی ختم نہیں کر سکتا “
10 نومبر 2018 2018-11-10

آپ روحانی سکالرز اور تصوف کے ماہرین سے بھی اگر پوچھیں، تو سبھی اِس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اِنسان کے ساتھ ، اُن کا ہم زاد ضرور ہوتا ہے، اِس لئے یارِ لوگ تفننِ طبع کے لئے جسٹس (ر) آفتاب فرخ کو جناب مجید نظامی کا ہم زاد کہتے تھے،
کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ رُسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہم زاد کو مسلمان بنا لیا تھا، مگر آج چونکہ ہم زاد کا علم نہیں لہٰذا میں اپنے ” ہم ذات“ کے بارے میں ہی کچھ بات کرلیتا ہوں۔
میرے ہم ذات، محکمہ پولیس میں ڈی ایس پی تھے، میں کینٹ سے پہلے شادمان میں رہتا تھا، وہاں میں نے اپر پورشن میں کچھ مزید توسیع کرلی، ایک میرے ہم جماعت دوست اور ہم ذات میرے پاس آئے، اور مجھ سے پوچھا کہ گھر کی نئی تعمیر تو دکھاﺅ، میں اُ نہیں گھر دکھانے کے لئے جب اُوپر گیا، تو اُنہوں نے گھر کے نقشے، لوازمات اور دوسری چیزوں کی بہت تعریف کی اور بعد میں کہنے لگے، کہ یار میرا گھر اندرون علاقے میں ہے اور میرے بچے یہاں شادمان کریسنٹ سکول میں پڑھتے ہیں، میں کرائے کے گھر میں سَمن آباد کے قریب رہتا ہوں، اگر آپ مجھے گھر کرایے پہ دے دیں، تو میں مشکور ہونگا، میں نے کہا کہ میں نے گھر کرایے پہ نہیں دینا، میں نے اپنے لئے گھر بنایا ہے، چونکہ وہ میرے ساتھ ہم جماعت ہونے کی وجہ سے بے تکلف بھی تھے، جیسے وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ چوہدری نثار اور پرویز خٹک ہیں، میں نے اُن سے پوچھا کہ تم تو اتنے نیک نام ہو، نمازی ہو، پرہیز گار ہو، تمہاری پاک بازی کی قسمیں تو طوائفیں بھی کھاتی ہیں۔ جب تم تھانہ ٹبی میں تھے، تو اُن سے اکثر طوائفیں تو علاقہ ہی چھوڑ گئی تھیں، اور اِس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تمام تر دباﺅ کے باوجود تم ثابت قدم رہے،
مگر مجھے یہ بتاﺅ کہ تمہاری کتنی تنخواہ ہے ، تم بچوں کی فیس کہاں سے دو گے، اور کرایہ کہاں سے دو گے، قارئین اُس نے جو جواب دیا، وہ ہم سب کے لئے ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے، اُس نے قسم کھا کر کہا کہ میں نے کبھی نماز قضا نہیں کی میں نے حج بھی ادا کیا ہے، اور عمرے کی سعادت بھی حاصل کی ہے، میں فیصل آباد کے عالمی شہرت یافتہ مستند بزرگ صوفی برکت علی صاحب کا مرید ہوں۔
میں حلفاً کہتا ہوں کہ میں مہینے کے شروع میں ہی بچوں کی فیس، اور دوسرے ضروری اخراجات پورے کر لینے کے بعد اگر کوئی مجھے کروڑوں روپے کی بھی رشوت دے، تو میں انکار کر دیتا ہوں۔
یہ سُن کر میں نے اُسے کہا کہ یار تم صرف مہینے کے پہلے دو چار دن رشوت خور اور بدعنوان رہتے ہیں، باقی ستائیس دِن تم نیک اور شریف بن جاتے ہو، صدقے جاﺅں تمہاری شرافت ، میرے یہ کلمات ، اُسے آگ لگانے کے لئے کافی تھے، وہ بھڑک اُٹھا، اور کہا کہ تم چاہتے ہو، میں بچوں کو مار دوں....
محترم قارئین، یہ ساری کہانی سنانے کا مقصد محض یہ تھا، کہ ہماری سابقہ مملکت خداداد پاکستان اور مُوجودہ ریاست مدینہ میں تنخواہوں کا اتنا واضح تفاوت اور فرق ہے کہ جب تک لاکھوں اور ہزاروں کا فرق ختم نہیں ہوگا، کوئی حکمران بھی پاکستان کو نیا پاکستان بنانے کا دعویٰ کرنے میں حق بجانب نہیں ہوگا۔
پرانے پاکستان کو نیا پاکستان بنانے میں حکمرانوں سے زیادہ امریکہ کا ہاتھ ہے، جس نے ہمارے ملک میں (Coke Studio) کوک سٹوڈیو کو متعارف کرایا، اور اِسلامی مملکت یعنی ریاست مدینہ میں گانے بجانے اور میشا شفیع، اور علی ظفر الزامات کا خوشگوار موقع عوام کو فراہم کیا، خدا کا شکر ہے ، کہ کوک سٹوڈیو کے ملازمین کو لاکھوں روپے تنخواہ ملتی ہے، اور ظاہر ہے کہ وہاں جو گلوکار یا قوال حصہ لیتے ہیں، اُ نہیں بھی معاوضہ کروڑوں میں ملتا ہوگا،
مگر انتخابات کی شرط کو پورا کرنے کے بعد جو حکمران منظر عام پر آئے، اُن کی ” مُراد بر آئی“ اُن کے نوجوان وزیر جن کا نام ہی ” مُراد “ ہے، وہ نا مُرادوں کو کہہ رہے تھے شاید اُن کا اِشارہ ارکان پارلیمنٹ کو دے کر انتخابی کمیٹی والوں کو بھی یہ پیغام دینا تھا کہ آپ اپنے اپنے گریبان میں جھانکیں کہ آپ یہاں کیسے آگئے؟ جبکہ ہم کئی دیہائیوں سے معاشی تنزلی کا شکار ہیں،
آج کل جو اخبارات ، حکومت کی پالیسیوں سے بند ہو رہے ہیں اور شیخ رشید کے دور میں جو چینلوں کے جمعہ بازار لگائے گئے تھے، اور شیخ رشید کی خواہش تھی کہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ چینل پر میزبان بننا پسند کرتے تھے، اب یہی وزیر اُن سمیت سب کو کہہ رہے تھے کہ ہم اِس نہج پہ کیسے پہنچے؟ ہماری پارلیمان میں گالی گلوچ سُنکر پتہ چلا کہ برصغیر کی تقسیم سے پہلے ریاستوں کے نواب، اپنے بچوں کو اخلاقیات سکھانے کیلئے لکھنو طوائفوں کے پاس کیوں بھیجتے تھے، شاید اس لیے چوہان بار بار ان کو یاد کرتے ہیں۔ یہی بات اگر وہ صحافیوں سے پوچھیں تو وہ حکمرانوں کو بتائیں گے، کہ پاکستان کے تمام چینلز الطاف حسین کے بعد تحریک انصاف کے رطب اللسان اور اُن میں بیٹھے صحافی، دانشور، تجزیہ نگار تعریف کرتے نہیں تھکتے تھے، نہ نجانے اُنہوں نے یو ٹرن لینا ، کہاں سے اور کیسے سیکھا، مُلک کے ایک معروف اور مشہور و مہنگے ترین میزبان کبھی اپنا چینل چھوڑ کر دوسرے چینل پر اپنی قیمت لگوانے اور بڑھانے کے بعد دوبارہ پرانے چینل پہ پرانی تنخواہ پہ نہیں ، آدھی تنخواہ پہ کام کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وزیر اعظم کا دورہ چین کامیاب رہا جبکہ دیگر تجزیہ نگاروں کا یہ سوال ہے ، کہ وزیر اعظم کا شنگھائی ایئر پورٹ پہ ڈپٹی میئر نے کیوں استقبال کیا؟ جب کہ میں نے جو منظر دیکھاہے، وہ ناقابلِ برداشت ہے، میں نے دیکھا کہ عمران خان ہمارے وزیر اعظم چین کے ڈپٹی پرائم منسٹر سے ملاقات کر رہے ہیں، جو دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے، چین کے ڈپٹی پرائم منسٹر جن کی جسمانی صحت کا مقابلہ صرف اور صرف پرویز خٹک کر سکتے تھے، مجھے تو پریشانی لا حق ہوگئی، کہ کہیں خدانخواستہ عمران خان پاکستان میں 1122 پہ فون نہ کر دیں، حکمران کیلے والے ریڑھی کا تو چند ہزار کا نقصان پورا کر دیتے ہیں، مگر کروڑوں روپے کی عمارات کو منہدم کر دینا، جبکہ اُن کے پاس تمام قانونی دستاویزات بھی موجود تھیں، کیا اِس کارروائی کو ہم قانونی کہہ سکتے ہیں؟ فلاحی مملکتیں اِس وقت جو دنیا میں موجود ہیں، وہاں روز گار اور صحت کی سہولتیں دینا حکومت کا کام ہوتا ہے، اور نوکری نہ ملنے کی صورت میں بوڑھوں کو مفت بجلی اور گیس فراہم کی جاتی ہے، وہاں کی فی کس آمدنی لاکھوں میں ، اور ہماری کم سے کم تنخواہ محض چند ہزار ہے، کیا اس میں ایک کلرک کرایے کا گھر، یوٹیلیٹی بل، اور گھر کا خرچہ بدعنوان ہوئے بغیر کر سکتا ہے؟ جب تک گریڈ اٹھارہ اور بائیس کے افسر اور اُس کے چپڑاسی کی تنخواہ کا فرق نہیں مٹایا جائیگا، کوئی مائی کا لعل بدعنوانی ختم نہیں کر سکتا ۔
مگر میرے محب الوطن ہم وطنو، حکومت کا دعویٰ ہے کہ اُس نے سعودی عرب سے غیر مشروط اِمداد لینے کا معاہدہ کیاہے، شنید ہے کہ سعودی عرب ، اسرائیل کو تسلیم کرنیکی راہ پہ چل پڑا ہے، وزیر اعظم جب واپس لوٹے تو پاکستانی ایئر پورٹ پہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ملاقات کے لئے بنفس نفیس ” تشریف“ لائے یعنی قدم رنجہ فرمایا۔
چلیں اِس بات پہ بھی مٹی ڈالیں، میری درخواست ہے کہ مُشرف کی صحت یابی کیلئے دعا مانگیں جن کو اِس وقت دعاﺅں کی شدید ضرورت ہے، جبکہ میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ وہ اللہ سے توبہ کریں کیونکہ نہ تو سنا ہے ، اُن کے کوئی قریب جاتا ہے، اور نہ ہی ان کے کمرے میں کوئی جاسکتا ہے، اور ڈاکٹرز بھی ان کی بیماری کی نوعیت بتانے اور سمجھنے سے معذور ہیں، اللہ ہم سب کو محبِ وطن بنائے اور غلطیوں سے در گزر فرمائے۔ آمین


ای پیپر