Mushtaq Sohail, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
10 May 2021 (11:35) 2021-05-10

کیا کہیں گے نا تجرکاری، عدم واقفیت، نا اہلی یا پھر تینوں کہ سال بھر نری تقریریں کرتے رہے۔ معیشت سنبھالنے والا کوئی ’’ماہر معاشیات‘‘ نہ مل سکا۔ اقتدار میں آتے سمے کیا کیا دعوے کیے تھے کہ ہمارے پاس بڑی مضبوط اور تجربہ کار ٹیم ہے ابتدائی سو دنوں میں کایا پلٹ دیں گے۔ اقتدار کے چند دن بعد ہی ڈھول کا پول ٹیم انڈر  19 نکلی۔ ایک ایک کو آزمایا سب کے سب ناکام۔ سب تجربات کرتے رہے اور معیشت کا بیڑا غرق کردیا۔ بقول اپنے ہی ایک قریبی دوست تجزیہ کار اسد عمر، عبدالحفیظ شیخ اور حماد اظہر نے کیا تیر مارے، ان میں کیا خوبی دیکھی تھی‘‘۔ انہوں نے کپتان کے فیصلوں پر طویل تبصرہ کیا اور بالآخر چیخ اٹھے ’’واہ کپتان تیرے فیصلے‘‘ تین سالوں میں تین کوششیں کبھی وزارت میں رہنے پر اصرار،کہا کام جاری رکھیں، کبھی تکرار اور بالآخر گریز، جاتے ہوئے حال تک نہ پوچھا۔ اب چوتھی اور آخری کوشش، نظر اولیاء کے شہر ملتان پر پڑی۔ شوکت ترین اب تک کہاں تھے کاش 2018ء میں ظاہر ہوجاتے ،کیا کہتے ہیں کنج تنہائی سے نکل کر وزیر اعظم سے سلسلہ جنبانی قائم کرلیتے تو شاید معیشت کو یہ روز بد نہ دیکھنے پڑتے ، عوام یک زبان ہو کر کہنے لگے ہیں کہ جنہیں لایا گیا وہ نہ صرف خود زیرو نکلے بلکہ اچھے بھلے ہیرو کو بھی زیرو بنا گئے، اب تین سال بعد ڈور ہاتھ سے چھوٹ گئی۔ ہر طرف ’’بوکاٹا‘‘ کے نعرے لگ رہے ہیں۔ لوگوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ شوکت ترین بھی کیا تلوار چلائیں گے۔ دو سال کے لیے لائے گئے اپنے ساتھ پندرہ سال کا پلان لیتے آئے کہنے لگے آئندہ 15 سال کا سوچ رہا ہوں۔ ’’سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں‘‘ کسی بھی مرحلہ میں غالبا وفاقی بجٹ کے بعد کہیں ان بن ہوئی تو تو کون میں کون والی صورتحال پیدا ہوجائے گی۔ قریب کی سوچیے معیشت کا پہیہ چلانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ سارے ماہرین معاشیات اعداد و شمار کے جادو گر ٹوپی میں سے کبوتر اور انڈے میں سے مینڈک نکالنے والے، ہر اجلاس میں ایسے خوش نما اعداد و شمار دیں گے کہ جی خوش ہوجائے گا لیکن چند دنوں ہی میں ’’ہاتھ کی صفائی‘‘ کا فارمولہ سمجھ میں آئے گا اس وقت تک صفایا ہوچکا ہوگا، اعتراف کرنا چاہیے کہ ابتدا سیاست سے نہیں کرکٹ سے ہوئی سیاست بعد میں سیکھی، اب تک سیکھ رہے ہیں۔ سیاست بھی آتے آتے ہی آتی ہے اب تک اتنی نہیں آئی کہ دائو پیچ استعمال کرسکیں یاماہرین کے دائو پیچ سمجھ سکیں، شوکت ترین کو بھی معیشت چلانے میں ان ہی مشکلات کا سامنا ہے جو سابقون الاولون کو تھا۔ وفاقی بجٹ کا مرحلہ درپیش ہے۔ ٹیکس لگائیں تو ووٹ غائب عوام پہلے ہی بھرے بیٹھے ہیں ،گیلپ سروے کے مطابق 92 فیصد پاکستانی مہنگائی میں اضافہ سے پریشان ہیں۔ 76 فیصد نے بیروزگاری میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا۔ 60 فیصد معاشی ابتری سے پریشان۔ 76 فیصد سمجھتے ہیں کہ گزشتہ 6 ماہ میں بیروزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ 38 فیصد اس میں مزید خرابی کی پیشگوئی کر رہے ہیں۔ 92 فیصد نے کپتان کے کہنے پر گھبرانا چھوڑ دیا تھا لیکن اب ان کی گھبراہٹ میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ وقت کے ساتھ بجٹ خسارہ اور غیر ملکی قرضوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ 

وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال کے  نوماہ کے دوران 1273 ارب روپے قرض لیا گیا۔ قرضوں پر دو سو 10 ارب سود دیا گیا۔ مالی خسارہ 3.65 فیصد رہا۔ 2020-21 کے دس ماہ میں تجارتی خسارہ 23 ارب 82 کروڑ ڈالر تک جا پہنچا، روزانہ برآمدات میں اضافہ کا شور لیکن حقائق مختلف ،جولائی تا اپریل درآمدات 44 ارب 70 کروڑ 60 لاکھ ڈالر جبکہ برآمدات 20 ارب 88 کروڑ ڈالر ریکارڈ ہوئیں۔ اپریل میں مارچ کے مقابلے میں 8.3 فیصد کمی ہوئی۔ افراط زر دو ڈیجٹ میں پہنچ گیا لا محالہ آمدنی میں کمی ہوگی، بوجھ عوام پر پڑے گا۔ حقائق سے آنکھیں بند رکھنا دانش مندی نہیں کیونکہ بڑے کہہ گئے کہ آنکھیں بند رکھنے سے حقائق تبدیل نہیں ہوتے ریت میں سر دینے سے جان نہیں چھوٹتی، 49 سال کا تجربہ رکھنے والے شوکت ترین تو آتے ہی گھبرا گئے کہنے لگے’’ آئی ایم ایف کا پروگرام خاصا مشکل، عالمی مالیاتی ادارے نے پاکستان سے زیادتی کی ( زیادتی اچھا لفظ نہیں) بجلی نرخوں میں اضافہ ناجائز، اس سے مہنگائی اور کرپشن بڑھ رہی ہے۔ اکانومی کا پہیہ نہیں چل رہا عالمی ادارے سے بجلی نرخوں میں اضافہ سے معذرت کرلیں گے‘‘ (اس کے ساتھ ہی بجلی نرخوں میں 60 پیسے اضافہ کی منظوری دے دی گئی کسی بھلے مانس نے پوچھا کیا عالمی مالیاتی ادارے والے سگے ہیں کہ آپ کی بات مان لیں گے۔ سود خور ادارہ ہے قرض دے کر ملکوں کی معیشتیں تباہ کرتا ہے۔ آپ خود اس کے چنگل میں پھنسے، آ بیل مجھے مار، اب سر پکڑے بیٹھے ہیں ،اپنی شرائط منوائے گا ،سود وصولی میں تاخیر کردے گا جسے آپ کامیابی سے تعبیر کریں گے لیکن سود اور اصل زر معاف نہیں کرے گا۔ آپ کے اپنے پہلے وزیر خزانہ اسد عمر نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کی مخالفت کی تھی مگر اپنے ہاتھوں ’’خود کشی‘‘ مقدر، آپ نے تو اس ادارے کے پاس جانا خود کشی کے مترادف قرار دیا تھا لیکن غربت سے تنگ متعدد غریب عملًا خود کشی کا ارتکاب کر رہے ہیں مائیں بھوک سے بلکتے بچوں کو نہروں میں پھینک رہی ہیں ،کچھ اندازہ ہے کہ اب تک بجلی کے نرخوں میں 56 فیصد اضافہ ہوا کیا خیال ہے اس اضافہ سے آپ کے محبوب ’’نچلے طبقے‘‘ کو زندگی گزارنا مشکل نہیں ہوگیا؟ 22 کروڑ میں سے 18 کروڑ سے زیادہ عوام غربت کی لکیر سے نیچے آگئے ہیں۔ پتا نہیں حکمرانوں کی سمجھ میں یہ بات کیوں نہیں آتی کہ بجلی گیس پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ سے اشیائے خور و نوش سمیت اجناس اور گھریلو استعمال کی اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ فیکٹریوں اور کارخانوں کے مالکان پر ڈائریکٹ ٹیکس لگے یا ان ڈائریکٹ (ٹیکسوں کی بھی سیکڑوں اقسام ہیں جن سے بچنا محال بلکہ نا ممکن ہے) متاثر ہمیشہ صارف ہوتا ہے کیونکہ اشیاء کی لاگت بڑھتے دیکھ کر سرمایہ دار تیار اشیا کی قیمت بڑھا دیتا ہے۔ کارخانوں کے مالکان اتنے رحمدل نہیں ہوتے کہ ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کا بوجھ اپنی جیب پر ڈالیں۔ مہنگائی اسی طرح بڑھتی ہے، یقین کیجیے اس میں اپوزیشن  کی سازش یا ملی بھگت شامل نہیں ہوتی۔ بچے غیر سیاسی ہوتے ہیں لیکن بلاول بچہ 25 سال کی عمر سے ہی سیاسی تربیت لیتا رہا اب ما شاء اللہ 32 کا ہوگیا ہے۔ سیاست رگ و پے میں سرایت کر گئی جو کہتا ہے ببانگ دہل کہتا ہے آج کل تو لہجہ خاصا جارحانہ ہے، وکٹ کے چاروں طرف چوکے چھکے لگ رہے ہیں ،گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں بلاول بھٹو ثم زرداری نے کہا کہ وزیر اعظم آئی ایم ایف ڈیل پر ہماری بات مان لیتے تو معیشت تباہ نہ ہوتی عمران خان صرف غلطیوں کا اعتراف نہ کریں قوم سے معافی مانگیں مہنگائی کی وجہ ان کے غلط فیصلے تھے۔ ان ہی غلط فیصلوں کا نتیجہ ہے کہ مہنگائی کی شرح 17.5 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔

نئے وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ معاشی ترقی کی شرح نمو 5 فیصد تک لے کر نہ گئے تو ملک کا اللہ حافظ(ٰیہی فقرہ سابق صدر پرویز مشرف نے بھی ادا کیا تھا) کیسے لے جائیں گے معیشت کی کشتی ڈانواں ڈول، پتوار قابو میں نہیں، حالات پر گرفت نہیں کوئی ٹھوس پلاننگ نہیں، ذہن میں صرف اپوزیشن سمائی ہوئی ہے تبدیلی کا نعرہ دم توڑتا نظر آتا ہے۔ آٹا، چینی اور پیٹرول کا بحران ملک کو لے ڈوبا ،کرونا وائرس نے رہی سہی کسر نکال دی۔ جن کا احتساب ہونا چاہیے ان میں سے آدھے کابینہ میں بیٹھے ہیں اپنوں نے ناموں کی نشاندہی کردی کس نے مشورہ دیا کہ پورے ملک کو ہائوسنگ سوسائٹی میں تبدیل کردیں اربوں کے قرضے کون وصول کرے گا؟ لوگ مہنگائی سے تنگ ہیں دیکھا نہیں گیارہ ضمنی انتخابات ہوئے پی ٹی آئی کو صرف ایک نشست ملی، وجوہات کا سوچیں ذہن میں اپوزیشن کو نکال کر عوام کے بارے میں سوچیں معاونین اور ترجمان غلط تصویریں دکھا رہے ہیں کہ ڈسکہ اور خوشاب میں پی ٹی آئی کے ووٹ بڑھ گئے۔ دس دس ہزار ووٹوں کا فرق عوام کے بدلتے ذہن کی عکاسی کر رہا ہے۔ الزامات اور دھاندلی کے شور سے کچھ نہیں ہوگا۔ اصل وجوہات پر غور کیجیے۔ 


ای پیپر