Dr Ibrahim Mughal, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
10 May 2021 (11:33) 2021-05-10

تاریخ عالم تو یہی بتاتی ہے کہ جب تک مغضوب خود غاصب کے خلاف آواز نہ اٹھائے غاصب کو اس کی غاصبانہ کارروائیوں سے روکنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوجاتا ہے۔ اب ذرا وطن عزیز ہی کو دیکھ لیں جیسے بیوروکریسی کی غاصبانہ کارروائیوں کے خلاف لکھتے لکھتے اہل صحافت کی انگلیاں قلم ہوگئیں۔ جبکہ بیوروکریسی کی غاصبانہ کارروائیوں کا نشانہ عوام ہوتے رہے ہیں۔ مگر اب گزشتہ ہفتے حکومت پاکستان کی اہم نمائندہ اور ذمہ دار شخصیت محترمہ فردوس عاشق اعوان نے جب سیالکوٹ شہر کے ایک اتوار بازار کا معائنہ کیا اور وہاں جب اشیائے خورد و نوش کا معیار انتہائی ناقص اور مضر صحت پایا تو وہاں کی ذمہ دار اسسٹنٹ کمشنر محترمہ سونیا صدف کی جب جائز سرزنش کرنے کی کوشش کی تو وہ عوام جن کے حق میں محترمہ فردوس عاشق اعوان بول رہی تھیں بعد میں بیوروکریٹ آفیسر سونیا صدف کے حق میں بیان دیتا ہوا نظر آیا۔معزز قارئین یہ ہے تصویر کا وہ رخ جس کی بنا پر پاکستان کی بیوروکریسی کی ڈھیلی چُولوں کو ٹھیک کرنا مشکل سے مشکل تر ہوئے جارہا ہے۔ ہمارے بیوروکریٹ (یعنی بابو)نے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا ہے، آج کوئی نہیں جو بابو سے سوال کر سکے۔۔۔ افسوس آج جو میری ریاست کا حال ہے اس کی سب سے بڑی وجہ بابو کا ٹھیک سے کام نہ کرنا ہے۔ سب سے زیادہ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ کرپشن کرنے پر آج تک کسی بابو ، بیوروکریٹ کو سزا نہیں ہوئی۔ بابو دیانتدار اتنا ہے کہ جنرل مشرف سے کرپشن کی سزا سے بچنے کے لئے اسّی فیصد NRO بابوؤں نے لئے۔ افسوس یہ بھی ہے کہ کوئی بھی پاکستانی کھل کر بابو کی کرپشن بارے بات بھی نہیں کرتااور بدنامی کی زیادہ کا لک سیاسی و کاروباری لوگوں کی طرف اچھال دی جاتی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ملک میں دیانتداری کا نظام نافذ کیا جائے۔ ہٹو بچو اور ڈنڈے کھا کھا کر نڈھال اورتھکی ہوئی قوم اب اس نظام کویکسر مسترد کر دے۔ ملک درمیانے درجے کی ذہنی استطاعت رکھنے والے بابوؤں کے پنجے میں ہے اور اب ایک فلاحی انقلاب لا کر ہی بیوروکریسی اور بابوؤں کے پنجوں سے جان چھڑائی جا سکتی ہے ۔اس سے پہلے مسلم لیگ ن کی حکو مت کے دوران جب شہباز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہوتے تھے تو وہ کھڑے کھڑے سرکاری افسران کو معطل یاتبدیل کردیا کرتے تھے بلکہ فیصل آباد میں تو انہوں نے ایک آفیسر کو ہتھکڑیاں بھی لگوا دی تھی۔ یہ ہماری بیوروکریسی کا رویہ ہوتا ہے جو انہیں اس مقام پر لاکھڑا کرتا ہے۔ کہنے کو تو یہ عوام کے نوکر ہوتے ہیں مگر اصل میں عوام پر یہی حکمرانی کرتے ہیں۔ ہمارے تھانوں کا نظام دیکھ لیں جہاں شریف شہریوں کی اندر داخل ہونے سے پہلے ہی عزت اتار کر ان کے ہاتھ میں دے دی جاتی ہے۔ سرکاری دفاتر میں عزت سے وہی افراد آسانی سے آجا سکتے ہیں اور بیٹھ سکتے ہیں جو ان ملازمین کے دوست ہوں، ٹاؤٹ ہوں،مفاد دینے والے ہوں یا پھر ان کے رشتہ دار ہوں، ان کے علاوہ کسی اور کو دیکھ کر افسران کا موڈ آف ہوجاتا ہے۔ پنجاب کے بہت سے افسران آج بھی عوامی نمائندوں کا فون سننا گوارا نہیں کرتے۔ جو طریقہ، لہجہ اور طاقت فردوس عاشق اعوان نے سرکاری ملازم کو دکھائی ہے شروع سے حکومت کو اس اپروچ کے ساتھ کام کرنا چاہیے تھاجس کے بعد ہمیں واضح تبدیلی نظر آ رہی ہوتی ان سرکاری بابو، سفارشی بیوروکریٹس اور میڈموں کی عیاشی لگی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے ان سرکاری افسران کی نااہلی اور کام چوری نے عام آدمی کو حکومت مخالف کر دیا ہے امیر اور طاقتور آدمی کے ساتھ ان کا رویہ جی جی والاہوتا ہے جبکہ عام آدمی اور ریڑھی والے کے ساتھ انتہائی توہین آمیز۔ فردوس اعوان نے جو کیا ٹھیک کیا، بیوروکریسی کوعوامی نمائندوں کو عزت دینا ہوگی کیونکہ وہ عوام کے ووٹ سے آئے ہوتے ہیں۔ اگر عوامی مفاد میں سیاستدان بیوروکریسی سے پوچھ گچھ نہ کریں توعوام سے گالیاں کھائیں، افسروں کو فرائض کی غفلت پر سرزنش کریں تو باتیں سنیں۔ دو سال بیوروکریسی ٹھیک کام کرتی تو مہنگائی مافیا کبھی بھی مہنگائی کرنے میں کامیاب نہ ہوتااور نہ ہی آج کسی قسم کا بحران ہوتا یہی وجہ تھی کہ بھٹو ان کو سفید ہاتھی کہا کرتا تھا۔ سیالکوٹ میں رمضان بازار میں جو کچھ ہوا اس میں فردوس عاشق اعوان کے لب و لہجے سے اختلاف کیا 

جاسکتاہے مگر یہ نہ کہیں کہ منتخب حکومت عوامی مفاد میں سوال نہ پوچھے۔ فردوس عاشق اعوان نے جس AC PMSکی اچھی خاصی کی ہے بہت سے لوگ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے خلاف بول رہے ہیں لیکن میرا ماننا ہے کہ شہباز شریف بھی گندی زبان استعمال کیا کرتا تھااصل میں صرف بات اتنی سی ہے کہ یہ جو بابووں کی کلاس ہے ناں بہت برے نو ا بو ں کی کلا س ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ نے کسی نہ کسی حد تک ٹھیک کیا ہے کہ ان لوگوں کی اگر کلاس نہ لگائی جائے تو یہ لوگ غریب لوگوں کا بالکل خیال نہ کریں۔ یہ لوگ صرف تنخواہ لیں گے اور نوابوں کی طرح عیاشی کی زندگی گزاریں گے سی ایس ایس کر کے آنے کے بعد کا مقصد یہ نہیں ہے کہ آپ دفتر میں بیٹھ جائیں بلکہ کبھی کبھار دفتر سے باہر نکل کر عوام کی بھی خبر لینی چاہیے فردوس عاشق اعوان عوامی سیاست دان ہیں ان کو پلیٹ یا موروثیت میں کرسی اور عہدہ نہیں ملا ان کا لہجہ تلخ تھا وہ اس پر معذرت بھی کرلیں گی لیکن سرکاری ملازم صاحبہ کا ڈیوٹی سے چلے جانا افسر شاہی کے عمومی رویے کا عکاس ہے۔ جب فردوس عاشق اعوان نے اس کو اس کی ذمہ داری یاد دلاتی ہیں تو وہ وہاں سے احتجاجاً چلی جاتی ہے، یہ ہوتے ہیں وہ چھوٹے لوگ جن کو بڑے عہدے مل جاتے ہیں اور افسر شاہی بن کر اپنے آپ کو آسمانی مخلوق سمجھنے لگتے ہیں۔ پاکستان بننے کے بعدسے آج تک اس ملک کا بیڑہ افسر شاہی کی اس سوچ اور کردار نے غرق کیا ہے سیاستدان بھی ان کے اشاروں پر ناچتے ہیں اور جو نہیں ناچتے ان کا حال ایسا کر دیتے ہیں جیسے فردوس عاشق اعوان کا کر دیا۔ تقریباً ہر بیوروکریٹ اپنے آپ میں ایک آزاد ریاست بن کے بیٹھا ہے ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ان سب کی یہی سوچ ہے کہ سیاستدان پانچ سال کے لئے آتے ہیں جبکہ ہم تو زندگی بھر ریاست چلاتے ہیں، ہم پہ وہ حکم کیوں چلائیں؟ کسی بھی ایماندار افسر یا حکمران کے راستے 

میں رکاوٹ ڈالنے کا کام بخوبی کرتے ہیں۔ خود کام نہیں کرتے اور کام کرنے والے کو تنہا کر دیتے ہیں۔ کئی گنے چنے بیوروکریٹ ہوتے ہیں جو ایمانداری سے کام کرتے ہیں باقی سب تو مافیا بن کر اپنی من مانیاں ہی کرتے ہیں۔ خان صاحب کی کوشش رہی تھی کہ بیوروکریسی کو ٹھیک کر دیں لیکن اندازہ نہیں تھا بیوروکریسی اس کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرے گی جتنا گند بیوروکریسی ڈال سکتی ہے آج کل ڈال رہی ہے۔ الزام ویسے بھی خان صاحب پر آتا ہے اگرکوئی ایکشن حکومت لے بھی تو عدلیہ بیچ میں آ جاتی ہے زیادہ مشکل ہو تو اسٹیبلشمنٹ کود پڑتی ہے یہ مافیا درخت کی جڑوں کی طرح ہر ادارے میں پھیلا ہوا ہے کرپٹ حکومت مل ملا کر چلتی ہے ان کے ساتھ اور خان صاحب جیسے لوگ جب حکومت میں آتے ہیں تو ان کو ٹھیک کرنے کی کوشش میں ان کے بچھائے ہوئے کانٹوں کو صاف کرتے کرتے پانچ سال نکال دیتے ہیں، وہی گلاسڑا ہوا سسٹم اور بوسیدہ نظام وہیں کا وہیں رہ جاتا ہے۔ اس ملک کی بربادی میں اس ملک کے افسر شاہی کا سب سے بڑا ہاتھ ہے جو خود کام تو کرتے نہیں، سیاستدانوں کو کرپشن کے طور طریقے بتانے میں ماہر ہوتے ہیں۔ اوپر سے ان افسران کے ہمدرد بھی بہت ہوتے ہیں۔ چیف سیکریٹری پنجاب نے بھی کمال محبت دکھاتے ہوئے فوراً وزیراعلیٰ سے شکایت لگا دی۔ ان صاحب سے پوچھا جائے کہ انتظامی افسران کون سی فرنٹ لائن پر لڑ رہے ہیں، آٹے چینی کا بحران ہو یا خود ساختہ مہنگائی ان سب کو کنٹرول کرنے میں یہ انتظامی افسران بری طرح ناکام رہتے ہیں جعلی اشیاء ہر شہر 

میں دھڑلے سے تیار ہوکر گلی محلوں میں فروخت ہورہی ہیں جعل سازی سے یاد آیا سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن جنہوں نے چربہ ساز پرڈیوسروں اور ڈائریکٹروں کے کہنے پر ایک فلم کی تقریب رونمائی کی تھی اور پھر اپنے بیٹے کی جعل سازی منظر عام پر آنے کے بعد فوراً ہی توبہ تائب ہوکر اس فلم کو ڈبہ میں بند کر120کے زاویہ پر یوٹرن لے لیا اور صاف مکر گئے۔ اس فلم کی تفصیلات پھر کبھی سہی ابھی تو پنجاب کے بابووں کا حال پڑھ لیں جو حکمرانوں کو بدنام کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی بے عزت کرتے ہیں۔ اگر ہماری ایجنسیاں بالخصوص آئی بی پنجاب میں ان افسران کی مدد نہ کریں تو یہ نااہل اور نکمے ایک سگریٹ چرس کا بھی برآمد نہ کرسکیں، گندم اور چینی سمیت اشیائے خورونوش سے بھرے ہوئے بڑے بڑے گودام تک پہنچنا ان کے بس کی بات ہی نہیں۔ آج ہم اخبارات اور ٹی وی پر جتنی بھی کارروائیاں دیکھ رہے ہوتے ہیں ان کے پیچھے وہ گمنام افراد ہوتے ہیں جو کبھی بھی سامنے نہیں آتے بلکہ ان تک اپنی معلومات پہنچاتے ہیں جس کے بعد اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنریا پھر متعلقہ پولیس کارروائی ڈال کر اپنے کھاتہ میں ڈال لیتی ہے۔ سوچنے کی بات ہے اگر CSS کرنے والے اتنے قابل ہیں تو پاکستان کے ادارے تباہ حال کیوں ہیں؟ اور TCS میں ایک بھی CSS آفیسر کام نہیں کرتا لیکن TCS پاکستان پوسٹ سے زیادہ منافع میں کیوں ہے؟اور پھر آ پ ریلو ے کا دم تو ڑتا حا ل دیکھ لیں،آ پ محکمہ پو لیس کی آ نیا ں جا نیاں دیکھ لیں۔ حقیقت آ پ پہ وا ضح ہو جا ئے گی۔


ای پیپر