Khalid Mahmood Faisal, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
10 May 2021 (11:30) 2021-05-10

سرایچی سن کی سربراہی میں قائم کمیشن کی سفارشات جو1886-87 میں تاج برطانیہ کو پیش کی گئیں اِنکی کوکھ سے انڈین سول سروس نے جنم لیا،تقسیم ہند کے بعد سول سروسز آف پاکستان کے نام سے اس ادارہ کا قیام عمل میں لایا گیا،انڈین سول سروس سے جن چند افراد نے اپنی قومی خدمات نو زائیدہ مملکت خدداد کے سپرد کیں انکی تعداد بیاسی بتائی جاتی ہے،ایک نئی ریاست کے انتظام و انصرام کے لئے یہ بہت ہی کم افراد تھے جن کے ناتواں کندھوں پر ایک بڑی ذمہ داری آن پڑی تھی،مہاجرین کی آباد کاری،دفتری اُمور اور دیگر مسائل اس کے علاوہ تھے لیکن انھوں نے بڑَے اخلاص کے ساتھ فرائض منصبی انجام دیئے، جب تلک بانی پاکستان اور لیاقت علی خان حیات رہے اس وقت تک یہ ادارہ بڑے ہی پروفیشنل انداز میں آگے بڑھتا رہا، جونہی ان شخصیات نے آنکھیں موند لیں، یہ ادارہ غالب آتا گیا، فیصلہ سازی میں اس نے کلیدی کردار ادا کرنا شروع کیا ،اور ابتدائی دس سالوں سیاسی ابتری کا  فائدہ بھی خوب اٹھایا حتیٰ کہ سول سروس سے منسلک افراد مسند اقتدار تک جا پہنچے،اگرچہ اِس وقت کی سیاسی قیادت رائے عامہ قائم کرنے اور ایک متفقہ دستورلانے میں کامیاب رہی لیکن وہ افسر شاہی کے مفادات کی تاب نہ لاسکی اور اقتدار خاکی بیوروکریسی کے پاس آگیا، ایوبی عہد میں بھی اِس ادارہ پر مکمل انحصار کیا گیا،نئے مگر متنازعہ آئین کی تدوین سے لے کرمحترمہ فاطمہ جناح کو انتخابات میں شکست دلوانے تک بیورو کریسی نے اہم کردار اد ا کیا، اس کے عوض پیسہ بنانے میں وہ سب کو پیچھے چھوڑ گئے، البتہ صنعتی انقلاب، زرعی ترقی میںاِن کی خدمات قابل تحسین ہیں لیکن زرعی اصلاحات میں جو ابہام پید کیا گیا اس کی قیمت تاحال عوام ادا کر رہی ہے۔

 ستر کی دہائی میں زمام کار نئے فوجی سربراہ کے ہاتھ میں آگئی تو انھوں نے ایک ٹریبونل کے ذریعہ سے بدعنوانی اور ناقص کارکردگی کی آڑ میں تین سو سے زائد افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا،جب بھٹو مسند اقتدار پر بیٹھے تو انھوں نے اس کلاس کے خاتمہ کے لئے مساوی گریڈنگ ،سکیل کا نظام سرکاری ملازمتوں میں متعارف کروایا،مزید یہ کہ اُنھوں نے بھی افسر شاہی کے گرد گھیرا تنگ کر نے اور اِسکو دبائو میں لانے لئے یحییٰ خان کا فارمولا اپناتے ہوئے ایک ہزار سے زائد افسر شاہی کے ممبران کو کرپشن کی بنیاد پرگھر بھیجا ۔

بعد ازاں میرے عزیز ہم وطنوں کی باز گشت سنائی دی باوردی صدر نے اِنکی ہمدردیاں سمیٹنے کی خاطر ان ہی پر انحصار کر نا شروع کر دیا البتہ انھوں نے مزید دو ہاتھ آگے بڑھ کر اپنے ہی پیٹی بھائیوں کو نوازنے کے لئے حاضر سروس افراد کا افسر شاہی میں کوٹہ گریڈ سترہ تا انیس مقرر کر دیا،یہ’’ فیض‘‘ تاحال جاری ہے۔

 اس عہد سے خلاصی پا کر جب جمہوری حکومتیں اِس قوم کو نصیب ہوئیں تو دونوں کی توپوں کا رخ ایک دوسرے کی طرف تھا جس کا پھر فائدہ موقع شناس افسر شاہی نے پھر ا ٹھایا، وہ ادارہ جس کو ہرلحاظ سے پروفیشنل،تربیت یافتہ ،اور ریاست سے مخلص ہونا چاہئے تھا وہ غیر سیاسی بھی نہ رہا،تقرر اور تبادلہ جات بھی اِسی تناظر میں ہونے لگے گویا سیاسی سرد جنگ کی سی کیفیت میں اس شعبہ کو استعمال کیا جاتا رہا، دونوں بڑی سیاسی شخصیات اپنے اقتدار کے دوام کے لئے یہ کھیل کھیلتی رہیں وہ افسر شاہی جس کا غلط کام پر مزاحمت کرنا، پالیسی دینا تھا وہ تماشائی بنی رہی،اور معاملات باضابطہ گروپنگ  کی شکل اختیار کر گئے، اس سے ان تمام قوتوں نے فائدہ اٹھایا جو اپنے اپنے مفادات کی تکمیل کے منتظر تھے،عوام کو ایک بار پھر مارشلائی اذیت سے دو چار ہونا پڑا ۔مقامی حکومت کے نام پر ڈیولیشن پلان مرتب ہوا یہ کئی اعتبار سے سماجی، معاشی ترقی کا اچھامنصوبہ تھا اس دور میں افسر شاہی کو سیاسی اور عوامی نمائیندگان کے زِیر تسلط رکھنے کی دانستہ کاوش ہوئی اس کے مثبت اثرات بھی دیکھنے کو ملے،اسکے بعد پھر وہی ری پلے ہوا۔

 کپتان حالیہ دورہ پر جب لاہور پہنچے تو اِنکی جماعت کے اَرکان بیوروکریسی کے عدم تعاون پر شکوہ کناں تھے، اس سے قبل سیالکوٹ میں معاون خصوصی اور اسسٹنٹ کمشنر کے واقعہ کی باز گشت سوشل میڈیا کے ذریعہ پوری دنیا میں وائرل ہو گئی، اس پر نئی بحث کا آغاز ہوا ،افسر شاہی کی کارکردگی پر سوالا ت اٹھائے گئے، قومی اداروں کی شکست و ریخت کے پس منظر میں ا ن کے کردار کو دیکھا گیا، نجی سطح پر کامیاب اداروں کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا جہاں یہ’’ مخلوق‘‘ برَا جماں نہیں ہے،  ہم نسل نوع نوکی آگاہی کے لئے سول سروس کی اِن ذمہ داریوں کا تذکرہ کریں گے جو اُس وقت تاج برطانیہ نے اِنکو تفویض کیں  ،ان میں پہلی تو تاج برطانیہ سے وفاداری کرنا دوسروں کوفاداری پر آمادہ کرنا، اِنکے معاشی، سماجی، دفاعی مفادات کا تحفظ کرنا، اپنی حاکمیت قائم کرنا کیونکہ برطانوی ارباب اقتدار سمجھتے تھے کہ ہندوستانی گنوار، غیر مہذب، کم تعلیم یافتہ ہیں اس لئے قانون کے نفاذ کے لئے طاقت کا استعمال لازم ہے، سماجی طور پر خود کو برتر سمجھنا، اِنکے عہد میں ڈپٹی کمشنر ضلع کا ’’بادشاہ ‘‘ہوا کر تا تھا، قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں کہ اس کی خدمت مدارت کے لئے بائیس ملازمین تھے ،یہ شاہانہ ٹھاٹھ بھاٹھ اب بھی ہماری افسر شاہی کا نصیب ہے،وہی تحکمانہ انداز، طاقت کا استعمال، ہٹو بچو کا وہی نو آبادیاتی کلچر اب بھی پوری آب و تاب سے روشن ہے۔

ماہرین سیاسیات کہتے ہیں کہ ہمارے قومی نظام میں تین کردار آج بھی اہم ہیں جنہیں پالیسی اور فیصلہ سازی میں مرکزی اہمیت ہے وہ جاگیر دار، ملٹری اور سول بیوروکریسی ہے جب ہم غلام تھے اس وقت بھی یہی طبقات ہماری قسمت کا فیصلہ لکھا کرتے تھے آج جب ہم ایک آزاد مملکت کے باشندے ہیں تو بھی ہمارا مقدر اِن کے ہاتھ میں ہے۔

سرخ فیتہ سے لے کر ہربدعنوانی کے ڈانڈے اِس نظام میںملتے ہیں جس کو افسر شاہی کے ذریعہ چلایا جا رہا ہے، پالیسی بنانا اور فیصلہ سازی بیوروکریسی کے بغیر ممکن نہیں ،اس کے باوجود ہمارا نظام تعلیم یکساں نصاب سے تاحال محروم ہے، ناگہانی صورت حال کا بوجھ محکمہ صحت اٹھانے سے قاصر ہے، قیام پاکستان سے پہلے کے شعبہ جات ڈاک، محکمہ انہار اور ریلوے رینگ رینگ کر چل رہے ہیں،جرائم کی شرح میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے،زعی ملک ہونے کے باوجود گندم، چینی درآمد کرنا پڑ رہی ہے،کئی شعبہ جات میں گھوسٹ ملازمین پائے گئے ہیں،عوام کا گوورننس سے اعتماد بتدریج اُٹھ رہا ہے۔

سچ تو ہے یہ جو تلخ کلامی معاون خصوصی اور افسر شاہی کے عہدیدار کے مابین ہوئی یہ اِنکا مینڈیٹ ہی نہیں تھا، ترقی یافتہ ممالک میں کم لاگت پر معیاری اور سستی اشیاء کی عوام کو فراہمی بلدیاتی اداروں کا کام ہوتا ہے،بدقسمتی سے ہمارے ہاں مالی اور انتظامی اختیارات کے ساتھ ان اداروں کو کام کرنے ہی نہیں دیا جا تا،پبلک کو افسر شاہی کے رحم و کرم پر چھوڑاجاتا ہے،جو سوال قومی اداروں کی کارکردگی کی بابت سوشل میڈیا پر زیر گردش ہیں اِسکی تشفی بھی اِنکے ذمہ ہے تاکہ عوام ایک آزاد اور غلام ریاست کی افسر شاہی میں تفریق کو سمجھ سکیں۔


ای پیپر