Sajid Hussain Malik, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
10 May 2021 (11:24) 2021-05-10

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ جناب شوکت ترین نے ملکی معیشت کی بدحالی، آئی ایم ایف کی طرف سے بجلی ٹیرف میں ناروا اضافے کی کڑی شرائط عائد کرنے اور جی ڈی پی گروتھ ریٹ 5فیصد تک نہ لے جانے کی صورت میں ملک کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں خیالات کا اظہار کیا ہے۔ انہیں چشم کشا اور حقیقت پسندانہ نہیں کہا جا سکتا ہے بلکہ موجودہ حکومت کی اقتصادی شعبے میں ناکامی کا اعتراف بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ ملک جس طرح اقتصادی مشکلات کا شکار ہے۔ ملکی اور غیر ملکی قرضوں کے ساتھ مہنگائی میں جس طرح ہوشرباء اضافہ ہوا ہے اور گردشی قرضے جس طرح تیز رفتاری سے بڑھ رہے ہیں اور اس کے ساتھ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط اس پر مستزاد یقینا یہ ملکی معاشی صورتحال کی بدحالی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وفاقی وزیرخزانہ جناب شوکت ترین نے اس کے اعتراف میں بخل سے کام نہیں لیا ہے تو اسے مثبت رویے کا نام دیا جا سکتا ہے۔ جناب شوکت ترین کا کہنا ہے کہ معیشت کا پہیہ نہیں چل رہا۔ آئی ایم ایف کا بجلی ٹیرف میں اضافے کا مطالبہ ناجائز اور مالیاتی ادارے کی پاکستان سے زیادتی ہے۔ ٹیرف میں اضافے سے کرپشن بھی بڑھ رہی ہے۔ ساری دنیا میں مانیٹری پیرامیٹر کھلے جبکہ ہمارے اوپر تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ کئے گئے معاہدے اور شرائط سخت ہیں۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ زیادتیاں کی ہیں۔ ان کے لئے ہمیں کھڑا ہونا ہو گا۔ بجلی ٹیرف کے مہنگائی پر اثرات آتے ہیں۔ گردشی قرضہ میں کمی ٹیرٹ میں اضافے کی بجائے دوسرے طریقے اختیار کر کے کی جا سکتی ہے۔ ٹیکسوں میں اضافے کی بجائے ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہونا چاہئے۔

جناب شوکت ترین نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ جی ڈی پی گروتھ 5فیصد تک نہ لے گئے تو چار سال تک ملک کا اللہ حافظ! ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم صرف معاشی استحکام کو لے کر چلتے رہے تو پھر آئندہ ایک دو سال گروتھ کو خیرباد کہہ دیں۔ گروتھ نہ ہونے سے بڑی قباحتیں آرہی ہیں۔ بجلی کے کیپیسٹی چارجز کے پیسے دیئے جا رہے ہیں۔ ہماری جی ڈی پی گروتھ (شرح نمو) اتنی نہیں ہو رہی۔ اگلے سال معاشی گروتھ 4سے 5فیصد بھی ہو جائے تو کافی نہیں ہو گی۔ جناب شوکت ترین کا مزید کہنا تھا کہ ایف بی آر کی ہراسمنٹ (ڈر/خوف) کو ختم کرنا ہو گا اور اشتہارات میں کمی لائی جائے گی ریونیو میں اضافے کے لئے مزید اقدامات کریں گے لیکن ایسا نہیں ہو گا کہ ریونیو میں اضافے کے لئے کسی کی دم پر پائوں پڑ جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں مناسب پلاننگ کی کمی ہے۔ مناسب پلاننگ کے لئے 10سے 12 شعبوں کا انتخاب کر لیا ہے اور ماہرین معیشت نے ان پر کام شروع کر دیا ہے۔

وزیرخزانہ نے اپنی طویل بریفنگ میں ملک کی معاشی بدحالی اور اس میں بہتری لانے کے لئے آئندہ کئے جانے والے اقدامات کے بارے میں اور بھی بہت ساری باتیں کی ہیں۔ ان تمام باتوں اور آئندہ کئے جانے والے اقدامات کا کیا نتیجہ سامنے آتا ہے جلد ہی یا چند ماہ میں اس کا پتہ چل جائے گا۔ تاہم تحریک انصاف کی حکومت کی نصف اول کی معیاد ہی ملک کی معاشی ابتری کا جو منظرنامہ ابھرا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ وزیراعظم جناب عمران خان اور ان کے قریبی حکومتی ساتھی،ان کے ترجمان اور معاشی ٹیم کے ارکان جو چاہیں کہیں، وہ سابقہ حکمرانوں کو جتنا مرضی چاہیں کرپٹ اور بدعنوان کہہ کر پکاریں، ان کا مبینہ لوٹ مار اور بدعنوانی کے حصے اور تذکرے خوب نمک مرچ لگا کر اور انہیں خوب برا بھلا کہہ کر اور دشنام طرازیوں کا نشانہ بنا کر کیوں نہ بیان کریں بلکہ ہر وقت صبح، شام اس کی گردان دہراتے رہیں لیکن تحریک انصاف کی حکومت کے تقریباً پونے تین سال یا 33ماہ کے عرصے میں ملک اقتصادی اور معاشی لحاظ سے بدحالی اور ابتری کا شکار ہوا ہے۔ اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ اس دوران ملکی اور غیر ملکی قرضوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ اس دوران مہنگائی بالخصوص عام استعمال اشیائے صرف کی قیمتوں میں اتنا اضافہ ہوا ہے کہ عام آمدنی متوسط آمدنی کے طبقات کے لئے ضروریات زندگی کو پورا کرنا اور جسم و جاں کے رشتے کو برقرار رکھنا دشوار ہی نہیں بلکہ ناممکن ہو چکا ہے۔ آٹے، چینی، گھی، تیل، صابن، سبزیوں، گوشت، انڈے، مرغیوں وغیرہ جیسی ہر گھرانے کی ضروریات کی اشیاء کی قیمتیں ہی آسمان پر نہیں پہنچی ہوئی ہیں بلکہ بجلی ، گیس کے نرخوں میں کمر توڑ اضافہ ہوتا رہا ہے اور ہو چکا ہے۔

اسے موجودہ حکمرانوں کی ناسمجھی، ناتجربہ کاری اور غیر سنجیدگی قرار دیا جا سکتا ہے کہ جناب عمران خان نے اگست 2018ء میں وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا تو ان کی کابینہ کے سینئر رکن اور وزیرخزانہ جناب اسد عمر نے اس عندیے کا اظہار کیا کہ ہمیں آئی ایم ایف پروگرام سے رجوع نہیں کرنا چاہئے۔ کچھ عرصے بعد وہ قائل ہو گئے کہ آئی ایم ایف پروگرام سے رجوع کئے بغیر چارہ نہیں تاہم وہ آئی ایم ایف سے معاہدہ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے تو انہیں وفاقی وزیرخزانہ کے منصب سے ہی ہٹا نہ دیا گیا بلکہ کابینہ سے بھی فارغ کر دیا گیا۔ ان کی جگہ ڈاکٹر حفیظ شیخ جو پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں وفاقی وزیرخزانہ کے منصب پر فائز رہے تھے کو بطور وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و اقتصادی امور مقرر کیا گیا۔ آئی ایم ایف پروگرام سے رجوع کرنا اور آئی ایم ایف سے معاہدے کی شرائط طے کرنا ان کی بڑی ذمہ داری قرار دی گئی۔ انہوں نے آئی ایم ایف سے پانچ سال کیلئے چھ ارب ڈالر بیل آئوٹ پیکیج حاصل کرنے میں تو کامیابی حاصل کر لی لیکن اس کیلئے بجلی ٹیرف اور گیس قیمتوں میں ہوشرباء اضافے، ٹیکس ریٹ بڑھانے اور مفاد عامہ کے شعبوں میں حکومت کی طرف سے دی جانے والی سبسڈیز کو کم کرنے جیسی، آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ہی تسلیم نہیں کیں بلکہ آئی ایم ایف کی مرضی اور پسند کی شخصیات کی چیئرمین ایف بی آر اور گورنر سٹیٹ بینک کے طور پر تقرر کو بھی قبول کیا۔ اس طرح گزشتہ دو اڑھائی سالوں کے دوران آئی ایم ایف سے بیل آئوٹ پیکیج کے تحت قرضے کی قسطیں تو ضرور ملیں لیکن معیشت کی بہتری اور اس کے مضبوط بنیادوں پر استوار ہونے کی کوئی مستقل صورت سامنے نہ آسکی۔ وزیراعظم عمران خان جو ایک زمانے میں کشکول توڑنے اور عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے جھولی نہ پھیلانے اور قرض نہ لینے کے دعوے کرتے نہیں تھکتے تھے۔ انہوں نے بھی تواتر سے یہ ارشاد فرمانا شروع کر دیا کہ آئی ایم ایف پروگرام یا پیکیج سے پہلے رجوع کر لیتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔

وزیراعظم جناب عمران خان کے آئی ایم ایف سے بہت پہلے رجوع نہ کرنے پر تاسف اور پشیمانی کے اظہار کا سلسلہ جاری رہا تو دوسری طرف مشیر خزانہ جناب ڈاکٹر حفیظ شیخ کی طرف سے جنہیں بعد میں مشیر خزانہ سے بڑھ کر وفاقی وزیر خزانہ بنا دیا گیا آئی ایم ایف کی طرف سے بیل آئوٹ پیکیج یا قرضے کی نئی قسطیں جاری کروانے کیلئے بہ امر مجبوری آئی ایم ایف کی وارد ہونے والی کڑی شرائط کو تسلیم کرنے کا سلسلہ بھی چلتا رہا۔ اس کا جو نتیجہ سامنے آیا یا آچکا ہے اس کی تفصیل نئے مقرر کردہ وزیرخزانہ جناب شوکت ترین نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ (جس کا حوالہ کالم کے شروع میں آیا ہے) میں بیان ہے۔ وزیراعظم جناب عمران خان کی حکومت پانچ سال پورے کرتی ہے یا نہیں تاہم اس کا نصف سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ اس دوران قوم پہلے جناب اسد عمر کو بعد میں جناب حفیظ شیخ کو اور مختصر وقت کے لئے جناب حماد اظہر کو بطور وفاقی وزیر خزانہ یا مشیر خزانہ اور ان کے ساتھ معاشیات کی اعلیٰ ڈگریوں کے حامل خصوصی اقتصادی ماہرین کی اختیار کردہ معاشی پالیسیوں کے نتائج دیکھ چکی ہے۔ اب جناب شوکت ترین نے ماضی کی پالیسیوں سے رجوع کرتے ہوئے نئی راہ اپنانے کا مژدہ سنایا ہے تو دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک۔


ای پیپر