Sumera Malik, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
10 May 2021 (11:20) 2021-05-10

جس ملک میں غریب اور امیر کے لیے ایک قانون ہو۔ وہاں انصاف کا بول بالا ہوتا ہے۔ انصاف کے بغیر چلنے والے معاشرے پنپتے نہیں ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ پاکستان میں اس معاملے میں بھی سابقہ حکومتوں کا کھوٹ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ جس کے سبب آج یہاں دو قانون چل رہے ہیں۔ امیر کو اسی قانون سے ریلیف مل جاتا ہے جبکہ غریب کے حصے میں پیشیاں آتی ہیں۔ شہباز شریف نیب کیسز میں پیشی پر رہائی ملنے کے بعد لاہور ہائی کورٹ سے دستور پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت باہر کے ملک جانے کی درخواست کرتا ہے اور اسی روز عدالت رٹ پٹیشن پر فیصلہ بھی سنا دیتی ہے اور اس کو علاج کے لیے باہر جا نے کی اجازت بھی دے دیتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے اگر یہ سب کچھ ہے تو اتنا سستا اور فوری انصاف غریب کے لیے بھی ہونا چاہئے۔ مگر حیرت ہے کہ یہاں پر قانون کیوں خاموش ہے۔ علاج کرانے کے لیے لندن کا ملک اور حکومت کرنے کے غریب پاکستان ملک، آخر کیوں۔۔

کرپٹ سیاست دانوں کے اپنے ملک میں حکمرانی کرنے کے لیے پلیٹ لٹس کم کیوں نہیں ہوتے ہیں۔ یا اس وقت انہیں کمر میں درد کیوں نہیں ہوتا ہے اور اس وقت عدالت میں پیش نہ پر سینئر شہری ہونے کی وجہ سے ریلیف کیوں چاہئے آخر یہ دوہرا معیار کیوں چل رہا ہے۔ ڈرامے باز شہباز شریف نے پچھلے 7 سال سے جنوبی پنجاب کو 265 ارب روپے سے محروم رکھا ہے۔ 33 فیصد بجٹ کا اعلان کر کے صرف 17 فیصد کا استعمال کرتا تھا۔ مگر سردار عثمان بزدار کے دور حکومت میں جنوبی پنجاب 

کے لئے 32 فیصد بجٹ اور 33 فیصد نوکریوں میں کوٹہ رکھا گیا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے اڑھائی برس کے دوران عوامی خدمت کی نئی مثال قائم کی ہے۔ موجودہ حکومت کا ایک بھی سکینڈل سامنے نہیں آیا۔ ماضی میں ہر روز کرپشن کی داستانیں منظر عام پر آتی تھیں سابق حکمرانوں نے قومی وسائل کو ذاتی نمود و نمائش پر بے دریغ استعمال کیا۔ اربوں روپے کے ٹھیکوں پر کمیشن خود حمزہ شہباز لیتا تھا۔ بے نامی اکاؤنٹ میں پیسہ جاتا تھا۔ سابق دور میں عوام پستے رہے اور حکمران سرکاری پیسے کو مال مفت سمجھ کر خرچ کرتے رہے۔

منی لانڈر شہباز شریف کی کنیز اول پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہتی ہے کہ ہم حکومت کو نہیں چلنے دیں گے اور باہر بیٹھ کر تماشا دیکھیں گے۔ اس لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے نظام سے راہ فرار اختیار کرنا چاہتے ہیں یہ دھاندلی میں ملوث ٹولے کے اندر کے خوف کو ظاہر کرتا ہے۔ کیوں کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے بہت سے ووٹر کا ڈبل اندراج ہے، الیکٹرونک ووٹنگ مشین سے انکا بھانڈا پھوٹ جائے گا۔ حالانکہ بھارت اسکو 1984 میں الیکٹرونک مشین کا ایک ریاست میں تجربہ ہوا پھر پورے ملک میں 2004 میں لاگو کر دیا گیا۔ مگر پاکستان ہر اچھے کاموں میں اس لیے پیچھے ہے کہ یہاں دھاندلی سے پارٹیوں کی سیاست جڑی ہے۔ انہیں علم ہے کہ عام انتخابات شفاف ہوئے تو ان کی رہی سہی سیاست بھی ختم ہو جائے گی۔ دھاندلی کرنا ان لوگوں کا وتیرہ رہا ہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ کے ذریعے الیکشن کے نظام میں شفافیت آئے گی اور نتائج پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکے گا۔ اظہار رائے کی آزادی کا غلط استعمال پاکستان میں ہو رہا ہے۔ حالانکہ یہ بہت بڑی نعمت ہے لیکن اس کی وجہ سے جس کا جو دل چاہتا ہے وہ بولتا ہے۔ صحیح غلط، سچ جھوٹ میں تمیز کیے بغیر کسی پر الزام اور تہمت لگا سکتے ہیں۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ پڑھی لکھی اور نوجوان نسل کو پاکستان کی نمائندگی کرنی چاہیے۔ نوجوان بھی وہ جو محنت کر کے گراس روٹ لیول سے یا ایک سسٹم سے آئیں اور ملک کی نمائندگی کریں۔ میرے نزدیک بلاول بھٹو زرداری لیڈر نہیں ہے اسکی کیا خدمات ہیں کہ وہ پارٹی کا چیئرمین بن گیا۔ ہم جمہوریت کی بات کرتے ہیں سابق امریکی صدر کے بچے راتوں رات کھرب پتی کیوں نہیں بنتے۔ اس سوال کا جواب خود سے پوچھیں۔

چیئرمین بلاول کہتے ہیں کہ ملکی سیاست میں جب جمہوریت ختم ہوتی ہے تو پارٹی اور ملک میں جمہوریت ختم ہو جاتی ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے حادثاتی چیئرمین کے اردگرد اس کے باپ کی عمر کے سیاست دانوں کی لمبی لائن ہے۔ اس کے منہ سے دودھ کی بو آتی ہے کہ وہ جمہوریت کا سبق سکھا رہے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی کارکردگی پر سوال اٹھانے سے پہلے ایک بات بتائیں کہ سندھ میں 13 سال حکومت کرنے کے باوجود آپ نے کون سا اندرون سندھ اور لاڑکانہ میں کمال کر دکھایا اور یا کون سی دودھ اور شہد کی نہریں بہا دی ہیں۔عوام کو جب بنیادی ضروریات زندگی کی وافر دستیابی ہو گی تب وہ حکمرانوں کے سکینڈل یاد رکھیں اور پھر فیصلہ کریں گے کہ آزمائے ہوئے کو دوبارہ نہیں آزمائیں گے۔ بہت ہو گیا انصاف کا دوہرا معیار، اب نہیں ایسا ہونے کا۔ ایک راہ متعین کرنا ہو گی۔


ای پیپر