کرونا کا علاج،احتیاط اور ویکسین
10 May 2021 2021-05-10

ایک حالیہ تحقیق کے دوران معلوم ہوا ہے پاکستان میں کرونا وائرس کی تیسری لہر کی وجہ 98 فیصد تک برطانوی قسم ہے جبکہ باقی دو فیصد جنوبی افریقہ سے یہاں منتقل ہوئی،ماہرین کے مطابق یہ قسم انتہائی شدید حملے کر رہی ہے کیونکہ تیسری لہر سے بچے بھی محفوظ نہیں اور اموات کی شرح بھی خطرناک حد تک زیادہ ہے،گزشتہ ہفتہ ملک بھر میں چھ سو سے زائد اموات ریکارڈ کی گئی ہیں،ایک محتاط اندازے کے مطابق سو سے زائد روزانہ ہلاکتیں اور ایک ہزار سے زیادہ مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے،ہسپتالوں کی صورتحال ابتر ہے،آکسیجن اور وینٹی لیٹر کیساتھ اکثر ہسپتالوں میں بیڈز کی بھی شدید قلت ہے،پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں صورتحال بد ترین ہوتی جا رہی ہے،ترقی یافتہ ممالک میں ویکسین لگانے کی رفتار بہت تیز ہے مگر اس کے باوجود صورتحال انتہائی بدترہے، امریکہ،برطانیہ،برازیل، میکسیکو،اٹلی،فرانس، بھارت،سری لنکا،بنگلہ دیش میں صورتحال کنٹرول سے باہر ہوچکی ہیں،لاکھوں ہلاکتیں اور ملینز متاثرین ہیں،بھارت سے صاحب ثروت لوگ ملک سے فرار ہو رہے ہیں،اس صورتحال میں دنیا بھر کے ممالک کی معیشت متاثر ہے،خاص طور پر روزانہ کی بنیاد پر رزق کمانے والے فاقوں کا شکار ہیں۔

پاکستان میں بھی کرونا کے تیزی سے پھیلاو¿کی رفتار انتہائی خوفناک ہے اور اسے روکنے کیلئے عید کی چھٹیوں کی تعداد بڑھا دی گئی اور ان دنوں میں سخت لاک ڈاو¿ن کا نفاذ کیا گیا ہے،لاک ڈاو¿ن کے حوالے سے جاری ایس او پیز پر عمل کرانے کیلئے فوج کی مدد بھی حاصل کی گئی ہے،مگر اس کے باوجود شہری غیر محتاط ہیں اور ایس او پیز پر عملدرآمد سے دانستہ گریزاں ہیں،گزشتہ عید کے تجربات ہمارے سامنے ہیں جبکہ کرونا کی پہلی لہر تھی اور اتنی خطرناک بھی نہ تھی،تب بھی شہریوں کی طرف سے بے احتیاطی کے نتیجے میں عید کے بعد وائرس بے قابو ہو گیا تھا،ہسپتال مریضوں سے بھر گئے تھے،ہلاکتوں کی تعداد بھی تشویشناک ہو گئی تھی،اس کے باوجود اس عید پر بھی بے احتیاطی عروج پر ہے،بازاروں میں لوگ امڈآئے ہیں،ماسک تک نہیں پہنا جاتا،دکانداروں نے بھی ایس او پیز کی دھجیاں اڑا دی ہیں،سماجی فاصلے کا تو تصور ہی نہیں ہے،کھوے سے کھوا چھل رہا ہے،ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کیلئے لوگ ہر احتیاط کو نظر انداز کر چکے ہیں،حکومتی ذمہ دار ادارے اور پولیس بھی بے بس دکھائی دیتی ہے،اپنی یا کسی کی جان کی قیمت پرعید کے لئے نئے کپڑے اور جوتی کا حصول سمجھ سے باہر ہے،کوئی نہیں سوچ رہا کہ اس لا پروائی کے نتیجے میں اس کے اپنے یا کسی دوسرے کے گھر صف ماتم بچھ سکتی ہے،یہ بے حسی غیر ذمہ داری اور لا پروائی کی انتہا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق آر این اے وائرس میں تبدیلیاں کوئی اچنبھے کی بات نہیں، اس سے بچنے کا واحد حل احتیاط ہے، بھارت اور پاکستان میں پائے جانے والے کرونا وائرس میں فرق بارے ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں آنے والا وائرس ڈبل میوٹنٹ ہونے کی وجہ سے زیادہ خطرناک ہوچکا ہے،یہ اب بھارتی ویرینٹ بن چکا ہے لیکن پاکستان میں ابھی برطانونی ویرینٹ تبدیل نہیں ہوا،ماہرین کاکہنا ہے کہ ابھی تک دنیا بھر میں بننے والی ویکسینز سو فیصد کرونا سے تحفظ فراہم نہیں کرتیں، یہ صرف 70 فیصد تک محفوظ رکھتی ہیں تاہم موجودہ حالات میں یہی ویکسین ہی موثر حل دکھائی دیتی ہے۔ 

ویکسین لگانے کی سرکاری صورتحال تسلی بخش ہے ، مگر ابھی تک ویکسین کے خلاف پروپیگنڈہ بھی جاری ہے اور لوگ اس کو لگوانے سے کترا رہے ہیں حالانکہ اس کو لگوانے کے مراکز میں احتیاطی تدابیر اور اچھے انتظامات کئے گئے ہیں،جو لوگ رجسٹریشن کرا چکے ہیں ان کی اکثریت کو اچھے ماحول میں یہ سہولت دی جا رہی ہے جبکہ پچاس سال سے بڑی عمر کے لوگ واک ان میں ویکسین لگوا رہے ہیں، دوسری جانب مقامی ماہرین نے پنجاب، پاکستان میں وبائی مرض کی تیسری لہر کے دوران COVID-19 برطانیہ کے وائرس میں تغیر کی تصدیق کی ہے،جو زیادہ خطرناک بات ہے، اور اس سے بچنے کیلئے حفاظتی انتظامات پر عمل کرنا نا گزیر ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وائرولوجی اور سالماتی جینیات کے محکموں نے مختلف نمونوں کی جانچ کے لیے مارچ کے آخر میں بے ترتیب 62 نمونے اکٹھے کئے،مطالعے سے نتیجہ اخذ ہوا ہے 62 نمونوں میں سے 60 (97) نسب B.1.17 (برطانیہ کی مختلف شکل کے تھے اور دو نمونے نسبتاً B.1.35جنوبی افریقہ کے مختلف حصے ایک جینومک مطالعے کے ذریعے پائے گئے۔ اس تحقیق میں یہ بھی نتیجہ اخذ کیا گیا کہ وائرس کے ابتدائی مرکز ووہان کی شکل کی عدم موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وائرس نے خود کو اصل شکل سے مکمل طور پر تبدیل کرلیا ہے۔

ماہرین نے پاکستان میں COVID-19 کی تیسری لہر کے دوران تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسز اور یوکے کے متغیر وائرس کے غلبے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا،تیسری لہر میں پچھلے تین ماہ کے دوران کیسز میں بہت اضافہ دیکھا گیا، وائرس بچوں پر اثر انداز ہونے کے لیے بھی جانا جاتا ہے،بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مرکز نے برطانیہ اور جنوبی افریقہ کے متغیرات کو اپنی فہرست میں شامل کیا ہے جس کی عالمی سطح پر گہری نگرانی کی جارہی ہے کیونکہ ان میں تیزی سے پھیلنے کا رجحان ہے،اب تک کی جانے والی تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ فی الحال مجاز ویکسینوں کے ذریعے تیار کردہ اینٹی باڈیز ان مختلف حالتوں کے خلاف موثر ہیں،وائرس کی تیزی سے بدلتی ہوئی نوعیت کے پیش نظر، یہ تحقیق پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلا و¿کو کم کرنے کے لیے عوامی اجتماعات اور ذاتی حفظان صحت میں اضافے کے لیے موثر لاک ڈاو¿ن کی ضرورت کی تائید کرتی ہے،اس کے باوجود پاکستانی قوم لا ابالی پن کا مظاہرہ کر رہی ہے اور احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑ چکی ہے،جو موت کا بانہیں کھول کر استقبال کرنے کے مترادف ہے۔

رمضان میں اہل اسلام نے نماز اور تراویح میں بھی ایس او پیز پر عمل نہ کیا جبکہ مقدس ترین مقامات حرم شریف اور مسجد نبوی میں بھی اس حوالے سے پابندی میں رہتے ہوئے حاضری دی گئی ، وہاں اجتماعی سحری ہوئی نہ افطار،مگر ہم نے اعتکاف کے معاملہ میں بھی صرف بڑی مساجد میں احتیاط کی،حالانکہ نبی پاک کا حکم ہے جس علاقہ میں وباءکے پھیلاو¿ کا سنو وہان مت جاو¿ اور اگر وہاں پر موجود ہو تو وہاں سے مت نکلو،اس کے باوجود ہم بے پروا ہیں۔

اس مرتبہ وائرس اپنی شکل ہی نہیں شدت اور قہرناکی بھی تبدیل کر رہا ہے اور دن بدن خطرناک ہوتا جا رہا ہے ایسے میں خود اور دوسروں کو بچانے کا واحد راستہ احتیاط اور ویکسین ہی ہے۔


ای پیپر