صحافت دم توڑ رہی ہے
10 May 2020 2020-05-10

وجوہا ت انفرادی بھی ہوسکتی ہیں ا ور اجتماعی بھی مگر کیا یہ بات غور کرنے والی نہیں ہے کہ ایک مختصر مدت میں نیوز چینلوںکی رکارڈ تعداد کو اپنی بقا کے سنگین ترین مسئلے کا سامنا کرنا پڑاہے۔ ” وقت نیوز“ کے بعد” آپ نیوز“ بھی بند ہو گیا اور ” نیو نیوز“ کا لائسنس تکنیکی بنیادوں پرمعطل کر دیا گیا، بات یہاں تک ہی محدودنہیں کہ قیام پاکستان سے اب تک بین الاقوامی معیار کی انگریزی صحافت کرنے والے قائداعظم محمد علی جناح کے قائم کئے اخبار کو دوگنی ہوتی مہنگائی میں تنخواہیں چالیس فیصد تک کم کرنا پڑیں اور بعض دوسرے بڑے میڈیا نیٹ ورکس کو تنخواہوں میں پچاس فیصد تک کٹوتی لگانا پڑی ۔ ان سب کے ساتھ ساتھ کارکن صحافیوں کے لئے مزید دو تباہ کن اقدام ہوئے کہ بڑے اداروں میں بہت سارے شہروں میں اپنے بیورو آفس بند کرنے پڑے اور کارکنوں کی ملازمتوں سے بھی فارغ کرنا پڑا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اب تک ملک بھر میں کم و بیش بیس ہزار عامل صحافی بے روزگار ہوچکے ہیں اور کچھ کو بے روزگار کروانے کے لئے دباو کی کہانیاں بھی موجود ہیں۔

ہمارے کچھ دوست اس وقت بھی نجی محفلوں اور واٹس ایپ گروپوں میں اصرار کر رہے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں مالکان کے خلاف مہم چلائی جائے۔میں نہیں جانتا کہ وہ کن لوگوں کے مقاصد کی تکمیل کر رہے ہیں کیونکہ اس وقت صرف کارکن ہی نہیں بلکہ میڈیا مالکان بھی تاریخ کے بدترین دباو میں ہیں۔ اسی دور کی تاریخ جب رقم کی جائے گی تو لکھا جائے گا کہ ملک کے سب سے بڑے میڈیا گروپ کے مالک دوماہ سے پابند سلاسل ہیں۔ یہ لوگ شائد ان کے مقاصد کی تکمیل کر رہے ہیں جو اس ملک میں صحافت کے ادارے کو دفن کرنا چاہتے ہیں۔ یہ نام نہاد بقراط اور ارسطو اسی درخت کو کاٹنا چاہ رہے ہیں جس سے وہ رزق اور سایہ لے رہے ہیں۔میرے بہت سارے دوست یہ بھی کہتے ہیں کہ صحافت اب نظریہ نہیں رہی بلکہ کاروبار بن گئی ہے جس نے صحافت کو آدھا قتل کر دیا ہے مگر یہ آدھا سچ ہے کہ اگر آپ صحافتی اداروں معاشی آکسیجن بند کر دیں گے تو یہاں صحافت مکمل قتل ہوجائے گی۔ ظاہر ہے ہم اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کو اخبارات کے کالموں میں زیر بحث نہیں لا سکتے اور نہ ہی لانا چاہئے مگریہ فیصلہ تاریخ کرتی ہے کہ اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے واقعی اعلیٰ تھے یا نہیں۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا ہے کہ ایک شخص نے انہی ٹی چینلوں اور اخبارات کے لئے سرکاری اشتہارات کی لائف لائن کو کاٹ دیا جن کی ہیڈ لائنز اور شہ سرخیوں میں رہنے کے لئے اس نے ہر اچھا برا حربہ استعمال کیا،ہمارے ادارے ان صاحب کی مہربانیوں سے اب بھی اربوں روپوں کے سرکاری واجبات کی وصولی کے منتظر ہیں۔

کچھ سوشل میڈیائی دانشوروں اورایجنڈے کے حامل صحافتی تخریب کاروں کی طرف سے کہاجاتا ہے کہ پرائیویٹ اخبارات اور ٹی وی چینل سرکاری اشتہارات کیوں مانگتے ہیں تو انہیں آئین اور قانون پڑھانے کی اشد ضرورت سامنے آتی ہے۔ آزاد میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے اور اس کی آزادی، خود مختاری اور مضبوطی اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ باقی تینوں ستونوں کی۔جب ماہرین یہ کہتے ہیں کہ تمام سرکاری خریداریوں، مہمات اور دیگر امور کے اشتہارات لازمی طور پر آزاد میڈیا میںشائع اور نشر کئے جائیں تو وہ کھربوں روپوں کے شفاف استعمال کو یقینی بنا رہے ہوتے ہیں۔ یہ سرکار پر آئینی بندش ہے کہ وہ اپنے تمام ٹھیکوں اور منصوبوںکو اپنی فائلوں، الماریوں اور دفاتر میں چھپا کے نہ رکھے تاکہ ٹائیگر فورس کی وردیاں بھی بننی ہوں تو اس کی منظوری مہنگے داموں وزیراعظم ہاوس میں بیٹھا کوئی بااثر شخص نہ اڑے۔ کوئی بھی سرکارجب اشتہار جاری کرتی ہے تو احسان نہیں کرتی، حاتم طائی کی قبر کو لات نہیںمارتی بلکہ وہ اپنا آئینی اور قانونی فرض پورا کرتی ہے اور اسی کے نتیجے میں نہ صرف ہزاروں صحافتی کارکنوں کے گھروں کے چولہے جلتے ہیں بلکہ حکومتی منصوبوںکے ٹینڈروں میں تمام پارٹیوں کے حصہ لینے کو یقینی بنا کے اربوں روپوں کی بچت کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

آج کے پاکستان میں ٹی وی چینل یا اخبار چلانا اس شعبے سے عشق رکھنے والے اہل جنوں کا ہی کام ہے یا خوشامدیوں اور کاسہ لیسوں کا کہ اگر آپ موخرالذکر دونوں ’ خوبیوں‘ سے محروم ہیں تو پھر آپ کو اپنے ملازمین کو نکالنا پڑے گا، بیوروآفس بند کرنا پڑیں گے، تنخواہوں میں کمی کرنا پڑے گی اوراس کے بعد بھی آپ کو کروڑوں روپے اپنے دوسرے کاروباروں سے نکال اور ان میں ڈال کر ہی اخبار کو ہاکر کے پاس بھیج سکتے ہیں ، سکرین کو آن رکھ سکتے ہیں۔ یہ شعبے اب بطور کاروبار ہرگز منافع بخش نہیں رہے جیسے ابھی چند برس پہلے سمجھے جا رہے تھے۔ اس پر مزید چیلنج یہ ہے کہ آزاد صحافت اس وقت آسانی سے قتل ہوجائے گی جب آپ کا لائسنس تکنیکی بنیادوں پر معطل کر دیا جائے گا۔ میں ’ نیو نیوز‘ کا بانی کارکن ہوں اور اچھی طرح جانتا ہوں کہ لائسنس کی معطلی کی ’ تکنیکی وجوہات ‘میں خود متعلقہ ادارے کی کوتاہی اور قصور ہے جب اے لائیٹ کی طرف سے اس وقت کے قوانین کے عین مطابق کیٹیگری تبدیل کرنے کی قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے درخواست بھیجی گئی تو ان ضابطوںکے تحت اسے نیوز میں بدلا گیا کہ اگر ادارہ مقررہ وقت میں درخواست پر اعتراض نہ لگائے یا اسے مسترد نہ کرے تو وہ درخواست منظور سمجھی جائے گی۔ جب موجود ہ انتظامیہ نے کئی برس پہلے کنٹرول سنبھالا تو یہ چینل نیوز کیٹیگری میں ہی کام کر رہا تھا مگر اس کے بعد ’نئی بات میڈیا گروپ ‘کو آزاد صحافت کی قیمت کئی بار اشتہارات کی بندش کی صورت ادا کرنی پڑی مگر اب کیا جانے والا وار سب سے سنگین اورمہلک ہے۔سوشل میڈیا پر ایک کامن سینس کی پوسٹ گردش کر رہی ہے کہ اگر بنی گالہ کی ناجائز تعمیرات کو ریگولرائز کیا جا سکتا ہے تو ہزاروں صحافتی کارکنوں کی ملازمتوں کو تحفظ دینے کے لئے حب الوطنی کی صحافت کے علمبردار ادارے کو ریگولیٹری ادارے کے اعتراضات پر اس سے ملتی جلتی سہولت کیوں نہیں دی جا سکتی ۔ بات محض ریگولیشنز کی نہیں ہے کہ نیو نیوز انہی ریگولیشنز کے ساتھ برس با برس سے اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہے لہذا اس کی بجائے یہ امرقابل غور ہے کہ ٹی وی چینلز کے بند ہونے جیسے تمام سانحے اس ایک ہی وقت میں پے در پے کیوں ہو رہے ہیں۔

صحافت پر ایسا مشکل وقت میں نے مارشل لاوں میں بھی نہیں دیکھا بلکہ آئین اور جمہوریت سے محبت کی بنیاد پر جناب پرویز مشرف کی تمام تر مخالفت کے باوجود انہیں کریڈٹ دیتا ہوںکہ ایک فوجی دور میں ہمارے الیکٹرانک میڈیا نے نشوونما پائی اور ہمارے اداروں نے صحافت کے میدان میں عروج حاصل کیا، صحافتی کارکنوں کے گھروں میں خوشحالی اسی دور کی مرہون منت ہے ۔ موجودہ حکومت کے قیام کی نظر نہ آنے والی کوششوں کے آغاز تک پاکستان میں صحافت کا مستقبل روشن تھا اور اہل علم کہتے ہیں کہ وہی ریاست جمہوری ہے اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے جس میں میڈیا آزاد ہے اور ترقی کر رہا ہے۔صحافت کے شعبے میں گذشتہ عشرے کی ترقی کو جس تیزی کے ساتھ ریورس گئیر لگایا جا رہا ہے اس کے بعد صحافت ان جگت بازوں اور میراثیوں کے ایک محدود دھڑے کی میراث ہی رہ جائے گی جو پہلے ہوٹلوں میں سپلائر تھے،کسی کامیاب اداکار کی ناکام اداکار اولاد تھے یا سکہ بند بلیک میلر تھے اور اسی قسم کی صحافت کرتے تھے کہ کرونا لاک ڈاون میں مارچ سے دسمبر کے دوران گیارہ کروڑ ساٹھ لاکھ یعنی بارہ کروڑ کے لگ بھگ نئے بچے پیدا ہو ں گے اور ان کی صحافتی تحقیق کے مطابق اس کی وجہ یہ ہو گی کہ لاک ڈاون کے دوران کوئی دوسری مصروفیت نہیں تھی۔

دم توڑتی صحافت کے سرہانے سورة یٰسین پڑھئے، بند ہوتے اداروں کی خبریں سن کر انا اللہ و انا الیہ راجعون کی گردان کیجئے ، میڈیا گروپس کے عزت اور وقار رکھنے والے مالکان کو نئے کاروبار تجویز کیجئے اور ہمیں بھی بتائیے کہ جن عامل صحافیوں کی عمریں اس دشت کی سیاحی میں گزر گئیں وہ اب کہاں رزق تلاش کریں جو بدقسمتی سے اپنی زبانوں سے حکمرانوں کے جوتے چمکانے کے ہنر سے ناواقف ہیں۔


ای پیپر