آئی ایم ایف۔ ’’ میئر کیا سادہ ہیں…‘‘
10 May 2019 2019-05-10

کسی لیڈر کے سیاسی قد کاٹھ کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب اسے اقتدار یا حکومت ملتی ہے اور دیکھا جاتا ہے کہ وہ لیڈر اقتدار میں آنے سے پہلے جو کچھ کہتا تھا وہ اقتدار میں آ کر کہاں تک اپنے وعدوں اور نظریات پر عمل در آمد کرتا ہے۔ اس معاملے میں پاکستان کی حالیہ تاریخ کا مطالبہ کیا جائے تو ہماری تاریخ ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ کافی نرمی اور رعایت سے کام لیتی ہے اقتدار سے پہلے اور اقتدار کے بعد کاان کا عرصہ تضادات کا مرقع تھا مگر ان کے اندوہناک انجام کی وجہ سے عوام کے دل میں بھٹو صاحب کی محبت اور ہمدردی ان کی کمزوریوں پر غالب آ گئی اور وہ اپنے انجام کو پہنچنے کے بعد ایک بہت بڑے لیڈر بن کر اُبھرے یہ دیو مالائی اور خیالی کردار ان کی حقیقی لیڈر شپ کوالٹی کے حدود کو پار کر گیا۔ ان کے بعد نواز شریف اور بے نظیر بھٹو باری باری عنان ِ حکومت سنبھالتے رہے بے نظیر کے بعد ان کے جانشین آصف زرداری کا عرصہ بھی بے نظیر کے کھاتے میں جاتا ہے۔ کیونکہ انہیں بے نظیر کی وجہ سے حکومت ملی۔ 1988 ء سے لے کر 2018 ء تک کا یہ عرصہ ہماری تاریخ میں لیڈر شپ کے لحاظ سے ایک Stagnant یا جمود زدہ عرصہ تھا جہاں حقیقی لیڈر شپ جس کی بنیاد کس نظریہ پر ہو کا فقدان تھا صرف حصول اقتدار ہی مرکز ومحور تھا جس کا نہ کوئی ایجنڈا تھا اور نہ ہی کوئی سیاسی مینڈیٹ۔

2018 ء میں بر سر اقتدار آنے والی تحریک انصاف کی حکومت اس لحاظ سے ماضی سے مختلف تھی کہ پارٹی سربراہ عمران خان کسی وراثتی نظام یا کارپوریٹ شناخت کے حامل نہیں بلکہ ایک 22 سالہ سیاسی جدو جہد کے بعد ملک کے سب سے بڑے عہدے پر پہنچے تھے۔ ان کی قائدانہ جانچ پڑتال کا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔ ان کی ایک نئی پالیسی لائن سامنے آئی ہے کہ یوٹرن کے بغیر اچھا لیڈر بننا ممکن نہیں خاصی متنازعہ دکھائی دیتی ہے وہ اپنی بہت سی باتوں پر یوٹرن لے چکے ہیں ۔ جس کی وجہ سے انہیں سیاسی مخالفین کی طرف سے مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ ابھی تک ان کی طرف سے ایسی کوئی سیاسی کرشمہ سازی دیکھنے میں نہیں آئی جس کی بناء پر ان کی سیاسی حیثیت میں اضافہ ہوتا نظر آتا ہو۔ وزیر اعظم ہائوس سے بھینس بیچنا یا زائد گاڑیاں نیلام کرنا کوئی بہت بڑا انقلابی اقدام نہیں ہے بلکہ یہ محض سیاسی شعبدہ بازی کی حد تک ہے جو بیک فائر ہو چکا ہے۔

یہاں پر عمران خان کی زندگی کی ایک نہایت دلچسپ دو رُخی کا ذکر کرنا مناسب ہو گا۔ 2015 ء سے 2018 ء تک کے عرصہ میں وہ خارجہ تعلقات اور معیشت کے حوالے سے بطور خاص امریکی مصنف John Perkins کی تعریف کرتے تھے یہ وہی جان پر کنز ہیں ۔ جنہوں نے Confessions of the Economic Hit Man جیسی شہرہ آفاق کتاب لکھ کر پوری دنیا کو امریکی حکومت کا وہ مکروہ چہرہ بے نقاب کیا جس کے تحت امریکہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ذریعے اقدار اور ترقیاتی کاموں کا لبادہ اوڑھ کر ان طفیلی ممالک میں کسی طرح اپنا مکروہ کھیل کھیلتا ہے جو ممالک امداد کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں انہیں کس طرح غلام بنا کر رکھا جاتا ہے اور وہاں کس طرح من مانی کر کے انقلاب لائے جاتے ہیں اور امریکہ کی بات نہ ماننے والے لیڈر کو قتل تک کروا دیا جاتا ہے۔ Economic Hitman یا اقتصادی قاتل امریکہ کی ایک خفیہ اصطلاح تھی جو ماہرین کے روپ میں اپنے Victim یا ہدف ممالک میں جا کر مقامی قیادت کو ترقیاتی امداد اور قرضوں کے سبز باغ دکھا کر انہیں امریکہ نوازی پر مجبور کرتے تھے بلکہ ایسے لیڈر بھی تھے جو خود امریکہ سے درخواست کرتے تھے کے اپنے ملک میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے امریکہ ان کی مدد کرے۔ اس کتاب کے مصنف جان پر کنز خود بھی ایک Hitman تھے۔ جنہوں نے ہیلو ایلسیواڈور پانامہ ملائشیا انڈونیشیا سعودی عرب ایران اور ممالک میں مختلف روپ دھار کر وہاں قیام کیا جس کا ذکر ان کے اعتراضات میں موجود ہے۔

عمران خان اپنے عوامی خطابات اور ٹی وی انٹریوز میں اس کتاب کا بطور خاص حوالہ دیا کرتے تھے اس رونگٹے کھڑے کر دینے والی کتاب کا عمران خان کے منہ سے بار بار ذکر سننے کے بعد میں نے یہ کتاب خریدی اور اس کو بڑے غور سے پڑھا اور اس عرصے میں عمران خان کی سیاسی بصیرت کا اعتراف کرنا پڑا کہ وہ امریکی خفیہ بین الاقوامی ایجنڈے سے کتنے با خبر اور محتاط نظر آتے ہیں۔ اس کتاب دیباچہ کا پہلا پیرا کچھ یوں ہے۔

’’ معاشی قاتل اعلیٰ تنخواہ دار پروفیشنل ہوتے ہیں جو دنیا بھر میں کھربوں ڈالر کی دھوکہ دہی کرتے ہیں۔ وہ ورلڈ بینک یو ایس ایڈ اور دیگر اداروں سے تجارتی گروپوں اور طاقتور خاندانوں کو پیسہ منتقل کرتے ہیں ایسے خاندانوں کو جو ذرائع پر قابض ہیں۔ ان کے طریقہ واردات میں جعلی مالیاتی رپورٹیں الیکشن میں دھاندلی، رشوت، جعلسازی، جنسی تعلقات اور قتل تک شامل ہیں وہ سلطنت کی پرانی جنگ کے کھلاڑی ہوتے ہیں جو گلو بلائزیشن کے نئے دور کی خوفناک شکلوں سے مسلح ہے جان پر کنز کہتے ہیں کہ میں یہ سب کچھ اس لیے جانتا ہوں۔ کیونکہ میں خود ایک اکنامک Hitman رہا ہوں۔‘‘

یہ کتاب پاکستان میں معیشت اور سیاست کے طالب علموں کے لیے ایک راہنما کا درجہ رکھتی ہے جسے ہر شخص کو پڑھنا چاہے مگر میرا سوال یہ ہے کہ عمران خان جو گزشتہ کئی برس سے اس کتاب کی رضا کا رانہ ترجمانی فرما رہے تھے۔ آخر اقتدار میں آ کر انہیں یہ کیا ہو گیا کہ وہ اس کے رموز و اسرار کو بھول کر آئی ایم ایف کے جال میں پھنسنے جا رہے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ پاکستان پہلی بار آئی ایم ایف کے پاس نہیں جا رہا لیکن یہ غور طلب ہے کہ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ سٹیٹ بینک کا گورنر آئی ایم ایف کی سفارش پر لگایا گیا ہے اور جو خبریں آ رہی ہیں وہ یہ ہیں کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر متعین کرنے پر حکومت پاکستان کا کوئی رول نہیں ہو گا۔ اسی طرح بجلی گیس اور پٹرول کی قیمت پر بھی حکومتی مداخلت ختم ہو چکی ہے۔ اس پر حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط مان لی ہیں۔ سب سے بڑی خبر یہ ہے کہ ایک ہزار ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی راہ ہموار ہو چکی ہے جو تجزیہ نگار اس سے پہلے ڈالر 150 روپے کی دھائی دیا کرتے تھے وہ اب کہتے ہیں کہ ایک سال میں ڈالر 170 روپے کا ہو جائے گا۔ ٹیکس نظام صحیح کیے بغیر جو نئے ٹیکس لگیں گے اس کا سارا بوجھ بھی غریبوں پر ہو گا جس سے معیشت کی حالت اور بگڑ جائے گی۔

کرنٹ اکائونٹ خسارہ اور بیلنس آف پے منٹ یا ادائیگیوں کے توازن جیسے مسائل کو حل کیے بغیر ملکی معیشت حکومتی اقدامات جو کہ آئی ایم ایف کی سفارش پر اٹھائے جا رہے ہیں مزید معاشی ابتری کا باعث بنیں گے۔

جس طرح پاکستان نے آئی ایم ایف کی شرائط کے آگے سر تسلیم خم کیا ہے اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ایک وقت آئے گا کہ پاکستان کو ایران اور لیبیا کی طرح ایٹمی پروگرام سے دست بردار ہونے کو کہا جا سکتا ہے۔ کہیں یہ سارا اہتمام اسی مقصد کے لیے تو نہیں ہے۔

میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب

اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں


ای پیپر