میڈیا بلیک آؤٹ کرنے سے سیاسی جماعتیں ختم نہیں ہوتیں!
10 May 2019 2019-05-10

ڈھیل اور ڈیل کی افواہیں تمام ہوئیں، سابق وزیراعظم نوازشریف ایک بار پھرپابندسلاسل ہوگئے ۔ جیل سے قیدیوں کے بھاگنے کی خبریں بہت سنی تھیں مگر لاؤلشکرسمیت کوئی قیدی جیل کی جانب قدم اٹھائے گا ایسا تاریخ میں بہت کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے ۔ یہ لاؤلشکر بلحاظ تعدادالیکٹرانک و پرنٹ میڈیا پر تودیکھنے میں کم ہی ملا مگر سوشل میڈیا پر صورتحال اس کی برعکس تھی۔ رمضان المبارک کی پہلی افطاری کے بعد قیدی بڑے اطمینان کے ساتھ باہر نکلا تو لیگی متوالوں میں سے ہر کوئی ان سے ہاتھ ملانے یا پھر ان کے قریب آنے کی کوشش کررہا تھا ۔ قیدی کی جاتی امراء سے کوٹ لکھپت یاترا یقیناایک بڑا ایونٹ تھا۔عوام کا جم غفیر قیدی کی گاڑی کے آگے پیچھے تھا ۔ اس گاڑی کا ڈرائیوار سگا بھتیجا تھا جو اپنی مسکراہٹ سے اس تاثر کی نفی کررہا تھا کہ قیدی اور اس کا بھائی دوالگ پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں ۔ اس گاڑی میں قیدی کی بیٹی بھی سوار تھی جو بہت قلیل عرصہ میںسیاسی افق پر چھا چکی ہیں ۔ تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا دوسرا منظر تھا پہلا منظر 13جولائی 2018کو دیکھنے کو ملا جب ایک باپ اپنی بیٹی کا ہاتھ تھام کر جیل جارہا تھا دوسرا منظر 7مئی 2019ء کو دیکھا گیا جب ایک بیٹی جس کی والدہ کا انتقال کچھ عرصہ قبل ہو ا تھا وہ اب اپنے والد کو جیل چھوڑنے جارہی ہے ۔ یہ مناظر جذبات سے بھرپور تھے ۔پہلا منظر تو الیکٹرانک میڈیا کی زینت خوب بنامگر دوسرے کا بلیک آؤٹ سمجھ سے بالاتر تھا۔ میڈیا پر دوسرا منظرپہلے منظر کی طرح دکھانے کے بجائے صرف قیدی کے جلوس پر تنقید کی گئی۔ تنقید بھی ایسی جس میں تضحیک کی ملاوٹ ٹی وی سکرینوں پر بیٹھنے والوں نے حسب ذائقہ شامل کی۔ قیدی کا جہاں ایک قصور’’ کرپشن میں ملوث‘‘ ہونا تھا وہیں اس کا دوسرا قصور ’’سیاستدان‘‘ ہونا بھی تھا ۔ آپ ایک لمحے کیلئے سوچیے اگر قیدی سیاستدان نہ ہوتا اور صرف بدعنوانی میں ملوث ہوتا تو کیا اس کی میڈیا پر ایسے ہی کردارکشی ہوتی جیسے ان دنوں ہو رہی ہے اگر اس بات کا جواب ہاں میں ہے تو پھر تو میڈیا بالکل صحیح کام کر رہا تھا اگر جواب اس کے برعکس ہے تو پھر میڈیا والوں کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے ۔ کیا وجہ ہے کہ روزانہ شام سات سے بارہ بجے تک سیاستدانوں کو ٹیلی ویژن سکرینوں پربیٹھا کر صرف سیاستدانوں کو ہی گالیاں دی جاتی ہیں؟ کیا اس ملک کو اس نہج پر پہنچانے کے ذمہ دار صرف سیاستدان ہیں ۔ سیاست کو گالی کون بنا رہا ہے ؟یہ درست ہے کہ قیدی کو سیاست میں کوئی اور لایا تھا مگر قیدی کی بیٹی تو جمہوری اصولوں کے مطابق سیاست کررہی ہے پھر اس پر دشنام طراز ی کیوں ؟کون قیدی کی بیٹی سے ڈر رہا ہے ؟ انجانے خوف میں کون مبتلا ہے ؟کون کرپشن اور بدعنوانی کی آڑ میں ایک پورے خاندان کو نشان عبرت بنانے پر تلا ہوا ہے ؟کرپشن پر سزا دے کر بھی قیدی کے خاندان کی تضحیک کیوں کی جارہی ہے ؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب فی الوقت ملناتو مشکل ہے مگر میرے خیال میں ہر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ان سوالا ت کے جوابات خود بخود ملتے جائیں گے۔ابھی ٹی وی سکرینوں پر بیٹھے انتہائی سینئر تجزیہ کاروںکی زبانوں کو قفل لگے ہوئے ہیں جو سچ جانتے ہوئے بھی سچ چھپانے کی ایکٹنگ بڑی مہارت سے کررہے ہیں ۔ یہ بھلا کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک جمہوری حکومت میں ایک اپوزیشن پارٹی کے ایونٹ کا بلیک آؤٹ کیا جائے تو سوال نہ اٹھیں۔ پارٹی بھی ایسی جس کاقائد ملک کا تین بار ملک کاسربراہ رہا ہو ۔ کیا وجہ ہے کہ ہم اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوگئے کیوں ہم اختلاف رائے برداشت کرنا اپنی توہین سمجھنے لگ گئے ؟اختلاف رائے تو جمہوریت کا حسن ہوتی ہے ۔ موجودہ وزیراعظم اپوزیشن میں ہوتے ہوئے متعد د بار کہہ چکے ہیں جمہوریت میں احتجاج کیا جاتا ہے ۔ حکومت کے خلاف آوازیں اٹھائی جاتی ہیں۔126دن کا اسلام آباد کے ڈی چوک میں ہونے والا دھرنا کسے یا د نہیں۔ اگر اس دھرنے کو کوریج حصہ بقدرے جثہ ملتی تو شائد یہ ٹی وی چینلز کے کسی نیوزبلیٹن کی ایک آدھ منٹ کی خبر بنتی ۔ جب اسلام آباد لاک ڈاؤن کرنے کا اعلان کیا گیا تو تب بھی اس وقت کی اپوزیشن پارٹی کو دن بھر ٹی وی سکرینوں پر کوریج ملی۔ اس وقت کی حکومت نے کسی چینل یا اخبار کو نہیں روکا تھا کہ اپوزیشن کے ایونٹس کی کوریج نہ کی جائے ۔یہی اصل جمہوریت تھی جہاں ہر شہری اپنے حق کیلئے آواز اٹھا سکتا تھا۔ موجودہ حکومت میں شائد اپوزیشن کی آواز دبانے کی کوشش کی جارہی ہے تب ہی تو ایک بڑے ایونٹ کا میڈیا بلیک آؤٹ کردیا گیا۔کہیں سے تو ہدایات جاری ہوئیں تھیں۔ میڈیا اگر بلیک آؤٹ نہ کرتا تو پھر معاشی لحاظ سے اس کا بازو مروڑنے کا آپشن تو موجود ہوتا ہے ان ہدایات دینے والوں کے پاس۔آپ ذرااس حکومت سے اختلاف رائے کر کے تو دیکھیں چند منٹوں میںسوشل میڈیا پر گالیوں کا طوفان برپا کردیا جاتا ہے ۔خیر قیدی اب تو نہتا جیل میں قید ہے اب اس نہتے قیدی کی بیٹی کے طرزسیاست سے ڈر کیسا ؟ ماضی میں لاڑکانہ کی بیٹی کو ڈرایا دھمکایا جاتا تھا اس کی تضحیک کرنے کیلئے نت نئے طریقے ڈھونڈے جاتے تھے ۔ آج بھی بالکل ویسا ہی عمل دہرایا جارہا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے ماضی کی غلطیوں سے کچھ نہیں سیکھا۔ جمہوری طرز حکومت میں کسی پارٹی کے ایونٹ کا میڈیابلیک آؤٹ کرنا خود جمہوری اصولوں کی نفی ہے ۔ سیاست کرنا ہر شہری کا حق ہے ۔ حکمرانوں کے ساتھ ساتھ میڈیا انڈسٹری میں بیٹھے افراد کو بھی یہ بات سمجھنا ہوگی کہ سوشل میڈیا کی موجودگی میں ٹی وی سکرینوں پر سے کوئی ایونٹ عوام کی نظروں سے اوجھل رکھنا کوئی عقلمندی کی بات نہیں۔جیسے جیسے انٹر نیٹ کی سپیڈ بڑھ رہی ہے عوام مین سٹریم میڈیا سے سوشل میڈیا پر منتقل ہورہی ہے ۔ عوام کے پاس انفارمیشن کے متبادل ذریعے موجود ہیں ۔ اب سیاست اور سیاستدانوں کو ٹی وی سکرینوں پر گالیاں دینے سے مزید کام نہیں چلے گا ۔ آپ نے کرپشن کاالزام ثابت ہونے پر ایک شخص کو سزا دے دی اب اس کے خاندان کو نشان عبرت بنانے کی ضد چھوڑنی ہوگی۔ کس نے سیاست کیسے کرنی ہے اور کس کی سیاست کیسے ختم کرنی ہے غیر جمہوری نظام میں یہ فیصلے نہیں ہوسکتے ۔ جمہوریت بہترین انتقام ہے ۔ اگر جمہوری نظام میں یہ انتقام عوام اپنے نمائندوں سے لیں تو ہی بہتر ہوگا ۔ بھٹو کو تین دہائی قبل پھانسی دے کربھی اس کی سیاسی جماعت کو ختم نہیں کیا جا سکا ۔ صرف ایک بار پیپلزپارٹی نے پانچ سالہ جمہوری دور مکمل کیا تو عوام نے چاروں صوبوں کی زنجیر کو توڑ کر ایک صوبے تک محدود کردیا۔ یہ جمہوری نظام میں عوام کا اپنے نمائندوں سے بہترین انتقام تھا ۔ موجودہ حکومت کو بھی اس بات کا نوٹس لیناچاہیے کہ جمہوری دور حکومت میں کسی پارٹی کے سیاسی ایونٹ کا میڈیا بلیک آؤٹ کیوں ہوا؟حکومت کو ان افراد کو کٹہرے میں لانا چاہیے جنہوں نے میڈیا بلیک آؤٹ کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ اگرایسا کرنے والوں کی سرزنش نہ کی گئی تو یہی سمجھا جائے گا کہ مسلم لیگ ن کی ریلی کامیڈیا بلیک آؤٹ تحریک انصاف کی حکومت نے خود کروایا ۔


ای پیپر