مسلم لیگ (ن) کی تنظیم نو۔۔دیر آید درست آید
10 May 2019 2019-05-10

پاکستان کے تین دفعہ وزیر اعظم رہنے والے میاں محمد نواز شریف چند ہفتے آزادی کا مزا لے کرمدت ختم ہونے کے بعد واپس جیل جا چکے ہیں۔جیل جانے کا جو راستہ انہوں نے چنا ہے وہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ میاں صاحب نے جو راستہ اپنے خلاف سپریم کورٹ اور احتساب عدالت کے فیصلوں کے بعد چنا تھا وہ آج بھی اس پر قائم ہیں۔

میاں صاحب کے اس فیصلہ پر ان کے مخالفین جو کچھ بھی کہیں مگر ایسا لگتا ہے کہ میاں محمد نواز شریف کے سیاسی قد کاٹھ میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور جن لوگوں کا خیال تھا کہ اقتدار کے خاتمہ کے بعد نواز شریف کی سیاست ختم ہو جائے گی اور مسلم لیگ کا خاتمہ بھی ہو جائے گا ان کو مایوسی ہوئی ہے ۔(سپریم کورٹ میں میاں صاحب کی ضمانت میں توسیع اور یورپ جاکر علاج کروانے کی درخواست کے مسترد ہونے کے بعد میاں صاحب کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کی سماعت ہورہی ہیں اور دیکھنا یہ کہ کہ وہ کیا فیصلہ کرتا ہے)۔میاں محمد شہباز شریف کے باہر جانے اور پبلک اکاونٹس کمیٹی کی چیرمین شپ سے الگ ہونے سے کئی چہ مہ گوئیوں کو جنم دیا۔بعض لوگوں کا تبصرہ تھا کہ یہ مسلم لیگ کی طرف سے شکست کا اعتراف ہے ۔جتنے منہ اتنی باتیں۔

پھر میاں محمد نواز شریف کی سپریم کورٹ میں میڈیکل گراؤنڈ پر ضمانت اور باہر جانے کی درخواست پر بھی بہت سارے تبصرے ہوئے۔سپریم کورٹ نے میاں نواز شریف کی نظر ثانی کی درخواست کو مسترد کردیا۔ان حالات میں پہلے مسلم لیگ ( ن ) نے شہباز شریف کو قومی اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی سے ہٹانے کا اعلان کر دیا اور ساتھ ہی خواجہ محمد آصف کو بھی اسمبلی میں اہم کردار سونپ دیا۔ابھی ان تبدیلیو ں پر تبصرے ہو رہے تھے اور مسلم لیگ کے اندورنی تنازعات کی داستان مکمل نہیں ہوئی تھی کہ مسلم لیگ نے بڑے پیمانے پر اپنی تنظیم نو کا اعلان کر کے سب کو حیران کردیا۔

ایسے کام ایک دم نہیں ہوتے ان کے پیچھے خاموش مشاورت چلتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کام بہت پہلے ہوجانا چاہئے تھا مگر بدقسمتی سے ہماری سیاسی جماعتوں میں کوئی ایسا نظام نہیں ہے کہ تنظیم کا عمل تسلسل سے کیا جائے۔یہ موقع نہیں ہے کہ ایک آئیڈیل سیاسی جماعت اور اس کے قوائد و ضوابط پر روشنی ڈالی جائے اور پاکستان کے اندر موجود سیاسی جماعتو ں کے بارے میں تنقید کرکے اور کیڑے نکال کر پاکستان کے اندر جمہوریت دشمن قوتوں کو خوش کیا جائے کیونکہ پاکستان کے دانشوروں اور میڈیا میں ایک ایسا طبقہ موجود ہے جو سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کے خلاف تسلسل سے پراپیگنڈے میں مصروف ہے۔ان کے ذمہ یہ ڈیوٹی لگی ہے کہ وہ پاکستا ن کے عام آدمی کو سیاست اور سیاسی جماعتوں سے متنفر کریں اور یہ کہتے پھریں کہ سیاست تو ہے گندا کام ۔یہ مانتا پڑے گا کہ وہ کافی حد تک اس مشن میں کامیاب ہو گئے ہیں اور آج کے پاکستان میں ایک ایسا مضبوط عنصر موجود ہے جو کسی نہ کسی نام پر پاکستان میں ہر وقت غیر جمہوری نظام کا مطالبہ کرتا ہے وہ اس سلسلہ میں مذہب کو استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا اور جمہوریت کو غیر اسلامی نظام کہتا ہے۔اور کچھ نہ بنے تو وہ پارلیمانی نظام کو ملک ، قوم اور مذہب کے خلاف گردانتا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی سیاست میں دوبارہ سیاست دانوں کی بالا دستی قائم کرنا ایک بہت ہی مشکل اور پیچیدہ کام ہے ۔اس کے لئے پاکستان میں جمہوریت پر یقین رکھنے والی پارٹیوں کو مل کر ایک مشترکہ حکمت عملی اپنانی پڑے گی اس کی وجہ یہ ہے پاکستان میں جمہوریت دشمن قوتیں بہت ہی منظم ہیں اور ان کا پاکستان کے ہر شعبہ میں بہت گہرا اثر و رسوخ ہے۔

عمران خان کی حکومت کے بارے میں زیادہ تبصرہ نہ ہی کیا جائے تو بہتر ہے کیوں کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ ’نامزد ‘ وزیر اعظم ہیں دوسرا یہ کہ وہ جذباتی اور نا تجربہ کار ہیں اور غلطیوںپر غلطیاں کر رہے ہیں۔

یہ بات اب کوئی راز نہیں ہے کہ کوئی طاقت تھی جو پاکستان میں ڈالر 150روپے کا کرنا چاہتی تھی اور بجلی ،گیس، پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرنا چاہتا تھی اور عام روزمرہ کی خورد و نوش کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کرنا چاہتی تھی!

پنجاب میں لوکل باڈیز سسٹم ختم کرکے وقتی طور پر نوکر شاہی کو سارے اختیارات دینا کوئی دانشمندی نہیں ہے ۔

سب سے اہم بات خطہ میں امریکہ اور ایران کی کشمکش پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس جھگڑے کے پاکستان پر براہ راست اثرات ہوں گے۔


ای پیپر