فکر و تعلیماتِ اقبال کی اہمیت
10 May 2019 2019-05-10

شاعرِ مشرق، مفکرِ پاکستان، حضرت علامہ محمد اقبالؒ ایک ایسی ہستی تھے جو صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں۔ ان کی تعلیمات و فکر مسلمانانِ برصغیر کیلئے ہی نہیں بلکہ تمام عالم اسلام کی رہنمائی کیلئے ہیں۔ اقبالؒ کی شاعری نے اسلامیانِ ہند کی آزادی اور مملکتِ پاکستان کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ ایک عظیم قومی رہنما، مسلم مفکر اور مسلمانوں کیلئے علیحدہ مملکت کا نظریہ پیش کرنے والی شخصیت کی حیثیت میں پاکستان کے فکری خالق بھی ہیں۔

اقبالؒ کے نقطہِ نظر کو مسلمانوں میں راسخ کرنے کیلئے جتنی وسعت کی ضرورت تھی وہ نظریہ مسلمانوں کے دل میں اس شدت سے نہیں پہنچایا گیا جس کی اس کو ضرورت تھی۔ پاکستان ایک لفظ ہے لیکن وہ ایک انتہائی مضبوط نظریہ ہے اور اقبالؒ اس نظریے کو بڑی وسعت اور کامیابی کے ساتھ پیش کرنے میں کامیاب ہوئے تھے لیکن بدقسمتی سے اقبالؒ صرف چند نظموں اور ان کی نصابی حالتوں کے ساتھ پڑھا پڑھایا گیا جبکہ اس کے مفہوم کو زندگی میں اُتارنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔

آج پاکستان اور عالمِ اسلام کو جن مسائل کا سامنا ہے اقبالؒ کی فکر اور تعلیمات میں ان کا حل موجود ہے۔ باہمی اتحاد کی کمی، فرقہ پرستی، صوبہ پرستی، جہالت، غیرملکی تہذیب کا ذہنی تسلط، پسماندگی، دین سے دُوری، مسلمانوں کا ترقی میں دیگر اقوام سے پیچھے رہ جانا اورترقی یافتہ اقوام کی محتاجی ایسے مسائل ہیں جو آج ہمیں اور پوری مسلم اُمہ کو درپیش ہیں۔ ان تمام پریشانیوں اور کمزوریوں کا حل قرآنی تعلیمات کی روشنی میں اقبالؒ نے اپنے کلام کے ذریعے قوم کے سامنے پہلے ہی پیش کر دیا تھا۔

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے

نیل کے ساحل سے لیکر تابخاکِ کاشغر

………

غبار آلودہ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرے

تو اے مرغِ حرم اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جا

………

فرد قائم ربطِ ملّت سے ہے تنہا کچھ نہیں

موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں

………

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہے

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

………

انسان کی ہوس نے جنہیں رکھا تھا چھپا کر

کُھلتے نظر آتے ہیں بتدریج وہ اسرار!

قرآن میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلماں

اللہ کرے تجھ کو عطا جِدّتِ کردار!

نوجوانوں کو اپنے اسلاف کے کارنامے یاد کرواتے ہوئے کہتے ہیں:

کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے

وہ کیا گردوں تھا تو جسکا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

اور آگے چل کر موجودہ صورتحال کا اسلاف سے موازنہ اس طرح کرتے ہیں

تجھے آباء سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی

کہ تو گفتار، وہ کردار، تو ثابت وہ سیارہ

نوجوانوں کو جَرّی اور بہادر بننے کی تلقین ان الفاظ میں کرتے ہیں:

محبت مجھے ان جوانوں سے ہے

ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

کمزور اور شکست خوردہ قوموں کو جگانے کیلئے فرمایا:

دلِ مردہ دل نہیں ہے، اسے زندہ کر دوبارہ

کہ یہی ہے اُمتوّ ں کے مرضِ کہن کا چارہ

اس شعر میں تو گویا زندگی کی بہترین گائیڈ لائن دیدی گئی ہے:

یقیں محکم، عملِ پیہم، محبت فاتحِ عالم

جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

حقیقت یہ ہے کہ مندرجہ بالا اشعار صرف بطور مثال درج کئے گئے ہیں جبکہ اقبالؒ کا ایک ایک شعر اپنے اندر معنٰی کا سمندر لئے ہوئے ہیں۔

آج جب ہم اپنی حالتِ زار کا جائزہ لیتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اگر تعلیماتِ اقبالؒ پر ان کی روح کے مطابق عمل ہوتا تو ہم ان مشکلات کا شکار نہ ہوتے لیکن جیسے پہلے عرض کیا گیا کہ کلامِ اقبالؒ صرف نصابی حالتوں کے ساتھ پڑھا اور پڑھایا گیا اور صورتحال یہ بنتی رہی کہ اکابرینِ ملّت کی تعلیمات ثانوی حیثیت اختیار کر گئیں اور اب تو بدقسمتی سے صرف مادیت کی تعلیم دی جا رہی ہے اور نظریہ اور اعلیٰ اخلاقی قدریں ناپید ہوتی جا رہی ہیں۔ نئی نسل کو مذہب سے برگشتہ کرنے کی کوششیں عروج پر ہیں۔ اخلاقیات کو دقیانوسیت کہا جانے لگا ہے، قوم قومیتوں میں بٹ رہی ہے اور دشمنانِ پاکستان اختلافات کو مزید ہوا دے رہے ہیں۔ ان حالات میں علامہ اقبالؒ کے پیغام کو مکمل طور پر سمجھنا اور اسکو دلوں میں بٹھانا بہت ضروری ہے۔ یہ کام ایک مشنِ سمجھ کر کیا جانا چاہیے جس کو نبھانے کی ذمہ داری حکومتِ وقت، دانشوروں، اساتذہ کرام کے ساتھ ساتھ والدین پر بھی ہے۔


ای پیپر