دقیانوسی فوجداری نظام اور ایف آئی آر
10 May 2019 2019-05-10

ایف آئی آر سے مراد فرسٹ انفارمیشن رپورٹ یعنی پہلی اطلاعی رپورٹ ہے۔ یہ رپورٹ پاکستانی ضابطہ فوجداری کی دفعہ 154 کے تحت درج کی جاتی ہے۔ اس دفعہ کے تحت پولیس قابل دست اندازی جرم سرزد ہونے پر ایف آئی آر درج کرنے کی پابند ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہماری عوام قیام پاکستان کے 71 سال بعد بھی دقیانوسی فوجداری نظام کے ایسے شکنجے میں ہے کہ کوئی ان کی صحیح معنوں میں دادرسی کرنے والا نظر نہیں آتا۔ سپریم کورٹ آج بھی یہ مسئلہ طے کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ فوری انصاف کیسے فراہم کیا جائے، مقدمات کا بروقت اندراج کیسے ممکن ہو۔ کبھی ضابطہ فوجداری کی دفعہ بائیس اے بائیس بی کے تحت مقدمہ درج کروانے کے طریقہ کار کو تبدیل کیا جاتا ہے اور کبھی پرانا طریقہ بحال کر دیا جاتا ہے۔ یعنی بحیثیت عوام ہم انصاف کی سیڑھی کے پہلے قدم پر ہی رکے ہوئے ہیں اور نجانے کب یہ سفر مکمل ہو گا۔ اس وقت پوری دنیا میں صرف چار ممالک میں روایتی ایف آئی آر درج کرنے کا نظام موجود ہے۔ ان ملکوں میں پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت اور سری لنکا شامل ہیں۔ دیگر تمام ترقی یافتہ ممالک میں شہری اپنے ساتھ ہونے والے کسی بھی جرم کی ابتدائی اطلاع فون، واٹس ایپ میسج یا ذاتی طور پر تھانے جا کر پولیس کو دیتا ہے اور وہاں یہی اطلاع ایف آئی آر سمجھی جاتی ہے۔ اس ابتدائی اطلاع پر ہی قانون حرکت میں آ جاتا ہے۔ اس حوالے سے گزشتہ دنوں برطانیہ میں بطور سولیسٹر شعبہ قانون سے وابستہ دوست انیس احمد علی سعدی سے بات کرنے کا اتفاق ہوا تو انھوں نے بتایا کہ برطانیہ سمیت تمام یورپی ممالک میں کسی جرم کا شکار ہونے والے شخص کا کام صرف پولیس کو فرسٹ انفارمیشن یعنی ابتدائی اطلاع دینا ہے۔ جو کہ پولیس ہیلپ لائن پر بذریعہ کال یا واٹس ایپ پر ایک وائس نوٹ یا میسج کے ذریعے دی جا سکتی ہے۔ متاثرہ شخص ذاتی طور پر پولیس سٹیشن جا کر بھی اطلاع دے سکتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ وہاں متاثرہ شخص کو سفید کاغذ پر درخواست لکھنے اور کسی کو سفارش کروا کر تھانے جانے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ پولیس افسران آنے والے ہر شخص کی توجہ سے بات سنتے ہیں اور ایسا سلوک کرتے ہیں کہ متاثرہ فرد اپنا آدھا دکھ بھول جاتا ہے۔ شکایت کنندہ کی اس موقع پر آڈیو یا ویڈیو ریکارڈنگ کر لی جاتی ہے اور اسے ہی ایف آئی آر سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بعد پولیس کیس پر کارروائی شروع کر دیتی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر متاثرہ فرد کو کیس میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ تفتیش مکمل ہونے پر کیس عدالت میں بھجوا دیا جاتا ہے جو کہ قانون کے مطابق اس کا فیصلہ کرتی ہے۔ انیس سعدی کے مطابق شکایت درج ہونے سے لے کر مقدمے کے فیصلے تک کوئی مرحلہ ایسا نہیں جہاں کسی متاثرہ شخص کو رتی برابر بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔ اس کے برعکس پاکستان کا جائزہ لیں تو یہاں اب بھی اندراج مقدمہ عوام کا ایک بڑا مسئلہ ہے، عدالتوں میں عام شہری اپنا مقدمہ درج کروانے کے لئے دربدر کے دھکے کھاتے نظر آتے ہیں۔ آج کے اس جدید دور میں بھی ظلم کا شکار ہونے والوں کی ابتدائی اطلاعی رپورٹ درج کرنے کے لئے مخصوص سرکاری رجسٹر کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر کسی شہری کے ساتھ قابل دست اندازی جرم کا ارتکاب ہو جائے تو سب سے پہلے وہ سادہ سفید کاغذ پر درخواست لکھ کر تھانے دیتا ہے۔ قانونی طور پر ابتدائی اطلاع درج کرنا محرر کی ذمہ داری ہے لیکن عملی طور پر کسی درخواست یا شکایت پر متعلقہ ایس ایچ او کی اجازت کے بغیر کارروائی شروع نہیں ہوتی۔ یہاں ہر تھانیدار کی اولین کوشش یہی ہوتی ہے کہ اسے مقدمہ درج نہ کرنا پڑے کیونکہ مقدمات درج ہونے سے تھانے کی کارکردگی کا گراف متاثر ہوتا ہے۔ اگر خوش قسمتی سے متاثرہ شخص ایف آئی آر درج کروانے میں کامیاب ہو جائے تو وہ اتنی مضحکہ خیز روایتی اور مخصوص جملوں پر مشتمل ہوتی ہے کہ کوئی بھی پڑھا لکھا اس پر یقین نہیں کر سکتا۔ مگر ہماری عدالتیں نہ صرف ایسی عبارت کو تسلیم کرتی ہیں بلکہ اسی مضمون کی روشنی میں جزا و سزا کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ ماہرین قانون بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ پاکستان میں قتل اور اقدام قتل جیسے سنگین جرائم کی ایف آئی آر سپر مین کی یاد دلا دیتی ہیں کیونکہ دنیا میں آج تک کسی انسان نے پسٹل سے چلنے والی گولی کو جاتے ہوئے دیکھنے کا دعوٰی نہیں کیا، لیکن پاکستان میں قتل اور اقدام قتل کے مقدمے کا ہر مدعی ایف آئی آر میں یہ دعوٰی کرتا ہے کہ فلاں شخص نے اپنے دستی پستول سے فائر کیا جو سیدھا جا کر فلاں شخص کی دائیں وکھی پر لگا۔ حتی کہ وہ یہ بھی بتا دیتا ہے کہ دیگر ملزمان کی خودکار ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ میں فلاں کی گولی فلاں کو بائیں پنڈلی اور فلاں کو پاﺅں پر لگی۔ اسی طرح ماہرین قانون یہ بھی کہتے ہیں کہ انھوں نے آج تک کوئی ایف آئی آر ایسی نہیں دیکھی جس میں تھانیدار کبھی متاثرہ شخص کو تھانے میں ملا ہو اور درخواست وصول کی ہے۔ ہر ایف آئی آر میں پولیس افسر ہمیشہ درخواست دوران گشت سرکاری ڈیوٹی کے دوران ہی موصول کرتا ہے اور قابل دست اندازی دفعات کا تعین کرتا ہے۔ اسی طرح منشیات کی ایف آئی آر میں ہمیشہ پڑی ملزم کے نیفے سے برآمد ہوتی ہے۔ اغواء کے جرم میں ایف آئی آر میں ہمیشہ سفید رنگ کی کار کا ذکر ہوتا ہے۔ قحبہ خانے سے متعلق ایف آئی آر میں پولیس ہمیشہ اشتہاری ملزمان کی تلاش کے لئے چھاپہ مارتی ہے۔ الغرض ہمارے دقیانوسی اور بوسیدہ فوجداری نظام میں ایف آئی آر جھوٹ کے پلندے کی شکل اختیار کر جاتی ہے۔ قانونی ماہرین کی رائے میں ایف آئی آر کا مقصد شہادت نہیں ہے لیکن ہماری عدالتیں اسے شہادت کے طور دیکھتی ہیں بلکہ ہماری عدالتوں نے ایف آئی آر پر ان گنت فیصلے کر کے اس روایتی طریقہ کار کو اتنا مظبوط کر دیا ہے کہ عوام جھوٹ پر مبنی انہی روایتی جملوں کا سہارا لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اگر عدلیہ ایف آئی آر کو غیر ضروری اہمیت نہ دیتی تو جھوٹ اور مضحکہ خیزی پر مبنی کاغذ کے اس ٹکڑے کو حاصل کرنے کے لئے عوام اتنا خوار نہیں ہوتی۔ ان حالات میں پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوجداری نظام میں ایف آئی آر درج کرنے سے متعلق شق میں ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر ترمیم کرے اور سادے کاغذ کی درخواستوں پر روایتی ایف آئی آر درج کرنے کی بجائے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال لازمی قرار دیا جائے۔ اسی طرح عدلیہ بھی جھوٹ کی حوصلہ شکنی اور سچائی کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ بحیثیت قوم ہم انصاف کی سیڑھی کا پہلا قدم طے کر سکیں۔


ای پیپر