یہ کس کا لہوہے، کون مرا؟
10 مئی 2019 2019-05-10

طلبا سیاست میں بچے قتل ہوتے رہتے تھے اور ہم بچ جانے والے نعرے لگاتے رہتے تھے، یہ کس کا لہویہ کون مرا بدمعاش حکومت بول ذرا، مگر اب یہ نعرہ نہیں لگایا جا سکتا کیونکہ اب اس نعرے کے لگانے پرایف آئی اے آپ کوگرفتار کر سکتی ہے یعنی قتل بھی آ پ ہوں گے اور گرفتار بھی آپ ہوں گے ، ایف آئی اے سے درخواست ہے کہ وہ اس کالم نگار کو اپنی تحریر کا یہ عنوان دینے پر گرفتار نہ کرے کہ یہ ساحر لدھیانوی نامی شاعرکی نظم کا عنوان ہے جو پہلے ہی مفرور ہے۔ ساحر لدھیانوی کے بارے میں ویکی پیڈیا بتاتا ہے کہ ترقی پسند تحریک کا یہ شاعر،8 مارچ1921 کو لدھیانہ میں پیدا ہوا، خالصہ سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، گورنمٹ کالج لدھیانہ میں داخلہ لیا اور اسی زمانے میں شاعری کا آغاز کر دیا۔ امرتا پریتم کے عشق میں کالج سے نکالا گیا اور لاہور آ گیا۔ یہاں ترقی پسند نظریات کے باعث قیام پاکستان کے بعد 1949 میں ان کے وارنٹ جاری ہوئے جس کے بعد وہ ہندوستان بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔

شیخ سید ابوالحسن علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش یعنی خزانے بخشنے والے کے دربار کے باہر ایک مرتبہ پھر ایک دھماکا ہوا، ٹھہرئیے، پہلا دھماکا دربار کے اندر ہوا تھا اور ستر سے زائد جانیں لے گیا تھا مگر یہ دھماکا دربار کے باہر ہوا اور صرف دس شہید ہوئے۔ اس سے پہلے کہ میں آ گے بڑھوں، ان سے معذرت کر لوں جو داتا گنج بخش کو داتا گنج بخش نہیں کہنے دیتے اور تاویل کرتے ہیں کہ داتا تو صرف رب کی ذات ہے اور میں ایف آئی اے کے علاوہ ان سے بھی بہت ڈرتا ہوں جو ایک لمحے میں کفر کے فتوے لگا دیتے ہیں۔وضاحت قبول کیجئے کہ بہت سارے شیخ ابوالحسن علی ہجویری کے نام سے آگاہ نہ ہوں مگر جیسے ہی آپ داتا صاحب کہیں گے، فورا پہچان لیں گے، صحافت کی زبان کی مجبوری ہے کہ اس کا اصل مقصد ابلاغ ہے اور اگر آپ اس ضرورت کو بھی تسلیم نہیں کرتے تومجھے کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ ایمان بھی تو ایک خزانے کی طرح ہے اور لاہور میں اس کو بانٹنے والا گنج بخش ہی کہلائے گا، محبت اور عقید ت کے ساتھ اس کے سوا اسے کیا کہا جائے؟

میں ایف آئی اے اورکفر کے فتوے لگانے والوں سے ہی نہیںڈرتا بلکہ شہباز شریف کے بنائے ہوئے کاونٹر ٹیررازم ڈپیارٹمنٹ سے بھی ڈرتا ہوں جس کے کریڈٹ پر سب سے معروف واقعہ ساہیوال کا ہے جس میں اس کے جوانوں نے نشانے تاک تاک کے غیر مسلح شہریوں اور ان کے بچوں کوباقاعدہ ٹیلی فون پر ہدایات لیتے ہوئے قتل کیا مگر لاہور کے ڈی آئی جی آپریشنز اشفاق احمد خان کہتے ہیں کہ سی ٹی ڈی کی بہت زیادہ خدمات ہیں، اتنی زیادہ کہ اب دوسرے صوبے بھی اس کی پیشہ وارانہ مہارت سے فائدہ اٹھانے جا رہے ہیں،میر ادل کانپ اٹھا، رمضان میں اپنے رب سے دعا کی، یا اللہ خیر، کسی ووسرے صوبے میں یہ ساہیوال جیسی مہارت نہ دکھائی جائے کہ دوسرے صوبوں میں رہنے والے پنجابی نہیں ہیں، وہ ظلم اتنی آسانی سے برداشت نہیں کرتے جتنی آسانی سے بے چارے پنجابی برداشت کر لیتے ہیں چاہے وہ ظلم کسی کٹھ پتلی حکومت کی صورت ہی کیوں نہ ہو۔ بات یہ نہیں کہ میں سی ٹی ڈی والوں سے صرف اس لئے ڈرتا ہوں کہ انہوں نے سانحہ ساہیوال برپا کیا اور وہ کسی کو بھی دہشت گرد قرار د یتے ہوئے اس کا کس بھی وقت ایکشن ری پلے کر سکتے ہیں کہ پہلے سانحے کے بعد ان کا کسی نے کیا اکھاڑ لیا۔ ذیشان کی بوڑھی ماں اور بچی تو اپنے بیٹے پر کسی ثبوت اور دلیل کے بغیر لگائے گئے دہشت گردی کے الزام کو نہیں ہٹا سکی اور جنہیں معصوم اور مظلوم قرار دیا جا رہا ہے یعنی خلیل کی فیملی، اس کی بچی بھی مال روڈ پر ہاتھ جوڑے انصاف مانگتے بیٹھی نظر آتی ہے، بات ذاتی تجربے کی بھی ہے۔

سی ٹی ڈی کی ذمہ داری ہے کہ وہ دہشت گردی کی روک تھام کرے مگرمجھے نہیں علم کہ یہ کام کس وقت کرتی ہے کہ میں نے لاہور کے ڈٰی آئی جی اور ایس پی سٹی سے باری باری پوچھا کہ کیا سی ٹی ڈی سمیت انٹیلی جنس کے ذمے دار کسی ادارے نے داتا دربار پر حملے کا کوئی الرٹ جاری کیا تھا، ہر طرف سے یہی جواب ملاکہ کوئی مخصوص پیشگی الرٹ نہیں تھا، جنرل الرٹس تھے کہ کسی بھی شہر میں کسی بھی وقت کوئی بھی گروپ حملہ کر سکتا ہے۔ میں نے ا س قسم کے الرٹس کو دیکھا ہے یہ بالکل گونگلووں سے مٹی جھاڑنے جیسے بھی نہیںہوتے کہ گونگلووں سے مٹی جھاڑی جھائے تو وہ صاف ہوجاتے ہیں مگر ان سے کچھ صاف نہیں ہوتا، کچھ واضح نہیں ہوتا۔ ایک دہشت گرد بارودی جیکٹ پہنے ہوئے لاہور کے معروف ترین اور مصروف ترین علاقے میں پہنچ جاتا ہے اور کسی کو علم تک نہیںہوتا۔ وہ ایلیٹ فورس کی گاڑی کے قریب جا کے خود کو اڑا لیتا ہے جس کے نتیجے میںسرکاری وردی والے پانچ ، غیر سرکاری وردی والا ایک اور بغیر وردی والے پانچ شہری مارے جاتے ہیں۔ ہمیں سرکار کی دہشت گردی کو روکنے کی کوششوں کو دیکھتے ہوئے اطمینان کا اظہار کرنا چاہئے کہ پہلے حملے میں ستر افراد ہلاک ہوئے تھے اور اب صرف دس ہوئے ہیں کیوں کہ اس مرتبہ دہشت گرد کا ٹارگٹ مزار اور مسجد کے احاطے سے باہر تھا۔

ذاتی تجربہ یہ رہا کہ میں نے گذشتہ روز اپنے پروگرام کی ریکارڈنگ کے دوران سی ٹی ڈی اہلکاروں کی تحویل میں سڑک پر کھڑی وہ گاڑی کو دیکھنے کی کوشش کی جو دہشت گردی کا نشانہ بنی، اہلکاروں کے روئیے نے مجھے بتا دیا کہ سانحہ ساہیوال کس طرح ہوا ہو گا اور وہ دہشت گردی روکنے میں ناکامی کا مظاہرہ کرنے کے بعد خود دہشت گردی کی سانحہ ساہیوال جیسی کارروائیاں جنریٹ کرنے کی کتنی اہلیت رکھتے ہیں۔صحافیوں کا کام ذمہ داروں سے ان کی ذمہ داریوں کے بارے سوال پوچھنا ہے جیسے فوجیوں کا کام اپنے شہریوں کو تحفظ دینے کے لئے دشمن ملک سے لڑنا ہے اورپولیس والوں کاکام امن و امان کو یقینی بنانا ہے ۔ایک صحافی کی دہشت گردی کا شکار گاڑی دیکھنے کی کوشش کے جواب میں سی ٹی ڈی کے مسلح اہلکاروں کا اپنی زبان اور اسلحے کے ساتھ ردعمل ظاہر کر رہا تھا کہ وہ بلاتامل مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ بھی کر سکتے ہیں لہذا سچی بات ہے کہ اس ملک کے عام شہریوں کو ایف آئی آے اور فتوی باز گروہوں کے ساتھ ساتھ صحافیوں تک کو سی ٹی ڈی جیسے اداروں سے بھی ڈرنا چاہئے جن کا کام دہشت گردی روکنا ہے مگر وہ خود بھی دہشت گردی کے واقعات کی تخلیق کی مکمل اہلیت رکھتے ہیں۔مجھے ان کے حکام سے پوچھنا ہے کہ ان کے اہلکاروں کی زبانیں اور بندوقیں ہمیشہ بے گناہوںاور غیر مسلح شہریوں پر ہی کیوں اٹھتی ہیں؟

میرا کالم ان شہیدوں کی یاد میں ہونا چاہئے تھا ، حکومت سے سوال پر مبنی ہونا چاہئے تھامگر ان اداروں کی کارکردگی دیکھتے ہوئے مجھے کالم کے عنوان کے حوالے سے ایک بار پھر سی ٹی ڈی کو وضاحت دینی ہے کہ یہ شعر لکھنے کی جرات ساحر لدھیانوی نے کی ہے جو بھارت فرار ہو چکا ہے۔اسی نے لکھا تھا، ’ آنکھیں تو اٹھا نظریں تو ملا۔کچھ ہم بھی سنیں ہم کو بھی بتا۔ اے رہبر و ملک وقوم بتا۔ یہ کس کا لہویہ کون مرا‘۔ یہ وہی شاعر ہے جس نے قابل دست اندازی ایف آئی اے یہ شعر بھی لکھا، ’ یہ شاہراہیں اس واسطے بنی تھیں کیا، کہ ان پہ دیس کی جنتا سسک سسک کے مرے‘۔


ای پیپر