امن....ابھی بہت کچھ کرنا ہے
10 May 2019 2019-05-10

سو جاو¿ عزیزو کہ فصیلوں پہ ہی ایک سمت

ہم لوگ ابھی زندہ و بیدار کھڑے ہیں

لاہورعلی ہجویریؒ دربار کے قریب ایلیٹ گاڑی پر ہونے والے حملے میں روزہ کی حالت میں شہیدہونے والے پولیس اہلکاروں کو قوم خراج تحسین پیش کرتی ھے۔ بے شک ہمارے محافظ اس پیارے دیس اور اپنے ہم وطنوں کی حفاظت اپنی جانوں سے بڑھ کر کرتے آئے ہیں اور کرتے رہیں گے۔بحیثیت پاکستانی ہمیں اپنے شہدا پر فخر ھے۔

ملک میں امن، دہشت گردوں کو ایک آنکھ نہ بھایا ۔ امن دشمنوں نے لاہور کو نشانے پر رکھ لیااوردہشت گردوں نے لاہور کے امن پر بزدلانہ وار کر دتا۔صبح 8بج کر 45منٹ پر داتادربار کے باہر ایلیٹ فورس کی گاڑی کے نزدیک خودکش دھماکا ہوا،دھماکے کے بعد دھوئیں کے سیاہ بادل دور دور تک پھیل گئے ،حملے میں پولیس وین مکمل طور پر تباہ ہوگئی ۔ لاہور دھماکہ خود کش تھا ،آئی جی پنجاب عارف نواز نے بتایا شہداءمیںچارا ہلکار شامل ہیں ، ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا تھا پولیس ناکے پر تلاشی لینے پر حملہ آورنے خودکو دھماکے سے اڑا لیا۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کی شدت اتنی تھی کہ متعدد افرادزمین پر گر گئے ،حملے میں قریب کھڑا 10سالہ بچہ بھی شہید ہوا ،فوٹیج میں حملہ آور کو سیاہ رنگ کا کوٹ پہنے، ایلیٹ پولیس فورس کی وین کی طرف جا تے دیکھا جاسکتا ہے ، دھماکے کے بعد پولیس اور سیکورٹی اداروں نے علاقے کو اپنے گھیرے میں لے لیا ۔دھماکے کے زخمیوں کو میو اسپتال میں طبی امداد دی جارہی ہے۔داتا دربار حملے میں 5 ملازمین سمیت 11افراد جام شہادت نوش کر گئے جبکہ19 افراد زخمی ہسپتال میں زیرعلاج ہیں،مقدمہ سی ٹی ڈی انسپکٹر عابد بیگ کی مدعیت میں درج ہوگیا،،نیو نیوز نے حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرلی،ابتدائی تحقیقات کے مطابق خودکش حملہ آور کی عمر20 سے 22 سال ،سیاہ شلوار قمیص میں ملبوس تھا،شیش محل روڈ کی طرف سے آیا،جس نے ناکے پر کھڑی ایلیٹ فورس کی گاڑی کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا،پولیس حکام کے مطابق دھماکے میں7کلو بارودی مواد استعمال ہوا،،دیسی ساختہ جیکٹ میں آتشگیر کیمیکل بھی شامل تھا،خودکش حملہ آور کے اعضا فرانزک کیلئے ارسال کردئیے گئے۔ڈی آئی جی آپریشنزاشفاق خان نے داتادربار میں جائے وقوعہ کا دورہ کرتے ہوئے بتایا تحقیقاتی اداروں نے کام شروع کر دیا ہے ،داتادربار زائرین کیلئے کھول دیاگیا،سکیورٹی کومزیدسخت کردی گئی،گیٹ نمبر ایک سے مرد،گیٹ نمبر چار سے خواتین داخل ہوں گی۔

شہدائے لاہور پولیس جنہوں نے اپنے حلف کی پاسداری میں ملک پر اپنی جانیں قربان کرکے شہر لاہور کو بڑے سانحے سے محفوظ بنا دیا۔داتا دربار خودکش دھماکہ میں شہید ہونے والے لاہور پولیس کے اہلکار محمد سہیل، شاہد نذیر،محمد سلیم ، گلزار علی کی نماز جنازہ ادا کی گئی ،جہاں وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سمیت صوبائی وزرا اور پولیس افسران نے شرکت کی ۔اس موقع پر آئی جی پنجاب نے ملک کی خاطر جان کا نذرانہ دینے والوں کو کندھا دے کر دکھ میں برابر کے شریک رہے ۔بوڑھے حوالدار نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی اور دیکھا کہ بڑے اہتمام اور شاندار انتظامات میں ڈی آئی جی آپریشنز لاہور اشفاق احمد خان نے بڑی دلچسپی اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہید ہونے والوں کی لاشیں اپنی نگرانی میں لواحقین کو پولیس سکیورٹی میں انکے آبائی شہروں میں روانہ کیں ،اُن کی اس بھر پور کاوش پر آئی جی پنجاب نے بھی انہیں شاباش دی ۔

مادر وطن کی حرمت تحفظ اور اس کے مرغزاروں کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے تو ہر پاکستانی اپنی جان نچھاور کرنے کو نہ صرف تیار ہے بلکہ اس پر فخر محسوس کرتا ہے۔ لیکن دھماکوں اور بدامنی سے ملک کی ترقی کی راہیں مسدود ہونا کسی طور بھی قابل قبول نہیں، شعوری طور پر اس سے سرمایہ کاروں کی سوچ اپنی سرمایہ کاری کے تحفظ پر مرکوز ہوتی ہے اور بدامنی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ، اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ختم نہیں ہوئی اس میں کمی ضرور ہوئی ہے۔

لیکن شاید سول تحفظ کے اداروں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ خطرہ ٹل چکا ہے اگر یہ نہیں تو پھر سول فورسز کی تربیت پر سوالیہ نشان ضرور ہیں، اس لئے کہ خودکش بمبار پیدل سفرکرتا ہوا سکیورٹی فورسز کی گاڑی تک پہنچا ہے، ظاہر ہے کہ اس علاقے میں سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت کیمرے بھی آن لائن ہیں، پھر بمبار شدید گرم موسم میں کوٹ پہنے ہوئے فورسز کی گاڑی کے قریب آ رہا ہے کے ر استے میں اور اسکی منزل کے قریب تعینات اہلکاروں نے اس کے غیرموسمی لباس کی طرف دھیان کیوں نہ کیا....سوالات تو اور بھی ہیں لیکن اس وقت مناسب یہی ہے کہ پولیس افسران اپنی اور اہلکاروں کی تربیت پر محنت کریں اور نامساعد حالات میں خودکش بمباروں، ڈاکوﺅں ،چوروں ،لٹیروں اور سماج دشمن عناصرکے نامناسب رویوں کا موازنہ کرتے ہوئے اپنی لائن آف ایکشن کو ازسرنو ترتیب دیں تاکہ ہمارے گلشن میں کھلے یہ پھول اس کی رونق کو دوبالا کرنے کے لئے زندہ سلامت رہیں، یہ سانحہ اندوہناک ہے کہ اس میں خون ناحق بہایا گیا، امن کے لئے ہمیں ابھی بہت کچھ کرنا ہے ذرا سوچیئے.... اور کر گزرئیے۔


ای پیپر