اصغر خان کیس
10 مئی 2018 2018-05-10

اصغرخان کیس ایک بار پھر کھل گیا ہے۔ اصغرخان کیس میں بعض اہم اداروں کے افسران کے رول پر سوالات اٹھائے گئے تھے اور ان کے خلاف کارروائی کے لئے کہا گیا تھا۔ گزشتہ دنوں عدالت عظمیٰ نے سابق آرمی چیف اسلم بیگ مرزا اور سابق آئی ایس آئی کے سربراہ اسد درانی کی فیصلے پر عمل درآمد روکنے کے لئے درخواستیں مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت چھ سال پہلے دیئے گئے اس فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے کے ذمہ داروں کا تعین کرے گی۔ چھ سال پہلے سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ 1990ء کے انتخابات میں سابق آرمی چیف اسلم بیگ مرزا اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل اسد درانی نے آئی جے آئی بنائی، سیاستدانوں میں رقومات تقسیم کیں۔ جس کے بعد آئی جے آئی انتخابات جیتے اور نواز شریف وزیر اعظم بنے۔
آئینی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی روشنی میں ریٹائرڈ جنرل اسلم بیگ مرزا اور اسد درانی کے خلاف غداری کا مقدمہ درج ہونا چاہئے تھا، جو کہ نہیں کیا جاسکا۔ اب اچانک کارروائی کے بارے میں سوچا جارہا ہے۔ یہ مقدمہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں یعنی 2012ء میں آیا تھا۔ اگرچہ 90 کے انتخابات میں سب سے زیادہ متاثرہ پارٹی پیپلزپارٹی تھی، جس کو ہروایا گیا تھا۔ لیکن پارٹی نے مصلحتاً خاموشی اختیار کی۔ کیونکہ اس میں عسکری حلقوں اور ایجنسیوں کا معاملہ آرہا تھا۔ پارٹی ان طاقتور اداروں سے بگاڑنا نہیں چاہتی تھی۔ اس زمانے میں ویسے بھی حکمران جماعت پیپلزپارٹی کی اسٹیبلشمنٹ سے سخت کشیدگی چل رہی تھی۔ جس میں وہ مزید اضافہ نہیں کرنا چاہتی تھی۔ آج نواز شریف خلائی مخلوق کی بات کر رہے ہیں ۔ وہ یہ نہیں بتا رہے ہیں کہ 90 کے انتخابات میں کیا ہوا تھا؟ انہیں کون اقتدار میں لے آیا۔ اس طرح سے نوے کے عشرے میں جس طرح سے نواز شریف اور بینظیر بھٹو کی حکومتیں برطرف ہوتی رہیں، اس کا بھی حوالہ نہیں دے رہے۔ اگرچہ بینظیر کے خلاف یہ اقدام بظاہر آئینی تھا کیونکہ ضیاء الحق کی ایجاد کردہ 58 ٹو بی کے تحت حکومت برطرف کی گئی۔ لیکن آئی جے آئی کے لیڈروں کی مالی اعانت کی گئی کہ وہ انتخابات جیت سکیں۔ آئی جے آئی کو اقتدار میں لانے کا یہ ایک وسیع تر منصوبہ تھا۔ یعنی یہ صرف پیسہ نہیں تھا بلکہ ایک مکمل دھاندلی تھی۔
بات پورے طور پر تب کھل کر سامنے آئی جب ایک اہم ایجنسی کے سابق چیف اسد درانی نے 1995ء میں پول کھول دیا۔ جس کے بعد اصغرخان سپریم کورٹ میں کیس لے گئے۔ اصغر خان وہ مواد عدالت میں لے گئے تھے، جو وزیر داخلہ ریٹائرڈ جنرل نصیراللہ بابر نے 1996ء میں قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔ جنرل درانی نے اپنے حلفیہ بیان میں درجنوں سیاست دانوں کی لسٹ دی جنہیں
آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کی ہدایت پر رقم ادا کی گئی ۔ سندھ میں ایم آئی کے سابق چیف بریگیڈئیر(ر) حامد سعید اختر نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ ’’صدر غلام ا سحاق خان نے آرٹیکل (2) 58 بی کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے پی پی پی حکومت تحلیل کی‘‘ ۔انہوں نے کہا کہ ’’12 ستمبر 1990ء کو ڈی جی ایم آئی میجر جنرل محمد اسد درانی نے کراچی کا دورہ کیا اور مجھے احکامات دئیے کہ مختلف بینکوں میں 6 اکاؤنٹ کھولیں اور ان کے نمبر مجھے ارسال کریں۔ان اکاؤنٹس پر نظر رکھیں۔ وقتاً فوقتاً ان اکاؤنٹس میں فنڈز جمع ہوں گے آپ ہر اکاؤنٹ میں ہفتہ وار بیلنس کے بارے میں مجھے آگاہ رکھیں‘‘۔بریگیڈئیر(ر) حامد سعید اختر، اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ میں بھی اپنا حلفیہ بیان داخل کراچکے ہیں۔ بہرحال مقدمہ سرد خانے میں پڑا رہا۔ کیونکہ 1997ء میں نواز شریف اقتدار میں آگئے تھے۔ مقدمے کی دوباہ سماعت 2012ء میں عدالت نے ہدایت کی کہ اس سکینڈل میں ملوث تمام افراد کے خلاف قانونی قدم اٹھایا جائے۔ لیکن ان ہدایات پر کبھی بھی عمل درآمد نہیں ہوا۔ اب یہ کیس دوبارہ کھلا ہے۔ جنر اسلم بیگ مرزا اور اسد درانی نے اس فیصلے پر عمل درآمد روکنے کے لئے درخواستیں دی تھیں کہ وہ صدر غلام اسحاق خان کے حکم کے پابند تھے۔ لہٰذا انہیں بری الذمہ قرار دیا جائے۔ سپریم کورٹ نے ان کی یہ دلیل مسترد کردی ہے اور بات اس کے عمل درآمد کی طرف چلی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مقدمہ کرپٹ پریکٹس اور غداری کے زمرے میں آتا ہے۔ غداری کا مقدمہ صرف حکومت ہی کر سکتی ہے۔ حالیہ سماعت کے دوران کہا گیاکہ یہ حکومت فیصلہ کرے گی کہ غداری کا مقدمہ دائر کرتی ہے یا کچھ اور۔عدالت کی حالیہ شنوائی کے دوران عدالتی فیصلے کے کچھ پیرا گراف پڑھ کر سنائے اور کہا کہ 1990ء کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی۔ اور صدر غلام اسحاق خان کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ فیصلے میں جنرل درانی اور جنرل اسلم بیگ کے رول کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے جبکہ مہران بینک کے یونس حبیب کو بھی پارٹی بنایا گیا ہے۔
عدالت نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وہ ایک ہفتے کے اندر رپورٹ پیش کریں۔ ایف آئی اے چیف نے عدالت میں حاضر ہو کر عدالت کو ان اقدامات سے آگاہ کیا جو تاحال حکومت نے اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 18 افراد کے بیانات قلمبند کئے گئے ہیں جبکہ 12 سے ابھی پوچھ گچھ کرنی ہے۔ 190ویڈیو کلپس بھی بطور ثبوت کے حاصل کرلی گئی ہیں۔ ڈی جی ایف آئی کے مطابق 140 ملین روپے چھ بے نامی کھاتوں میں جمع کرائے گئے تھے۔ کل 15 اکاؤنٹس کی چھان بین کی جارہی ہے۔
سیاسی عمل میں ریاستی اداروں کی مداخلت کی وجہ سے لوگوں کا نظام پر اعتماد ختم ہو رہا ہے۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ سیاستدان بھی اس کا حصہ بنتے ہیں۔ انہیں اقتدار میں آنے کی جلدی ہوتی ہے۔ انتخابات میں جو کچھ ہوتا ہے اس کے لئے سیاسی جماعتیں ایجنسیوں کو مورد الزام ٹھہراتی رہی ہیں۔ عمران خان نے بھی یہ الزام عائد کیا کہ 2013 کے انتخابات میں انہیں ایجنسیوں نے ہروایا۔ واضح رہے کہ عمران خان پر الزام ہے کہ انہیں عسکری حلقوں کی حمایت حاصل ہے۔ نواز لیگ سینیٹ چیئرمین کے انتخاب کا رونا روتی ہے۔ سب سے زیادہ مزے دار چوہدری شجاعت کا دعویٰ ہے کہ 2008ء کے انتخابات میں قاف لیگ کی شکست اداروں کی جوڑ توڑ کی وجہ سے ہوئی۔ چوہدری صاحب کی پارٹی سابق آمر پرویز مشرف نے 1999 کے بعدبنوائی تھی تاکہ نواز لیگ کو توڑا اور اس کو اقتدار سے دور رکھا جاسکے۔ سترہ سال بعد کیس کا فیصلہ آیا۔ اس فیصلے کو چھ سال ہو چکے، اس پر عمل نہیں ہوا۔ایسا کیس جس میں حساس اداروں پر الزام آیا کہ پیسے اور اختیار کو استعمال کرتے ہوئے انتخابی نتائج تبدیل کردیئے گئے۔ اصغر خان کیس کا آج کھلنا اپنی معنی رکھتا ہے۔ جس کے اثرات نواز لیگ اور عسکری قوت دونوں پر پڑ سکتے ہیں۔اس طرح کی سیاسی انجینئرنگ کے باعث سیاستدان اچھی حکمرانی یا عوام سے کئے گئے وعدے پورے کرنے کے بجائے ان قوتوں کی طرف دیکھتے ہیں جو انہیں بغیر محنت کئے اقتدار میں لاسکتی ہیں۔لہٰذا ملک میں جمہوری عمل اور اداروں کے احترام کے لئے اصغر خان کیس کو اس کے منطقی نتیجے پر پہنچانا چاہئے۔


ای پیپر