ہما ر ی عزتِ نفس
10 مئی 2018

تاریخ ہے گیارہ جولائی 1961ء کی۔ پاکستان کے سربراہ صدر ایوب خان کا طیارہ نیویارک کے ہوائی اڈے پہ اتر رہا ہے۔ رن وے پر امریکی صدر جان ایف کینڈی کی قیادت میں صدر ایوب کا استقبال کرنے والی امریکہ کی انتہائی معتبر شخصیات کی ایک لمبی قطار لگی ہوئی ہے۔ صدر ایوب طیارے سے اترتے ہیں۔ امریکی صدر خود آگے بڑھ کر ان کا استقبال کرتے ہیں۔ صدر ایوب کو امریکہ کی تینوں افواج کی جانب سے سلامی پیش کی جاتی ہے۔ پھر صدر ایوب کا صدر کینڈی کے ہمراہ جلوس نیویارک کی سڑکوں سے گزرتا ہے۔ راستے کے دونوں جانب امریکی عوام صدر ایوب کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے جوق در جوق موجود ہیں۔ مہینہ بھر تمام امریکی ٹی وی چینل پاکستان کے بارے میں باتیں کرتے نظر آتے ہیں۔ اس کے بعد تاریخ ہے سترہ مارچ 2018ء کی۔ پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی امریکہ پہنچتے ہیں۔ ان کی جس طور وہاں تلاشی لی جاتی ہے اس میں انہیں ایک ویڈیو کلپ میں کپڑے پہنتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔ تب ہم پاکستانیوں کے سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔ مگر سوال اٹھتا ہے کہ اس میں تمام تر قصور کیا وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا تھا؟ بات کو آگے بڑھانے سے پہلے صدر ایوب کی 1961ء میں ہونے والے دورے کی بابت سن لیجئے کہ 1948ء میں قائد اعظم کے انتقال کے بعد ابھی ان کی تعلیمات کا اثر باقی تھا، یہاں کے عوام میں عزتِ نفس موجود تھی۔ یہی وہ عزتِ نفس تھی جسے صدر ایوب کے دورے میں امریکی صدر اور وہاں کے عوام نے عزت دی۔ اب اگر بات کرتے ہیں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے 17 مارچ 2018ء والے اس دورے کی جس میں ہم پاکستانیوں کے سر شرم سے جھک جاتے ہیں، جو یہ قصور اکیلے ان کا نہیں، بلکہ اس قصور کا بہت بڑا حصہ خود ہم پاکستانیوں کا ہے۔ لائن بنانا تو پاکستان کے اندر کے کلچر کا حصہ ہی نہیں۔ مگر ہمارے ان پڑھ طبقے سے لے کر پڑھے لکھے طبقے تک کا یہ حال ہے کہ خواہ مغربی ممالک ہوں یا ہمارے سعودی عرب کے مقاماتِ مقدسہ لائن بنانے یا اس میں کھڑے رہنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ تو کیا بیرونی ممالک کے لوگ ہمارے رویوں کے بارے میں کچھ اندازے نہ لگاتے ہوں گے؟
تاہم سب ہی نہیں، اسی ارض پاک کے باسی ایسے دردمند بھی ہیں جو اس مسئلے کو پاکستانی عوام کا اجتماعی مسئلہ تو سمجھتے ہی ہیں، مگر اس کا درد اپنے دل میں محسوس کرتے ہیں۔ قوم کے اس درد کو یوں محسوس کرنے والے میرے ایک مہربان عبدالشکور ہیں۔ یہ ایک معتبر کاروباری حیثیت رکھنے کے ساتھ ساتھ ایک مخیر شخصیت بھی ہیں۔ رفاہی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تو ہیں، مگر نہایت خاموشی سے۔ ان کی رفاہی سرگرمیوں کی کوئی مثال دیکھی ہو تو ڈسٹرکٹ بھکر کے انتہائی پسماندہ علاقوں میں دیکھی
جاسکتی ہے۔ بہرکیف شکور صاحب نے پہلے مغربی ممالک میں ہم پاکستانیوں کے رویوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک مرتبہ اپنے ٹرانزٹ سفر کے دوران انہیں ایمسٹرڈیم ایئرپورٹ پر چیک ان کا اعلان ہونے کے بعد لائن میں کھڑے ہونے کا اتفاق کچھ ہوں ہوا کہ اعلان کے فوراً بعد لائن میں سب سے پہلے کھڑا ہونے والا میں تھا۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے میرے ہم وطن پاکستانیوں نے مجھ سے آگے آکر کھڑا ہونا شروع کردیا۔ نتیجۃً میں لائن کے سب سے اخیر میں پہنچ گیا۔ ان کا بتا نا ہے کہ یہاں تک تو میں نے اس عمل کو محسوس نہیں کیا مگر افسوس اس وقت ہوا جب مجھ سے آگے کھڑے ہونے والے ہم وطنوں نے آپس میں آگے پیچھے کھڑا ہونے پر جھگڑنا شروع کردیا۔ اس منظر کو غیرملکی باشندے دلچسپی اور نفرت کا ملا جلا تاثر لیے دیکھ رہے تھے اور میں تھا کہ میرے لیے یا زمین پھٹ جائے یا میں آسمان میں کہیں تحلیل ہوجاؤں۔
پھر بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ سب سے زیادہ دلی رنج سعودی عرب میں مقاماتِ مقدسہ کی زیارات کے دوران ہوتا ہے۔ شکور صاحب اپنا ذاتی تجربہ بیان کرتے ہوئے بتاتے ہی کہ ایک مرتبہ جب وہ عمرہ ادا کرنے اور روضہ رسولؐ پر حاضری دینے کی نیت سے مدینہ کے ایئرپورٹ پر اپنی اہلیہ کے ہمراہ اترے تو لاؤنج میں سب سے پہلا اور خوشگوار ترین تا ثر ان کی اہلیہ کو بھایا وہ وہاں کی خواتین کا سرتاپا عبا میں ملبوس ہونا تھا۔ ان کی اہلیہ نے فوراً ہی اپنے لیے عبا کا بندوبست کیا۔ اور اب عبا ہی ان کا پسندیدہ لباس بن چکا ہے۔ لیکن افسوس ہوا اس وقت جب پاکستان سے آئی ہوئی خواتین کو پردے سے بے نیاز مقاماتِ مقدسہ پہ دیکھا۔ ہمارے ہاں کی خواتین حرم کے اردگرد گروپوں کی صورت میں ادھر اُدھر بے ہنگم طور پر محو استراحت تھیں۔ انہیں گویا ا پنے نسوانی تقدس کے ساتھ ساتھ مقاماتِ مقدسہ کی حرمت کا بھی کوئی احساس نہ تھا۔ پھر کچھ مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ بطور پاکستانی ہما رے سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر باب عبدالعزیز کے سامنے والی سڑک پر سعودی متمول لوگ صدقہ وغیرہ کثرت سے تقسیم کرتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ اس صدقے کو وصول کرنے والوں میں پاکستانی باشندوں کے علاوہ کوئی دوسرا شخص شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ ذلت کا سامنا اس وقت زیادہ ہوتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ اس صدقے کو وصول کرنے والے ہمارے اچھے کھاتے پیتے گھرانوں کے لوگ شامل ہوتے ہیں۔ پھر یہ لوگ صدقہ وصول کرتے ہوئے بھی لائن یا کیو بنانے کا کوئی خیال نہیں کرتے۔ یہاں تک کہ وہ چھینا جھپٹی کرتے ہوئے ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے نظر آتے ہیں۔ کیا کیا بتائیں کہ یہاں سے زیارت کرنے کی غرض سے گئے ہوئے مرد و خواتین سڑکوں پہ بھیک مانگتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ دن میں کسی بھی پاکستانی باشندے کو تین تین مرتبہ صدقہ وصول کرنے اور بھیک مانگتے ہوئے دیکھ کر ایک سعودی باشندے نے سوال کیا کہ کیا آپ سب لوگ بھیک مانگ کر گزارا کرتے ہیں؟ شکور صاحب ان افعال کے پیش نظر پوچھتے ہیں کہ ان کا نوٹس لینا کس کی ذمہ داری بنتی ہے ؟ کیا سعودی عرب میں موجود ہماری منسٹری آف فارن افیئر کی صرف یہی ڈیوٹی ہے کہ وہ پاکستان سے تشریف لے گئی اہم حکومتی شخصیات کے بہترین قیام و طعام کا اہتمام کرے؟ شکور صاحب کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے کہ ا س میں ہمارے عوام کی جہالت اور مذہب سے لاعلمی کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اور یہ بھی درست ہے کہ جہالت کو دور کرنا مسئلے کا فوری حل نہیں۔ لیکن وہ ایک دردمند پاکستانی شہری ہونے کے ناطے فوری حل یہ تجویز کرتے ہیں کہ زائرین کو پاکستان سے روانہ ہونے سے پہلے منسٹری آف فارن افیئرز کی جا نب سے آسان زبان میں تحریر کیا ہوا ایک ہدایت نامہ جاری کیا جائے۔ اس میں وہاں کے لباس کے بارے میں بتایا جائے۔ ایک عمومی ڈسپلن کیسے قائم کیا جاتا ہے، یہ بتایا جائے۔ اور پھر زور دے کر بتایا جائے کہ وہاں جاکر بھیک مانگنا پاکستانی قوانین کی نظر میں ایک سنگین جرم ہے۔ اس ہدایت نامے کا اجراء خالصتاً حکومتی سطح پر منسٹری آف فارن افیئرز کی جانب سے تصدیق شدہ فارم پر ہونا چاہیے ۔ ورنہ پاکستان سے عمرہ اور حج کروانے والی پرائیویٹ ایجنسیز جو گائیڈ لائن مہیا کرتی ہیں اس میں درس دیا جاتا ہے کہ سر منڈوانے کے بعد پیٹ بھر کر کھانا کھانا عین ثواب ہے۔


ای پیپر