چیئرمین نیب: ذرا سنبھل کر اور احتیاط سے
10 مئی 2018

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں پری پول رگنگ کا سوال اُٹھایا ہے جس سے چیئرمین نیب کو دفاعی پوزیشن پر جانا پڑا ہے۔ اب چیئرمین نیب نے بتایا ہے کہ میڈیا رپورٹ کے بعد منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہمارے ٹی وی چینل پر یقیناً چیئرمین نیب صاحب روز بیٹھ جاتے ہیں اور اخبارات بھی پڑھتے ہیں کہ آج اُن کے ہاتھ حکومت کی کونسی مرغی آئی ہے۔ اب وضاحت سے کام نہیں چلے گا معاملہ اور آگے بڑھ گیا ہے۔۔۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے زمانے میں نیب کا حال بہت گیا گزرا تھا کہ چیف جسٹس کو کئی بار ریمارکس میں کہنا پڑا تھا کہ نیب کرپشن پھیلانے کا ذمہ دار ہے۔ اگر ایسے موقع پر جب سیاست پورے عروج پر ہے تو نیب کے ادارے کو اپنا قدم پھونک پھونک کر رکھنا چاہیے کہیں اُن کی غیر جانبداری پر سوال نہ اُٹھ جائے۔ مگر چیئرمین نیب نے 4.9 ارب ڈالر کا جو سوال اٹھایا ہے وضاحت کے بعد اُن کا استعفیٰ تو بنتا ہے۔ سیاست گری کے اس ماحول میں نواز شریف کے معاملے کو بیلنس کرنے کے لیے بحریہ ٹاؤن کی 7 ارب روپے منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ نیب اب ثبوتوں کی بات کرے اسے میڈیا رپورٹس پر نہیں چلنے دیا جانا چاہیے۔ ایک ڈاکٹر نے ایسی سنسنی پھیلائی کہ پوری قوم افسوس کی تصویر بن گئی کہ یا خدا قائداعظم کے پاکستان میں کیا ہو رہا ہے۔ پاکستان اپنے ایجنڈے پر چلے گا اور اس کو جمہوریت کے طریقے پر چلایا جائے گا۔ ڈاکٹر کو سزا ملی تین ماہ کی وہ بھی تنخواہ کے ساتھ، اس کا کیا بگڑے گا۔ ایک اینکر کو سپریم کورٹ نے مشروط اجازت دی مگر اب وہ بھی گالی گلوچ پر اتر آیا ہے ۔ اب ماشاء اللہ وہ اینکر ایک سیاسی جماعت کی چھتری پر بھی بیٹھ گیا ہے۔ احتساب کے ادارے کا سربراہ ایسے اینکرز چینل اور اخباری رپورٹ پر اگر ایک جماعت کے سربراہ کے خلاف نوٹس بھیجے گا جو پاکستان کا تین مرتبہ وزیراعظم رہا ہو اور کشمیر کاز کے لیے بھارت سے لڑتا رہا ہو اُن کی جانب سے دشمن ملک کو رقم بھیجنے، منی لانڈرنگ کرنے کا الزام افسوسناک ہے۔ اگر نیب چیئرمین نواز شریف پر الزام ثابت نہ کر سکے تو پھر پارلیمنٹ کو اس کی سزا تجویز کرنی چاہیے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا یہ کہنا درست ہے کہ یہ تو پری پول رگنگ ہے۔ الزام لگایا گیا ہے۔ پہلے بھی تو نواز شریف پر ہائی جیکنگ کا الزام لگا دیا تھا اور وہ الزام بھی ختم ہو گیا۔ چیئرمین نیب پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کے جج رہے ہیں آخر وہ ایسے کھیل میں کیوں اتر رہے ہیں جو سیاست کا کھیل ہے ۔ اس کھیل کو سیاست دانوں اور خلائی مخلوق تک ہی محدود رہنے دیا جائے تو بہتر ہے پہلے بھی پیپلزپارٹی کے دور میں چیئرمین نیب نے صدر آصف زرداری کو خط لکھا تھا۔ سازش یہ تھی کہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس بھیج کر اُ سے ہٹایا جائے۔ سازش ناکام ہوئی۔ خود چیئرمین نیب پر توہین عدالت کی کارروائی کا نوٹس ہوا پھر چیئرمین نیب کو افسوسناک طریقے سے رخصت ہونا پڑا۔ موجودہ چیئرمین کے مطابق نواز شریف نے چار اعشاریہ نو (4.9) ارب ڈالر کی رقم بھارت بھیجی۔ یہ اگر درست ہے، ریکارڈ ہے اور ثبوت ہے تو پھر گھبرانے کی بات نہیں اگر وضاحت یہ ہے اُس نے کہا یوں کہا ایسے کہا اور ویسے کہا والا معاملہ ہے تو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا یہ افسوس تو بنتا ہے کہ ایسے شخص کو چیئرمین بنانا اُن کی غلطی تھی۔ دوسری جانب جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کہہ رہے ہیں کہ پشاور میٹرو بس منصوبے میں بڑے پیمانے پر کرپشن ہوئی ہے مگر اس طرف تو نیب کے چیئرمین اپنا رخ کیوں بدل رہے ہیں۔ پنجاب بینک سے بھی اربوں روپے لوٹنے پر شہباز شریف دہائی دیتے رہے ہیں۔ اس پر نیب تو کام کر رہی ہے مگر لمبی لمبی تاریخیں اس طرح دی جا رہی ہیں۔ مگر اہم سوال تو ہے سٹیٹ بینک نے پاکستان سے 4.9 ارب ڈالر کی رقم بھیجنے کی تردید کر دی ہے کہ ستمبر 2016ء کے اعلامیے بتا دیا تھا کہ مالی سال 2015-16ء میں پاکستان سے ایک لاکھ 6ہزار ڈالر کی ترسیلات بھارت بھیجی تھیں جبکہ 2016ء میں بھارت سے 3 لاکھ 9 ہزار ڈالر آئے تھے ۔ معاملہ قومی نوعیت کا ہے۔ ایک قومی رہنما کو اس مقدمے میں بھارت کا دوست ثابت کرنا مقصود ہے۔ یہ معاملہ اب سراسر سیاسی نوعیت کا ہے۔نواز شریف اب قومی راز اگلنے کا ارادہ کریں گے کیونکہ اب اُن کی جماعت بالکل دیوار سے لگائی جا رہی ہے۔ اب تک کی انتخابی حکمت عملی نوا زشریف اور ان کی جماعت کے حق میں جا رہی ہے۔ مگر سیاست سے اوپر ہو کر سوچا جائے تو نیب کے بارے میں سینیٹ کے ہاؤس میں یہ قرار دار موجود ہے کہ نیب کے ادارے کو ختم کر دیا جائے جبکہ سابق وزیراعظم نیب کے طریق کار کو قومی معیشت کے لیے زہر قاتل قرار دے چکے ہیں خود ایک جرنیل جو نیب کے چیئرمین رہے تھے وہ اس ادارے کی منفی اور معیشت دشمن سرگرمیوں کا پردہ اپنی کتاب میں چاک کر چکے ہیں۔ اب اصل سوال جو سیاست اور خاص طور پر انتخابی سیاست سے بڑھ کر سوچنے کا ہے کہ اگر نواز شریف پر تازہ الزام کو دیکھا جائے تو سیاست دانوں کے لیے بہترین موقع ہے کہ وہ متحد ہو کر پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے چیئرمین نیب سے پوچھیں کہ بھارت کو بھیجے
جانے والے 4.9 ارب ڈالر کی تفصیلات کیا ہیں۔ اگر ایسا نہ کر سکیں تو پارلیمنٹ انہیں فارغ کرے مگر نیب کا کھیل تو سارا سیاست سے جڑا ہوا ہے نیب کی پھرتیاں بتا رہی ہیں کہ یہ نواز شریف کا سارا سیاسی کھیل تو انہوں نے ہی ختم کرنا ہے یہ طریق کار اور رویہ جمہوریت کو ’’ڈی ریل‘‘ کر رہا ہے۔ جب تک اس ادارے میں مشرف کے دور کے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اس ادارے کی کارکردگی بہتر نہیں ہو سکتی یہ تو اللہ بھلا کرے عدالت عظمیٰ کا کہ کرپشن کے مقدمے میں وصول ہونے والی رقم سے تحقیقاتی افسر بھی تنخواہ کے علاوہ اپنا کمیشن بھی لیتے تھے مگر یہ انتخابی سیاست کا کھیل، سیاسی منظر نامے پر جو بڑی بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں تحریک انصاف ان تبدیلیوں پر اشارے پر چل رہی ہے مگر اشارے کس کے ہیں؟ وزیراعظم خاقان عباسی نے پارلیمنٹ کمیٹی کی طرف سے 4.9 ارب ڈالر کی تحقیقات کا فیصلہ کیا یہ تو پارلیمنٹیرین کی عزت افزائی کی بات تھی کہ وہ جان سکیں کہ اصل معاملہ کیا ہے مگر تحریک انصاف کے اسد
عمر نے کمیٹی بننے کی مخالفت کر دی اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات ضروری کی ہے کہ وہ کسی کو بھی بلا سکتی مگر چیئرمین نیب کو طلب کرنا انفرادی معاملہ ہے۔ مگر یہ انتخابی سیاست ہے کپتان کے لیے راستے بنانے والے کافی عرصہ سے سرگرم ہیں یہ معاملہ 2014ء سے شروع ہوا ایک لمحہ کے لیے بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہا خاص طور پر وزیراعظم کے انتخاب کے موقع پر شیخ رشید خاقان عباسی کے مقابلے میں وزیراعظم بنے تھے تو وہ سمجھتے تھے بڑا اپ سیٹ ہو جائے گا۔ شیخ صاحب کو تو وزیراعظم نامزد کرنے والا خود ووٹ ڈالنے نہیں آیا۔ پھر چوہدری نثار جواب باغی نظر آتے ہیں وہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ان کو چالیس ایم این ایز کی حمایت حاصل تھی مگر اچانک باسی کڑھی میں اُبال جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کی صورت میں آیا۔ مگر کوشش کے باوجود فراریوں، دریشک، چیموں اور میاں والی قریشاں کے پیروں کی سیاست نہ چمک سکی۔ یہ لوگ خفیہ طور پر پہلے ہی تحریک انصاف کے رابطے میں تھے خسرور بختیار تو 2011ء میں ساتھیوں سمیت تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے قلا بازی کھا کر پھر نکل گئے سابق نگران وزیراعظم بلخ شیر مزاری کا خاندان کافی عرصے سے راجن پور کی سیاست میں پسپا ہو رہا ہے جبکہ ان کے حریف لغاریوں کا دائرہ کار ڈی جی خان سے نکل کر راجن پور تک جا پہنچا ہے جبکہ دیرشک پہلے ہی تحریک انصاف کا حصہ ہیں۔ جنوبی پنجاب کے عوام خوش تھے کہ اب اُن کی محرومیوں کا دور ختم ہو جائے گا اور ان کی کوششوں سے انہونی ہو جائے گی مگر اقتدار کے بھوکے لوگوں کی کشتی کبھی پار نہیں لگتی۔ خواہشیں اور امیدیں دم توڑ گئیں تو انہوں نے مڑ کر عوام کی طرف نہیں دیکھا جس طرح جنوری 2013ء میں سیاست نہیں ریاست کو بچانے کے نام پر اسلام آباد میں دھرنا اس نیت سے دیا تھا کہ وہ پیپلزپارٹی کی حکومت کا تختہ الٹ دیں گے۔ ناکامی اور بے حساب ناکامی کینیڈین شہری کے حصے میں آئی۔ شرمندگی سے بچنے کے لیے ایک معاہدہ کر لیا۔ ایسا ہی شرمندگی میں ڈوبا ہوا معاہدہ جو 9 مئی 2018ء کو اسلام آباد میں کیا گیا۔ صوبہ کیا بنتا پورا جنوبی محاذ ہی تحریک انصاف میں اس لیے ضم ہو گیا کہ ان کو ڈوبتی ہوئی سیاست کو تحریک انصاف کے نیچے ہی سہارا ملے گا۔ عوام کا سوچنے کی بجائے تمام نے اپنا فائدہ سوچا مگر عوام اب کسی کے مزارعے نہیں ہیں وہ اپنی مرضی کے مالک ہیں تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب کے ان سیاست دانوں کے لیے اپنا پلیٹ فارم مہیا کر کے آصف زرداری کی ان امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے جو آزاد امیدواروں پر سینیٹ انتخاب کا فارمولا آزمانے کے لیے تیار بیٹھے تھے۔ مگر اب تحریک انصاف کی ’’لک‘‘ ،اب بھی کامیانی نہ ملی تو کیا ہو گا۔ یہ تو کچھ نہیں ہوا مگر اصل سوال یہ ہے چیئرمین نیب جو اخباری رپورٹوں تک چلے گئے ہیں اُن کی ساکھ کو بٹہ ضرور لگا ہے۔


ای پیپر