12مئی 2007ء ۔۔۔اقتدار اور موت کے کھیل کی کہانی
10 مئی 2018 2018-05-10

اقتدار کا کھیل ہمیشہ سے موت کا کھیل بھی رہاہے۔یہ روایت ازل سے جاری ہے اوراس کھیل پر کبھی کھلاڑیوں نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔اورکھلاڑی بھلا کسی کھیل پر کیوں کر اعتراض کرسکتے ہیں کہ انہیں تو کھیل ہمیشہ لطف دیتا ہے۔خواہ وہ اقتدار کا کھیل ہو یا موت کاکھیل۔ وطن عزیز میں یہ دونوں کھیل ہمیشہ سے کھیلے جارہے ہیں۔ کھلاڑی البتہ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ایسا ہی کھیل آج سے11برس قبل 12مئی 2007ء کو کراچی میں کھیلا گیاتھا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ موت کا یہ کھیل کھیلنے والے کھلاڑی تو آج بھی موجودہیں ، لیکن 12مئی 2007ء کے اس المیے کو ان کھلاڑیوں نے اور شاید خود ہم نے بھی فراموش کردیا۔کھلاڑی تو اب کسی اور کھیل میں مصروف ہیں اورشاید کسی نئے 12مئی کا بندوبست کرنے جارہے ہوں لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہمیں یہ دکھ بھرا دن کیوں بھول گیا۔وہ دن جب کراچی کی سڑکوں پر خون کی ہولی کھیلی گئی۔جب 40یا اس سے زیادہ افراد کو ٹارگٹ کلرز نے موت کے گھاٹ اتارا اورجب سینکڑوں افراد زخمی ہوگئے۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کاسورج نصف النہار پر تھاتاہم ان کے خلاف تحریک شروع ہوچکی تھی۔اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری اور اعتزار احسن اپنے ہم نواؤں کے ساتھ آئین کی بالادستی کا پرچم تھامے کسی کے اشارے پر سڑکوں پر موجودتھے ۔لوگوں کو انصاف کی نوید سنائی جارہی تھی اور اعتزاز احسن لہک لہک کر ’’دنیا کی تاریخ گواہ ہے ‘‘ قوالی کرتے تھے اور لوگوں کویقین دلاتے تھے کہ جب انصاف کا بول بالا ہوگا ،امن ہوگا تو پھر ہمیں ہمارے حقوق ملیں گے اور ریاست ماں کے جیسی ہوگی۔ذلتوں کے مارے لوگ کٹھ پتلیوں کے نعروں پر ہمیشہ کی طرح یقین کررہے تھے اور ان بے چاروں کے پاس یقین کرلینے کے سوا چارہ بھی کیا ہوتا ہے۔
اسی تحریک کے دوران جسٹس افتخارچوہدری نے اعلان کیا کہ وہ کراچی میں ہائی کورٹ بار کی گولڈن جوبلی کے موقع پر منعقدہ تقریب میں شریک ہو ں گے۔ یہ تقریب 12مئی کو منعقد ہونا تھی ۔ فوجی ڈکٹیٹر اوراس کے ہمنواؤں نے بھی طے کرلیا کہ افتخار چوہدری کو کراچی ایئرپورٹ سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ان کے استقبال کے لیے آنے والے پیپلزپارٹی اور اے این پی کے کارکنوں اور وکلاء کا راستہ ہرقیمت پر روکا جائے گا۔دن نکلتے ہی کراچی میں قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوگیا۔کنٹینروں سے کراچی کی تمام سڑکیں بلاک کردی گئیں۔ اور یہ سب اقدامات پرویزمشرف کے حکم پر کیے گئے ۔پرویز مشرف کی ہدایت پر ہی 12مئی سے دو روز قبل نائن زیرو اور گورنرہاؤس میں اعلی سطح کے اجلاس
منعقد ہوئے جن میں اس وقت کے اعلیٰ سرکاری افسروں اور سیاسی رہنماؤں نے بھی شرکت کی تھی۔ایک لمحے کے لیے اب ان ہستیوں کابھی تذکرہ ہوجائے جو پرویز مشرف کے احکامات پر عمل درآمد کرارہی تھیں۔ان میں اس وقت کے گورنر سندھ عشرت العباد،ناظم کراچی مصطفی کمال،وزیرداخلہ سندھ وسیم اختر،ایم کیو ایم کے رہنماء فاروق ستار،بابرغوری،فیصل سبزواری اوربہت سے دوسرے لوگ شامل ہیں۔آئی ایس آئی کے سربراہ اس زمانے میں جنرل اشفاق پرویز کیانی تھے اور بعد کے دنوں میں معلوم ہوا کہ پرویز مشرف کے خلاف جسٹس افتخار چوہدری کاا نکاربھی انہی کے اشارے کا نتیجہ تھا۔مصطفی کمال کی ہدایت پر سندھ ہائی کورٹ کے باہر کنیٹنرلگادیئے گئے اور ایم کیو ایم کے مسلح افراد دن بھرلوگوں کو للکارتے رہے۔میڈیا کی ٹیمیں حملوں کی زد میں آئیں۔دن بھر ٹی وی چینلز پر دیکھتے رہے کہ سڑکوں پر نقاب پوش دندنا رہے ہیں۔لوگ تڑپ رہے ہیں۔ایمبولینسیں دوڑ رہی ہیں اور ان کاراستہ بھی روکا جارہاہے۔افتخارچوہدری اس تمام عرصے کے دوران کراچی ایئرپورٹ کے لاؤنج میں اعتزازاحسن کے ہمراہ ٹی وی چینلز دیکھتے رہے ۔میڈیا کو ٹیلیفون پر انٹرویو دیتے رہے،اصرارکرتے رہے کہ میں سندھ ہائی کورٹ تک ضرور پہنچوں گا،کوئی بھی رکاوٹ ہمارا راستہ نہیں روک سکتی،وغیرہ وغیرہ۔ اوراس کے ساتھ ساتھ وہ مرنے والوں کا دکھ کم کرنے کے لیے چائے اور سینڈوچ سے لطف اندوز بھی ہوتے رہے۔شام تک آگ اورخون کا کھیل جاری رہا اوراس کے بعد سندھ حکومت نے افتخار چوہدری کی صوبہ بدری کے احکامات جاری کردیئے۔دوسری جانب اسلام آباد میں مسلم لیگ(ق)نے عوامی قوت کے مظاہرے کا اہتمام کررکھا تھا۔ملک بھر سے قافلے پرویز مشرف کے آہنی ہاتھ مزید مضبوط کرنے کے لیے اسلام آباد پہنچ رہے تھے۔شام کے سائے گہرے ہوئے تو پرویز مشرف کے حامی شیخ رشید ،چوہدری شجاعت اور پرویز الہی جیسے جمہوریت پسندوں کی قیادت میں جوق درجوق پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر واقع پنڈال میں پہنچنا شروع ہوگئے۔یہ سب لوگ اگرچہ پرویزمشرف کے ہاتھ مضبوط کرنے آئے تھے لیکن جب جلسہ شروع ہوا اور رات آٹھ بجے کے بعد پرویز مشرف اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز کے ہمراہ سٹیج پرآئے توحاضرین کومعلوم ہوا کہ وہ جن ہاتھوں کو مضبوط کرنے آئے ہیں وہ تو اب مکوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔فوجی ڈکٹیٹر تالیوں کی گونج میں سٹیج پرآیا ۔اس نے بہت جذباتی انداز میں تقریر کی اور مکے لہراتے ہوئے عوام کوبتایا کہ آپ نے کراچی میں عوامی قوت کا مظاہرہ دیکھ لیاناں؟عوام کی طاقت تو میرے ساتھ ہے۔یہاں پنڈال میں بھی اور وہاں کراچی میں بھی۔یہ تکبر اور غرورکی انتہا تھی۔تکبر اورغرورصرف پرویزمشرف کے لہجے میں موجودنہیں تھا ان کے حواری بھی مکے والی زبان ہی استعمال کررہے تھے۔فاروق ستار چینلز پرآکر پیپلزپارٹی اور اے این پی کو موردالزام ٹھہرارہے تھے اورکہہ رہے تھے کہ ان پارٹیوں نے ایم کیو ایم جیسی امن پسند جماعت کو بدنام کرنے کے لیے اپنے کارکن خود مروادیئے۔ایسے ہی بیانات ایم کیو ایم اور مسلم لیگ(ق) کے دیگر رہنماؤں کی جانب سے داغے جارہے تھے۔
بہ حیثیت قوم ہمارا حافظہ چونکہ خاصا کمزور ہے اس لیے بہت سی باتیں ،بہت سے کردار اور بہت سے واقعات دہرانا ضروری ہوجاتے ہیں۔جسٹس افتخار چوہدری کی تحریک کامیاب ہوئی ۔وہ اپنے منصب پر دوبارہ فائز ہوئے اورانہوں نے ازخودنوٹسوں کی بھرمار کردی تو گمان گزرا کہ شاید وہ 12مئی کے کرداروں کوبھی کٹہرے میں لائیں گے۔شاید وہ کراچی میں رزق خاک ہونے والوں کے ورثاء کو انصاف دیں گے۔شاید وہ قتل وغارت کے احکامات جاری کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے لیکن افسوس ایسا نہ ہوسکا۔ستم ظریفی تو دیکھیں یہ سب کردار آج بھی دندنارہے ہیں۔اس وقت کے وزیرداخلہ سندھ وسیم اختر گزشتہ برس کراچی کے میئر منتخب ہوئے۔اسی مقدمے میں وہ اعتراف جرم کرچکے تھے۔بہت سے نام بتاچکے تھے کہ کس کس کے حکم پر یہ سب کھیل کھیلا گیا لیکن قانون کتنا بے بس ہوتا ہے اس کا اندازہ ہمیں بھی نہیں تھا۔12مئی 2007ء کی قتل وغارت میں ملوث ہونے کا اعتراف کرنے کے باوجود وسیم اختر کو ضمانت پر رہا کیاگیا ۔مصطفی کمال آج بھی کراچی میں حب الوطنی کی عملی تصویربنے پھرتے ہیں۔فاروق ستار اسی مخصوص اندار میں ٹھہر ٹھہر کر اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنانے کامطالبہ کرتے ہیں۔عشرت العبادمحفوظ مقام پر ہیں اور کسی کو یہ بھی یاد نہیں کہ وکی لیکس نے اس ٹیلی فون کال کا انکشاف کیا تھا جس میں یہ بتایاگیا تھا کہ اس روز ٹارگٹ کلرز کی ڈیوٹیاں خود فاروق ستار نے لگائی تھیں۔ایک امریکی عہدیدار کے ساتھ ان کی ٹیلی فونک گفتگو کاچرچا بھی کئی روز تک سننے میں آیا اور آخری بات یہ کہ پرویزمشرف دبئی سے وطن واپسی کے لیے پر تول رہے ہیں تاکہ مستقبل کے سیاسی بندوبست میں ان کی قیادت میں ایم کیو ایم کے مختلف دھڑوں کو متحد کرکے کراچی اور اندرون سندھ سے پیپلزپارٹی کا مکمل صفایا کیاجاسکے۔
ایک سوال کا جواب ہمیں تو اب تک معلوم نہیں ہوسکا۔ ممکن ہے آپ کو کہیں سے مل جائے۔سوال صرف اتنا سا ہے کہ کیا اقتدار اور موت کے اس کھیل میں بعض لوگ صرف مرنے اور بعض صرف مارنے کے لیے پیدا ہوتے ہیں؟ اورکیا بے گناہ لوگوں کا خون ہمیشہ اسی طرح رائیگاں جاتا ہے جیسے سانحہ 12مئی کے شہداء کاخون رائیگاں ہوا۔


ای پیپر