ماہِ رمضان کا تقدس اور اسلام آباد ہائی کورٹ کاشاندار فیصلہ
10 مئی 2018 2018-05-10

رمضان المبارک کی آمد قریب آن پہنچی ہے۔ہرسال کی طرح اس سال بھی پاکستان سمیت دنیا بھر میں رمضان المبارک کے استقبال کے لیے مسلمان پرجوش نظر آرہے ہیں۔سال کے بارہ مہینوں میں رمضان المبار ک واحد مہینہ ہے جس میں ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان بھی عقیدت اور محبت سے سرشار نظر آتاہے۔ بچے،بوڑھے،خواتین،نوجوان غرض ہرطبقے سے وابستہ لوگ احترام رمضان میں بھرپور کردار ادا کرتے ہیں۔مسلمان ہی کیا غیرمسلم بھی رمضان المبار ک اور روزہ داروں کا احترام کرتے نظرآتے ہیں۔یقیناًماہ رمضان اللہ تعالیٰ کا مسلمانوں پر خصوصی انعام ہے۔جس میں اللہ تعالی مسلمانوں پر خاص انعام وفضل کی بارش کرتے ہیں۔بے شمار احادیث مبار کہ میں رمضان کے فضائل اور تقدس کے بارے بتایا گیا ہے۔حدیثِ قدسی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:"انسان کا تمام عمل اس کے لئے ہے لیکن روزہ میرے لئے ہے، میں اس کی جزا دینے والا ہوں اور روزہ سپر ہے"(صحیح بخاری)۔ایک دوسری حدیث پاک میں آتاہے کہ "جب رمضان شروع ہوتا ہے تو جنت کے دروازے اور دوسری روایت میں رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے"(صحیح بخاری)۔شعبان کے آخری روز سررِ و عالمؐ نے صحابہؓ کو خطاب فرمایا اور رمضان المبارک کی خصوصیات و فضائل کے بارے میں ایک جامع خطبہ دیتے ہوئے فرمایا؛لوگو!ایک بہت بڑے اور بابرکت مہینے نے اپنے سایۂ رحمت کے نیچے تمہیں لے لیا ہے۔ اس مہینے کی ایک رات ایسی ہے جو اپنے فضائل و برکات کے لحاظ سے ہزار ماہ سے بہتر ہے۔ اس مہینے کے روزے اللہ تعالیٰ نے فرض کئے ہیں اور رات کے قیام و نمازِ تراویح کو نفل قرار دیا ہے۔ اس مہینے میں جس کسی نے نفل عبادت کے ذریعے تقرّب الٰہی حاصل کیا، اس کا اجر و ثواب ویسا ہی ہوا، جیسا کہ رمضان کے علاوہ دوسرے مہینوں میں فرض کا ہوتا ہے اور جس کسی نے اس مہینے میں فرض عبادت ادا کی اس کا اجر و ثواب اس قدر ہو گا جس قدر کہ رمضان کے علاوہ دوسرے مہینوں میں ستر مرتبہ ادائیگی فرض کا ہوتا ہے۔ یہ صبر و برداشت کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب اللہ کے ہاں جنت ہے۔ یہ مہینہ ایک دوسرے کے ساتھ نیک سلوک اور احسان و مروت کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں مومن کے رزق میں اضافہ ہوتاہے۔ جس کسی نے اس مہینہ میں روزہ دار کا روزہ افطار کرایا تو یہ عمل اس کے گناہوں کی بخشش اور دوزخ سے نجات کا ذریعہ ہو گا اور روزہ افطار کرانے والے کو ویسا ہی روزے کا ثواب ملتا ہے جیسا کہ خود روزہ رکھنے والے کو، بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں سے کچھ کم کیا جائے۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ بعض لوگ اس قدر استطاعت نہیں رکھتے کہ روزہ افطار کرا سکیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہی ثواب اس شخص کو بھی دے گا جو روزہ دار کا روزہ ایک کھجور یا دودھ یا پانی کے ایک گھونٹ سے بھی افطار کرائے، البتہ جس نے روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلایا یہ اس کے گناہوں کی مغفرت کا ذریعہ ہو ا اور اسے
اس کا پروردگار میرے حوض سے ایسا مشروب پلائے گا جس کے بعد اسے کبھی بھی پیاس نہیں ستائے گی۔ اس مہینہ کا پہلا عشرہ موجبِ رحمت الٰہی، اور درمیان کاعشرہ موجبِ مغفرتِ الٰہی اور آخری عشرہ عذابِ جہنم سے نجات کا موجب ہوتا ہے۔ جس کسی نے اس مہینہ میں اپنے غلام(اس میں ملازمین وغیرہ بھی شامل ہیں) کی محنت و مشقت میں تخفیف کر دی، اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو بخش دے گا اور دوزخ سے نجات دے گا۔(اما م بیہقی نے شعب الایمان میں اس روایت کو نقل کیا ہے)۔
رمضان المبار ک کی اہمیت اور تقدس کا اندازہ مذکورہ احادیث سے اچھی طرح لگایا جاسکتاہے۔ہمارے سماج میں الحمد للہ رمضان کا تقدس اور احترام ٹی وی چینلز اور الیکٹرانک وسوشل میڈیا کی بھرمار سے پہلے بڑے ذوق وشوق سے کیا جاتا تھا۔مگر ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا کی آمد کے بعد تقدس رمضان اور احترام رمضان میں بہت زیادہ خلل واقع ہوا۔چنانچہ گزشتہ کئی سالوں سے ماہ رمضان میں رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر بے ہودگی اور اخلاق باختہ پروگرامات کاسلسلہ شروع ہوا۔یہ پروگرام ایسے میزبانوں سے کروائے جانے لگے جن کی زندگی خلافِ شرع اور خلاف تہذیب کاموں سے بھری ہوتی تھی۔مستند علما ء کرام کی بجائے غیر مستند لوگوں کو ٹی وی چینلز پر رمضان المبارک اور دین اسلام کے بارے گفتگو کے لیے مدعو کیا جاتارہا۔انٹرٹینمنٹ کے نام پر غیراخلاقی حرکتیں کی جاتی رہیں۔بھلا ہو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا جنہوں نے رمضان المبارک کے تقدس کو پامال کرنے والے ٹی وی چینلز پروگراموں کے خلاف ایکشن لیا اوراس سال رمضان المبار ک میں رمضان نشریات سمیت دیگر اوقات میں ٹی وی چینلز پر بے ہودگی اور غیراخلاقی اورغیر اسلامی نشریات کی روک تھام کے لیے پیمرا اور متعلقہ اداروں کو حکم نامہ جاری کیا۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے پہلی باراحترام رمضان کے حوالے سے ایک لائحہ عمل دیا۔ان کا کہنا تھا کہ اسلامی تشخص اور عقائد کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔لہٰذا اس بار کسی بھی چینل پر کوئی نیلام گھر اور سرکس نہیں لگے گا۔ تمام چینلز اس بات کو یقینی بنائیں کہ پانچوں اوقات کی اذان نشر کی جائے۔ مسلمانوں کیلئے اذان سے بڑی بریکنگ نیوز کوئی نہیں۔ پیمرا سمیت دیگر ادارے اس بات کویقینی بنائیں کہ کسی بھی پروگرام میں چیخ و پکار اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہ ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ ماہِ رمضان میں رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر اسلامی تشخص اور شعائر کا مذاق اڑایا جاتا ہے، جو کہ کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔ اسلام اور رمضان کے متعلق کرکٹرز، اداکار یا گلو کار بات نہ کریں۔ اصلاحی پروگرامات اور رمضان نشریات میں دین سکھانے کیلئے علمائے کرام اور پی ایچ ڈی سکالرز مدعو کیے جائیں۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ٹی وی چینلز سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ پر تبصروں کیلئے تو بیرون ملک سے ایکسپرٹ تجریہ نگار بلائے جاتے ہیں، جبکہ اسلام اور رمضان المبارک پر بات کرنے کیلئے اداکاروں، گلوکاروں اور کھلاڑیوں کو بھی بٹھا دیا جاتا ہے۔لہذارمضان شریف میں اسلامی موضوعات پر بات کرنے کیلئے (مفتیان کرام) اور پی ایچ ڈی سکالرز سے کم کوالیفیکشن والوں کو اسلام اور رمضان المبارک پر بات کرنے کے لیے مدعو نہ کیا جائے۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا یہ فیصلہ یقیناًقابل تحسین ہے۔یہی وجہ ہے کہ ملک بھر سے عوام اس فیصلے پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو خراج تحسین پیش کررہے ہیں۔بدقسمتی سے یہ فیصلہ بہت پہلے آجاناچاہیے تھا۔بلکہ اس فیصلے کی ضرورت ہی نہ تھی اگر ٹی وی چینلز اور متعلقہ ادارے آئین کے مطابق ٹی وی چینلز پررمضان اور دیگر اوقات کی نشریات چلاتے۔کس قدر افسوس ناک بات ہے کہ پاکستان کو اسلام کی عملی تجربہ گاہ کے طور پرآزاد کروایا گیا۔پاکستان کی بنیاد اسلام پر رکھی گئی۔پاکستان کودنیا کے لیے آئیڈیل اسلامی ملک بنانے کا عہد کیا گیا۔مگر بدقسمتی سے 70سال گزرنے کے باجود بانیانِ پاکستان کا یہ خواب مکمل طورپر پورا نہ ہوسکا۔چنانچہ آج بھی پاکستان میں اسلامی نظام کے عملی نفاذ کی بجائے اسلام مخالف قوانین اور اسلام مخالف اقدامات کیے جارہے ہیں۔جس کی تازہ مثال قومی اسمبلی میں جنس کی تبدیلی کا نیا قانون ہے کہ ہر صنف کو اپنی جنس تبدیل کرنے کا اختیار ہوگا۔حالاں کہ اسلام تو مرد کو عورت اور عورت کو مرد کی مشابہت سے روکتا ہے ،پھر کیسے اسلام جنس تبدیل کرنے کی اجازت دے سکتاہے؟۔مگر اسلامی ملک پاکستان کی قومی اسمبلی میں8 مئی2018ء کو اسلام مخالف یہ قانون منظور ہوا۔اس کے علاوہ کئی قوانین ہیں جو آج تک اسلام مخالف ہیں مگر پاکستان میں عملاً نافذہیں۔ایسے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ اگرچہ رمضان المبارک کے تقدس اور احترام کے حوالے سے آیا ہے،مگر اس فیصلے کو رمضان کے علاوہ پورے سال کے لیے اور ٹی وی چینلز کے علاوہ تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں تک پھیلانا چاہیے۔پاکستان میں جہاں کہیں اسلام مخالف غیراخلاقی اور حیاباختہ حرکات کرنے والے عناصرملیں انہیں کڑی سزا دینی چاہیے۔تاکہ وطن عزیز پاکستان کے لیے قربانی دینے والے لاکھوں لوگوں کی روحوں کو تسکین مل سکے اور دنیا کے لیے پاکستان ایک اسلامی ریاست کا آئیڈیل نمونہ بن سکے۔اس کے علاوہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے شاندار فیصلے میں اسلامی نظام کے نفاذ کامطالبہ کرنے والی دینی سیاسی جماعتوں کے لیے بھی نشانیاں ہیں کہ وہ اسمبلیوں میں ہونے کے باوجود رمضان المبارک اور دیگر ایام میں غیراسلامی اورغیراخلاقی حیاباختہ پروگراموں اور حرکات کو نہیں رکواسکے مگر ایک عدالت کے جج نے تنہا یہ کام کردیا۔اگر یہی لوگ سیاست سے زیادہ ملک کے دیگر اداروں میں دیانت داری کے ساتھ اسلامی تعلیمات کے حامل ماہرین فن کوبھیجتے تو آج ملک میں اسلام مخالف اقدامات کی نوبت آتی ،نہ ہی اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے سیاسی یا مسلح جدوجہد کی ضرورت پڑتی۔ کا ش اگریہ کام بہت پہلے ہوچکا ہوتا تو ملک میں مسلح جدوجہد کے ذریعے بے گناہ لوگوں کو خون بہتا اور نہ ملک کا امن وامان داؤ پر لگتا!


ای پیپر