زن مرید یا۔۔۔من مرید۔۔۔
10 مئی 2018

دوستو،انسانوں کی دو اقسام ہوتی ہیں،مرد اور عورت، ایک تیسری قسم بھی ہوتی ہے چونکہ وہ بہت مظلوم ہوتی ہے اور ’’نایاب‘‘ بھی ہوتی ہے اس لئے ہم جمہوریت میں ملی آزادی کو استعمال کرتے ہوئے صرف انہی اقسام پر بات کریں گے جو’’اکثریت‘‘ میں ہے، مردوں کی بھی دو اقسام ہوتی ہیں، زن مرید اور من مرید ۔۔ زن مرید تو سب جانتے ہی ہیں کہ شادی کے بعد بنتے ہیں لیکن شادی سے پہلے ہر مرد ’’ من مرید ‘‘ ہوتا ہے۔۔عورتیں بھی دو قسم کی ہوتی ہیں، ایک وہ جن پر شاعر حضرات غزل کہتے ہیں اور جن کے وجود سے تصویر کائنات میں رنگ بھرا جاتا ہے۔ دوسری قسم بیوی کہلاتی ہے۔ جس طرح کسی بچے کی معصومیت اْس وقت ختم ہو جاتی ہے جب وہ بڑا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح عورت کی ساری خوبیاں اْس وقت ’’ہوا‘‘ ہو جاتی ہیں، جب وہ زَن سے رَن،ہمارا مطلب ہے بیوی بن جاتی ہے۔ بیوی کو بیگم بھی کہتے ہیں۔ شنید ہے کہ سنہرے دور میں یہ بے غم کہلاتی تھی کیوں کہ ان کا کام شوہروں کو ہر غم سے بے غم کرنا ہوتا تھا لیکن ہمارے پیارے دوست کا کہنا ہے کہ چونکہ بیویوں کو کوئی غم نہیں ہوتا اس لئے انہیں ’’بے غم‘‘ کہاجاتا ہے،لیکن زمانے کے ساتھ ساتھ یہ نام تبدیل ہوکر بیگم رہ گیا۔۔
بیوی نے اپنے خاوند سے پوچھا ،شادی کے بعد آپ کو اپنی زندگی میں کیا تبدیلیاں محسوس ہوئی ہیں ۔؟؟ خاوند بیچارے نے بڑی معصومیت سے جواب دیا، جان عزیز، کچھ زیادہ فرق محسوس نہیں ہوتا بس ،پہلے میں من مرید تھا سب کام اپنی مرضی سے کرتا تھا اور اب زن مرید ہونے کے بعد تمہاری مرضی کا منتظر رہتا ہوں۔۔ہمارے پیارے دوست فرماتے ہیں، جس عورت کا خاوند اس کا مرید نہیں بن سکا ،اس بیوی کو چاہیئے کہ اپنے مزاج میں شہد کی ملاوٹ کرے اور اپنی ادائیں قاتل بنائے ، اگر آپ بہت زیادہ خوبصورت نہیں تو نزاکت پیدا کریں، کشش پیدا ہوگی ، اور خیال رکھیں خاوند کی نبض ، دل کی دھڑکن اور سانسوں کی مالا آپ کی کس ادا سے تیز ہوتی ہے، سمجھ جانا ،وہ قاتل ادا ہے، اور وہی ادا’’ رن مرید ‘‘ بنائے گی۔
ہمیں یاد ہے جب ہم انٹرکے طالب علم تھے تو ایک بار ہمارے ٹیچر نے کلاس میں سوال کیا، بیویاں زیادہ تر کس کام آتی ہیں۔۔ہم نے فوری جواب دیا، سر لطیفوں کے۔۔ جی ہاں بیویاں زیادہ تر لطیفوں ہی کے کام آتی ہیں۔۔ویسے زبان کا فرق بھی بہت بڑا فرق اس وقت بن جاتا ہے جب اگر بیوی کو ہندی میں کہا جائے کہ وہ ’’ہتھیارن‘‘ لگ رہی ہے تو شاید رات کا کھانا بھی نہ ملے۔۔لیکن اگر آپ اسی کو اردو میں بولیں گے کہ ’’قاتل‘‘ لگ رہے ہو تو پھر شاید رات کے کھانے کے بعد آپ کو ’’سوئیٹ ڈش‘‘ بھی مل جائے۔۔ہمارے پیارے دوست کہتے ہیں۔۔محبت بھی عجیب چیز ہے، ماں سے ہوتو عبادت، باپ سے ہوتو مقدس ،بھائی سے ہوتو عقیدت ، بہن سے ہو تو فرض ،اور بیوی سے ہوتو لوگ کہتے ہیں’’ جورو کا غلام ‘‘۔۔۔انہوں نے ہی یعنی ہمارے پیارے دوست نے ہمیں بتایا تھا کہ ۔۔ مستانی ، باجی راؤ کی دوسری بیوی تھی جسے وہ بے تحاشا چاہتا تھا۔۔پدماوتی ، راول رتن سنگھ کی دوسری بیوی تھی،جس پہ وہ دل و جان سے نثار تھا۔۔جودھا، اکبر کی تیسری بیوی تھی،جس سے اس کی محبت کے چرچے زبان زدعام تھے۔۔ممتاز، شاہ جہاں کی آٹھویں بیوی تھی جس کی محبت میں اس نے تاج محل بنوایا۔تاریخ شاہد ہے کہ کسی بھی شوہر نے اپنی پہلی بیوی سے دیوانہ وار محبت نہیں کی۔یہ صرف جنرل نالج کے لیے ہے۔ گھر میں اس کا تذکرہ کرنے سے گریز کریں۔ورنہ کسی بھی قسم کے ’’سانحہ یا حادثہ‘‘ کے ہم قطعی ذمہ دار نہیں ہوں گے۔۔
بیوی نے بڑے لاڈ لانہ انداز میں اپنے شوہر سے پوچھا۔۔خدا نخواستہ گھر میں چور آجائیں تو تم کیا کرو گے ۔۔؟۔۔شوہر نے کہا، وہی کروں گا جو وہ کہیں گے، پہلے کون سا یہاں میری مرضی چلتی ہے۔۔ہم سے ہمارے ایک دوست نے جن کی گزشتہ دنوں نئی نئی شادی ہوئی ،سوال کیا کہ، بیوی اور نیوزچینل میں کون سی بات ایک جیسی ہے؟۔۔ہم نے اسے جواب دیا۔۔جب تک ایک ہی بات سو دفعہ نہ بتادیں،تب تک دونوں کوسکون ہی نہیں ملتا۔۔ہمارے پیارے دوست کہتے ہیں، شادی بجلی کے تاروں کی طرح ہوتی ہے، ٹھیک جڑ جائے تو زندگی روشن ، اور اگر غلط جُڑ جائے تو زندگی بھر جھٹکے ہی دیتی رہتی ہے۔۔عربوں میں ’’غریب‘‘ اسے کہتے ہیں جس کے پاس صرف ایک ہی بیوی ہو۔۔۔
ایک سر پھری بیوی جس نے خاوند کے ناک میں دم، اور اپنے اسلوب اور معاملات سے خاوند کا جینا حرام کیا ہوا تھا۔اْس نے ایک دن خاوند کو صبح سویرے نیند ے جگایا اور نہایت احترام اور محبت سے کہا، جان من ، میرے سرتاج، اْٹھیئے، صبح ہو گئی ہے۔ اور پھر شاندارتیار کیا ہواناشتہ خاوندکے بستر پر ہی لے آئی۔ خاوند جو پہلے ہی نیند سے جاگ کر بیوی کے رویہ پر حیرت زدہ بیٹھا تھا،ناشتہ دیکھ کر چپ نہ رہ سکا اور پوچھ لیا، آج کیا ہوگیا ہے تمہیں؟ یہ اچانک کیسی تبدیلی آگئی ہے تم میں؟۔۔بیوی نے کہا، کل ہمسایوں ے گھر میں تبلیغ والی بیبیاں آئی ہوئی تھیں،کہہ رہی تھیں کہ جس مرد کی بیوی بدزبان اور بداخلاق ہوگی، اللہ اس مرد کی مغفرت فرمادے گا اور ہوسکتا ہے کہ اس مرد کی بیوی کی بداخلاقی اور بدتمیزی برداشت کرنے پر جنت میں بھی داخل کردے۔۔خاوند نے کہا، یہاں تک تو ٹھیک ہے، آگے؟۔۔ بیوی نے غراتے ہوئے کہا کہ، جندجیوی، جنت جانا ہے تو اپنے اعمال سے جا،’’ میسنا‘‘ بن کر میری وجہ سے کیوں جاتا ہے؟؟۔۔بیوی سب ایک ہی مزاج کی ہوتی ہیں۔۔رات کمرے کا لاک خراب ہوگیا،بیوی نے ٹارچ لی اور ٹھیک کرنے لگی۔پھر بیوی نے ٹارچ اپنے شوہر کو تھمائی اوردوبارہ لاک کھولنے میں مصروف ہوگئی، خاصی دیر گزرگئی لیکن لاک تھا کہ کھلنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا، بیوی کا پارہ ساتویں آسمان کو چھونے لگا، پھر اس نے ٹارچ خود پکڑ لی اور شوہرسے کہا کہ تم ٹرائی کرو، شوہر نے کوشش کی توپہلی ہی کوشش میں فوری طور پر لاک کھل گیا۔۔بیوی شوہر پر برس پڑی کہنے لگی، اب پتہ چلا کہ ٹارچ کیسے پکڑتے ہیں۔۔
بیویوں کے جھگڑے تو فی زمانہ مشہور ہیں ہی، اب ذرا سوچیں اگر شوہر کسی پیشے سے وابستہ ہو تو بیوی بھی اسی حساب سے’’ دھمکی شمکی‘‘ لگادیتی ہے، جیسے حکیم کی بیوی ہر بار جھگڑے میں یہ ضرور کہتی ہے، نبض دیکھے بغیر تمہاری طبیعت درست کردوں گا، ڈاکٹر کی بیوی کہتی ہے۔۔تمہارا الٹراساؤنڈ تو میں ابھی کرتی ہوں، شاعر کی بیوی کہتی ہیں، تمہاری ایسی تقطیع کروں گی کہ ساری بحریں اور نہریں بھول جاؤگے۔۔ایم بی اے کی بیوی کا کہنا ہوتا ہے، مائنڈ یور اون بزنس۔۔فوجی کی بیوی کہتی ہے، تم خود کو کیا بہت توپ سمجھتے ہو۔۔ اے سی سی اے، سی اے، سی ایف اے، آئی سی ایم اے وغیرہ کی بیویاں انہیں جھگڑے میں یہی طعنے مارتی ہیں کہ ۔۔پہلے پاس تو کرلے بڈھے۔۔وکیل کی بیوی کا کہنا ہوتا ہے، تیرا فیصلہ تو میں ابھی کرتی ہوں۔۔ ڈرائیوروں کی بیویاں کہتی ہے، گیئر لگا اور چل نکل یہاں سے۔۔پولیس والوں کی بیویاں کہتی ہیں، ایسی چھترول کروں گی کہ نانی یاد آجائے گی۔۔مولویوں کی بیویاں کہتی ہیں، ابھی پڑھتی ہوں ختم تمہارا۔۔ڈینٹسٹ کی بیوی کا کہنا ہوتا ہے، دانت توڑ کر ہاتھ میں دے دوں گی، ٹیچرز کی بیویاں کہتی ہیں، مجھے مت سکھاؤ، یہ اسکول نہیں۔۔پائلٹ کی بیوی کہتی ہے، زیادہ مت اڑو، سمجھے۔۔اور سنا ہے کہ صحافیوں کی بیوی جھگڑے میں صرف ایک ہی بات پوچھتی ہیں۔۔تنخواہ کدھر ہے؟؟ّ


ای پیپر