لایئے اپنے پیار کی کوئی مستند دلیل
10 مئی 2018

برگ گل سے لے کر سوسن و سنبل تک اور موتیا و چنبیلی سے لے کر نرگس و گلاب تک اس چمن کے تمام تلازمات کے ساتھ ان کی مہر و وفا میں پڑی دراڑیں سب کو واضح دکھائی دینے لگی تھیں، اس گلشن رنگ و بو کے ہر سلگتے مسئلے سے ان کی بے رغبتی اور عدم سنجیدگی دلوں کو رنجیدہ اور رنجور کئے جا رہی تھی۔ میں فی الوقت شام کے تڑپتے قضیے کی بات نہیں کر رہا۔ میں فلسطین میں سسکتے مسلمانوں کے متعلق بھی چند ثانیوں کے لئے یہ تسلیم کر لیتا ہوں کہ یہ عرب ملکوں کا مسئلہ ہے۔ سنو! میں تو اس پاکستان کی بات کرنے چلا ہوں، جو دو قومی نظریے کی اساس پر دس لاکھ سے زائد جانیں قربان کر کے حاصل کیا گیا۔ اس وطن کے ساتھ وفاؤں کے تناسب اور شرح میں کمی کبھی آئے، یہ ہمیں کسی طور گوارا نہیں اور جو اس ملک کے ساتھ ذاتی مفادات تو کجا اپنی جان سے بھی بڑھ کر محبت نہیں کرتا وہ ہمارے احساسات پر نرا بوجھ ہی تو ہے۔ مجھے کہنے دیجئے کہ ایسا شخص ہمارے جذبات پر شدید گراں گزرتا ہے۔
بھارت نے پاکستان کا سارا پانی اپنی توند میں انڈیل لیا مگر شیر کو ذرا تشویش لاحق نہ ہوئی، بھارت نے جموں اور سرینگر کو خون نگر بنا ڈالا مگر ببر شیر کی جانب سے کوئی حرف ملامت اور اظہار تاسف پر مبنی کوئی ایک جملہ تک ادا نہ کیا گیا۔ بھارتی درندوں نے آصفہ کی عزت اور حرمت کو نوچ کر اس کے معصوم وجود کو روند ڈالا مگر شیر بہادر یہ سب کچھ ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر گیا، یہی نہیں بلکہ پانچ سالوں کے دوران مسئلہ کشمیر کو انتہائی غیر اہم اور غیر موثر بنانے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔
وہ باب جس میں تیری وفاؤں کا ذکر تھا
اس کو تری جفاؤں کی دیمک نے کھا لیا
ملک کے ساتھ وفاؤں کے خدوخال بگڑنے لگیں، اپنے وطن کے ساتھ پیار ، گمراہ اور عیار ہونے پر آمادہ ہو جائے تو پھر اعلیٰ عہدوں اور منصبوں کا چھن جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہوا کرتی۔ آیئے! میں آپ کو جنوبی افریقہ لئے چلوں کہ جہاں 75 سالہ جیک روما 2009ء سے برسر اقتدار تھا۔ اس پر کرپشن کا الزام لگا، اس نے خود ٹی وی پر خطاب کر کے صدارت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ یہی نہیں بلکہ اس نے حکمران پارٹی ’’افریقی نیشنل کانگریس‘‘ کی سربراہی ہی چھوڑ دی۔ اس نے یہ الفاظ ادا کر کے سیاست میں ایک تابندہ مثال قائم کی کہ اس نے اپنی پارٹی کے کہنے پر نہیں بلکہ اپنے ملک کی بہتری کیلئے صدارت کو چھوڑ دیا ہے۔
جولائی 2017ء میں معمولی سی کرپشن ثابت ہونے پر فرانس کے سابق صدر نکولس سرکوزی کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس کی کرپشن کا حلیہ، جسامت اور قد کاٹھ اس قدر مہیب اور بھیانک بھی نہیں تھا جتنا پاکستانی سیاست دانوں کا ہے۔ اس نے 1993ء میں پاکستان کو آبدوزوں کی فروخت میں ’’کک بیک‘‘ لے کر یہ رقم اپنی الیکشن مہم پر خرچ کر دی تھی، سو اسے گرفتار کر لیا گیا۔
اپریل 2016ء میں یوکرین کے وزیراعظم یا تسنیوک اپنی ذات پر کرپشن کا الزام لگتے ہی خود مستعفی ہو گیا۔
یہ نومبر 2017ء ہے بھارتی نژاد برطانوی خاتون پریتی پٹیل برطانیہ کی وزیر مملکت برائے بین الاقوامی امور کے عہدے پر فائز ہے، اس نے وزارت خارجہ کو بتائے بغیر اسرائیل کا دورہ کر لیا۔ اس جرم کی پاداش میں اسے برطانیہ کی وزارت سے فارغ کر دیا گیا۔ اس سے قبل مائیکل فائلن بھی ایک الزام کے بعد مستعفی ہو گیا تھا۔ یہ جتنے لوگ اپنے عہدوں کو خیر باد کہہ کر رخصت ہوئے یہ سب معمولی بدعنوانی کے باعث اپنے گھر لوٹ گئے۔ ان میں سے کوئی ایک شخص بھی ایسا نہ تھا کہ جس نے اپنے ملک کے ساتھ وفاؤں سے مترادف اور متصل کسی ایک احساس کا بھی بھرم توڑا ہو یا انحراف کیا ہو۔
اگر یہ لوگ واقعی کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ سمجھتے ہیں تو مجھے بتائیں کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران انہوں نے کشمیر کے مسئلے کو کب سنجیدگی سے لیا؟ ان گنت شکوک و شبہات میں لتھڑے ان کے جذبہ حب الوطنی پر 22 کروڑ عوام سوال کناں ہیں کہ ایک ایٹمی ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں اور منصبوں پر فائز یہ لوگ دوسرے ملکوں میں معمولی سی فرم کا ویزا لگوانے پر کیوں مجبور ہو گئے۔ دنیا کے سب سے زیادہ طاقت ور ملک پاکستان کے ان سربراہوں کو کیا ضرورت آن پڑی تھی کہ دوسرے ممالک کی کمپنیوں کا ویزا لگوانے کو پسند کرنے لگے؟ کیا ان کے اس کردار نے دنیا کی واحد ایٹمی اسلامی ریاست کے وقار کو شدید مجروح نہیں کیا؟ اگر ہاں تو پھر میں ان کی جھوٹی وفاؤں پر کس طرح یقین کر لوں۔ ان ہرجائیوں کی جھوٹی قسموں پر کس طرح اعتماد کر لوں۔ اقتدار اور کرسی کے عشق اور امریکی و بھارتی خوشنودی کے لئے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی سے یہ بل تک منظور کروا لیا گیا کہ اگر اقوام متحدہ کسی تنظیم یا شخصیت پر پابندی لگائے گی تو پاکستان میں خود بخود اس پر پابندی عائد ہو جائے گی اگر حکومت یہ بل قومی اسمبلی سے بھی منظور کروا لیتی تو نہ صرف مسئلہ کشمیر اور اہل کشمیر کی کمر میں خنجر گھونپ دیا جاتا بلکہ پاکستان کو مستقل طور پر امریکی غلامی میں جکڑ دیا جاتا، ہماری آزادی کو زنجیروں سے باندھ کر امریکی قدموں میں ڈھیر کردیا جاتا۔
کردار و عمل کے ذریعے سے دلوں کے درو بام پر ابہام و الزام جیسی کندہ عبارتیں سب کو دکھائی دینے لگ جائیں تو پھر مکمل سوزوگداز اور درد بھری آواز کے ساتھ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کے الفاظ بھی کسی کو متاثر نہیں کر پاتے۔ پھر خود کو مظلوم ثابت کرنے کیلئے آنکھوں سے دوچار آنسو گر بھی جائیں، پھر لہجے اور آواز رندھ بھی جائیں تب بھی سننے والوں کی سماعتوں پر مثبت اثرات مرتب نہیں ہو پاتے پھر جذبات کی صداقت ثابت کرنے کیلئے ڈھیروں مستند دلیلیں لانا پڑتی ہیں۔
لایئے اپنے پیار کی مستند دلیل
دو آنسوؤں سے مجھ کو گمراہ نہ کیجئے


ای پیپر