بھارت کیلئے لمحۂ فکر۔۔۔شہید پروفیسر غازی ڈاکٹر
10 مئی 2018 2018-05-10

بھارت میں بی جے پی سرکار اور اسرائیل کے مابین جب سے نئے معاہدے ہوئے اور تعلقات پروان چڑھے ہیں مقبوضہ جموں کشمیر میں نہتے کشمیریوں کی قتل و غارت گری عروج پر پہنچ گئی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے دورہ بھارت اور اسرائیلی کمانڈروں کی کشمیر جاکربھارتی فوجی حکام سے ملاقاتوں کے بعد غاصب بھارتی فوج نت نئے حربوں کے ذریعے کشمیریوں کی نسل کشی میں مصروف ہے۔ آپریشن آل آؤٹ کے نام پر بھارتی فوج اور سی آر پی ایف نے نام نہاد سرچ آپریشن کے ذریعہ طوفان بدتمیزی برپا کر رکھا ہے۔ فورسز اہلکار جب اور جہاں چاہتے ہیں کسی علاقے کا گھیراؤ کرتے ہیں‘ گھروں میں گھس کر قیمتی سامان کی توڑ پھوڑ کی جاتی ہے اورچادر چاردیواری کا تقدس پامال کیا جاتاہے۔پچھلے ایک ہفتہ میں دو درجن سے زائد کشمیری شہید اور سینکڑوں زخمی کئے گئے ہیں۔ دنیا بھر میں جن ہتھیاروں کو ممنوعہ قرار دیا گیا ہے بھارتی فوج انہیں آزادانہ طور پر کشمیریوں کیخلاف استعمال کر رہی ہے مگر کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں ہے۔ سینکڑوں افراد ایک آنکھ یا دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہو چکے ہیں۔ہزاروں کی تعداد میں پیلٹ گن کے چھرے لگنے سے زخمی ہوئے اور ان کی زندگیاں اجیرن بن کر رہ
گئی ہیں۔ دنیا بھر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کی مذمت کی جاتی ہے مگربھارت سرکار کو نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار ملکوں و اداروں کی مکمل سرپرستی حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ کوئی اسے پوچھنے یا اس کا ہاتھ روکنے والا نہیں ہے۔مودی سرکار نے کشمیریوں کا جذبہ حریت کچلنے کیلئے تمام حربے استعمال کئے لیکن انڈیا اس میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ بھارتی فورسز اہلکار کشمیری مجاہدین کی موجودگی کا دعویٰ کرتے ہوئے کسی علاقے کا محاصرہ کرتے ہیں توہزاروں کی تعداد میں کشمیری مردوخواتین سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے اور پتھراؤ کا آغاز کر دیتے ہیں۔ اس صورتحال نے بھارتی حکام کو سخت پریشان کر رکھا ہے اور انہیں اس کا کوئی حل سجھائی نہیں دے رہا۔ بھارتی حکومت اورفوج نے بہت کوشش کی ہے کہ کسی طرح نہتے کشمیری عوام کو ڈرا دھمکا کر اور خوفزدہ کر کے انہیں بھارتی فورسز اہلکاروں پر سنگبازی سے باز رکھا جائے۔ اس کیلئے مظاہرین پر اندھا دھند گولیاں برسائی جاتی رہیں مگر اس کے باوجود کشمیری اسی طرح پرعزم ہیں اور پوری کشمیری قوم اس وقت سڑکوں پر دکھائی دیتی ہے۔ مودی سرکار نے تمام حربے ناکام ہونے والے بوکھلاہٹ اور مایوسی کا شکار ہو کر این ایس جی کے بلیک کیٹ کمانڈوز کی مقبوضہ کشمیر میں تعیناتی کی منظوری دی ہے اور اس کیلئے بھارتی وزارت داخلہ کی جانب سے باقاعدہ تحریری احکامات جار ی کر دیے گئے ہیں۔ عسکری ماہرین بھارت سرکار کے اس فیصلہ کو بی جے پی سرکار کی ناکامی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ بھارتی حکام کی جانب سے ابتدائی طور پر وادی کشمیر کے حساس علاقوں میں بلیک کیٹ کمانڈوز کو تعینات کیا جائے گا ۔ انہیں مظاہروں کے دوران پتھراؤ کے واقعات سے نمٹنے کی خاص طور پر تربیت دی گئی ہے اوران کا پہلا ٹارگٹ یہی بتایا گیا ہے کہ وہ نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران کشمیریوں کو مظاہروں میں شرکت سے روکنے کیلئے کردار ادا کریں۔
ّمقبوضہ کشمیر میں بلیک کیٹ کمانڈوز کی تعیناتی پر اگرچہ بظاہر مختلف حلقوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے لیکن کشمیریوں کو اس پر کوئی پریشانی نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج پہلے بھی وقتا فوقتا این ایس جی کمانڈوز کو کشمیر بھیجتی رہی ہے مگر جب ان کی ہلاکتیں ہوئیں تو یہ سلسلہ کم ہو گیا تھا اسلئے بھارتی فوج کی گورکھا رجمنٹ ہو یا بلیک کیٹ کمانڈوز کشمیریوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور انکی جدوجہد آزادی پہلے کی طرح پوری قوت سے جاری رہے گی۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ بھارتی فوج کشمیر میں جس قدر ظلم کر رہی ہے تحریک آزادی اسی قدرتیزی سے پروان چڑھ رہی ہے۔ ابھی حال ہی میں شوپیاں اور پلوامہ میں بھارتی فوج نے بدترین ریاستی دہشت گردی کے ذریعہ کشمیر یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیع بٹ سمیت 14کشمیریوں کو شہید کر دیا ۔ مظاہرین پر اندھا دھند گولیاں برسا کر بدترین خونریزی کا ارتکاب کیا گیا۔ پیلٹ گن کے چھرے برساکر اور شیلنگ کے ذریعہ سینکڑوں افراد کو زخمی کیا گیا مگراحتجاج کا سلسلہ پھر بھی تھما نہیں بلکہ اس میں اور زیادہ شدت آئی ہے۔ اس وقت حالات یہ ہیں کہ پوری حریت قیادت نظربندہے۔ ان کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ انہیں نماز جمعہ کی ادائیگی تک کی بھی اجازت نہیں دی جارہی ۔ پورے کشمیر میں تاریخی ہڑتال اور پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ ہر شہر اور علاقے میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل کر احتجاج کر رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر پابندی لگانے کیلئے موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے۔ ہر آنے والے دن بھارتی ظلم و دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ بھارتی فورسز اہلکارنہتے نوجوانوں کے سینے سے اوپروالے حصوں کا نشانہ لیکر ٹارگٹ کلنگ کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی قوتیں سب دیکھ رہی ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا ملک ہونے کا دعویدار بھارت قتل و غارت گری کا کیا کھیل کھیل رہا ہے لیکن کوئی یہ نہیں کہتا کہ کشمیرپر اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں اور مظلوم کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق ملنا چاہیے۔بھارتی فوج کشمیر میں خواتین سے بداخلاقی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ بی جے پی نے مقبوضہ جموں میں ہندوانتہاپسندتنظیموں کو بھی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ وہ مسلمانوں کیخلاف مسلح ریلیاں نکال رہے ہیں اور مندروں میں اسلحہ جمع کر رہے ہیں۔ پورے جموں میں مسلمانوں کو ہراساں کر کے انہیں ہجرت پر مجبور کیا جارہا ہے۔ کٹھوعہ علاقہ میں انتہا پسند غنڈوں کی طرف سے معصوم آصفہ بانو کی بے حرمتی اور قتل کا معاملہ بھی سب کے سامنے ہے۔یہ باتیں صاف واضح ہو چکی ہیں کہ ہندوانتہاپسندوں نے ایک مسلمان بیٹی کے ساتھ درندگی کا ارتکاب کیوں کیا؟ اور ان کے مذمو م مقاصد کیا تھے؟ مگر دنیا بھر میں شدید احتجاج کے باوجود کم عمر آصفہ کے قاتلوں کو سزا نہیں دی گئی بلکہ صورتحال تو یہ ہے کہ ہندوانتہاپسند کیس کی تفتیش کرائم برانچ سے لیکر سی بی آئی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور جھوٹا پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ گواہوں سے زبردستی بیان لیا گیا ہے۔ اس وقت بھارتی ٹی وی چینلز پر بیٹھے متعصب تجزیہ نگار کشمیری مسلمانوں کو دہشت گرد اور تحریک آزادی کشمیر کو دہشت گردی ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں پاکستان پر سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہو تی ہے کہ وہ مظلوم کشمیری مسلمانوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر کھڑا ہومگر افسوس کہ ہمارے حکمران و سیاستدان اپنے بکھیڑوں میں پڑے ہوئے ہیں اور انہیں شہداء کی قربانیوں کا کوئی احساس نہیں ہے۔ کشمیری نوجوان پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے اپنے سینوں پو گولیاں کھا رہے ہیں اور کسی صورت بھارتی فوج اور حکومت کی غلامی قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ہمیں اپنے کشمیری بھائیوں کے اس لازوال جذبہ کی لاج رکھنی ہے۔ بزرگ کشمیری قائد سید علی گیلانی نے درست کہا ہے کہ بیگناہوں کا خون بالآخر ضرور رنگ لائے گا۔ کشمیر ی عوام
اپنے ان عظیم شہداء کے مقروض ہیں جو اپنی اٹھتی جوانیاں قوم کی آزادی کیلئے قربان کر رہے ہیں۔ ہم پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اپنے عظیم مشن کی تکمیل کیلئے اپنی جدوجہد ہر قیمت پر جاری رکھیں۔انہوں نے کہاکہ بھارت کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانے کیلئے گزشتہ ستر برس سے فوجی طاقت استعمال کر رہا ہے تاہم وہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکا۔مقبوضہ کشمیر کا چپہ چپہ بھارتی ظلم و ستم کی المناک داستانیں لیے اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ بھارت خود کوایک جمہوری ملک کہلوانے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔بزرگ کشمیری قائد سید علی گیلانی کی باتیں بالکل درست ہیں۔ کشمیری قوم نے جس طرح الحاق پاکستان کیلئے قربانیاں پیش کی ہیں ان کی مددوحمایت سے کسی طور پیچھے نہیں رہنا چاہیے اور دنیا بھر میں قائم اپنے سفارت خانوں کومتحرک کر کے انڈیا کی ریاستی دہشت گردی کو بے نقاب کرنا چاہیے۔ دنیا کو یہ بات بھی سمجھانے کی ضرورت ہے کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی دہشت گردی نہیں ہے بلکہ کشمیری قوم اپنی عزتوں و حقوق کے تحفظ کی جنگ لڑ رہی ہے اور یہ کہ غاصب بھارتی فوج کے جنت ارضی کشمیر سے نکلنے تک خطہ میں کسی طور امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔


ای پیپر