آلودگی میں بھی بھارت سب سے آگے
10 مئی 2018 2018-05-10

ماحولیاتی آلودگی اس وقت پوری دنیا کے لیے سب سے بڑا خطرہ تصورکی جارہی ہے۔ اگرچہ اس کی روک تھام کے لیے اقدامات بھی جاری ہیں اس کے باوجود ہرسال اس کی وجہ سے 70 لاکھ افراد جان کی بازی ہارجاتے ہیں۔ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی کرہ ارض پربسنے والی 90 فیصد آبادی کو متاثر کر رہی ہے۔
عالمی ادارہ صحت(ڈبلیوایچ او)کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہوا میں موجود زہریلے کیمیائی اجزا اسٹروکس، دل کے دورے اور پھپھڑوں کے کینسر کی بڑی وجہ بن رہے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں ہر دس میں سے نو افراد خطرناک کیمیائی اجزا کی بلند ترین سطح رکھنے والے ماحول میں سانس لے رہے ہیں۔ فضائی آلودگی سے ہونے والی 90 فیصد اموات ایشیا اور افریقہ کے ان ممالک میں ریکارڈ کی جاتی ہیں جہاں عوام کی آمدن کم یا درمیانے درجے کی ہے۔عالمی اداروں کی جانب سے چار ہزار سے زائد قصبوں اور 108 ممالک سے اعداد و شمار جمع کیے گئے جس میں اندرونی اور بیرونی دونوں طرح کے ہوائی معیار کوچیک کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 2016 میں بیرونی ہوا میں شامل آلودہ اجزا کے باعث 42 لاکھ اموات ہوئیں جب کہ اسی سال 38 لاکھ افراد اندرونی ہوا (گھر میں استعمال ہونے والا فیول یا غیر معیاری تیل) میں موجود کیمیائی اجزا کے باعث ہلاک ہوئے۔
اقوام متحدہ کی ایجنسی کے مطابق دنیا کی 40 فیصد آبادی کو گھریلو استعمال کے لیے معیاری تیل تک رسائی حاصل نہیں۔یہ ناقابل قبول بات ہے کہ اس جدید دور میں بھی خواتین اور بچوں سمیت 30 لاکھ افراد اپنے گھروں میں غیرمعیاری تیل کے استعمال کے باعث آلودگی سے بھر پور فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرفوری طورپراس جانب توجہ نہ دی گئی تو ان اموات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی نئی رپورٹ کے مطابق دنیا کے 108 ممالک کے چار ہزار تین سو شہروں اور قصبوں کی فضائی آلودگی کاجائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں انڈیا کے شہر کان پور کا پہلا، فرید آباد کا دوسرا اور بنارس کا تیسرا نمبر ہے۔ دیگر آلودہ شہروں میں انڈیا کے ہی شہر گیا(چوتھے)، پٹنا (پانچویں)، دہلی(چھٹے)، لکھن (ساتویں)، آگرہ (آٹھویں) اور مظفرپور(نویں)نمبر پر ہے۔
ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم غبریسس کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی سے متاثر ہونے والے تین ارب لوگوں میں زیادہ تر خواتین اوربچے شامل ہیں۔ ترقی کرنے کے لیے اس پر فوری طور پر قابو پانا ہوگا۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق 42 لاکھ افراد گھر کے باہر کی فضا آلودہ ہونے سے ہلاک ہوئے، گھر کے اندر پیدا ہونے والی فضائی آلودگی سے 38 لاکھ افراد کی موت واقع ہوئی۔فضائی آلودگی کی وجہ بننے والے عوامل میں آٹوموبائل، کوڑا کرکٹ کو لگائے جانے والی آگ اور الیکڑانک مشینیوں کا بے تحاشہ استعمال کرنا شامل ہے۔فضا میں موجود زہریلے مادے دل اور پھیپھڑے شدید متاثر ہوتے ہیں جس سے فالج، کینسر اور نمونیا کے علاوہ دیگر بیماریاں انسان پر حملہ کردیتی ہیں۔
فضائی آلودگی سے ہم سب کو خطرہ ہے لیکن اس کا خمیازہ سب سے زیادہ غریب اور حاشیے پر رہنے والے لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔تین ارب لوگوں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں کا روزانہ مہلک ہوا میں سانس لینا ناقابل قبول ہے۔ یہ دھواں ان کے آلودہ کرنے والے سٹوو اور چولھوں سے نکلتے ہیں۔ انھوں نے متنبہ کیا کہ اگر فوری طور پر فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے اقدام نہیں کیے گئے تو ہم قابل عمل ترقی کے حصول کے قریب بھی نہیں پہنچ سکیں گے۔
ادارے نے 2016 میں آلودگی کی سطح پی ایم 2.5 سے زیادہ والے جن سب سے زیادہ آلودہ شہروں کا ذکر کیا ہے ان میں دارالحکومت دہلی کے ساتھ ہندوؤں کا مقدس شہر وارانسی یعنی بنارس بھی شامل ہے۔ان کے علاوہ کانپور، فریدہ آباد، گیا، پٹنہ، لکھنؤ، آگرہ، مظفرپور، سری نگر، گڑگاؤں، جے پور، پٹیالہ، اور جودھپور شامل ہیں جبکہ چین اور منگولیا کے بعض شہر بھی اس میں شامل ہیں۔ دریافت کیا گیا کہ آخر اس فہرست میں انڈیا کے اتنے سارے شہروں کے آنے کے کیا اسباب ہیں۔ تو جواب ملا کہ فہرست میں شامل سارے شہر شمالی ہند کے علاقے میں ہیں جو 'لینڈ لاک' کہلاتے ہیں۔ ان کے پاس کوئی سمندر نہیں اس لیے فضائی آلودگی میں کمی کا قدرتی طریقہ نہیں ہے۔
فضائی آلودگی کے اسباب میں آٹوموبائل، کاربن مینجمنٹ، کھیتوں کے کوڑے کرکٹ کو نذر آتش کرنے سے مسلسل نکلنے والے دھوئیں، جھاڑو لگانے کے بعد کوڑے میں آگ لگا دینا، جنریٹر کو رات دن چلایا جانا اور پرانی ڈیزل کاریں شامل ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ان علاقوں میں زیادہ تر کھانے پکانے کے لیے جو ایندھن استعمال ہوتے ہیں وہ زیادہ آلودگی پیدا کرتے ہیں۔ صنعتی کارخانے کے علاوہ سڑک پر گاڑیوں کی تعداد بھی فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب رہی ہیں۔
پی ایم 2.5 میں سلفیٹ، نائٹریٹ، اور کالے کاربن جیسے آلودہ کرنے والے مادے شامل ہوتے ہیں جن سے انسانی صحت کو خطرہ لاحق رہتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ یہ مادے پھیپھڑوں میں جاتے ہیں اور دل کے نظام پر اثر انداز ہوتے ہیں جس سے فالج، دل کی بیماری، پھیپھڑوں کاکینسر، سانس کی بیماری اور نمونیا سمیت دوسرے انفیکشن ہوتے ہیں۔ادارے نے بتایا کہ گھر کے باہر کی فضائی آلودگی سے صرف 2016 میں 42 لاکھ لوگوں کی موت ہوئی جبکہ گھر کے اندر پیدا ہونے والی فضائی آلودگی سے 38 لاکھ افراد کی موت واقع ہوئی۔
تاج محل بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر آگرہ میں واقع ہے جو 17 ویں صدی میں مغل شہنشاہ شاہجہان نے اپنی محبوب ملکہ ممتاز محل کی یاد میں تعمیر کروایا تھا۔ ممتاز محل کا انتقال 1631ء میں زچگی کے دوران ہوا تھا۔ خود مغل شہنشاہ شاہجہان کو بھی ان کے انتقال کے بعد تاج محل ہی میں دفن کیا گیا تھا۔
بھارتی سپریم کورٹ نے اپنی ایک سماعت میں پہلے تو اس امر پر شدید تنقید کی کہ اتر پردیش کی ریاستی حکومت صدیوں پرانے اس عظیم تعمیراتی اور ثقافتی ورثے کی حفاظت سے متعلق محض ایک ’ایڈ ہاک‘ سوچ اپنائے ہوئے ہے اور دوسرے یہ کہ یہی حکومتی رویہ تاج محل کے لیے بہت پرخطر بھی ہو چکا ہے۔ تاج محل کی عمارت کے مرکزی حصے میں مغل شہنشاہ شاہجہان اور ملکہ ممتاز محل کی قبریں ہیں۔تاج محل کی سنگ مرمر سے بنائی گئی عمارت اس علاقے میں اسموگ اور شدید نوعیت کی ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے پیلی پڑتی جا رہی ہے۔ اب تک آثار قدیمہ کی حفاظت اور تحفظ ماحول کے لیے سرگرم بہت سی تنظیموں کی یہ کاوشیں بھی ناکام ہی رہی ہیں کہ آگرہ شہر میں تاج محل کے ارد گرد کے علاقوں میں بہت زیادہ فضائی آلودگی پھیلانے والی صنعتیں بند کی جائیں۔ اس پس منظر میں انڈین سپریم کورٹ نے اب اتر پردیش کی حکومت سے یہ تفصیلات طلب کر لی ہیں کہ اگر اس نے تاج محل کی دیرپا بنیادوں پر حفاظت کا کوئی منصوبہ بنا رکھا ہے، تو عدالت کو اس کی تفصیلات سے آگاہ کیا جائے۔


ای پیپر