ایگزیکٹ جعلی ڈگری سکینڈل ہمارے معاشرے کا منفی پہلو

10 مئی 2018

رانا زاہد اقبال

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے تین سال قبل " ایگزیکٹ " نامی پاکستانی سافٹ وےئر کمپنی پر الزام لگایا تھا کہ یہ ادارہ جعلی ڈگریوں کا کاروبار کرتا ہے، ڈیکلن والش کی رپورٹ نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ بظاہر ایگزیکٹ گزشتہ دو دہائیوں سے ایک انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی کے طور پر کام کر رہی تھی لیکن اس سٹوری کے میڈیا میں آنے سے نہ صرف ایگزیکٹ کی جعل سازیوں کی ہوش ربا تفصیلات سامنے آئیں بلکہ انکشاف ہوا کہ کمپنی مبینہ طور پر جعلی آن لائن ڈپلومے اور ڈگریوں کی پیشکش کر کے سالانہ اربوں روپے کما رہی ہے۔ بلاشبہ یہ جعلی ڈگریوں، فرضی جامعات، خیالی کورسز و تدریسی نیٹ ورک کے نام پر عالمی سطح پر جعلسازی کا بہت غیر معمولی سکینڈل تھا، جس سے ملک کی بہت بدنامی ہوئی، جہاں تعلیم و تدریس کی فراہمی اور آن لائن سہولتوں کی رازدارانہ اور فنی آڑ میں کروڑوں کمائے جاتے رہے اور علم کی پیاس بجھانے والے ہزاروں طالب علم اور پروفیشنلز اپنی جمع پونجی سے محروم ہوتے رہے۔ اس مقصد کے لئے ایگزیکٹ کمپنی نے جعلی درس گاہوں کی سینکڑوں ویب سائٹس بنا رکھی تھیں جہاں درجنوں شعبوں میں ڈپلومے سے لے کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری آن لائن بیچی جاتی تھی۔ ویب سائٹس پر دکھائے جانے والے پروفیسرز اور فیکلٹی ممبران معاوضے پر کام کرنے والے اداکار ہوتے تھے۔ ڈگریوں کا دور دور تک کہیں سے کوئی الحاق یا ایکریڈیشن نہیں تھی۔ پہلی نظر میں ایگزیکٹ کی جامعات اور ہائی سکولز مصنوعی مماثلتوں سے منسلک تھے ۔ جیسے سلک ویب سائٹس، ٹول فری امریکن کنٹیکٹ نمبرز اور سوچے سمجھے جانی پہچانی آوازوں والے نام مثلاً برکلے، کولمبیانا، ماؤنٹ لنکن شامل ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایگزیکٹ کی طرف سے ایئر لائن ایمپلائز کے لئے ایروناٹیکل ڈگریاں بیچی گئیں نیز ہسپتال ورکزر کو میڈیکل ڈگریاں بھی فروخت کی گئیں۔اس ساری صورت حال سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کتنی گراں قدر تعلیمی اقدار کا ایگزیکٹ نے بے دردی سے جنازہ اٹھایا تھا کہ کوئی بھی شخص3 سے 4لاکھ روپے میں امریکی یونیورسٹی کی جعلی ڈگری لے سکتا ہے۔ ایگزیکٹ کا کراچی میں اپنا پرنٹنگ پریس تھا جہاں سے ڈگریاں چھپ کر آسٹریلیا سے پوسٹ ہوتی تھیں۔ غرضیکہ وکیل ، جج، ڈاکٹر ، انجینئر، پولیس افسر، صحافی اور پائلٹس وغیرہ بنانے کے لئے ڈگریوں کی فروخت کے علاوہ متعلقہ اداروں سے تصدیق کے لئے بھی بھاری رقوم بٹوری جاتی رہیں۔اس کے لئے امیدوار کو کہیں آنے جانے، تعلیم وتربیت حاصل کرنے اورتجربات کے مراحل سے گزرنے کی ضرورت نہیں، مقررہ رقم ادا کر کے گھر بیٹھے سب کچھ حاصل کیا جا سکتا تھا۔
اس معاملے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ نیویارک ٹائمز میں سٹوری فائل ہونے سے قبل خود اس سے ریاستی ادارے لاعلم رہے اور جونہی رپورٹ آئی تو تمام ریاستی ادارے ایگزیکٹ پر چڑھ دوڑے اور پورے پاکستان میں اس کے دفاتر میں چھاپے مارے گئے لیکن ریاست کے ادارے مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہوئے یا کوئی اور وجہ تھی اتنی بڑی سٹوری فائل ہونے کے بعد بھی تحقیقات میں کوئی پیش رفت نہ ہو سکی اور اس ایگزیکٹ کے مالک شعیب شیخ ضمانت پر رہا ہو گئے۔ پاکستان میں چہار سو شور شرابا تھا لیکن اس وقت کے حکومتی اربابِ اختیارکی جانب سے مکمل خاموشی تھی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ پاکستان کے متعدد سیاستدان بھی آن لائن ڈگریوں کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہے۔ ان میں بعض کے پاس ملک کی اہم ترین وزارتوں کا قلمدان بھی رہا ہے۔ موجودہ قومی اسمبلی میں بھی ایسے ممبر ارکان ہیں جنہوں نے اپنی تعلیمی قابلیت بڑھانے کے لئے اسی قسم کی آن لائن ڈگریاں حاصل کر رکھی ہیں۔ سابق رکنِ قومی اسمبلی نبیل گبول نے تو یہ ٹوئٹ کر کے ہلچل پیدا کر دی تھی
کہ موجودہ اسمبلی میں ایسے درجن بھر ممبران موجود ہیں جنہوں نے ایگزیکٹ سے تعلق رکھنے والے آن لائن تعلیمی اداروں سے ڈگریاں یا ڈپلومے حاصل کئے ہیں۔ ماضی کے بے شمار سکینڈلوں کی طرح اس سکینڈل کو بھی سرکاری قبرستان میں دفن کر دیاگیا اور جو ریاستی ادارے بڑے پرجوش اور سرگرم تھے انہوں نے بھی مصلحت آمیز خاموشی اختیار کر لی تھی۔ اگر پاکستان میں احتساب کا شفاف نظام موجود ہو اور ریاستی ادارے آئین اور قانون کے مطابق کام کر رہے ہوں تو ایگزیکٹ یا کسی ادارے کو فراڈ اور کرپشن کی جرأت نہیں ہو سکتی۔ اب ایک بار پھر اعلیٰ عدلیہ کے حکم پر ایگزیکٹ کے چیف شعیب شیخ کا کیس دوبارہ کھول دیا گیا ہے اور بال ریاستی اداروں کی کورٹ میں ڈال دی ہے ان کا فرض ہے کہ جعلی ڈگری کے اس سکینڈل کی تحقیقات کر کے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائیں۔ کیونکہ اس سے وطنِ عزیز کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی۔ لوگ پاکستان کو ایک ایسا ملک قرار دینے لگے ہیں جہاں زمینیں اور جائیدادیں ہی ناجائز قبضے کے بعد بھاری قیمت پر فروخت نہیں ہوتیں بلکہ انسانی اعضاء، ضمیر، تعلیم، صحت اور جعلی ڈگریوں سمیت ہر شے برائے فروخت ہے۔ اس کے اثرات صرف ایک نجی کمپنی پر نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان پر بھی مرتب ہوئے ہیں اس لئے اس کی طے تک جانا انتہائی ضروری ہے۔ ایگزیکٹ کمپنی کی جعلی ڈگریوں کا سکینڈل سامنے آنے سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے ڈگریاں جاری کرنے والے اصل ادارے بھی مشکوک ہوئے ہیں اور اس کی آڑ میں پاکستان مخالف پاکستانی تعلیمی اداروں کی ڈگریوں کو قبول نہ کرنے کا بھرپور پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ اس سکینڈل نے پوری دنیا کے سامنے پاکستان کا بہت منفی پہلو عیاں کیا ہے لہٰذا پاکستان کا جو وقار پوری دنیا میں مجروح ہوا ہے اس کو بحال کرنے کے لئے قصورواروں کو بے نقاب کیا جانا اشد ضروری ہے۔

مزیدخبریں