جیم ثلاثہ اور رمزِسلطانی
10 مئی 2018

پا کستان کے موجود ہ اور گزشتہ حالات کا اگر عمیق نظر سے جائزہ لیا جائے تو اس کے موجودہ مسائل اور مصائب کی بنیاد اور جڑ جیم ثلاثہ
پہلی جیم : پہلی جیم ( ج ) غماز ہے ’’جاگیردار‘‘ کی۔ پاکستان کے تمام مسائل کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ ؍ جڑ بلکہ ا’م الامراض یہی جیم یعنی جاگیردار ہیں۔ ا نہی کے باپ بیٹے ‘ اولادیں او ر رشتہ دار و لواحقین ‘ کلہم مقننہ ‘ انتظامیہ ‘ عدلیہ‘ سول اور ملٹری بیوکریسی پر قابض ہیں۔ یہ نہ تو اپنے اور اپنی جاگیرداری کے خلاف کوئی قانون بننے دیتے ہیں اور نہ ہی نافذ و موئثر ہونے دیتے ہیں ۔ یہ کبھی اسلام کے نام کی آڑ لیتے ہیں تو کبھی انسانی حقوق اورجمہوریت کے ’’مامے‘‘ بن جاتے ہیں ۔ ہم سے زیرک توبھارت ٹھہرا جس نے تو تقسیمِ بر صغیر کے فوراً بعدجاگیردار
اورجاگیریں ہی ختم کر دیں مگر مسائل میں گھرے پاکستان کو شروع میں تو موقع نہ مل سکا جبکہ بعد میں یہ اسقدر طاقتور اور خودسرہو گئے کہ کسی کو اپنے پاس ’’پھٹکنے‘‘ تک نہیں دیا۔ انہوں نے وہ قانون بنائے ؍ بنوائے جو ان کے مفادات کا حتیٰ الامکان تحفظ کرتے تھے ۔ اگر پھر بھی کسی ’’نا ہنجار‘‘ نے انکی مرضی کے آگے بند باندھنے کی کو شش کی تو ا س ’’بیچارے‘‘ کا نام و نشان ہی مٹا دیا اور وہ ’’بیچارا‘‘ اس دنیا سے بھی ہی فارغ ہوگیا۔ ملک اور اسکے ادارے مزاحم ہوئے تو ان کے خلاف بھی صف آرا ہوگئے ۔قومیت پسندی اور علیحدگی کا نعرہ بلند کرکے زیرِاثر لانے کی کوششیں شروع کردیں۔ حتیٰ کہ کلمہ اللہ کے نام پر تشکیل پانیوالے مقدس ملک پاکستان کو دولخت کرنے یعنی مشرقی پاکستان کو علیحدکرنے اوربنگلہ دیش بنانے میں بھی اسی جیم (ج) یعنی جاگیرداروں کی ’’یونین‘‘ کا ہی ’’ہاتھ‘‘ تھا ۔ جب تک اس ’’سانپ ‘‘ کا سر نہیں کچلا جائے گا یہ ملک و ملت کو یونہی ڈستا رہے گا ۔ یہ جاگیریں نہ تو مجوزہ و موجودہ قانون و انصاف کی رو سے جائز ہیں جبکہ اسلام کی رو سے تو بالکل ہی جائز نہیں ہیں۔ شرعی لحاظ سے پاکستان کی زمین ’’ عشری‘‘ نہیں بلکہ ’’خراجی‘‘ ہے جو کلیتاً مملکتِ اسلامیہ کی ملکیت ہے اور اس کی سب پیداوار ‘ خزائن و فوائد کی کلہم وہی مالک و مختار ہے ۔ اس کو جو آباد کریگا صرف وہی اس سے تمتع حاصل کرنے کا حقدار ہوگا ۔ ’’ غیرحاضر زمینداری‘‘ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
دوسری جیم : دوسری جیم (ج) مظہر ہے ’’جنرل‘‘ کی جسے اردو میں جرنیل بھی کہتے ہیں۔ اس میں سب جرنیل تو شامل نہیں مگر نافرمانِ قائد جنرل گریسی سے لے کر جنرل مشرف تک کی قبیل کے لوگ ضرور شامل ہیں۔ حقیقتاً افواجِ پاکستان سے بڑھ کر کوئی بھی محب وطن نہیں جو حقیقی معنوں میں قربانیاں دیتے ہیں ۔ نا صرف ہمارے مستقبل بلکہ ہمارے بچوں اور ہماری آنیوالی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے ضامن بن کراپنا آج ہم پرنثار کرتے ہیں۔ ان میں سب شہدا و غازی سمیت لیفٹیننٹ جنرل حمید گل مرحوم ‘ جنرل مرزا اسلم بیگ‘ جنرل راحیل شریف وغیرہ جیسے فدایانِ ملک و ملت بھی ہیں مگر بصورتِ ضرب المثل ’’ایک گندی مچھلی سارے جل کو گندا کردیتی ہے ‘‘ کے مصداق بعض موقع پرست اور مفادپرست جرنیلوں نے اپنے تحت الشعور میں بھڑکتی مصطفٰے کمالی اقتداری خواہش کو جلا بخشنے اور اپنے’’کرتوتوں ‘‘ کے تحفظ کی خاطر اسکو بدنام کیا ہے۔ ’’خدا غارت کند ایں عاشقانِ بدفطرت را‘‘ ان کے پاس قوم کی بے لوث محبت کرنے والی مسلح افواج کی بھرپورپشت پناہی کی صورت میں بلا کی طاقت ہے۔ اگر یہ کچھ کر گزرنا چاہیں تو سدِسکندری بھی حائل نہیں ہوسکتی مگر شرط ہے خلوصِ نیت کی۔
تیسری جیم : یہ جیم مظہر ہے جج کی۔ اگر یہی جیم ’’راہ راست پر ہو ئی‘‘ تو باقی جیم خود بخود ٹھیک ہو جاتیں۔ زیادہ دور کی بات تو نہیں‘ ابھی تھوڑا عرصہ پہلے کی بات ہے کہ اس قبیل کی ایک جیم نے دوسری جیم کی صرف ’’ہاں میں ہاں ‘‘ ملانے سے انکار کیا تو سب ’’ جیموں‘‘ میں ایسا بھونچال آگیا کہ انکے پاؤں تلے سے زمین سرکنے لگی۔ اس جیم نے قیامِ پاکستان کے فوراً بعد سے ہی اپنی عافیت نظریہِ ضرورت کے پائیدانوں کے پیچھے چھپنے اور ہوسِ اقتدار کے’’گدھوں‘‘ کے ہم پیالہ و ہم نوالہ بن کر اقتداری جامِ زلال کو شراباً طہورا سمجھ کر لنڈہاتے رہے۔ اللہ کریم ان کو صراطِ مستقیم کی ہدایت اور ہمت و توفیق دے۔ آمین ورنہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ جیسا تو کوئی آنے سے رہا ‘ اللہ تعالیٰ کسی شیرشاہ سوری ہی کو بھیج دے جو کم وقت میں ہمارے حال اور مستقبل کو درست کردے۔۔۔ مزیدار بات ہے کہ پنجاب اسمبلی کے ایک جاگیردارذہن کے رکن نے میرے کسی ملنے والے سے سن کر یہی بات کہی مگر ’’جاگیرداروں‘‘کی ’’ج‘‘ کو میڈیا ’’جرنلسٹوں ‘‘ کی ’’ج‘‘ سے بدل کربدنیتی سے خود کواور جاگیرداروں کو صاف بچا اور نکال لیا جبکہ میڈیا جرنلسٹ خصوصاً الیکٹرانک میڈیا تو کل کی پیدوار ہے ‘ چہ جائیکہ میں تو قیامِ پاکستان سے اب تک کی بات کررہا تھا اور ہوں۔


ای پیپر