ووٹ کونہیں انسان کوعزت دو
10 مئی 2018



ہمارے ملک میں سوئی سے لے کرسریے تک، نمک سے لے کرپتھرتک، پانی سے لے کرپٹرول تک اور ہواسے لے کرمہکتے پھولوں تک ہرچیزکی قیمت آسمانوں کوچھورہی ہے، پاکستان میں کسی چیز کا سستا ہونا توبس اک دیوانے کاخواب ہے یاپھرکسی پیاسے مسافرکونظرآنے والاسراب ہے۔
ہاں البتہ پاکستان میں اک چیزہے جوسب سے سستی اورارزاں ہے، یقینایہ بات باعث تعجب ہوگی کہ پاکستان میں بھی کسی چیزکے سستاہونے کا تصور کیا جا سکتا ہے۔
شایدآپ نے کبھی غورنہیں کیاکہ پاکستان میں خونِ انسان کس قدرسستاہے کہ سرِراہ چلتے ہوئے راہگیرکوجوچاہے اورجس طرح چاہے موت کے گھاٹ اتاردے کوئی پوچھنے والانہیں۔
ایک چیزانسان کی ایسی بھی ہے جوسب سے قیمتی ہے اوراس چیزکے لئے خون تک بہادیے جاتے ہیں، یہاں تک کہ بڑے بڑے لوگ منتیں سماجتیں کرتے ہیں کہ وہ چیزاس کے سپردکردی جائے تاکہ وہ اس چیزکے بل بوتے پرلوگوں پراپناتسلط جماسکے۔
پڑھنے والے یقیناحیران ہونگے کہ ابھی توانسان کوغیرقیمتی کہاجارہاتھااوراب اسی انسان کی ایک چیزکواس قدراہمیت دے دی گئی کہ بڑے سے بڑاانسان بھی اس چیزکے سہارے سب پرحکمرانی کرسکتاہے۔آخروہ چیزہے کیا؟جس کے بارے یوں تجسس میں مبتلاکیاجارہاہے؟
توپھرتیارہوجائیں کہ سانپ پٹاری سے باہرآنے کوہے، وہ چیزان گزرتے دنوں میں اوربھی قیمتی اورشدومدسے ہرسیاستدان کی زبان زدعام ہے۔وہ ایک مشہورزمانہ نعرہ ہے کہ’’ ووٹ کوعزت دو ‘‘۔میرے خیال میں مجھے اب وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں کہ وہ چیزووٹ ہے جس کامالک ایک عام انسان ہوتاہے مگریہی ووٹ جب کسی سیاستدان کے ہاتھ لگ جاتاہے گویاکہ اس کے ہاتھ قارون کاخزانہ آگیاہو، وہ عوام کواس خزانے سے محروم کرکے قومی خزانے سے خوب ہاتھ صاف کرتاہے۔
بھولے بھالے عوام کے پاس بس یہی ایک چیزہوتی ہے جوقیمتی ہوتی ہے ورنہ جان توراہ جاتے بھی کوئی بناپوچھے لے لیتاہے اورعزت تواپنوں سے بیگانے تک سب ہی پامال کرتے ہیں ۔
بڑے بڑے دانشوریہ نعرہ بلندکرتے ہیں کہ ووٹ کوعزت دو ،اب بے چارے بھولے بھالے عوام کیا جانیں کہ عزت ووٹ کی نہیں ووٹریعنی ووٹ دینے والے انسان کی ہوتی ہے۔
سیاستدان برملاعوام کویہ باورکرواتے ہیں کہ ہمارے نزدیک تمہاری نہیں تمہارے ووٹوں کی عزت ہے۔ انسان کیاچاہتاہے ، اس کی عزت کیاہے؟اس احساس سے سیاستدان توعاری ہیں ہی عوام بھی سیاستدانوں کے جلسوں میں ووٹ کوعزت دوکے نعرے گلے پھاڑ پھاڑ کرخوب لگاتے ہیں۔
جس ملک کی قوم اپنی عزت خودکودینے کی بجائے اپنے ووٹوں کے سپردکردے توپھراس ملک کے کرتادھرتااورحکمران کیسے اس قوم کوعزت دیں گے۔ عوام خود اپنی عزت کرنا اور خود کو عزت دینا سیکھیں۔
جب تک انسان کوعزت نہیں دی جائے گی اس وقت تک ووٹوں کی عزت بھی طوائفوں کی طرح بکتی رہے گی، جس کامظاہرہ ہم ہرقسم کے الیکشنوں میں کرتے ہیں کہ جس میں یہ شوربپاہوتاکہ ووٹ خریدے اوربیچے گئے۔
اب بھی الیکشن ہونے والے ہیں اورنعرہ یہی بلندہے کہ ووٹ کوعزت دو ، اب کی باراگرخودکوعزت دینے کی بجائے ہم نے ووٹ کوعزت دے دی تو پھر ہماری اپنی عزت کے داؤپرلگنے پراعتراض کیوں؟


ای پیپر