Photo Credit Yahoo

افغان جنگ کے بدلے کالعدم تحریک طالبان ملی :مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ
10 مئی 2018 (21:05) 2018-05-10

اسلام آباد:وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی امور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ نے افغانستان کو ایشیا کا دل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں اپنے پڑوسی ملک کا امن عزیز ہے،مشکل حالات میں بھی پاکستان افعانستان کے ساتھ کھڑا ہوا اور افعانستان کو بچانے میں پاکستان کا کردار ہے، افعانستان میں خانہ جنگی نے دہشتگردی کو فروغ دیا جب کہ پاکستان نے نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف دنیا کا ساتھ دیا، امریکا ہم پر الزام عائد کر رہا ہے کہ ہم طالبان کی حمایت کر رہے ہیں، طالبان ہم پر امریکا کی حمایت کا الزام عائد کر رہے ہیں، ہمیں نتیجے میں کالعدم تحریک طالبان ملی جس سے ہم لڑ رہے ہیں۔

جمعرات کو یہاں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی امور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ نے کہا کہ ہمارا افغانستان سے تعلق بڑا مضبوط ہے، افغانستان کے بچوں نے جنگ کے سوا کچھ نہیں دیکھا، جب سوویت یونین افغانستان میں آیا تو پاکستان افغانستان کے ساتھ کھڑا ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان افغانستان کے ساتھ کھڑا نا ہوتا تو کیا آج افغانستان ہوتا؟ افغانستان کو تباہی وبربادی کے بعد کون چھوڑ کر گیا؟انہوں نے کہا کہ آج ہم پاکستان میں بیٹھ کر افعانستان کے امن پر بات کر رہے ہیں کیونکہ افغانستان ایشیا کا دل ہے اور ہمیں اس کا امن عزیز ہے۔ مشیر قومی سلامتی امور نے کہا کہ افعانستان کے بعد اگر کوئی سب سے زیادہ متاثر ملک ہے تو وہ پاکستان ہے، مشکل حالات میں بھی پاکستان افعانستان کے ساتھ کھڑا ہوا اور افعانستان کو بچانے میں پاکستان کا کردار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ افعانستان میں خانہ جنگی نے دہشتگردی کو فروغ دیا جب کہ پاکستان نے نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف دنیا کا ساتھ دیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے طالبان کی حکومت ختم کی لیکن طاقت کا بے تحاشہ استعمال ہوا جس کی طالبان نے اس زخم خوردہ سوسائٹی کی ہمدردی حاصل کی۔ ناصر جنجوعہ نے کہا کہ طالبان نے امریکا اور عالمی برادری کو غاصب قرار دیا، آج بھی طالبان اس جنگ کو اپنے وطن کی آزادی کی جنگ کہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا ہم پر الزام عائد کر رہا ہے کہ ہم طالبان کی حمایت کر رہے ہیں، طالبان ہم پر امریکا کی حمایت کا الزام عائد کر رہے ہیں، ہمیں نتیجے میں کالعدم تحریک طالبان ملی جس سے ہم لڑ رہے ہیں۔ ناصر جنجوعہ نے کہا کہ افعانستان کو بدلے کی آگ میں جھونک دیا گیا اور پاکستان کو خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا۔بلوچستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ناصر جنجوعہ کا کہنا تھا کہ صوبے میں احساس محرومی تھا، ہم نے بلوچستان میں ان منتخب لوگوں سے جنگ کی جو ہم سے جنگ کر رہے تھے۔

مشیر قومی سلامتی نے کہا کہ بلوچستان میں یکجہتی کی کمی تھی جس سے احساس محرومی پیدا ہوا اور ہم بلوچستان میں مسائل کی جڑ کی بجائے رکاوٹ کے خلاف لڑ رہے تھے۔لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ نے کہا کہ ہم نے سب نیشنل ازم کا مقابلہ نیشنل ازم سے کیا اور طاقت کے بجائے محبت کی حکمت عملی اختیار کی، نتیجہ جیوے جیوے بلوچستان اور جیوے جیوے پاکستان کی صورت میں نکلا۔انہوں نے کہا کہ آج بلوچستان میں لوگو ں نے ہتھیار پھینک دیے ہیں اور وہاں ملک کے دیگر حصوں سے زیادہ قومی پرچم لہرایا جا رہا ہے۔


ای پیپر