Photo Credit Yahoo

نواز شریف نے چیئرمین نیب کو چیلنج کر دیا
10 مئی 2018 (16:18)

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیراعظم نواز شریف نے منی لانڈرنگ سے متعلق نیب کے نوٹس پر چیئرمین نیب سے کھلے عام معافی مانگنے اور مستعفی ہونے کا مطالبہ کر تے ہوئے کہا ہے کہ کئی بار نیب کی جانبداری اور متعصب رویے کی طرف اشارہ کرتا رہا ہوں، چیئرمین نیب کی جاری کردہ پریس ریلیز نے میری باتوں کی توثیق کردی، الزام کی نوعیت اتنی سنگین اور شرمناک ہے، اسے نظر اندز کرنا ملک کے سیاسی، جمہوری اور آئینی نظام کو خطرے میں ڈالنا ہے، اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ احتساب کے نام پر قائم ہونے والا ادارہ میرے خلاف جھوٹے اور من گھرٹ الزامات کا مورچہ بن چکا ہے،سب کومعلوم ہے میرے ریفرنس کا تعلق بھی اسی طرح کی بے سرو پا میڈیا رپورٹس سے ہے جسے پاناما پیپرز کا نام دیا گیا،سزا ہوئی تو رحم کی اپیل نہیں کروں گا.

خلائی مخلوق نظر نہیں آتی، خلائی مخلوق 70 سال سے ہے، اب اس کا مقابلہ زمینی مخلوق سے ہونے والا ہے، زمینی مخلوق خلائی مخلوق کو شکست دے گی، دھرنوں میں کچھ ایسی طاقتیں تھیں جو خلائی مخلوق سے تعلق رکھتی ہیں۔میں نے آج آپ کو زحمت دی ہے کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی طرف سے منگل 9 مئی کو جاری ہونے والی پریس ریلیز کے حوالے سے کچھ معروضات آپ کے ذریعے قوم کے سامنے پیش کروں۔ انہوں نے کہاکہ آپ کو معلوم ے کہ میں کئی بار نیب کی جانبداری ‘ اس کے غیر منصفانہ اور بڑی حد تک معتصب اور عناد پر مبنی روئیے کی طرف اشارہ کرتا رہا ہوں ۔ چیئرمین نیب کی طرف سے جاری ہونے والے اس پریس ریلیز نے میری باتوں کی توثیق کر دی ہے۔ اس سے ثابت ہو گیا ہے کہ کس طرح ایک ادارے کے سربراہ نے اپنی قانونی ذمہ داریوں کو پس پشت ڈال کر میری کردار کشی اور میڈیا کو اپنا مشن بنا لیا ہے۔ پہلے تقریباً 2 سال قبل ورلڈ ڈبنک کی ایک رپورٹ کو مسخ کر کے اس کو جواز بنایا گیا۔

دباﺅ پڑا تو چار ماہ پہلے ایک اردو اخبار میں چھپنے والے غیر معروف کالم کو اتنی سنگین الزام تراشی کا جواز بنا لیا گیا۔ 8 مئی کے پریس ریلیز کے بعد نیب کی طرف سے آنے والی وضاحتیں”عذر گناہ بدتراز گناہ“ ہی کہی جا سکتی ہیں۔ الزام کی نوعیت اس قدر سنگین اور شرم ناک ہے کہ اسے نظر انداز کرنا پاکستان کے پورے سیاسی ‘ جمہوری اور آئینی نظام کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ الزام یہ ہے کہ نواز شریف نے ( جو تین بار اس ملک کا وزیر اعظم رہ چکا ہے) نے تقریباً 5 ارب ڈالر کی بھاری رقم ملک سے باہر بھیجی۔ یہ رقم منی لانڈرنگ کے ذریعے بھیجی گئی۔ اس رقم کے ذریعے پاکستان کے ذر مبادلہ کے ذخائر کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس رقم کے ذریعے بھارت کے ذر مبادلہ کے ذخائر کو طاقت ور بنایا گیا۔ کسی بھی محب وطن پاکستانی پر اس طرح کے بے بنیاد ‘ گھٹیا اور مضحکہ خیز الزامات ناقابل برداشت ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ احتساب کے نام پر قائم ہونے والا ادارہ میر ے خلاف جھوٹے اور من گھڑت الزامات کا مورچہ بن چکا ہے۔ کس طرح کی ابتدائی تحقیق و تفتیش کے بغیر ایک گم نام سے اخباری کالم کو بنیاد بنا کر چیئرمین کے نام کے ساتھ پریس ریلیز جاری ہونا کردار کشیءاور میڈیا ٹرائل کی انتہائی مکروہ مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے خلاف نیب میں جاری ریفرنسز کا تعلق بھی اس طرح کی ایک بے سروپا میڈیا رپورٹ ہے جسے پانامہ پیپرز کا نام دیا گیا تھا۔ دنیا کے بیسویں ملک اور سینکڑوں افراد کا اس میں ذکر تھا لیکن بھی اسے توجہ کے لائق نہیں سمجھا۔ یہاں تک کہ جب میں نے از خود سپریم کورٹ آف پاکستان سے اس پر کمیشن بنانے کی درخواست کی تو اسے ایک غیر ضروری مشق قرار دیدیا گیا۔ میرے سیاسی مخالفین جب پٹیشن لے کر گئے تو اسی سپریم کورٹ نے اےسے(Frivovous) یعینی فضول‘ لغو اور بے معنی قرار دے کر وباپس کر دیا ۔ پھر نہ معلوم کیا ہوا کہ یہ فضول ‘ لغو اور ناکارہ پٹیشن مقدس ہو گئی۔

آپ کو یاد ہو گا کہ پانامہ پیپر زمیں سرے سے میرا نام بھی نہیں تھا۔ میرے کسی بے پر بھی کسی غیر قانونی کارروائی کا کوئی الزام نہ تھا لیکن پھر جو کچھ وہ آپ کے سامنے ے۔ جے آئی ٹی سے نیب ریفرنسز تک پھیلی کہانی ہماری تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جس پر آنے والی نسلیں بھی افسوس کرتی رہیں گی۔ پانامہ پیپرز کیس میں بنائی گئی جے آئی ٹی ہیروں پر مشتمل ہوننے کے باوجود میرے خلاف ایک پائی کی کرپشن ‘ بدعنوانی کا کک بیکس تلاش نہیں کر پائی۔ مجھے وزارت عظمیٰ سے فارغ کرنا طے پا چکا تھا لہذا کوئی بہانہ نہ ملا تو اقامہ کو بنیاد بنان کر اپنی خواہش پوری کر لی گئی۔ بے سروپا پانامہ پیپرز سے شرو ع ہونے والی کہانی جاری ہے۔ نو مہینے سے ایک تماشا لگا ہے۔ درجنوں گواہ پیش ہوئے ایک نے تصدیق کی کہ میرا کسی لین دین سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔ اس کے باوجود اس بوگس مقدمہ میں 70 کے لگ بھگ پیشیاں بھگت چکا ہوں جو کہ پاکستان کی تاریخ کا ریکارڈ ہے۔ چونکہ طوطے مینا کی کہانیوں سے کچھ برآمد نہیں ہوا س لئے کوشش ہو رہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح کوئی نہ کوئی نیا کیس بنایا جائے اور مجھے سزا دلوا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ پیپرز کے بعد ورلڈ بنک کی رپورٹ کو مسخ کر کے پیش کرنا بھی اس معتصب سوچ کی علامت ہے ۔

یہ اسی ڈرامے کی دوسری قسط ہے ۔ کیا نیب نہیں جانتا کہ دو سال پہلے بھی سٹیٹ بنک نے اس کی واضح تردید دکر دی تھی۔ کیا نیب کو نہیں معلوم کہ دو سال پہلے بھی ورلڈ بنک نے دو ٹوک وضاحت کر دی تھی۔ کیا نیب کو نہیں معلوم کہ جو کچھ ہو رہا ہے یہ احتساب نہیں۔ احتساب کے نام پر میرے بچوں کا ‘ پی ایل این ‘ انتظامی مشینری کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا غیر منصفانہ سلسلہ ہے۔ پارٹی کے صف اول کے تمام رہنماﺅں کو مقدمات میں الجھایا جا رہا ہے اس کا مقصد مقبول سیاسی قوتوں کو رسوا کرنا ‘ جمہوریت کو کمزور کرنا اور خاص طور پر ہمیں نشانہ بنانا ہے۔ نیب کی 90 فیصد کارروائیاں اسی دائرے میں گھوم رہی ہین یہ سب کچھ انتخابات سے پہلے شرمناک‘ پری پول ریکنگ ہے۔ میں دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ یہ سب کچھ آئین و قانون کے خلاف ہے۔ اور ہم ساکھ سے مہروم ہو جانے والے کسی معتصب ادار کا لقمہ بننے کیلئے تیار نہیں۔ میں جناب وزیر اعظم کا ممنون ہوں کہ انہوں نے یہ معاملہ ایوان میں اٹھایا ہے۔ میں توقع رکھتا ہوں کہ سیاسی جماعتیں ‘ تقسیم کی لکیروں سے ہٹ کر اس مسئلے کا جائزہ لیں گی اور حقیقی طور پر پارلیمنٹ کی بالادستی کی تاریخ رقم کریں گے۔ میں میڈیا کے بڑے حصے کا بھی شکر گزار ہوںب جس نے نیب پریس ریلیز کے چند گھنٹوں بلکہ چند منٹوں کے اندر اندر اس کا پوسٹ مارٹم کر کے اصل حقائق عوام کے سامنے پیش کر دئیے۔ مجھے توقع ہے کہ آئندہ بھی معتبر قومی میڈیا معاملات کو کسی فرد کے حوالے سے نہیں بلکہ ملکی مفاد اور انصاف پسندی کی آنکھ سے دیکھے گا۔

پریس کانفرنس کے بعد صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ جن لوگوں کو پی ٹی آئی میں شامل کرایا گیا وہ خود سے شامل ہونے والے نہیں تھے، انہیں کہا گیا پی ٹی آئی میں شامل ہو ورنہ نیب کے مقدمات تیار ہیں، لوگ ادھر ہانکے جارہے ہیں، ان کو وہاں بھجوانے کی کوشیں ہوتی ہیں، جو جارہے ہیں وہ اکیلے ہی جارہے ہیں، سب لوگ(ن)لیگ کے ساتھ ہیں یہ اکیلے پارٹیاں تبدیل کررہے ہیں، نتائج تو ہم دکھائیں گے، اس لیے دوسرے کیمپ میں پریشانی کا عالم ہے۔میاں نوازشریف نے کہا کہ جو کچھ ہورہا ہے، بار بار کہتے ہیں نہیں ہونا چاہیے، پاکستان دنیا میں ایک عجیب تماشہ بنتا جارہا ہے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ذہن میں خیال تک نہیں آیا کہ اگر سزا ہوتی ہے تو رحم کی اپیل کروں، آج بھی اگر سزا ہوتی ہے تو معافی مانگنے یا رحم کی اپیل کے لیے نہیں جا ﺅ ں گا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ جو بھی الیکشن کی تاخیر کا سوچ رہا ہے اس سے بڑی کوئی سازشی سوچ نہیں ہوسکتی، یہ ملک کے خلاف سازش ہے ایسی سوچ پر پابندیاں لگنی چاہئیں، یہ ملک سے غداری ہے اس پر آرٹیکل 6 لگنی چاہیے۔نوازشریف نے کہا کہ بندے تبدیل کراکے ادھر لے جا، کیا یہ احتساب سے بچ جائیں گے؟ یہ سمجھتے ہیں کبھی کوئی کیس نہیں کھلے گا، یہ جو کچھ کررہے ہیں انہیں اسے ادا کرنا پڑے گا۔خلائی مخلوق سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ خلائی مخلوق نظر نہیں آتی، خلائی مخلوق 70 سال سے ہے، اب اس کا مقابلہ زمینی مخلوق سے ہونے والا ہے، زمینی مخلوق خلائی مخلوق کو شکست دے گی، دھرنوں میں کچھ ایسی طاقتیں تھیں جو خلائی مخلوق سے تعلق رکھتی ہیں۔


ای پیپر