کراچی میں طالبہ اور استانی کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا
10 مئی 2018 (13:45)

کراچی : کوثر نیازی کالونی میں بھائی کے لیے رشتہ دینے سے انکار پر ایک استانی کے اپنی طالبہ کو گھر میں بلا کر فائرنگ کرکے قتل کرنے اور خودکشی کی کہانی جھوٹ نکلی اور دونوں خواتین کو مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔


واضح رہے کہ 7 مئی کی شب نارتھ ناظم آباد کی کوثر نیازی کالونی میں ایک مکان سے 26 سالہ استانی نسرین اور 16 سالہ طالبہ رابعہ کی لاشیں ملی تھیں۔بتدائی رپورٹس میں سامنے آیا تھا کہ نورین نے دو ماہ قبل رابعہ کا رشتہ اپنے بھائی کے لیے مانگا تھا لیکن رابعہ کے اہل خانہ کی جانب سے رشتہ دینے سے مسلسل انکار کیا جارہا تھا، جس پر استانی نے طالبہ کو اپنے گھر بلایا اور فائرنگ کرکے قتل کرنے کے بعد خود بھی خودکشی کرلی۔تاہم پولیس کی مزید تفتیش کے نتیجے میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ یہ دوہرا قتل مبینہ طور پر غیرت کے نام پر کیا گیا ۔


پولیس نے دوہرے قتل کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرلیا، جس میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ایف آئی آر کے مطابق مقتولین کے ورثائنے غیر قانونی جرگہ بھی کیا ۔مقدمے کے متن کے مطابق غیر قانونی جرگے کی وجہ سے مقتولین کے ورثاء مقدمے کے اندراج میں دلچسپی نہیں رکھتے۔سرکار کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق مقتولہ طالبہ رابعہ کی منگنی اس کی مرضی کے خلاف حیدرآباد میں طے کردی گئی تھی اور مقتولہ استانی نسرین کو رابعہ کو سمجھانے کے لیے بلایا گیا تھا۔


ای پیپر