نوشتہ دیوار۔۔۔۔۔
10 مئی 2018 2018-05-10

معاملہ اتنا بھی سادہ نہیں جتنا دکھائی دیتا ہے، کوئی کھچڑی ہے جو پک رہی ہے لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار بروقت انتخابات کے انعقاد کے موقف پر بدستور قائم ہیں۔ ویسے تو چیف جسٹس آف پاکستان نے رفتہ رفتہ عوام الناس کے دل میں جگہ بنا لی ہے، موبائل فون کارڈ پر بے حساب کٹوتیاں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ پر ان کے نوٹس سے عام آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ کوئی تو ہے جو ان کے مسائل کے بارے میں متفکر ہے۔ مجھ سے مسلم لیگ (ن) کے اکثر سپورٹرز یہ شکایت کرتے تھے کہ میں ان کی جماعت کے خلاف اور چیف جسٹس کی حمایت میں زیادہ لکھتا ہوں، ہو سکتا ہے کہ ان کا یہ گلہ ان کے نقطہ نظر سے جائز ہو لیکن گزشتہ دو ہفتوں سے مجھے جو فیڈ بیک قارئین کی طرف سے آ رہا ہے اس سے اندازہ یہ ہوتا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف جو دلوں کا غبار تھا وہ کم ہو رہا ہے۔ ہسپتال جانے سے پیشترجو زیادہ کالز اور پیغامات موصول ہوئے وہ اسی نوعیت کے تھے۔ خیبر پختونخواہ میں ہزارہ ڈویژن میں روایتی طور پر مسلم لیگ(ن) کا اثر و رسوخ نمایاں رہا ہے۔ مجھے حویلیاں سے تعلق رکھنے والے عابد عباسی جو اسلام آباد میں ملازمت کے لیے رہائش پذیر ہیں کا ذکر بالخصوص کرنا ہے جنہوں نے مجھے کال کر کے یہ کہا کہ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اور اس دوران جو مہنگائی کا مصنوعی طوفان بپا کیا جاتا ہے اس کی جانب چیف جسٹس کی توجہ مبذول کرائیے۔ مسکراتے ہوئے میں نے انہیں یاد دلایا کہ چیف جسٹس کو توآپ زیادہ پسند نہیں کرتے، آپ تو یہ کہتے رہے کہ مسلم لیگ(ن) کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی جارہی ہے اور یہ کہ عدلیہ کے بارے میں آپ کے خیالات آپ کے قائد سے بہت ملتے جلتے تھے تو مجھے عابد عباسی نے کہا کہ وہ ٹھیک ہے لیکن یہ کام بھی صرف چیف جسٹس آف پاکستان ہی کر سکتا ہے کہ آج تک ”رمضان مافیا“ پر کبھی کسی نے ہاتھ نہیں ڈالا اور یہ کہ چیف جسٹس کے جو اچھے کام ہیں اس پر ان کی حمایت کی جانی چاہیے۔ خیر یہ تو ان کا معاملہ تھا مجھے راولپنڈی کے کسی قصبہ سے ایک طالبہ نے ایک دوسری طالبہ ماریہ چغتائی جس نے بعد میں ٹیلیفون پر بھی اس معاملہ پر لکھنے کا کہا بلکہ ایڈیٹر کی ڈاک میں ان کے خطوط بھی موصول ہوئے۔ سچ تو یہ ہے کہ عام آدمی اپنی بقا کی جنگ لڑنے کے لیے روزانہ ”مہنگائی“ نامی اس ”جن “ سے نبرد آزما ہوتا ہے جو آج تک نجانے کتنے گھر اجاڑ چکا ہے۔ مائیں بچوں سمیت نہروں میں کود جاتی ہیں جبکہ باپ سرکاری کوارٹر کی آس میں وزارت داخلہ کی چھت سے چھلانگ لگا دیتا ہے، چند واقعات ایسے بھی ہیں جو سنگدل سے سنگدل شخص کی آنکھوں میں بھی آنسو لے آتے ہیں میرا اشارہ ان واقعات کی طرف ہے جن میں پورا گھر اجتماعی موت کا شکار ہوا کسی ماں یا باپ نے حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنے ساتھ باقی اہل خانہ کو بھی راہ اجل کا مسافر بننے پر مجبور کر دیا۔
معین احسن جذبی نے لکھا اور حبیب ولی محمد نے امر کر دیا
مرنے کی دعائیں کیوں مانگوں
جینے کی تمنا کون کرے
یہ دنیا ہو یا وہ دنیا
اب خواہش دنیا کون کرے
مجھے یاد ہے کہ 2015ءکے رمضان المبارک میں امریکا کی جن ریاستوں میں مجھے جانے کا اتفاق ہوا وہاں کے ہر غیر مسلم سٹور نے رمضان کے حوالے سے رعایتی نرخ اور اشیاءکے کارنر الگ سے مختص کر رکھے تھے وائے افسوس کہ اس مقدس مہینے میں ہم جو لوٹ مار کا بازار گرم کرتے ہیں اس کی بدولت تو شیطان بھی شرما جائے کہ بقول خضر ”شیطان سے پرانی آشنائی ہے اس لیے اکثر ملاقات ہو جاتی ہے لیکن دو دن سے شیطان بہت پریشان تھا تو پوچھ لیا کہ جناب ابلیس خیریت تو ہے کیوں پریشان ہیں تو اس نے جواب دیا کہ ملک صاحب ساری زندگی میرے بتائے ہوئے راستے پر چلتے رہے اور خوب مال کمایا لیکن اب اس نے گھر تعمیر کیا ہے تو ماتھے پر بڑا بڑا ہذا من فضل ربی لکھوا دیا ہے“۔ تو بسا اوقات ہم وہ کچھ بھی کر گزرتے ہیں جو شیطان نے سوچا بھی نہیں ہوتا لیکن ہم مورد الزام اسی کو ٹھہراتے ہیں۔ سنا ہے شیاطین ماہ صیام میں قید کر دیئے جاتے ہیں لیکن وہ بھی خوشی خوشی جاتے ہوں گے کہ انہوں نے اپنے بے شمار پیروکار آزاد دیکھ لیے ہوتے ہیں۔ اس رمضان میں ہو سکتا ہے کہ مہنگائی کنٹرول نہ ہو لیکن اس مرتبہ سیاسی سرگرمی بھی کنٹرول نہیں ہو گی کہ سیاست دان بھی سارے کے سارے آزاد پھر رہے ہوں گے۔ رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی نگران وزیراعظم کے نام بھی سامنے آئیں گے اور غیر سیاسی حلقوں میں جسٹس (ر) تصدق جیلانی کا نام اب عشرت حسین سابق گورنر سٹیٹ بنک سے پہلے لیا جا رہا ہے اور دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ انہوں نے بروقت انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے بعض سیاسی حلقوں کو یقین دہانی کرا دی ہے جبکہ عشرت حسین کا نام فائنل ہونے کی صورت میں ان چہ میگوئیوں میں شدت آ جائے گی کہ شاید انتخابات وقت مقررہ پر نہیں ہونے جا رہے اور نگران سیٹ اپ کسی اور ایجنڈے کے تحت قائم کیا جا رہا ہے۔ انتخابات کے بروقت انعقاد کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر عرض کرتا چلوں کہ شاہراہ دستور اسلام آباد اور مال روڈ راولپنڈی میں کوئی غلط فہمی موجود تھی لیکن ایک فریق تاحال بروقت انتخابات کے موقف سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں اور عوامی پذیرائی بڑھنے کے بعد اس کے موقف کو رد کرنا اب آسان نہیں رہا۔ سیاسی حلقوں میں رضا ربانی کا نام زیادہ شد و مد سے لیا جا رہا ہے اور یہ خبر کچھ ماہ پہلے ”نئی بات“ میں شائع ہو چکی ہے کہ میاں رضا ربانی نگران وزیراعظم کے لیے ایک سنجیدہ نام ہے۔ کچھ دیر قبل جنوبی پنجاب محاذ نے تحریک انصاف کے ساتھ باقاعدہ معاہدے کا اعلان کر دیا ہے،جس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ”گیم“ سیٹ کرنے کے چکر میں تھے بات ان کے ہاتھ سے نکلتی جا رہی ہے ایک ستم ظریف نے تو یہ تک کہہ دیا کہ یہ تمام افراد جو پہلے پیپلز پارٹی اور پھر مسلم لیگ(ن) کے ساتھ اقتدار کا جھولا جھولتے رہے ہیں اب تحریک انصاف کی طرف سے جنوبی پنجاب کے لوگوں کو وہی پرانا ”لالی پاپ“ دینا چاہتے ہیں جبکہ حقیقت میں شاید وہ کسی ٹکٹ کے بغیر اپنے انتخابات میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ جنوبی پنجاب کے معاملہ میں عوام کے مطالبے سے تو شاید کوئی ذی فہم منکر نہ ہو لیکن علیحدہ صوبے کے قیام کے کاز کو جتنا نقصان جنوبی پنجاب کے سیاستدانوں نے پہنچایا ہے شاید تخت لاہور اور ”سٹیٹس کو“ بھی نہیں پہنچا سکتے۔ گرگٹ خاصہ سیاستدان ابھی تک عوام کے بدلتے مزاج اور بڑھتے ہوئے شعور کا ادراک کرنے سے قاصر ہیں وگرنہ شاہ محمود قریشی کی آصف علی زرداری کے ساتھ ملاقات کی خبر کبھی سننے کو نہ ملتی لیکن کیا کیا جائے کہ
”مچھی ہمیشہ پتھر چٹ کے ای پچھاں ہٹدی اے“
یعنی نوشتہ دیوار پڑھا نہیں جائے بلکہ دیوار سے ٹکرا کر انجام تک پہنچا جائے۔ دیوار سے ٹکرانے بلکہ ٹکریں مارنے کا انجام اگلے چھ ماہ میں سب کے سامنے آ جائے گا، کیونکہ کچھ لوگوں کو سارے وقت کے لیے بے وقوف بنایا جا سکتا ہے اور سارے لوگوں کو کچھ وقت کے لیے لیکن سارے لوگوں کو سارے وقت کے لیے بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا مگر مصیبت یہ ہے کہ وطن عزیز کے سیاستدان اور طاقتور حلقے کو یہ بات کون سمجھائے؟


ای پیپر