گالی اور گولی !
10 مئی 2018 2018-05-10

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر حملے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اِس سے قبل وہ اپنی ”تقریر شریف“ میں اپنے ”باس شریف“ کی طرح کچھ قومی اداروں اور اپنے سے کئی لحاظ سے بہتر کچھ سیاستدانوں پر زبانی کلامی جس طرح حملے کررہے تھے اُس کی بھی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، اور اِس بات کی بھی جتنی مذمت کی جائے کم ہے کہ وہ کئی بار نارووال سے قومی اسمبلی کے رُکن منتخب ہوئے۔ کئی بار وفاقی وزیر بھی رہے، اب بھی انتہائی اہم محکموں کے وہ وفاقی وزیر ہیں، اُن کی والدہ محترمہ بھی جنرل ضیاءالحق کی مجلس شوریٰ کی ممبر رہیں جس کا درجہ اُن دنوں رُکن قومی اسمبلی جتنا ہوتا تھا۔ اِس کے باوجود اپنے شہر نارووال میں وہ ایک ایسا ہسپتال نہیں بنواسکے جہاں اُن کے زخموں کا علاج ممکن ہوتا ،وزیر داخلہ کوئی معمولی شے نہیں ہوتی ....عرف عام میں اِسے حکومت کی ”توپ“ سمجھا جاتا ہے، وہ اپنی حفاظت کا ٹھیک طرح سے بندوبست کرنے میں ناکام رہے ہیں تو عوام اور ملک کی حفاظت کی ذمہ داریاں بطور وزیر داخلہ کیسے نبھا سکتے ہیں ؟۔ سو اُصولی طورپر تو خود پر حملے کی صورت میں بطور وزیر داخلہ اُنہیں مستعفی ہوجانا چاہیے تھا۔ یا کم ازکم یہ محکمہ وہ چھوڑدیتے۔ اُنہوں نے ایسا نہیں کیا۔ اب خواجے آصف کو آج کل صرف اپنے لیے ہی نہیں جناب احسن اقبال کے لیے بھی کہنا چاہیے ” کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے“ ....بڑے تکبر سے جو الفاظ اپنے مخالفین کے لیے وہ بولتے رہے ہیں، اور جو الفاظی حملے اور حرکتیں اپنے مخالفین کے لیے وہ کرتے رہے ہیں اب اُن سب کا نشانہ وہ خود بن رہے ہیں، یہ قانون قدرت ہے۔ اور قدرت کے قانون کا وزیر کوئی نون لیگی نہیں ہے۔ اُن کے ”باس شریف“ نے بھی جوکچھ ماضی میں بویا آج وہی کاٹتے ہوئے وہ شدید اذیت کا شکار ہیں۔ جو، جوالفاظ محترمہ بے نظیر بھٹو کے لیے وہ بولتے اور بلواتے رہے ہیں اب وہی شرمناک الفاظ جب کچھ لوگ ”شہزادی شریف“ کے لیے استعمال کرتے ہیں، ہمیں تو بہت دُکھ ہوتا ہے۔ اُنہیں پتہ ہوتاہے یا نہیں؟۔ مولانا طاہر القادری کا اُنہوں نے تمسخر اُڑایا تھا، پھر قدرت نے خود اُنہیں اُس مقام پر لاکھڑا کیا جہاں ایک جوتے سے خوفزدہ ہوکر وہ پیچھے ہوگئے۔ حالانکہ خوفزدہ جوتے کو ہونا چاہیے تھا ۔ اور کچھ لوگوں کے خیال میں جوتا ہی ہوا تھا ،....اِسی طرح خواجہ آصف شریف ماضی میں کس طرح چیخ چیخ کر قومی اسمبلی کے فلور پر فرمارہے تھے ”کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے“ ۔....بندہ پوچھے یہ ساری شرمیں اور حیائیں صرف اُن کے مخالفین کے لیے ہوتی ہیں ؟۔ کوئی شرم اور حیااُن کے لیے بھی ہوتی ہے یا نہیں؟۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اُنہیں تاحیات نااہل قرار دے دیا۔ جتنی کچھ قومی اداروں خصوصاً افواج پاکستان کی اپنے ”باس شریف“ کے حکم، اشارے یا خوشنودی کے لیے تذلیل وہ کرتے رہے ہیں اُس کی بنیاد پر تاحیات کے ساتھ ساتھ واہیات نااہل ہونے کا ”اعزاز“ بھی اُنہیں مِلنا چاہیے۔ یہی وہ لوگ ہیں نون لیگ کا جنہوں نے کباڑہ کرکے رکھ دیا۔ اپنے نااہل اور کرپٹ ”باس شریف“ کی ہاں میں ہاں اور ناں میں ناں ملانے کے بجائے اُنہیں صحیح مشورے دیئے ہوتے آج ”باس شریف“ کے بال اور ہوش دونوں اُڑنے سے بچ گئے ہوتے ، اُدھر ”باس شریف“ کی حالت بھی یہی ہے۔ اپنے کچھ ”سیاسی خواجہ سراﺅں“ کی غلط اور نامناسب رویوں پر اُنہوں نے سرزنش کی ہوتی آج یہ” سیاسی خواجہ سرا “بھی بے عزتی کے اُس مقام پر کھڑے نہ ہوتے جہاں”باس شریف“ خودکھڑے ہیں۔ قدرت نے اُنہیں اُس مقام پر لاکر کھڑے کردیا ہے جہاں عوام کو پاگل بناتے بناتے اور سمجھتے سمجھتے آج پاگلوں کی طرح خود قومی اداروں کے گلے پڑ رہے ہیں ،....بجائے اِس کے اپنی اصلاح کریں، اپنی غلطیوں سے سبق سیکھیں اُلٹا اپنے کچھ ”پالتوﺅں“ کو کچھ قومی اداروں خصوصاً افواج پاکستان اور اُس عدلیہ کی تذلیل کے لیے وقف کردیا ہے جس کے تعاون اور سرپرستی سے وہ تین بار وزیراعظم اور چار پانچ مرتبہ سب سے بڑے صوبے کے وزیراعلیٰ بنے۔ وہ ہربار اس غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں کہ جو خفیہ قوتیں اقتدار میں لاسکتی ہیں وہ اقتدار سے لے جا نہیں سکتیں۔ پچھلی بار بھی اِسی غلط فہمی نے اُنہیں مرتے مرتے بچایا تھا، اِس بار مبینہ طورپر کچھ ملک دُشمن بیرونی قوتوں کی آشیر باد سے وہ ابھی تک اپنی طرف سے ”شیر“ بنے ہوئے ہیں، مگر اُمید ہے جلد ہی اپنے ماضی کے مطابق ”بکری“ بننے میں وہ کوئی حرج محسوس نہیں کریں گے۔ کیونکہ اُن کی محسوس کرنے کی حِس کب کی اللہ کو پیاری ہو چکی ہے، ....جہاں تک وفاقی وزیر داخلہ جناب احسن اقبال کا تعلق ہے مجھے اُن پر حملے کا ذاتی طورپر اِس لیے بھی بڑا دُکھ ہے ماضی میں اُن کا شمار نون لیگ کے چند مہذب رہنماﺅں میں ہوتا تھا، پیسے کی کرپشن تو اُن پر فی الحال کوئی ثابت نہیں ہوئی مگر ”باس شریف“ کی تاحیات نااہلی کے بعد ”زبان کی کرپشن“ میں کوئی کسر اُنہوں نے اُٹھا نہیں رکھی۔ جو منہ میں آتا ہے اپنے مخالفین پر وہ بول دیتے ہیں، پہلی بار اِس راز سے پردہ اُٹھاہے بولنے کی کوئی حدہوتی ہے بکنے کی بالکل نہیں ہوتی۔ وہ ہروقت غصے میں دِکھائی دیتے ہیں۔ اُنہیں شاید یقین سا ہوگیا ہے آئندہ وہ وزیر کیا ایم این اے بھی نہیں بنیں گے۔ وہ ایک پڑھے لکھے انسان ہیں۔ ہم چاہتے تھے اُن کی پڑھائی لکھائی کا ملک اور اِس کے کروڑوں بے بس، بے کس اور غریب عوام کو کوئی فائدہ ہوتا۔ نون لیگ کے اکثر رہنماﺅں کا المیہ یہ ہے وہ سارے فائدے خود کو ہی پہنچاتے رہتے ہیں۔ ”لے دے“ کر صرف ایک موٹروے، چند سڑکیں اور پُل ہیں جن کا حوالہ اپنی تقریر شریفوں میں وہ بڑے فخر سے اس طرح دیتے ہیں جیسے یہ چند سڑکیں، پل اور موٹرویز اُنہوں نے ذاتی جیبوں سے بنائی ہوں۔ پورا پورا قومی خزانہ کئی کئی بار اُن کی ذاتی جیبوں میں چلا گیا، اِس کے باوجود اپنی یہ جیبیں اپنے دماغ کی طرح اُنہیں خالی خالی ہی دکھائی دیتی ہیں۔ جناب احسن اقبال کو علاج کے لیے لاہور شفٹ کردیا گیا ہے، شکر ہے ملزم موقع سے گرفتار ہوگیا اور اُس نے اعتراف بھی کرلیا اُن پر گولی اُس نے کیوں چلائی تھی، ورنہ یہ الزام بھی پی ٹی آئی اور عمران خان پر آجاتا۔ عمران خان اور پی ٹی آئی کو نون لیگ کا شکر ادا کرنا چاہیے اُنہوں نے کہیں یہ الزام نہیں لگا دیا کہ وزیر داخلہ احسن اقبال کے بازو شریف سے جو گولیاں برآمد ہوئیں اُن پر پی ٹی آئی کی مہریں لگی ہوئی تھیں، ایک محترم وفاقی وزیر اگلے روز فرما رہے تھے ”یہ گولی احسن اقبال پر نہیں جمہوریت پر چلائی گئی ہے“ اگر واقعی ایسا ہے پھر کم ازکم میں اُس ”جمہوریت “ کے لیے دعاگو نہیں ہوں جو کئی برسوں سے ایک دو خاندانوں کے گرد ہی گھوم رہی ہے، ....محترم وفاقی وزیر داخلہ کو علاج کے لیے لاہور شفٹ کردیا گیا حالانکہ اُن کا علاج نارووال میں اپنے مخالف انتخابی اُمیدوار ابرار الحق کے صغریٰ شفیع ہسپتال میں بھی ہوسکتا تھا، جیسے محترمہ کلثوم نواز کا علاج شوکت خانم ہسپتال لاہور میں بھی ہوسکتا تھا۔ کچھ لوگوں کے نزدیک اپنے شہروں سے صرف الیکشن وغیرہ لڑنا ہی ٹھیک ہوتا ہے۔ اپنے شہروں سے علاج وغیرہ کروانا ٹھیک نہیں ہوتا۔ ہم دعا گو ہیں اللہ احسن اقبال کو ہرطرح کی صحت عطا فرمائے ذہنی صحت بھی جس میں شامل ہو!


ای پیپر