Dr Azhar Waheed, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
10 مارچ 2021 (11:22) 2021-03-10

 حضرت واصف علی واصفؒ کے 29وں سالانہ عرس کی تین روزہ تقریبات جاری ہیں۔ کل الحمرا ہال میں ایک شاندارسیمینار کا اہتمام تھا۔اس موقع پر قارئین توقع کر رہے ہوں گے حسبِ دستور مرشد کے حوالے سے کوئی تحریر پڑھنے کو ملے گی، لیکن آج مجھے مرشد کی بجائے یہاں ایک مرید کا تذکرہ کرنا ہے۔ مرشد کے حوالے سے اب ایک جہان لکھ رہا ہے، پڑھ رہا ہے، لطف اندوز ہو رہا ہے اور مادّیت کی دلدل سے نکل کر روحانیت کے مرغزاروں کا رخ کر رہا ہے۔ اب حضرتِ واصفؒ پر بولنا اور لکھنا ہر ذی شعور کی مجبوری ہے، بہت جلد یہ حکومتوں کی بھی مجبوری بن جائے گی۔ واصفیات نصاب میں شامل کی جارہی ہے۔ میڈیا ‘اب بغیر کہے‘ آپؒ کے یومِ پیدایش اور وصال پر خصوصی بلیئٹن اور دستاویزی پروگرام نشر کرتا ہے۔ یہ وقت کی آواز ہے۔ جس نے وقت کو آواز دی تھی‘ اب وہ وقت کی آواز بن چکا ہے۔ سیمینار کے مقررین میں اسکالرز، شاعر اور معروف دانشورموجود تھے۔ اخوت کے ڈاکٹر امجد ثاقب کہ ایک عملی درویش ہیں، انہوں نے اپنی یونیورسٹی کی لائیبریری میں ایک ’’واصفؒ کارنر‘‘ تشکیل دیا ہے۔ کسی نے اس باب میں حکومتی عدم توجہ کی طرف توجہ مبذول کروائی تو ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ سب کام حکومتوں کے کرنے نہیں ہوتے، اور واقعی ڈاکٹر صاحب نے ’’اخوت قرضِ حسنہ‘‘ اور اخوت یونیورسٹی کا قیام عمل میں لا کر واضح کر دیا کہ ایک فرد بھی انقلاب لے کر آسکتا ہے۔ اللھم ذد فزد! مدینے میں مواخات کے واقعے کو ایک سبق کے طور پر لینے والا یہ محسن عملی طور پر ریاستِ مدینہ کا تصور دے رہا ہے۔ درویشوں کے لیے قرآن کریم میں جو لفظ استعمال ہوا ہے ‘ وہ محسنین ہے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب نے کہا کہ میں جب بھی کسی ناامیدی کی زد میں آتا ہوں‘ تو مجھے حضرت واصف علی واصفؒ کا یہ جملہ توانائی بحال کر دیتا ہے اور پاکستان کے حوالے میرا یقین پختہ تر کر دیتا ہے، وہ جملہ ہے’’ پاکستان نور ہے ، اور نور کو زوال نہیں‘‘۔

ہر سال کوئی مقرر ایسا ہوتا ہے‘ جو سیمینار لوٹ کر لے جاتا ہے، اس مرتبہ یہ سہرا علی فراز علی کے سر رہا، یہ ظالم جاتے جاتے سیمینار کے سامعین کے دل بھی 

لوٹ کر لے گیا۔ علی فراز علی‘ معروف دانشور اور فارسی کے محقق استاد ڈاکٹر وزیرالحسن عابدی کا بیٹا ہے، میرے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے کلاس فیلو فرخ عابدی کا چھوٹا بھائی ہے، لیکن میرا تعارف ان کے ساتھ یوں ہے کہ یہ میرے پیر بھائی ہیں۔ بڑی مدت تک مجھے یہ معلوم نہ ہو سکا کہ فرخ اور علی بھائی ہیں‘ اُن کے مزاجوں اور زندگی کے بارے میں نقطہ نگاہ میں فرق کو اگر اخلاقاً بعد المشرقین نہ بھی لکھا جائے تو میلوں کا فرق لکھنا ناروا نہ ہوگا۔ یہ واحد آدمی ہے ‘ جس کے ساتھ میرا دل بھیگتا ہے۔ یہ وہاں پر بولتا ہے‘ جہاں پر دوسروں کے پَر جلنے لگتے ہیں۔ اِس سے ملاقات کو دیر ہو جائے تو فون پر کہتا ہے‘ اظہر! بڑی دیر ہوگئی بابا حضور کی باتیں نہیں کیںــ‘ آؤ ناں، بابا بابا کھیلیں! کتنی عجیب بات ہے‘ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت کم لوگ رہ جاتے ہیں جو آپ کا نام لے کر آپ کو مخاطب کر سکتے ہیں۔ ایک بار لمز کے ادبی حلقے میں’’تصوف اور حضرت واصف علی واصفؒ‘‘ کے موضوع پر گفتگو کا سیشن تھا، میں شاگردوں کے ہمراہ علی بھائی کو بھی ہمراہ لے گیا، لیکچر کے اختتام پر اُس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر شاباش دیتے ہوئے کہا کہ میں اس محفل میں واحد شخص ہوں جو تمہیں یوں تھپکی دے کر شاباش دے سکتا ہے۔ یوں تو اپنے شاگردوں اور اپنے کلاس فیلوز کو ایک کمرے میں اکٹھا کرنا مجھے کچھ بے ادبی کا انداز معلوم ہوتی ہے، لیکن علی بھائی کے ساتھ ایک دیرینہ بے تکلفی ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا قول ہے کہ بدترین دوست وہ ہے جس کے ساتھ تکلف برتنا پڑے۔ علی بھائی چونکہ بہترین دوستوں میں سے ہیں، اس لیے تکلف نام کی کوئی چیز درمیان میں نہیں۔

علی بھائی کو میں بلاجھجھک لنگوٹیا کہہ سکتا ہوں، اس نے مجھے ہوش و خرد کے لباس کے بغیر بھی دیکھا ہوا ہے۔ مرشد سے میری بیعت کا یہ واحد گواہ ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کو میں’’سر‘‘ کہتا تھا۔ جبکہ علی بھائی، ڈاکٹر طلعت حمید اور ضمیر بھائی بابا حضور کہتے تھے، ان کی دیکھا دیکھی میں نے سوچا مجھے بھی ’’بابا حضور‘‘ کہنا چاہیے۔ ایک بار میں نے فون کیا تو سعدیہ بہن نے اُٹھایا، میں نے پوچھا’’بابا حضور تشریف رکھتے ہیں؟‘‘ اُس دن ملاقات ہوئی تو آپؒ نے کہا’’ تم مجھے’سر‘ ہی کہا کرو‘‘… لیکن اب میں کیا کروں، اب مجھے سر کی بجائے’’سرکار‘‘ کہنا پڑتا ہے۔ بوجوہ شروع میں سرکار نہیں کہتا تھا لیکن جب سے ’’اطیعو اللہ واطیعو الرسول اللہ واولی الامر منکم‘‘ کی تفسیر کچھ سمجھ میں آئی ہے‘ اب بلاجھجک’’سرکار‘‘ کہہ لیتا ہوں۔ 

علی فراز نے کہا کہ انگلش کا محاورہ ہے no man can be hero to his valet  ، یعنی کوئی شخص اپنے غلاموں کا ہیرو نہیں ہو سکتا، کیونکہ ایک نوکر یا غلام کے سامنے اُس کی شخصیت کا سارا کچا چٹھا عیاں ہوتا ہے۔ اُس نے کہا کہ وہ شخصیت جس پر اُس کے غلام سب سے پہلے ایمان لاتے ہیں وہ یا تو نبی کی ہوتی یا پھر ولی کی ہوتی ہے۔ ایک ولی اللہ کے کردار کی عملی تعریف اس سے بہتر شاید ممکن نہ ہو۔ علی فراز کا کہنا تھا کہ وہ دو سال تک ایک آفس ورکر کے طور پر بھی آپؒ کی خدمت میں مشغول رہا۔ میں شاہد ہوں، خطوط کے حوالے سے کام اِسی کے سپرد تھا، یہ پوسٹ آفس سے خطوط لے کر آتا، انہیں کھولتا، سیدھا کرتا اورپھر آپ ؒ سے ان کے جوابات لکھوا کر پوسٹ کرواتا،اسی طرح کالم لے کر نوائے وقت کے دفتر جاتا، اس کی پروف ریڈنگ کرتا۔ میں جب کبھی دوپہر کو حاضرِ خدمت ہوتا تو علی بھائی کو اکثر وہاں موجود پاتا۔ سیمینار میں اسے پہلی بار بولنے کا موقع ملا۔ میری طرح غالباً علی بھائی کو بھی یہ سبق ملا ہے کہ کبھی prominent پرومینٹ نہیں ہونا۔ مائیک اور میڈیا دیکھ کر میں یہ سبق اکثر بھول جاتا ہوں، علی بھائی کو یہ سبق بڑا پکا یاد ہے۔

علی بھائی سیمینار میں بتا رہے تھے کہ پاکستان کے حوالے سے آپؒ نے بڑی خوش خبریاں دی ہیں، اور سب سے بڑھ کر ہمارے لیے خوش خبری یہ بھی ہے کہ آپؒ نے فرمایا تھا ا کہ پاکستان کو عزت ملنے والا واقعہ آپ لوگوں کی زندگیوں ہی میں ہو گا۔ ایک کانسیپٹ کا ایک جملے میں بند کرنے کا ہنر اور پھر اس جملے کو ایک مخصوص wit کے ساتھ کوٹ کرنے کا سلیقہ علی فراز کے پاس فراواں ہے۔ اپنی تقریر کے آخر میں علی بھائی نے کہا ‘ ہو سکتا ہے کچھ عرصے بعد آپ لوگ یوں ہی سیمینار میں بیٹھے ہوں، اور اس دن معلوم ہو کہ آج واصف صاحب کا عرس ہو رہا ہے‘ اس لیے پاکستان میں آج چھٹی ہے۔۔۔۔۔ اورسری نگر، دِلی اور اجمیر میں بھی اُس دن چھٹی ہو۔ 

اتنے خوبصورت جملے پر کالم لکھنے سے اپنے قلم کو روکنا میرا بس میں نہ تھا۔ مرید کا ذکر بھی مرشد ہی کا ذکر ہوتا ہے۔ ولی اللہ کے ذکر میں اللہ کا ذکر شامل ہوتا ہے۔ 


ای پیپر