”اخوت ،کے بیس برس“
10 مارچ 2021 2021-03-10

داتا گنج بخشؒ کو نظروں سے سلام اور زیرلب دعائیں پڑھتے ہوئے میری گاڑی کے پہیے شاہوں کے جاہ وجلال ،خدام، کنیزوں اور اسیروں والے شاہی قلعے کی طرف مڑگئے جہاں ایک فقیر منش”امجد ثاقب، نگاہیں فرش راہ کیے آنے والوں کا استقبال کررہا تھا ایک ایسا جوگی جس نے جوگ کسی ذاتی غم کے لیے نہیں لیا تھا وہ شخص جس نے حقیقی افسری چھوڑ کر خلق خدا کی چاکری اختیار کرلی تھی .... وہ خودشناسی اور خدا شناسی کے مرحلوں میں ”خودی“ اخوت اورایثار کا متمنی تھا وہ سب کچھ جس کی تمنا پاکستان کا ہر شہری اپنے بچوں کے لیے کرتا ہے اس نے حاصل کرکے چھوڑ دیا تھا تین دہائیوں کی جدوجہد اب رنگ لے آئی تھی پنتالیس ہزار خاندان قریباً دوکروڑ لوگ خودداری کو زندہ رکھے اخوت کے دائرہ کار میں تھے لوگوں کو مالی مدد کرنے سے بھی بڑا کام انہیں خودانحصاری سکھا نا تھا وقتی طورپر پناہ گاہوں کی بھی اپنی اہمیت ہے مگر لوگوں کی بحالی اور پیروں پر کھڑا کرنے کی آرزو اس سے بھی کہیں بڑی ہے لوگوں کو پناہ ضرور دینی چاہیے مگر معذور نہیں بنالینا چاہیے انہیں کھانا لتاّدے کر دوبارہ خودانحصاری کی طرف لانا چاہیے ، ہمارے ہمارے سابق گورنر (خالد مقبول جو کہ حقیقتاً بھی مقبول تھے) نے سرکار میں رہ کر جتنا کام کیا بعدازاں ایسی این جی او متعارف کرائی جو لوگوں میں کرنسی کے بجائے کام کرنے کے آلات جیسے بوٹ پالش کا ٹھیلہ، مزدوری کے اوزار ودیگر سامان تقسیم کرنا شروع کیا لوگوں کو چھوٹے چھوٹے کاروبار کی طرف راغب کیا پیسے دے دینا آسان کام ہے مگر کام کے لیے حقیقی حقداروں کو قرضہ دینا اور اس کی سوفیصد واپسی قوم کو عمدہ بنانے کے علاوہ قرض داروں کو قرض خوا ہوں کی بھی فہرست میں لے آتا ہے لینے والاہاتھ دینے والاہاتھ بن جاتا ہے یہ بڑی کامیابی ہے شاہی قلعے کے دیوہیکل گیٹ پر پہنچے تو پرانے درباری نہ جانے کیسے زندہ ہوکر اپنی ڈیوٹی پر مامور ہوگئے.... وہ ہم سے ایسا سلوک کررہے تھے جیسے ہم بھارت سے آئے ہوں اخوت کے پرخلوص کارکن درخواستیں کررہے تھے مگر ایک معصوم سے ڈاکٹر علوی کو ان لوگوں نے ایسا بادشاہ بنادیا تھا جس کے سارے دشمن ہوں خیر مرحلے گزرگئے اور ہم دوبزرگوں کی معیت میں آگے کے وی آئی پی میز پر جابیٹھے سوچا دونوں کسی مذہبی جماعت کے سنجیدہ لوگ ہیں انہوں نے بطور خاص سیاہ پیٹیوں سے بندھی ریزرو Reserve کرسیاں میرے اور بھائی سیف الرحمن کے لیے کھول کر ہمیں بٹھایا ہم ان کی اخلاقی ودینی تربیت سمجھے،تمام وقت علوی صاحب اپنی تقریر میں کسی ایسی اخباری تحریر کا تذکرہ کرتے رہے جس میں کالم نگار نے پی ٹی آئی کو ماضی سے جوڑنے کا طعنہ مارا تھا بھائی سیف ہنس دیئے بھابی آپ ہی بالکل سامنے بیٹھی ہیں کہیں آپ ہی نے تو نہیں آج یہ کالم لکھا.... دونوں معزز بزرگ بھی مسکرادیئے ابتدا میں اینکرخاتون نے محترم امجد ثاقب بھائی کو امجد شعیب کہہ کر بلایا جو ڈاکٹر صاحب نے تصحیح کی ہم کہہ رہے تھے کہ کیا خوب قائد نے کہا تھا گلاب کو جس نام سے بھی پکارو وہ گلاب ہی رہتا ہے، یہ وہ گلاب ہیں جن خوشبو نے 9ہزار مکانات تعمیر کرڈالے ہیں فاﺅنٹین ہاﺅس کو بھی دیکھتے ہیں دنیا ٹی وی کے میاں عامر کی الخدمت کے ساتھ بھی پراجیکٹس کرتے ہیں رحمت ہسپتال ودیگر ادارے کئی شہروں میں مراکز کلاتھ بینک اور مسجد میں بیٹھا گوشہ نشین شخص جس کی اپنی ”اخوت“ کے پاس محض ایک مہران گاڑی ہے ۔دراصل باقی معاشرہ کرپٹ ہی اس لیے ہوگیا کہ اول تو ہمارے ہاں بڑے بندے پیدا نہیں ہوتے ہو جائیں تو زیادہ ہی قدآور ہوجاتے ہیں .... زمینوں کا سارا اخلاص ساری محبت ان کے حصے میں آجاتی ہے، بہت کم کسی پر رشک آتا ہے تب جب ایک شخص کو مال روڈ پر کپڑا بچھائے بیٹھے دیکھا دنیا دیوانہ وار اس پر نوٹوں کی برسات کررہی تھی کہ ان کی کمائی جائز جگہ جائے گی یہ شخص عبدالستار ایدھی تھا دوسرے جب مسجد کے صحن میں حقدار کو چیک دیا جاتا ہے تو پیچھے اخوت کے بانی کی بے بدل ، بے غرض بے پایاں مسرت دیکھتی ہوں اللہ امجد ثاقب بھائی کو عمرخضر عطا کرے اور وزیراعظم عمران خان بقول صدرعلوی کے وعدے کہ مکانوں کی تعمیر کے لیے 5ارب دیئے جائیں گے یوٹرن کا شکار نہ ہوجائے۔ آپ سوچ ہی سکتے ہیں جس ٹیبل پر گزشتہ حکومت میں سرگرم صحافی بیٹھے ہوں وہ کیا کچھ نہ کہہ رہے ہوں گے مگر پاس بیٹھے بزرگ میٹھی مسکراہٹ سے کبھی گلاس تھما رہے تھے کبھی ٹشوپیپر کھانے کاغوغا ہوا تو ہمارے ہمراہ وہ خود کھانا لے رہے تھے اور جو مل رہا تھا ڈال کر ٹیبل پر بیٹھ گئے میں خود کھیر کے ساتھ نان کھارہی تھی فرمانے لگے جب محفل میں ہوتے ہیں تو کھانے میں چوائس Choiceنہیں دیکھتے جو ملے جیسا ملے کھالینا چاہیے یونہی میں نے کہا تقریب ختم ہونے کو ہے ہمارے ذریعہ معاش کا تو آپ کو پتہ چل ہی گیا آپ کے نام تک سے ہم ناواقف ہیں پاس بیٹھے خاموش سے بھائی نے کہا ہم اسلام آباد سے آئے ہیں تھوڑی سی کھٹک ہوئی نام ؟ بولے آپ کے برابر لیفٹیننٹ جنرل فیض بیٹھے ہیں سیف بھائی انہیں کارڈ پیش کررہے تھے ہمارے باقاعدہ تعارف کرارہے تھے میں نے کہا آج کل آپ کا نام سنتے ہیں بولے میں فیض جیلانی ہوں اور اللہ کے کاموں میں زندگی بسر کرنے کی کوشش کرتا ہوں جاتے ہوئے انہوں نے شفقت سے سر پر پیار دیا کہا واپس اسلام آباد جارہا ہوں آپ کدھر جارہے ہیں میں نے کہا ”اقبال “ کے پاس دعائیں دیتے رخصت ہوئے ہم ان کی انکساری کو سراہتے اقبال کے خاموش مزار کو دیکھتے روشوں پر چلتے ”حاضری“ میں خراماں ہوئے جسے عقب میں اقبال کا کلام رفاقت علیخان صاحب کی آواز میں سن رہے وجد میں تھے۔ 

جس سے جگرلالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم 

دریاﺅں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفاں 

جی چاہ رہا تھاننگے قدموں یہ سفر طے ہو ذرا دور ہی جوتے اُتار دیئے بادشاہی مسجد کی محرابیں بھی ہمراہ چل رہی تھیں خاموش مزار کے سامنے گلوکاران عہد کلام گارہے تھے اور اندر اقبال بے نیاز ذات ربی سے ہمکلام کہ ساری عمر یہ ہم کلامی جاری رہی تھی فاتحہ پڑھ کے دعائیں پڑھتے مرقد کو چھوکر اپنے سیالکوٹی ہونے کا بتاتی رہی آپ کے ”گراں“ کی ہوں آپ کے محلے کی پورابچپن آپ کے گھر میں کھیلتے گزرا تب بچوں کو گھروں سے شورکرنے پر باہر نہیں نکالتے تھے وہاں بھی آپ تھے کیا میں بھی وہاں کی ہوکر لاہور میں دفن ہوں گی ....

واپسی پر میرا ڈرائیور دہلی دروازے کے پاس سے گزرتے ہوئے کہہ رہا تھا میڈم آپ مزار میں روتے رہے مگر صدرصاحب وہاں سچے بادشاہ کو سلام کرنے کیوں نہیں گئے....؟ 


ای پیپر