نوجوان نسل کو تباہ کرنے والی نشے کی فیکٹریاں،دم مارو دم ،مٹ جائے غم
10 مارچ 2020 (16:27) 2020-03-10

منصور مہدی

صوبائی دارلحکومت سمیت پنجاب بھر کے چھوٹے بڑے تعلیمی اداروں میں منشیات کے عادی طلباء کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ، میڈیکل کالجز و یونیورسٹیز میں وزن گھٹانے کیلئے استعمال کیئے جانے و الی دوا (آئس )اورمختلف بیماریوں کے علاج کیلئے استعمال ہونے والے متعدد انجکشن بطور نشہ استعمال ہونے لگے،بیرون ممالک سے منگوائی جانے والی (فلیتو )چنگم بھی منشیات کا حصہ ، لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوںکا بھی تیزی سے اس لعنت میں مبتلاء ہونیکا انکشاف ہوا ہے،،طلباء کو پک اینڈ ڈراپ کرنیوالے ڈرائیورز سمیت تعلیمی اداروں کے قریب واقع دکانوں، کینٹین ،مختلف ٹھیلوں والے،ہوٹلوں، لانڈری اور باربر شاپس والے ملازمین وغیرہ منشیات سپلائی کر تے ہیں ، تعلیمی اداروں میں نشے کا بڑھتا ہو ارحجان نئی نسل کو تباہ کر رہا ہے۔ میڈیکل یونیو رسٹیز ، کالجز دیگر تعلیمی اداروں میں خفیہ طور پر آئس نشہ تیار کر کے فروخت کیے جانے پر ذرائع کا کہنا ہے کہ غیرقانونی لیبارٹریوں میں تیار ہونے والا یہ نشہ دوسرے درجے کانشہ ہے جس جگہ پر یہ نشہ تیار کیا جاتا ہے وہاںاِس نشے کی ایک پڑیا ایک ہزار سے 2ہزار روپے میں فروخت کی جاتی ہے جبکہ اصل تیارکردہ آئس نشے کی ایک پڑیا مارکیٹ میں 5سے 10ہزار روپے میں فروخت ہوتی ہے۔نجی میڈیکل کے طالب علم نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ سرکاری ہی نہیں نجی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں بھی طلباء و طالبات کو کھلے عام نشہ دستیاب ہو تاہے۔ صرف لڑکے ہی نہیں لڑکیاں بھی اس لعنت کی لت میں مبتلا ہیں اور مہنگے نشے کی عادی ہو رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق طلباء و طالبات چرس‘افیون‘ ہیروئن‘ شیشہ‘ برشاشا‘ شراب‘ کوکین‘ نشہ آورامپورٹڈ چیونگم‘ استعمال کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ طلبہ میں نشے کے انجکشن لگانے کا استعمال بھی بڑھ رہا ہے۔ذرائع کے مطابق نشے کی فروخت صرف یونیورسٹیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ کالجوں میں بھی نشے کی فروخت ہو رہی ہے۔ خاص طور پرنشہ آور چیونگم‘ برشاشا‘ کوکین کا استعمال نجی گرلز کالجوں میں بہت زور پکڑ رہا ہے۔ لڑکیوں میں نشہ آور چیونگم کا استعمال فیشن کے طور پر زور پکڑ رہا ہے اور لڑکیاں اس کی لت میں بری طرح مبتلا ہوتی جا رہی ہیں۔ فلیتو نام کی یہ چیونگم تھائی لینڈ اور یورپ سے منگوائی جاتی ہے۔ یہ چیونگم 500 سے لے کر 1200 روپے میں فروخت کی جاتی ہے جبکہ اسے چبانے والے طلبہ گھنٹوں اس کے نشے میں رہتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں 20 کروڑ افراد منشیات کے عادی ہیں۔ منشیات کا استعمال سب سے زیادہ براعظم امریکا میں کیا جاتا ہے۔ ہیروئن کے استعمال میں تعداد کے حوالے سے ایشیا سرفہرست ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں منشیات کی سب سے زیادہ مانگ یورپ میں ہے۔ جہاں تقریباً 75فیصد لوگ ذہنی دباو ¿ اور دیگر امراض سے وقتی سکون حاصل کرنے لیے منشیات کا سہارا لیتے ہیں۔ جبکہ پاکستان میں 2 ملین کے قریب لوگ صرف ہیروئن کے نشے کے عادی ہیں۔ پاکستان میں منشیات کے استعمال کے حوالے سے ہونے والے سروے کے مطابق ملک میں بطورِ منشیات سب سے زیادہ استعمال بالترتیب بھنگ، حشیش، چرس، ہیروئن اور شراب کی صورت میں کیا جاتا ہے۔ ہیروئن استعمال کرنے والے 77 فیصد اور حشیش اور چرس کے عادی 41 فیصد اس کا روزانہ استعمال کرتے ہیں۔ شراب کا نشہ کرنے والے 76 فیصد ہفتے میں 2 سے 3 دن جبکہ 10 فیصد ہفتے میں 5دن استعمال کرتے ہیں۔

ہائی کورٹ کے سنیئر وکیل سید نوید عباس کا کہنا ہے کہ بے نظیر بھٹو نے اپنے دور اقتدار میں 1993 میں قومی انسداد نارکوٹکس پالیسی بنائی تھی جس کے باعث کئی ادارے اور ڈرگ انفورسمنٹ اسٹرکچرز وجود میں آئے۔ تاہم ان اداروں کے مابین کوئی موثر میکنزم قائم نہ ہوسکا اور نہ ہی ان اداروں میں کوئی کوآرڈینیشن تھا، اس کمی کے نتیجے میں آنے والے وقت میں ڈرگ ٹریفکنگ میں اضافہ ہوا۔ جس کی وجہ سے منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ منشیات کے عادی افراد کے علاج و معالجہ کی سہولت بہت کم اور محدود پیمانے پر دستیاب ہے۔انھوں نے بتایا کہ انسداد منشیات پالیسی 2010 میںبنائی گئی تھی۔ جس کے تحت منشیات کے خاتمے کے وفاقی اور صوبائی اداروں کو نچلی سطح (ڈسٹرکٹ لیول) پر کام کرنا تھا تاکہ پاکستان میں منشیات کی آمد کے ذرائع سے نمٹا جاسکے مگر اس کے نتائج کا اندازہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ریمارکس سے لگایا جا سکتا ہے۔

نوید عباس کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں امریکہ میں منشیات کی بڑھتی ہوئی مقدار70کی ابتدائی دہائی کا منظر پیش کرتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ 70کی دہائی سے قبل اگرچہ منشیات کے حوالے سے قوانین موجود تھے جیسے پاکستان میں ڈینجر ڈرگ ایکٹ اور ڈرگ ایکٹ وغیرہ لیکن چرس اور دیگر منشیات کی دنیا بھر میںدرآمد و برآمد پر کوئی پابندی نہیں تھی بلکہ دیگر اجناس کی مانند اس کے بھی اجازت نامے اور ڈیوٹی وغیرہ ادا کرنا پڑتی تھی۔ مگر جب یورپ اور خصوصاً امریکہ کی زیادہ تر نوجوان نسل نشہ کی عادی ہوئی تو مارچ 1974میں اس کی تجارت کو غیر قانونی قرار دے دیا اور اس حوالے سے قانون بنائے گئے جبکہ ستمبر1974کو فرانس نے بھی ایسے ہی قوانین متعارف کرائے اور بعد ازاں دنیا کے دیگر ممالک میں قانون بنتے چلے گئے۔ انھوں نے بتایا کہ امتناع منشیات آرڈینینس1979میں پاکستان میں بنایا گیا۔ اب تو اس قانون کو بعض ترمیم کے بعد مزید سخت کر دیا ہے اور اس میں موت اور عمر قید تک کی سزائیں موجود ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان جرائم میں کمی ہونے کی بجائے اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔

ایک دوسری رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً چھہتر لاکھ افراد منشیات کے عادی ہیں۔ ان میں سے اٹھہتر فیصد مرد اور بائیس فیصد خواتین ہیں۔ یہ لوگ شراب، ہیروئن، چرس، افیون، بھنگ، کرسٹل، آئس، صمد بانڈ اور سکون بخش ادویات سبھی کچھ استعمال کرتے ہیں۔پاکستان میں منشیات کے عادی افراد میں سرنج سے نشہ کرنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ یہ افراد نشے کے لیے ایک دوسرے کی سرنجیں استعمال کرتے ہیں، جس سے وہ ایچ آئی وی ایڈز اور ہیپاٹائٹس سمیت کئی طرح کی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان دنیا میں منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ کا ایک اہم روٹ بھی ہے۔

نشہ کے عادی ایک طالب علم کا کہنا ہے کہ اس نے آئس نامی نشہ آور مادے کے استعمال کے باعث اپنی تعلیم کے دو سال ضائع کر دیے۔ شروع میں وہ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر تفریح کے لیے آئس نامی نشے کا استعمال کرتا تھا، جس سے وہ ایک عجیب و غریب سرور کی کیفیت میں رہتا تھا اور نیند جیسے بالکل غائب ہو جاتی تھی۔ کئی بار تو اسے تین تین دن تک وقت گزرتے جانے کا کوئی احساس ہی نہ ہوتا تھا۔ وہ بس جاگتا اور فلمیں دیکھتا رہتا تھا اور اسے نہ تو نیند آتی اور نہ ہی بھوک پیاس محسوس ہوتی۔پھر آہستہ آہستہ اْس کی طبیت خراب رہنے لگی۔ اسے چیزیں بھولنے لگیں اور ایک بار وہ نشے کے لیے گھر سے پیسے چوری کرتا ہوا پکڑا گیا تو اس کے والدین کو اس کی صورتحال کا علم ہوا۔ پھر اسے نشے کے عادی افراد کی بحالی کے ایک مرکز میں داخل کرا دیا گیا۔

اس نوجون نے بتایا، ''وہ بہت مشکل وقت تھا۔ اب میں کافی حد تک ٹھیک ہوں۔ لیکن میرے کئی ساتھی اب بھی اس نشے کی لت میں مبتلا ہیں۔ میرا ایک دوست جو نشے کے لیے کیمیائی منشیات کا بہت زیادہ استعمال کرتا تھا، اس کے سارے دانت خراب ہو گئے جو نکلوانا پڑے۔ اس کے منہ میں شدید انفیکشن ہو گئی تھی۔‘‘

آئس کی تیاری میں استعمال ہونے والے مخصوس کیمیکلز باآسانی مل جاتے ہیں اور یہ اجزاء پاکستان بھر میں دستیاب ہونے کے ساتھ ساتھ ایسے ہیں، جن پر کوئی پابندی عائد نہیں اور نہ ہی لگائی جا سکتی ہے۔ آئس کے استعمال کی روک تھام میں ایک اور رکاوٹ یہ بھی ہے کہ اس کی فروخت روایتی انداز میں نہیں کی جاتی۔ اس کو بیچنے کے لیے آرڈر ملنے پر سپلائی ہوم ڈیلیوری کے ذریعے کی جاتی ہے۔ دوسری طرف کرسٹل میتھ یا آئس کے استعمال سے نیند کے غائب ہو جانے، طاقت کے احساس، اور خوشی کے جذبات کے ساتھ ساتھ متعلقہ فرد کے جارحانہ رویے میں شدت بھی آ جاتی ہے جبکہ بلڈ پریشر میں اضافہ اور ہارٹ اٹیک بھی ان منشیات کے استعمال کے طویل المدتی نتائج میں شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوانوں میں نشے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی سب سے بڑی وجہ بے روزگاری ہے، جس کی وجہ سے وہ ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ابتدا سگریٹ سے ہوتی ہے، پھر چرس کی طرف جاتے ہیں، پھر انجیکشن کا استعمال ان کو زیادہ مزہ دیتا ہے اور آہستہ آہستہ زیادہ سے زیادہ مزے کی تلاش میں وہ ہیروئن اور دیگر نشوں میں ڈوبتے چلے جاتے ہیں۔ دس سال یا اس سے بھی کم عمر کے ایسے نابالغ بچے جو عموماً فیکٹریوں میں یا پٹرول اسٹیشنوں پر کام کرتے ہیں، وہ اپنے ماحول کی وجہ سے صمد بانڈ یا پٹرول جیسے سستے لیکن خطرناک نشے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ پھر ایک بار جب انہیں ایسے نشے کی عادت ہو جاتی ہے، تو وہ دیگر منشیات بھی استعمال کرنے لگتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ''حکومت کو چاہیے کہ ایسے بچوں اور بالغ افراد کے لیے ایسے ادارے بنائے، جہاں نہ صرف ان کا علاج ہو سکے بلکہ وہ وہیں رہیں اور دوبارہ اپنی زندگی شروع کر سکیں۔ یہ کام ایک غیر سرکاری تنظیم 'نئی زندگی‘ کے نام سے کر رہی ہے۔ اس تنظیم کے بحالی مرکز میں بچوں کا علاج کیا جاتا ہے، انہیں مختلف ہنر سکھائے جاتے ہیں اور انہیں ان کے کام کا معاوضہ بھی ملتا ہے۔ مگر یہ بھی بارہا دیکھنے میں آتا ہے کہ اکثر افراد اپنے علاج کے بعد جب دوبارہ اپنے پرانے ماحول میں جاتے ہیں، تو پھر سے نشہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس لیے ان کے ماحول کی تبدیلی بھی انتہائی اہم ہے۔‘‘

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ''ہم جتنی بھی کوشش کر لیں، بدنامی ہماری ہی ہو گی۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ ہمارے پاس نہ جدید سہولیات ہیں، نہ کافی بجٹ اور نہ ہی مکمل اختیارات۔ جتنا بجٹ ملکی فوج کا ہے، اس کا آدھا بھی اگر پاکستانی پولیس کو مہیا کیا جائے، تو پاکستانی معاشرہ جرائم سے پاک ہو سکتا ہے۔‘‘ پولیس افسر کے مطابق معاشرے میں بدعنوانی بھی بہت بڑا مسئہ ہے، ''ہم چھاپے مار کر مجرم اور منشیات پکڑتے ہیں، تو اوپر سے فون آ جاتا ہے کہ انہیں چھوڑ دو۔ منشیات فروشوں کے بااثر شخصیات سے رابطے ہوتے ہیں۔ ہم اکثر بے بس ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں میں منشیات فروشی کے بہت سے واقعات میں تو خود یونیورسٹیوں اور کالجوں کا عملہ بھی ملوث پایا گیا۔ پاکستان سے منشیات کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے مکمل منصوبہ بندی، کافی وسائل اور پختہ عزم کی ضرورت ہے، جس دوران کوئی بھی بااثر مجرم قانون کی گرفت سے دور نہ رہے۔‘‘

ماہرین نفسیات کے مطابق بچوں میں منشیات کے استعمال کی ایک وجہ ان میں پایا جانے والا تنہائی کا احساس بھی ہوتا ہے۔ جب والدین انہیں زیادہ وقت نہیں دیتے تو بچے اپنے لیے مصروفیات گھر سے باہر تلاش کرتے ہیں۔ جہاں تک بالغوں کی بات ہے تو ان کے منشیات کا عادی ہو جانے میں بری صحبت کے علاوہ بے روزگاری، مالی مشکلات اور خاندانی مسائل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی ناقابل فہم ہے کہ جب پتہ چلتا ہے کہ کسی خاندان کو کوئی فرد منشیات استعمال کرنے لگا ہے، تو اکثر وسائل نہ ہونے کی وجہ سے اس کا علاج نہیں کرایا جاتا اور اسے ’پاگل اور نفسیاتی مریض‘ کہہ کر نظر انداز کیا جانے لگتا ہے۔

پاکستان میں منشیات اور ان کے استعمال کی روک تھام کے حوالے سے نمایاں کام کرنے والی ایک شخصیت ندیم اقبال بھی ہیں، جو صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم 'نیٹ ورک کنزیومر پروٹیکشن‘ کے ڈائریکٹر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک سروے کے مطابق پاکستان میں تقریباً 77 لاکھ افراد منشیات استعمال کرتے ہیں۔ ان میں اکثریت نوجوانوں کی ہے، کیونکہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے، جہاں آبادی کے تقریباً نصف حصے کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ تو کئی سال پرانی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار تو اور بھی پریشان کن ہوں گے۔ بیرونی ممالک میں منشیات کے استعمال کے عادی شہریوں کی بحالی کے مراکز ہوتے ہیں، ان کی نشے کی عادت طبی نگرانی میں بتدریج چھڑائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ نفسیاتی رہنمائی اور تھیراپی بھی کی جاتی ہے۔ لیکن پاکستان میں ایسے کوئی اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ ہر مسئلے کا حل صرف قانونی پابندی نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر 2000 میں افیون کی کاشت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی، لیکن اس کے باوجود پاکستان میں افیون کا نشہ کرنے والے افراد کی تعداد میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوا۔‘‘

تاریخ۔۔۔ماضی اور حال

منشیات کے استعمال کی تاریخ بھی انسانی تاریخ کی طرح قدیم ہے۔اس کا استعمال انسان شاید ازل سے ہی کرتا آرہا ہے۔ دنیا کے تمام خطوں میںایسی قدرتی اور خودرو جڑی بوٹیاں موجود ہیں کہ جن کے استعمال سے نشہ ہوتا ہے۔ معلوم تاریخ کے مطابق 8000قبل مسیح میں موجودہ تائیوان کے علاقے میں ہیمپ نامی بوٹی اس مقصد کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔بلکہ اس کی کاشت ہوتی تھی اور شاید ان پہلی فصلوں میں شمار ہوتی ہے کہ جسے انسان نے کاشت کرنا شروع کیا۔ 6000قبل مسیح میں چین میں Cannabis کے بیج نشہ کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ 4000قبل مسیح میں ہیمپ کا استعمال ترکمانستان اور چین میں بھی شروع ہو گیا جب کہ چینیوں نے اس پودے کے ریشے سے کپڑا بننے کا کام بھی شروع کیا۔ 2737قبل مسیح میںچینی اطباء نے Cannabis کا باقاعدہ ادویات میں استعمال شروع کیا۔ہندووں کی مذہبی کتابوں کے مطابق2000قبل مسیح میں ہی بھنگ ایک متبرک پودے کے طور پر جانا جاتا تھا۔اور ہندووں دیوتا اس کا استعمال کرتے تھے چنانچہ اس خطے ( پاک وہند)کے لوگ مذہبی طور پر اس کا استعمال کرتے تھے۔ 1500قبل مسیح میں چین میں Cannabisبطور خوراک بھی استعمال ہوتا رہا کہ جبکہ اس کے ریشے سے بننے والے کپڑے کی صنعت کو بھی فروغ ملا۔700قبل مسیح میں فارس کے زرتشت اس کا استعمال کرتے تھے اور اسے ایک اچھی چیز قرار دیتے تھے۔ 600قبل مسیح میں ہیمپ کا استعمال روس میں بھی تھا۔ 300سے700قبل مسیح کے درمیانی عرصے میں Cannabis کے پتے تبرک کے طور پر شاہی مندروں میں بناٹے جاتے تھے۔ 500قبل مسیح میں یورپ کے بیشتر ممالک میں Cannabis متعارف ہو چکی تھی۔

200قبل مسیح میں یونان میں منشیات عام استعمال ہوتی تھی۔ 100قبل مسیح میں ہیمپ کے پودے سے چین میں کاغذ سازی شروع ہوئی۔ 100قبل مسیح میں سائبرین عبادت گاہوں میں حیش کا عام استعمال ہوتا تھا۔ دی نیچرل ہسٹری میں ذکر ہے کہ سن 23 کے دوران مارجوانا کو ایک مسحور کن پودے کے طور پر جانا جاتا تھا۔ سن47سے127تک Cannabis کو بطور منشیات یورپی علاقوں میں فروغ ملا۔ سن200تک چین کے اطباء نے مارجوانا سے بیشتر ادویات تیار کرنا شروع کر دیں۔سن 300میں مارجوانا سے بنی چینی ادویات یروشلم میں بچوں کی پیدائش کے موقع پر خواتین کو دی جاتی تھیں۔ 570میں فرانس کی ملکہ Arnegunde کو اس کی خواہش کے مطابق چین کے تیار کردہ مارجوانا کے کپڑے میں کفن دیا گیا۔سن 500سے600تک یہودیوں میں Cannabisکا عام استعمال رہا۔سن 850میں ہیمپ کے بیجوں کی آئس لینڈ میں کاشت شروع ہوئی۔ 900میں عربوں میںحیش کا استعمال دیکھا گیا۔900 سے1000تک تمام عرب میں حیش کا استعمال عام ہوگیا۔ جبکہ بڑے بڑے سکالر ز نے بھی استعمال شروع کر دیا۔1090-1124کے دوران مسلم علاقوں میں حیش کا استعمال شروع ہوا۔ 1155-1221میں عراق، شام، بحرین، مصر میں بھی حیشں عام استعمال ہوتی رہی۔ 1271-1295میں مارکوپولو نے اپنے سفر نامے میں عرب مسلم ممالک اور یورپ میں حیش کے استعمال کا ذکر کیا۔

1300میں افریقی ممالک ایتھوپیا میں پائپ میں حیش پینے کا رواج تھا۔ 1526میں بابر نامے میں حیش کا افغانستان میں استعمال کا ذکر موجود ہے۔ 1532میں فرانس کے ماہرین طب نے مارجوانا کا طب میں استعمال شروع کیا۔ 1533میں برطانوی بادشاہ ہنری VIIIنے ان زمینداروں کو جرمانے کرنے کا حکم صادر کیا جوصنعتی استعماکے لیے ہیمپ کاشت نہیں کرتے تھے۔ 1549میں انگولا کے علاقے سے آنے والے غلاموں نے برازیل میں Cannabis کی کاشت شروع کی۔1563میں پرتگال میں مارجوانا کا بطور دوا استعمال شروع ہوا۔ 1600میں برطانیہ نے سرکاری طور پر روس سے ہیمپ کی درآمد شروع کی۔-1632 1606 کے درمیان برطانیہ اور فرانس نے اپنی نوآبادیات میں Cannabis، مارجوانا اور حیش کی کاشت شروع کی۔1621میں اس وقت کی جدید تحقیق نے ثابت کیا کہ مارجوانا، حیش اور Cannabis وغیرہ کو ڈپریشن کے لیے مفید قرار دیا۔ 1600سے1700کے درمیان برطانیہ اور فرانس نے اپنی نوآبادیات میں نہ صرف حیش، مارجوانا اور Cannabis کو کاشت کیا بلکہ وائن ، افیون اور حیش کا استعمال عام کر دیا چنانچہ اسی دور میں سنٹرل ایشیاء اور جنوبی ایشیاء میں ان کی تجارت عروج پر پہنچ گئی۔

1764میں لندن کی میڈیکل ڈسپنسریوں میں مارجوانا سے تیار کردہ دوائی ملنی شروع ہو گئی جو 1794میں ایڈن برگ کی ہسپتالوں میں استعمال شروع ہوگیا۔ 1800میں مارجوانا کی کاشت مسسس پی ، جارجیا، کیلیفورنیا، جنوبی کیرولینا، نیویارک میں حیش کو پینے کا عام استعمال تھا مگر یہاں کی بنی ہوئی حیش فرانسیسی حیش کے مقابلے میں دوسرے درجے کی سمجھی جاتی تھی۔ جبکہ فرانس اور امریکہ میں حیش کی طلب کو پورا کرنے کے لیے روس اور ترکمانستان کے علاقوں سے درآمد کی جاتی تھی۔ 1840میں امریکی میڈیکل سٹوروں پر اس کی فروخت شروع ہوئی۔ 1842 میں انگلش میڈیکل جرنل میں ایک آئرش سائنسدان کی حیش پر تحقیق شائع ہوئی جس میں اسے ایک مفید دوا قرار دی گئی۔ 1843میں فرانس میں حشیش کلب قائم ہوئے۔ 1893-1894کے درمیان بھارت سے سرکاری طور پر 70,000سے80,000کلو سالانہ برآمدات شروع ہوگئی۔

1906میں امریکی محکمہ خوراک نے قانون بنایا جس کے مطابق منشیات کی پیکنگ پر اس کا نام لکھا جانا ضروری قرار دیا۔ بیسوی صدی کے آغاز میں مڈل ایسٹ میں حشیش پینے کا نہ صرف مڈل ایسٹ بلکہ بیشتر خطوں میں رواج ہو گیا۔ 1915-1927میں امریکہ نے Cannabis کوممنوع قرار دیا۔1919میں امریکہ نے اپنے آئین میں 18ویں ترمیم کے ذریعے شراب اور مارجوانا کی تیاری اور فروخت پر پابندی عائد کی۔ 1920میں یونان میں اس کے استعمال پر پابندی کا قانون منظور ہوا اور حیش پینے والوں پر کریک ڈا?ن شروع کیا۔ 1924میں روس میں اس قسم کے پودوں اور جڑی بوٹیوں کی درجہ بندی کا قانون پاس ہوا۔ 1926میں لبنا ن نے حشیش کی تیاری اور استعمال کو ممنوع قرار دیا۔ 1928میں برطانیہ نے بھی حشیش کو تفریح کے طور پر استعمال پر پابندی لگا دی جبکہ بطور دوا استعمال رہا۔ 1930تک حشیش کی چین سے سرکاری طور پر 91,471کلو سالانہ تجارت ہو گئی۔ 1933میں امریکہ نے آئین میں21ویں ترمیم کے ذریعے 18ویں ترمیم کے مطابق شراب پر پابندی ختم کردی تاہم امریکیوں میں نشے کی وبا پھیل چکی تھی۔ 1935میں چین نے اپنے تمام علاقوں سے Cannabis کی کاشت ختم کردی۔ 1942میں امریکی سی آئی اے نے مارجوانا کو جنگی قیدیوں اور دیگر قیدیوں کو دینی شروع کی جس کی زائد مقدار کے زیر اثر قیدی جھوٹ نہیں بولتے تھے چنانچہ سی آئی اے میں مارجوانا بطور "ٹروتھ سیرم ’’ استعمال ہوتا رہا۔

1945تک بھارت سے حشیش کی برآمدت جاری رہی۔ 1951میں امریکہ میں نارکوٹکس کنٹرول ایکٹ بنا اور حشیش کو جرم قرار دیا۔ 1960میں چیک کے سائنسدانوں نے Cannabis کو ایک انٹی بائیوٹک اثرات رکھنے والی دوا قرار دیا۔ 1963میں ترکی میں ڈھائی ٹن سے زائد حشیش پکڑی گئی جو اس دور کی ایک بڑی مقدار تھی۔ 1965میں شمالی افغانستان میں حشیش کی کاشت ہوتی رہی۔ 1967میں سمیش کے نام سے کیلیفورنیا میں حشیش کا تیل فروخت ہونا شروع ہوا۔ 1970-1972میں شمالی امریکہ اور افغانستان حشیش اور Cannabis کی کاشت کرنے والے بڑے ملک بن گئے۔ 1973میں نیپال میں حشیش کی دکانیں بند کر دی گئی۔ 70کی دہائی سے تقریبا تمام ممالک میں منشیات کے خلاف کاروائی شروع ہوئی جو ابھی اکیسویں صدی میں بھی جاری ہے مگر اس کے باوجود ان پر جتنی پابندیاں عائد کی جاہی ہیں ان کا کاروبار بھی وسیع ہوتا جا رہا ہے اور اس کی بنیادی ایک وجہ تو یہ ہے اسے انسان شروع سے استعمال کر رہا ہے اور کرتا رہے گا اور دنیا کی آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کی طلب میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے جبکہ پابندیوں کی وجہ سے اس کی قیمت بھی بڑھتی جا رہی ہے چنانچہ منشیات کا کاروبار اسلحے کے بعد دوسرا برا منافع بخش کاروبار ہے۔

٭٭٭


ای پیپر