طالبان ،امریکہ امن معاہدہ ،40 سال بعد کیا امن سکون ملے گا ؟
10 مارچ 2020 (16:23) 2020-03-10

حامد خان المشرقی

29فروری 2020ء پوری دُنیا کی تاریخ میں امن کے حوالے سے یادگار دن کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا کیونکہ اسی دن دوحہ میں بالخصوص جنوبی ایشیا کے پائیدار امن کے حوالے سے ایک تاریخی معاہدہ ہوا ہے جس پر افغان طالبان کے سیاسی دھڑے کے سربراہ ملاعبدالغنی برادر اور امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے دستخط کیے ہیں جہاں یہ معاہدہ افغانستان میں مسلسل امن اور جنگ بندی کے لیے ہے وہاں یہ معاہدہ افغانستان میں مستقل امن اور جنگ بندی کے لیے بہت ضروری بلکہ ناگزیر تھا،مزید اس سال امریکہ میں ہونے والے الیکشن میں صدر ٹرمپ کی کامیابی کے لیے ایک کُنجی کی حیثیت بھی رکھتا ہے کیونکہ صدر ٹرمپ نے 2016ء میں الیکشن جیتتے وقت امریکی عوام سے خارجہ محاذ پر 3بڑے وعدے کیے تھے، ایک عراق سے امریکی افواج کا انخلاء، دوسرا امریکہ اور میکسیکو کے درمیان دیوار کی تعمیر اور تیسرا 15سال سے جاری افغانستان میں امریکی جنگ کا خاتمہ اور امریکی فوجیوں کا افغانستان سے مکمل انخلاء شامل تھا۔ آج 2020ء میں جب افغان جنگ کو 18سال ہو چکے ہیں بالآخر امریکی انتظامیہ امریکی فوجیوں کے انخلاء کے لیے افغان طالبان سے معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ دوحہ میں اس معاہدہ پر دستخط کرتے وقت دُنیا کے 50ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی جس میں پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی شرکت کی، اس معاہدہ سے دو دن پہلے وزیراعظم عمران خان نے ذاتی طور پر ایک دن کا قطر کا مختصر دورہ کیا اور امیرقطر سے ملاقات کی اور معاہدے کو سرانجام دینے میں امیرقطر کے تعاون کا شکریہ ادا کیا، بلاشبہ افغانستان میں 40سال سے جاری جنگ بدامنی اور خانہ جنگی اس معاہدے کی کامیابی کی صورت میں ختم ہوتی نظر آرہی ہے۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کہ افغانستان میں مستقل امن اور ترقی کے لیے تمام دھڑوں اور فوجیوں کے درمیان جنگی بندی بہت ضروری ہے۔ گزشتہ 40سالوں میں افغانوں کی 2نسلوں نے صرف اور صرف جنگ دیکھی ہے، اسی وجہ سے آج افغانستان دُنیا کے اہم ترین خطے میں ہونے کے باوجود بلاشبہ ایک پسماندہ ترین اور کھنڈرزدہ ملک ہے اور غالباً 21ویں صدی میں دُنیا کا واحد ملک ہے جہاں آج بھی ریل کے نظام کا وجود ہی نہیں ہے۔ اس سارے امن معاہدے اور خطے کو مزید خون آلودگی سے بچانے کے لیے پاکستان نے بلاشبہ انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے اور نہ صرف امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان پُل کا کردار ادا کیا بلکہ افغانستان میں کئی سالوں سے جاری بھارت کی دراندازی اور چودھراہٹ کو بھی ختم کردیا ہے۔ اس سارے امن عمل میں جہاں امریکہ سمیت پوری دُنیا نے پاکستان اور خصوصاً وزیراعظم عمران خان اور پاکستان آرمی کے کردار کو بہت سراہا ہے وہیں بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’RAW‘‘ اور ’’BJP‘‘ کی حکومت کو انتہائی شرمندگی اور ہزیمت اُٹھانی پڑی ہے کیونکہ افغانستان کے ہر معاملے میں ہمیشہ بھارت نے اپنی ٹانگ اڑائی ہے اور خطے کے امن کو تباہ کیا ہے۔ آج اس معاہدے پر دستخط کے بعد امریکہ اور افغانستان کی 18برس کی جنگ کا خاتمہ ہوتا نظر آرہا ہے اور اگر معاہدے کی خلاف ورزی نہ ہوئی اور معاہدہ دونوں فریقین کی جانب سے قائم رہا تو نہ صرف اگلے 14ماہ میں تمام امریکی افواج واپس چلی جائیں گی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ تمام افغان طالبان قیدی رہا کردیے جائیں گے۔ توقع کی جارہی ہے کہ آئندہ مرحلوں میں افغانستان کی حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات ہوں گے گو کہ امریکہ نے پچھلے 18سال میں 7لاکھ سے زائد فوجی افغانستان میں تعینات کیے جن میں کئی فوجیوں کو 3-2 بار بار تعینات کیا جاتا تھا بلاشبہ یہ امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس جنگ میں امریکہ کو بدترین شکست ہوئی ہے جس کا ثبوت 200ارب ڈالر سے زیادہ کا مالی نقصان، 4000کے قریب امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں اور 24ہزار کے قریب امریکی فوجیوں کا زخمی ہونا اور 8000 کے قریب امریکی فوجیوں کا مستقل معذور ہونا شامل ہے۔ ویت نام کی جنگ کے بعد امریکی حکومتوں نے ایک غلط بات سیکھی کہ اپنی عوام سے ہمیشہ جھوٹ بولو اور انہیں سب اچھا بتائو، آج جب افغانستان کے تقریباً 80فیصد علاقے پر پہلے سے ہی طالبان کا کنٹرول ہوچکا ہے اور افغان حکومت صرف کابل یا ایک دو بڑے شہروں تک محدود رہ گئی ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جنگیں اسلحہ اور ٹیکنالوجی کے زور پر نہیں بلکہ اپنے ملک کی خاطر لڑنے مرنے کے جذبے سے جیتی جاتی ہیں۔ آج BJP کی حکومت یعنی مودی سرکار بھی اپنی عوام کے ساتھ ویسے ہی جھوٹ بول رہی ہے، اپنی شکستوں پر پردہ ڈال کر اپنی عوام کو گمراہ کررہی ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک دن بھارتی عوام بھی اپنی فوجوں کی شکست اور حکومت کی جانب سے جھوٹے پراپیگنڈہ سے آشنا ہو جائیں گے۔ اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہوئے آج کے معاہدے کے حوالے سے بتاتا چلوں کہ اس معاہدے پر دستخط کرنے والوں میں امریکہ کی جانب سے زلمے خلیل زاد اور افغانستان طالبان کی طرف سے ملاعبدالغنی برادر شامل تھے۔ تقریب میں پہلے تو شبہ تھا کہ شاید صدر ٹرمپ بھی شریک ہوں،لیکن صرف امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو ہی شریک ہوئے۔ انہوں نے افغان طالبان پر زور دیا کہ وہ اس معاہدے پر قائم رہیں اور القاعدہ سے اپنے تعلقات ختم کرلیں، وہیں انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ اسی امن معاہدے کے بعد گزشتہ 40برس سے جاری جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ تمام غیرملکی افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان اور اسی کے شہری اب ایک نئی اور پُرامن زندگی کی جانب گامزن ہوں گے۔ مارک ایسز نے اس معاہدے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک پُرامید موقع ہے لیکن یہ صرف آغاز ہے، اس کا آگے کا راستہ آسان نہیں ہو گا اور افغانستان میں مستقل امن کے لیے صبر اور دونوں فریقین کو قربانیاں دینی ہوں گی وہیں انہوں نے افغان صدر اشرف غنی کی موجودگی میں امریکہ افغانستان کی حکومت کا ساتھ نہیں چھوڑے گا۔

آیئے اب نظر ڈالتے ہیں کہ اس معاہدے میں کیا طے پایا ہے۔ اس معاہدے کے مطابق دستخط کرنے کے 135 دنوں میں امریکہ اپنے فوجیوں کی تعداد 13000 سے کم کر کے 8600 تک لے آئے گا جبکہ دیگر افواج بھی اپنی تعداد میں کمی لائیں گی۔ اس کے علاوہ افغان حکومت اور امریکی اتحادیوں کی زیرحراست 5000 افغان طالبان کی رہائی ممکن ہو گی جبکہ طالبان کی جانب سے 10مارچ تک ایک ہزار کے قریب افغان فوجیوں کو رہا کردیا جائے گا۔ اسی معاہدے کے تحت امریکہ طالبان کے خلاف لگائی گئی پابندیاں اُٹھالے گا اور اقوام متحدہ سے بھی طالبان سے پابندیاں اُٹھانے کی سفارش کرے گا۔ افغان فوجیوں کی رہائی کے بعد طالبان اور افغان حکومت کے درمیان براہ راست مذاکرات شروع ہونے کی توقع ہے۔ اس معاہدے کو پوری دُنیا میں بہت سراہاگیا ہے جیسا کہ وزیراعظم عمران خان نے بھی اپنے Twitter پیغام میں امریکہ اور طالبان کے مابین دوحہ معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ معاہدہ دہائیوں پر محیط جنگ سمیٹنے اور افغان عوام کو جنگ سے نکالنے کے لیے امن اور مفاہمت کا پیش خیمہ ہے، میرا ہمیشہ سے یہ موقف ہے کہ کتنی ہی پیچیدہ صورتحال کیوں نہ ہو امن کا دروازہ دل سے ہی کھلتا ہے۔ پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے امن معاہدے کو خوش آئین قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ علاقے کے لیے بہت اہم ثابت ہو گا وہیں افغان صدر اشرف غنی نے اس معاہدے کی پائیداری اور پاسداری پر شکوک وشبہات کا اظہار کیا ہے جبکہ دوسری جانب افغان طالبان نے امن معاہدے کی پابندی اور پاسداری کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے بلکہ ایک طالبان گروپ کے سربراہ ہیبت اللہ احمدزادہ نے اپنے بیان میں اسے طالبان کے لیے جیت قرار دیا ہے۔ افغان طالبان کے سربراہ نے کابل میں افغان حکومت کو کہا ہے کہ وہ ملک دُشمنی ختم کریں اور وہیں اپنے ساتھی طالبان کو پیغام دیا ہے کہ ہر ممکن طور پر اس معاہدے کی پاسداری کریں یہاں آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ اس امن معاہدے تک پہنچنے کا سفر نہ صرف بہت کٹھن تھا بلکہ کئی مواقعوں پر تو اس معاہدے کے امکانات بھی ختم ہو گئے تھے۔ قطر 2011ء سے طالبان رہنمائوں کی میزبانی کررہا ہے اور افغانستان میں امن کے لیے بارہا کوششوں میں مصروف رہا ہے جس کا ثبوت 2013ء میں دوحہ میں طالبان کا پہلا سیاسی دفتر قائم ہونا ہے گو کہ وہ دفتر طالبان کے جھنڈے کے استعمال کی وجہ سے اسی سال بند ہو گیا اور پھر 2018ء تک امریکہ طالبان مذاکرات نہ ہونے کے برابر تھے۔ 2018ء کے آخر میں وزیراعظم عمران خان کی حکومت جنرل قمر جاوید باجوہ کی کوششوں کے اور طالبان کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ وہ امریکہ سے براہ راست مذاکرات کریں گے تاکہ افغانستان اور خطے میں امن قائم کیا جاسکے۔ ان مذاکرات میں بہت ساری مشکلات تھیں جیسے طالبان کی طرف سے ناقابل قبول مطالبات کا آنا اور کبھی افغان حکومت کا امریکہ سے بے وفائی کا شکوہ اور کبھی امریکہ میں کسی سیاسی بحث کی وجہ سے مذاکرات کا تعطل، گزشتہ سال جب طالبان اور امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد اس معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تو افغانستان میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کے بعد صدر ٹرمپ نے مذاکرات نہ کرنے کا اعلان کردیا تھا اور افغانستان میں امن کا عمل ایک بار پھر اندھیرے میں جاتا دکھائی دے رہا تھا لیکن وہ جو مشہور کہاوت ہے کہ امن کا راستہ ہمیشہ لمبا اور صبرآزما ہوتا ہے وہ اس پورے عمل میں واضح طور پر صحیح ثابت ہوا ہے، اس تحریر میں اپنے قارئین کو امریکہ اور افغانستان کی جنگ کا پس منظر بتاتا چلوں: ستمبر 2001ء میں جب نیویارک اور واشنگٹن میں مبینہ طور پر 2اغوا کیے گئے۔ طیاروں سے امریکی ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ کیا گیا تو اس کا ذمہ دار اُسامہ بن لادن اور اس کی تنظیم القاعدہ کو قرار دیا گیا اور چونکہ القاعدہ کا گڑھ اور اُسامہ بن لادن کو پناہ اس وقت کی افغان طالبان حکومت جس کے سربراہ ملا بن عمر تھے، نے دی ہوئی تھی تو امریکہ نے اپنے اتحادی ممالک کی فوجوں کے ساتھ مل کر افغانستان پر فضائی حملوں کا آغاز کردیا جس میں پاکستان کی سرزمین اتحادی افواج کے حملوں کے لیے استعمال ہوئی جس کے نتیجے میں افغان جنگ اور طالبان کی مزاحمت افغانستان سے پھیل کر پاکستان آگئی اور گزشتہ 18سال میں مختلف دہشت گردی کی کارروائیوں کے نتیجے میں 70ہزار سے زائد پاکستانی عوام اور سکیورٹی فورسز اور فوجیوں کی شہادتیں ہوئیں۔ افغان طالبان کی بھرپور مزاحمت کے بعد بین الاقوامی اتحاد نے 2014ء میں اپنی افواج واپس بلالی اور افغان فوجیوں کو طالبان کے خلاف ان کے لیے ٹریننگ کیمپس بنتا ہے۔ دوسری جانب طالبان نے افغانستان کے مختلف شہروں اور صوبوں پر آہستہ آہستہ دوبارہ سے قبضہ کرنا شروع کردیا اور آج افغانستان کے 70فیصد سے زائد حصہ پر افغان طالبان کا کنٹرول ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس جنگ میں 5000 کے قریب غیرملکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ افغان شہریوں اور طالبان کی اقدار کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ فروری 2019ء میں اقوام متحدہ کی جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق 40ہزار شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 32000 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ ملاعمر کی ہلاکت کے بعد مختلف افراد سے ہوتے ہوئے آج طالبان کی سربراہی ملاہیبت اللہ احمدزادہ کررہے ہیں۔ آج کے طالبان سربراہ اور تنظیم 1996ء کی ملاعمر کی قائم کی گئی اسلامی خلافت اور اسی کے طریقہ کار سے کافی مختلف ہے۔ آج طالبان اس بات پر آمادہ ہیں کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کی صورت میں وہ بین الاقوامی معاہدوں اور قوانین کی پاسداری کریں گے۔

تاریخ گواہ ہے کہ افغانیوں نے گزشتہ 40سال کی جنگوں سے کچھ نہ کچھ تو سیکھا ہو گا جس میں سب سے بڑھ کر آپس میں جنگ وجدل سے پرہیز شامل ہے۔ افغان قوم کو آج تاریخ ایک سنہری موقع دے رہی ہے کہ وہ ملک میں مستقل امن لاسکے اور خطے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس میں سب سے ضروری اپنے دوست اور خیرخواہ یعنی پاکستان کی پہچان ہے اور ساتھ ساتھ اپنے مکار دُشمن یعنی بھارت کی مکاری سے آگاہ رہنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ اُمید کی جاتی ہے کہ 1979ء روس کی جنگ کے بعد آنے والے 50لاکھ سے زائد مہاجرین کی جس طرح پاکستان نے میزبانی کی اسے افغانستان کی موجودہ اور آنے والی نسلیں یاد رکھیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ باقی رہ جانے والی 25لاکھ افغان مہاجرین افغانستان میں امن کی صورت میں جلدازجلد اپنے ملک میں چلے جائیں گے۔ آج بلاشبہ پوری دُنیا اور خصوصاً امریکہ پاکستان کے اس مفاہمتی کردار کو سراہتی ہے اور آنے والے دنوں میں پاکستان مزید توقعات رکھتی ہے، جس میں بالخصوص امریکہ اور ایران کے تعلقات میں بہتری اور اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب اور ایران میں مصالحت بھی شامل ہے۔ آخر میں اس دُعا کے ساتھ کہ نہ صرف یہ دوحہ امن معاہدہ اپنی تکمیل کو پہنچے بلکہ خطے میں تمام تصفیہ طلب معاملات جن میں کشمیر شامل ہے، بھی حل ہوں اور پاکستان خطے میں اپنی تمام تر اہمیت کے ساتھ پوری دُنیا میں ایک مقام حاصل کرے اور اس کے ساتھ ساتھ افغان قوم کی اس معاہدے کی شکل میں آنے والے دنوں میں ہر طرح کی جنگوں سے آزادی ہو اور امن اور خوشحالی کا دوردورہ ہو، آمین۔

٭٭٭


ای پیپر