نوازشریف پھر وزیراعظم بنیں گے!!!
10 مارچ 2020 (16:19) 2020-03-10

پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما تحمینہ دولتانہ کی ’’نئی بات‘‘ سے گفتگو

اسد شہزاد

عمران حکومت نے پاکستان کو معاشی، سیاسی اور معاشرتی تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے اور یہ بات بھی ہماری تاریخ کا حصہ بن گئی ہے کہ اس سے نااہل حکومت کبھی پاکستان میں نہیں آئی۔ ان کو تو ابھی تک سیاست کرنا نہیں آئی۔ یہ حکومت کیسے چلاسکتے ہیں۔ اس ملک کی اُمید صرف نوازشریف ہیں جنہوں نے تین بار وزیر اعظم کے طور پر ملک کو ترقی کی راہوں پر ڈال دیا اور ایک خوشحال پاکستان، قائداعظمؒ کا پاکستان اور ترقی یافتہ پاکستان بنادیا۔

نیاپاکستان بنانے والوں نے تو پُرانے پاکستان کو بھی برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ پارلیمنٹ کو گالیاں دینے والے حکمران نے پارلیمنٹ کو بے بس کر کے رکھ دیا۔ اب آرڈیننس کے ذریعے قانون بنائے جارہے ہیں، یہ پارلیمنٹ کے اجلاس بلانے سے خوفزدہ ہیں۔ جہاں تک موجودہ حالات میں اپوزیشن کا کردار ہے تو میرے نزدیک یہ حکومت کم، اپوزیشن کا کردار زیادہ ادا کررہے ہیں اور میرا نہیں خیال کہ یہ حکومت مزید چلے گی۔

درج بالا باتوں کا اظہار پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما سابق وفاقی وزیر اور ایم این اے تہمینہ دولتانہ کے ہیں۔ ان کاشمار پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سینئر خاتون سیاستدان کے طور پر ہوتا ہے۔ دولتانہ گھرانے کی شاندار سیاسی روایات اور خدمات کو کبھی نہیں بھلایا جاسکتا۔ پاکستان بننے سے قبل اور پھر تقسیم کے بعد خاص کر پنجاب کی سیاست میں ایک طویل عرصہ تک حکمرانی بھی کی اور اپوزیشن میں بھی بہترین رول ادا کیا۔ اپنے علاقے میںبڑے شاندار ترقیاتی کام کرائے جن میں سکولز، کالجز، ہسپتال اور دوسرے ادارے آج منہ بولتا ثبوت ہیں۔

’’نئی بات‘‘ کے ساتھ ایک ملاقات میں پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال، ن لیگ سیاست میں کہاں کھڑی ہے؟ اور کیا عمران خان کی حکومت کو اِن ہائوس تبدیلی کے ذریعے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے یا ان کے نزدیک مڈٹرم انتخابات ضروری ہیں؟ ان سوالات کے جواب میں تہمینہ دولتانہ نے بڑی تفصیل کے ساتھ جواب دیئے جو ذیل کے کالموں میں دیئے جارہے ہیں۔

پہلے یہ بتایئے کہ نوازشریف کی بیماری پر حکومت یہ دعویٰ کررہی ہے کہ وہ بیمار نہیں ہیں اور ان کو ہم ڈی پورٹ کر کے واپس لائیں گے، یہ سارے معاملات پوری دُنیا کے سامنے ہیں، جب کلثوم نواز بسترمرگ پر تھیں تو تحریک انصاف والوں نے اسے بھی جھوٹ کہا، جب میاں صاحب کے دل کا آپریشن ہوا تو اس پر بھی ان کی گھٹیا سیاست سامنے آئی، یہی وہ حکمران ہیں جنہوں نے کلثوم نواز جب زندگی اور موت کی کشمکش میں تھیں تو انہوں نے عدالت سے سزا دلوا کر ایک طرف شوہر تو دوسری طرف بیٹی مریم کو جیل بھجوا دیا، اگر ان تفصیلات کی طرف جائوں گی تو پھر سلسلہ طویل ہو جائے گا۔ اب نوازشریف جیل میں بیمار ہوئے تو کن حالات اور مشکلات میں نوازشریف کو پنجاب حکومت کی درخواست پر لندن روانہ کیا گیا، میڈیکل بورڈ بھی تو انہی کا تھا اور اس نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اگر جلد ان کا علاج نہ کرایا گیا تو ان کی زندگی کو بہت خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، اب اگر وہ لندن میں علاج کرا رہے ہیں تو حکومت نے پھر بیماری پر سیاست کرنا شروع کر کے اپنی گھٹیا ذہنیت کا مظاہرہ کرنا شروع کردیا ہے، ابھی ان کا علاج جاری ہے، مجھے تو لگتا ہے کہ یہ حسد، اناپرستی اور ذاتی دُشمنی میں اس حد تک پہنچ گئے، یہ بھول گئے ہیں کہ اقتدار صدا نہیں رہتا ۔

ہر ایک کو ڈاکو، ہر ایک کو چور، ہر ایک کو غدار کہنا سیاست میں گالی کے انداز میں بات کرنا ان کی سیاست کا وطیرہ بن گیا ہے۔ آج تمام چور اور ڈاکو تو سلیکٹڈ وزیراعظم کے گرد کھڑے ہیں، ان کے اے ٹی ایم نے آٹے اور چینی کے بحران پیدا کر کے اربوں روپے لوٹ لیے۔ عمران خان اور ان کے حواری کیوں اس چور کو چھپا رہے ہیں، ایف آئی اے کی رپورٹس کیوں منظر عام پر نہیں لائی جارہی ہیں، اس لیے کہ اس میں ذمہ داروں کی نشاندہی کردی گئی ہے۔

کیا آپ سمجھتی ہیں کہ حکومت کا جانا ٹھہر گیا ہے اور کیا اِن ہائوس تبدیلی ہونی چاہیے؟

پاکستان کا آئین اپنا راستہ پکڑے گا اور اگر اِن ہائوس تبدیلی ہوتی ہے تو یہ بہت جلد ہو جانی چاہیے۔ اس حکومت کو زیادہ وقت دینے کا مطلب ہے کہ ہم چوروں کا ساتھ دے کر عوام کے ساتھ ناانصافی کررہے ہیں۔ اس حکومت کی اتنی اوقات ہے کہ یہ سات آٹھ سیٹوں پر کھڑی ہے اس کے پاس اپنی اکثریت نہیں ہے، یہ حکومت تو اپنی مرضی سے ایک چھوٹا سا بِل بھی پاس کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی اور یاد رکھیں! بیساکھیوں پر کھڑی حکومتیں جلد زمین بوس ہوجاتی ہیں۔

کیا نوازشریف واپس آئیں گے یا نئے سیاسی محاذ کھولے جائیں گے؟

یہ پاکستان نوازشریف کا ہے، پاکستان کے لیے ان کی خدمات کو تاریخ کبھی بھلا نہیں سکتی۔ اس سے بڑی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کی ساتھی کو بسترمرگ پر چھوڑ آئے۔ یاد رکھیں! وہ واحد پاکستانی لیڈر ہیں جو آج بھی سب سے زیادہ مقبول اور عوام کے دلوں میں حکمرانی کرتے ہیں۔ اپنے عوام کی خدمت کرنے والا عوام ہی میں زندہ رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔ نوازشریف پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں۔

مسلم لیگ ن کی سیاست کو کہاں دیکھ رہی ہیں؟

ہماری جماعت نے تو فوجی ڈکٹیٹر کا بڑی جرأت مندی سے مقابلہ کیا ہے۔ تحریک انصاف نے آتے ہی نیب کو اپنا آلہ کار بناتے ہوئے ہماری قیادت کو جیلوں میں ڈال دیا، اس کے باوجود نوازشریف کا ووٹ کم نہیں ہوا۔ دوسرا یہ کہوں گی کہ وہ کون سی سیاسی جماعت ہے جس میں اختلاف رائے نہ ہو، یہی تو اصل میں جمہوریت کا حسن ہے۔ ن لیگ میں نہ صرف بہت متحد ہے بلکہ اس کو توڑنے کے لیے کیا کیا حربے استعمال نہیں کیے گئے، اگر آپ نے ہماری مقبولیت کا اندازہ کرنا ہے تو آج انتخابات کرالیں، ن لیگ بڑے مارجن سے جیتے گی۔ ووٹ کل بھی نوازشریف کا تھا ووٹ آج بھی نوازشریف کا ہے۔

آپ کلثوم نواز کے بہت قریب رہی ہیں، خاص کر طیارہ سازش کیس میں جب وہ میدان سیاست میں اُتریں تو آپ بھی ان کے قدم بہ قدم سڑکوں پر تھیں، کیسی خاتون تھیں؟

بہت باہمت، بہت باوقار، بہت جذبوں سے لڑنے والی خاتون، میں نے زندگی میں نہیں دیکھی اور میرے لیے یہ اعزاز زندگی بھر ساتھ رہے گا کہ سیاسی جدوجہد میں چاہے وہ نوابزادہ نصراللہ کا گھر ہو، ایم آرڈی کی قیادت ہو، عوامی جلسے، انہوں نے ڈکٹیٹر کو ناکوں چنے چبوا دیئے۔ وہ نہایت خلیق اور شگفتہ مزاج اور دوست نُما انسان تھیں اور پاکستان کے لیے وہ کوئی بھی قربانی دینے سے گریز نہیں کرتی تھیں، دوسری طرف وہ بھی مجھے بہت چاہتی تھیں۔

کوئی اہم واقعہ جو بہت یادگار ہو؟

مجھے 12اکتوبر 1999ء کا دن کبھی نہیں بھولتا، اس روز عوامی حقوق پر نقب زنی کی واردات ہوئی اور جمہوریت کی صف لپیٹ کر کسی تاریک خانے میں پھینک دی گئی۔ نوازشریف پابندسلاسل کردیئے گئے اور جب طیارہ سازش کیس میں میاں صاحب کو سزا ہوئی تو بیگم کلثوم نے صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے گھر سے باہر قدم ڈال دیئے، ادھر بکھرے ہوئے کارکن آہستہ آہستہ اکٹھے ہونے لگے۔ وہ کراچی میں مقدمے بھی بھگتاتیں، جلسے جلوس نکالتیں، خاص کر وہ واقعہ جب لاہور میں ان کی گاڑی کو لفٹر نے اُٹھالیا اور وہ گاڑی کے اندر موجود تھیں، اس روز اس ڈکٹیٹر نے نہتی خواتین پر لاٹھی چارج کرا دیا، میں نے بھی لاٹھیاں کھائیں، قید ہوئی، آج میرا سب سے بڑا دُکھ یہ ہے کہ وہ سخت جاں رہیں، آخرکار وہ وہاں چلی گئیں جہاں ہم سب کو جانا ہے، یہ دُکھ کوئی نہیں بھرے گا کہ کوٹھڑی میں پڑا ان کا شوہر، ان کا بائوجی، 47سالہ رفاقت کے بھولے بسرے منظر اور آخری لمحوں میں ان سے دو باتیں کرلینے کی تمنا لیے وہ اللہ کو پیاری ہوگئیں۔

مریم نواز کے مستقبل کو کہاں دیکھ رہی ہیں؟

پاکستان کے آنے والی وزیراعظم مریم نواز ہوں گی۔ بہادرباپ کی بیٹی ہے، اس نے بہت کم عمری میں سیاست کے میدان میں قدم رکھا اور جب وہ بہت آگے بڑھ رہی تھی اور ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے تحفظ کی خاطر وہ شہر شہر نکلی تو عمران حکومت کو یہ بات راس نہ آئی اور اس کا میڈیا بلیک آئوٹ کردیا اور نیب کا ہتھیار استعمال کرتے ہوئے دوبارہ جیل ڈال دیا۔

آج حالات کو کس طرف جاتا ہوا دیکھ رہی ہیں؟

احتساب کے نام سے جو ڈرامہ شروع ہوا تھا، اس کا اثر ہماری معیشت پر بہت بُرا پڑا۔ میں نے پہلے بھی ایک بات کہی تھی کہ نیب اور معیشت اکٹھے نہیں چل سکتے۔ دوسری طرف ن لیگ کے رہنمائوں پر جھوٹے الزامات، جھوٹے ریفرنس، جھوٹے کیس دائر ہوئے اور بعد میں جب عدلیہ نے دیکھا کہ نیب کے پاس کچھ نہیں تو اس نے ضمانتیں دینا شروع کردیں۔ دیکھیں آپ کب تک جھوٹ کا سہا را لے کر سچ کو دبائیں گے۔ عمران کے اردگرد جو میلہ لگا ہوا ہے کیا وہ سب دودھ کے دھلے ہیں، نہیں وہ تو اصل چور ہیں جن کو میاں نواز شریف نے نکالا اور وہ عمران خان کے پاس چلے گئے۔

کیا مڈٹرم انتخابات کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے؟

مڈٹرم انتخابات ہوں یا اِن ہائوس تبدیلی، جتنی جلدی ہوسکے اس حکومت کو ختم کیا جائے۔ انہوں نے تو ملک کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ میرا نہیں خیال کہ یہ لوگ انتخابات کرائیں گے۔ اس کے اتحادیوں کو سوچنا ہو گا کہ وہ کب تک تباہی کا حصہ بنے رہیں گے۔

آپ بہت عرصہ سے سیاسی اُفق پر نہیں، کیا جماعتی اختلافات ہیں؟

میرے نہ تو کسی کے ساتھ اختلافات ہیں، نہ میں نے سیاست کو خیرباد کہا ہے۔ میرا تعلق جس سیاسی گھرانے سے ہے، اس نے پاکستان کے لیے بے شمار قربانیاں دیں۔ میری سیاست کا مرکز پاکستان اور دولتانہ خاندان ہے۔ ایک تو میں بیمار ہوں، دوسرا خاندانی مسائل کو دیکھنا اور تیسرا یہ کہ نوازشریف کی قیادت میں ہم سب متحد ہیں اور جب بھی جماعت کو میری ضرورت پڑی میں فوراً سیاسی میدان میں اُتروں گی۔

ایک آپ کا دور تھا جب بہت کم خواتین سیاست میں تھیں، ایک آج کا دور ہے جب بہت سی خواتین نے سیاست میں قدم رکھ دیئے؟

یہ اچھی بات ہے اور خواتین کو زندگی کے ہر شعبے میں آگے آنا چاہئے، خاص کر سیاست کرنا ایک مشکل کام ہے وہ بھی خواتین کے لیے کہ سیاسی میدان میں تو کبھی کہیں تو کبھی کہیں آپ گھریلو ماحول سے ایک قسم کے کٹ جاتے ہیں۔ ہم نے بہت مشکل حالات اور مشکل خاندانوں میں رہتے ہوئے سیاست کا آغاز کیا تھا۔ اس وقت خواتین کو باہر نکل کر مردوں کے ساتھ بات کرنا بہت غیرمناسب سمجھا جاتا تھا، گو میرا تعلق ایک سیاسی گھرانے سے تھا، مجھے سیاست میں آنے کے لیے بزرگوں سے اجازت لینا پڑی تو آج کی خواتین کو وہ ماحول نہیں ملے البتہ آج کی خواتین جو مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ منسلک ہیں، بہت محنت سے کام کررہی ہیں مگر بعض خواتین گفتگو کرتے وقت اپنے ویژن اور مشن اور سیاسی ربط وضبط سے باہر ہو جاتی ہیں۔ وہ اپنے قائد کے جذبات میں اچھے رویوں سے نکل کر غیرمناسب گفتگو کا ماحول اپنا لیتی ہیں، یہ نہیں ہونا چاہیے۔ اپنی سیاسی جماعت کی حمایت میں بولنا آپ کا حق ہے مگر مخالفین پر ذاتی حملے کرنا، حقائق کے برعکس اظہارخیال کرنا اور میں نہ مانوں کی ضد میں غلط بات پر قائم رہنا یہ خواتین کو مناسب نہیں لگتا۔ ہم نے بھی بڑی سیاسی لڑائیاں لڑی ہیں۔ اسمبلی کے فلور پر اپوزیشن اور حکومت میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کی بات کی ہے، کبھی بدتمیزانہ رویہ اختیار نہیں کیا، جو بات آپ اُونچا بول کر کرتی ہیں وہی بات شائستگی سے بھی ہوسکتی ہے، سیاست کرنی ہے تو پھر سیاست کے اصول اور اس کے قواعد وضوابط کو بھی مربوط خاطر رکھیں۔

٭٭٭


ای پیپر