مذہبی مکالمے کی تجدید، باہمی تعاون اور تفرقہ سے گریز وقت کی ضرورت ہے!
10 مارچ 2020 (16:16) 2020-03-10

رابطہ عالم اسلامی کی سپریم کونسل کا44 ویں اجلاس میںپاکستان سے سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم رکن منتخب ہو گئے

رپورٹ:ڈاکٹر تنویرقاسم

گزشتہ دنوں رابطہ عالم اسلامی کی سپریم کونسل کا 44واں جلاس مرکزی دفتر مکہ میں منعقد ہوا۔ جس کی صدارت رابطہ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسی نے کی جس میں اسلامی ممالک کے سرکردہ رہنماؤں نے شرکت کی۔ اس اجلاس کی خاص بات سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم، سیکرٹری جنرل مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کا سپریم کونسل میں پاکستان کی طرف سے رکن منتخب ہونا تھا۔ اجلاس میں پوری دنیا سے66 ارکان کا سپریم کونسل کے لیے انتخاب کیا گیا۔امت مسلمہ کے نامور علمائے کرام نے اجلاس کے افتتاح کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے مذہبی مکالمے کی تجدید میں بہترین منہج طے کیا ہے کہ باہمی تعاون کی ضرورت اور تفرقہ سے گریز کی دعوت دی جائے گی۔علمائے کرام نے رابطہ عالم اسلامی کے سپریم کونسل کے اجلاس میں اسلامی فقہ اکیڈمی ایوارڈ اور (میثاق مکہ مکرمہ ایوارڈ) کا اجرا بھی کیا۔

رابطہ عالم اسلامی کی سپریم کونسل نے مکہ مکرمہ میں منعقدہ اجلاس میں امت مسلمہ کو شرعی اصولوں کے مطابق اخوت اور یکجہتی کے مفاہیم پر عمل پیرا ہونے اور تفرقہ اور اس کے خطرات سے گریز کی ضرورت پر زور دیا اور یہ احساس دلایا کہ امت مسلمہ آج جس طرح اپنی صفوں میں انتشار کا شکار ہے اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ کونسل نے اسلامی تعاون تنظیم کے کردار کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ یہ تنظیم اسلامی ممالک کے درمیان موجود خلا کو پر کرنے میں کوشاں اور ان کے درمیان پل کا کردار اداکرتی ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ امت مسلمہ اس نازک دور میں ہماری طرف سے مزید ہم آہنگی اور باہمی تعاون کی منتظر ہے۔ کونسل نے ریاستوں کے امور میں مداخلت کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور ممالک کے استحکام اور سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ کونسل نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کو ان کی ثقافتی کردار کے بارے میں باشعور بنانا ایک اہم ضرورت ہے۔ کونسل نے امت مسلمہ کی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کے لیے کوشاں مخلص اسلامی ممالک کے کردار کو سراہا کونسل نے دنیا بھر میں امن و ہم آہنگی کی کوششوں کے لیے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ان کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

رابطہ عالم اسلامی(مسلم ورلڈ لیگ کا مقصد اسلام کے حقیقی پیغام کو واضح کرنا اور سب کے ساتھ اسلامی اور انسانی تعاون کے فروغ میں پل کا کردار ادا کرتاہے۔ سپریم کونسل کے ارکان نے عہد کیا کہ ہم رابطہ عالم اسلامی کے ارکان، اس کے عقیدہ اور ایمان کے نمائندہ کے طور پر اللہ تعالی سے یہ عہد کرتے ہیں کہ:ہم اقوام عالم کو عمومی طور پر انسانیت کی فلاح اور اس کی بھلائی اور ان کے درمیان سماجی انصاف، بہتر انسانی معاشرے کی تخلیق میں مسابقت کی دعوت دیں گے ہم عہد کرتے ہیں کہ ہم کسی کے کام کے بگاڑ،کسی پر تسلط اور نہ کسی پر غلبہ کا ارادہ رکھتے ہیں۔ہم مسلمانوں کے اتحاد اور کرہ ارض پر موجود جملہ مسلم برادری کو تقسیم کرنے والے عوامل کا سدّ باب کریں گے۔ہر بھلائی کی طرف دعوت دینے والے شخص کی حمایت کریں گے ہم اعلان کرتے ہیں کہ اسلام میں لسانی اور نسلی تقسیم نہیں۔ان مقاصد کے حصول کے لئے ہم مثبت اور صحیح طورپر اپنی کوششوں کو جاری رکھیں گے اس حلف نامہ میں مذکور تمام امور کے حصول کے لئے ہم اپنی تمام روحانی،مادی اور ادبی وسائل استعمال کریں گیرابطہ کے اہداف اور ان کے حصول کا طریقہ کاررابطہ اپنے اہداف کے حصول کے لئے ان ذرائع کا استعمال کریگی،جو شریعت اسلامیہ کے معارض نہیں،جیسے کہ:قرآن کریم اور سنت مطہرہ کی روشنی میں اسلام اس کے حقائق اور اس کے روادارانہ اقدار کا تعارف –مسلم امت کے ذہن میں وسطیت اور اعتدال پسندانہ تصورات کو راسخ کرناامت مسلمہ کے مسائل کا حل اور تنازعات وخلافات کے عوامل کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرناتہذیبی رابطہ کی اہمیت اور ثقافتی مکالمہ کو عام کرنامسلم اقلیات اور ان کے مسائل میں دلچسپی اور ان کے مسائل کے حل کے لئے مقامی حکومتی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے رابطہ کرنا۔موسمِ حج کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیا بھر میں مسلمانوں کی سطح بلند کرنے کے لئے علما ء مفکرین اور اداروں کے ذمہ داران کو جمع کرنا۔امت کی اسلامی شناخت کی حفاظت اور دنیا میں اس کے اثر ورسوخ کا فروغ اور اس کی یکجہتی کو قائم رکھنا۔

رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد العیسیٰ کی زیر قیادت یہ فورم اپنے ویژن کے مطابق بڑی خوش اسلوبی سے دعوت واصلاح اور رفاہ عامہ کا کام کررہا ہے۔ رابطہ عالم اسلامی نے مکہ مکرمہ میں کانفرنسوں کے انعقاد پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اغیار کے گڑھ میں پہنچ کر اسلام سے خائف فریقوں کو غور سے سنا اور انہیں اسلامی اعتدال، میانہ روی اور رواداری سے بھرپور شکل میں آگاہ کیا۔ اغیار نے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں کئی ایوارڈ سے نوازا۔ رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر العیسیٰ نے عملی اسلوب اور متوازن اظہار کی بدولت ہر سطح پر سعودی عرب کی حقیقی تصویر اجاگر کررہے ہیں۔ بیرون دنیا کو سعودی عرب کے اعتدال پسند مزاج سے آگاہ کررہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب وہ ملک ہے جو دہشت گردی کی آفت سے سب سے زیادہ دوچار ہوا ہے اور وہی ایسا ملک ہے جس نے دہشت گردی کا مقابلہ سب سے زیادہ کیا۔ سعودی عرب نے اس حوالے سے بہت سے کارنامے انجام دئیے۔ انسداد دہشتگردی کا اسلامی اتحاد قائم کیا۔ اپنا تجربہ دوسروں تک پہنچایا۔ بڑے مغربی ممالک تک کو دہشتگردی کے انسداد میں مدد دی۔ امن و امان ہی کے حوالے سے نہیں بلکہ دہشتگردانہ افکار سے نمٹنے کیلئے بھی ٹھوس بنیادوں پر کاوشیں کیں اور کر رہا ہے۔

ڈاکٹر عبد الکریم العیسی سمجھتے ہیں کہ مسلم منحرفین کی طرح تمام مذاہب میں انتہا پسند پائے جاتے ہیں۔ انتہا پسندی کسی ا یک مذہب کے ساتھ مخصو ص یا محدود نہیں۔ ڈاکٹر العیسیٰ اپنے خطابات میں توجہ دلاتے رہتے ہیں کہ انتہا پسندی کو ناحق اسلام سے جوڑ دیاگیا ہے۔ اسلامی فقہ کے ماہرین قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کی تفہیم اور تشریح و توضیح مقررہ علمی اصولوں کے مطابق کرتے ہیں۔ آیات و احادیث کے فہم میں ماہرین کے درمیان اختلافات خالص علمی بنیاد اور اصولی ہوتا ہے اس کا انتہاپسندی سے کوئی تعلق نہیں۔ البتہ انتہاپسند عناصر قرآنی آیات و احادیث مبارکہ کا مفہوم اپنے مزاج اور ذاتی و جماعتی و گروہی فہم کے مطابق طے کرکے معاشرے میں انتشار پیدا کرتے ہیں۔ پوری مسلم دنیا انتہا پسندانہ افکار کو اسلام مخالف مان کر مسترد کئے ہوئے ہے اور کررہی ہے۔ ماہرین فقہ میں اختلافات ایک دوسرے کی فہم کے احترام کا تقاضا کرتے ہیں، کوئی بھی فقہی مسلک دوسرے فقہی مسلک کے فہم کو ماننے پر شرعاً مجبور نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام نے مشترکہ انسانی خاندان کا تصور پیش کیا ہے اسے فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ اسلام متمدن معاشرے کی تشکیل میں ایک دوسرے سے تعاون اور ایک دوسرے سے محبت کا علمبردار دین ہے۔ مشترکہ انسانی خاندان کے درمیان ہم آہنگی، قربت، محبت، الفت اور تعاون کو نقصان پہنچانے اور متاثر کرنے کی ہر کوشش خلاف شرح ہے، اسلام نے اس کی مزاحمت کا حکم دیا ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ مختلف مذاہب، نسلوں، ثقافتوں اور قومیتوں سے منسوب لوگ ایک دوسرے سے تعاون کریں۔ ایک دوسرے کے ساتھ پیار محبت سے پیش آئیں اور باہمی قربت کے رشتے استوار کریں۔ رابطہ عالم اسلامی پرامن بقائے باہم اور رواداری کی خاطر اقوام عالم کے درمیان قربت کے فروغ کیلئے عالمی پل قائم کررہا ہے، اسلامی اعتدال کی قدروں کا خیرمقدم کرتاہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ رابطے کے اہلکار مذہبی و نسلی بنیادوں پر فلاح و بہبود کے کاموں میں امتیاز نہیں برتتے۔

رابطہ کے زیراہتمام جن شعبہ جات کی اب تک تشکیل کی جا چکی ہے۔اس میں اشاعت وترویج قرآن کیلئے ایک کونسل ہے جو مسلمانوں کے بچوں میں قرآن سے لگاؤ پیدا کرنے کیلئے حفظ قرآن کے مقابلوں کا اہتمام کرتی ہے کہ،پھرتعلیمی کونسل ہے جسکا کام دنیا بھر میں مسلم ممالک کے علاوہ مسلم اقلیتوں کے بچوں کی تعلیمی ضروریات کاخیال رکھنا ہے۔، اس ضمن میں جہاں نئے اداروں کی ضرورت ہے انکے قیام کی جدوجہد کرنا اسکے پیش نظر ہے۔ اسی طرح،چیئرٹی فا ؤ نڈیشن، اقصی مسجد فا ؤ نڈیشن، انٹرنیشنل اسلامک ریلیف آرگنائزیشن، قرآن وسنت کے سائنسی انکشافات اور نشانیوں پر کمیشن۔ورلڈ سپریم کونسل برائے مساجد، الفقہ کونسل کی شکل میں کمیٹیاں فعال ہیں۔ انہیں جدید اسلوب اور جدید فقہی، معاشی اور اقتصادی معاملات کے تناظر میں امور سونپے گئے ہیں۔۔دنیائے اسلام با لخصوص جبکہ یورپ، افریقہ ودیگر غیر اسلامی ممالک بالعموم جہاں مسلم اقلیتیں ہیں وہاں انکے میڈیکل اور ویلفیئر کے مشن کام کرتے رہتے ہیں۔پاکستان میں آنیوالے زلزلوں اور سیلابوں سمیت قدرتی آفات کے موقع پر سعودی عرب کی حکومت نے رابطہ کے ذریعے کروڑوں روپے کی امداد بھجوائی تھی۔ مصیبت اور پریشانی کا کوئی بھی موقع ہو رابط عالم اسلامی تعاون میں پیش پیش نظر آتا ہے۔

رابطہ کے اجلاس میں مسلم ممالک میں اتحاد پیدا کرنے، امن وسلامتی اور استحکام کا مشن چلانے، انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خلاف میانہ روی اور اعتدال کی مہم کی قیادت پر خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔اجلاس میں زمان و مکان کے فرق کو مد نظر رکھ کر میانہ روی کے پیغام کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر زور دیاگیا۔ شرکاء نے جدید معاشرے کے نئے مسائل اور انکے حل پر بھی غوروخوض کیا۔ شدت پسندی اور انتہا پسندی سے نمٹنے پر زو ردیاگیا۔ واضح کیا گیا کہ نوجوانوں کو انتہا پسندی کے خطرات سے بچانے کیلئے اعتدال اور میانہ روی سے روشناس کرانا ہوگا۔ شرکاء نے اسلام کے حوالے سے مغالطہ آمیز تصورات کی اصلاح کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی۔ علماء، مبلغین، اورارباب ا بلاغ و تربیت سے کہا گیا کہ وہ انتہا پسندوں کی افتراح پردازیوں کو طشت ازبام کریں۔ انکے پھیلائے ہوئے شکوک و شبہات کی حقیقت کو اجاگر کریں۔ لوگوں کو انکے جھوٹے نعروں کی حقیقت سے مطلع کریں۔ قرآن و سنت سے ماخوذ شرعی احکام پھیلائیں۔سرکاری اور عوامی اداروں کے تعاون سے رابطہ عالم اسلامی اسلام کی روشن تصویر پیش کرنے کیلئے مشترکہ پروگرام نافذ کیا جائیگا۔

سعودی عرب ہمیں بہت عزیز ہے۔ سعودی عرب ہمارا بڑا بھائی ہے اس ملک میں ہمارے مقدس حرمین شریفین ہیں ہمارے سعودی عرب سے قریبی اور برادرانہ دوطرف تعلقات ہیں سعودی عرب نے پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ حال ہی میں شاہ محمد سلمان بن عبدالعزیزکے دورہ پاکستان کے دوران ہماری معاشی مشکلات سے نکالنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔

٭٭٭


ای پیپر