گالیاں ہی گالیاں !
10 مارچ 2020 2020-03-10

پاکستان میں ان دنوں ہر طرف گالیوں کا راج ہے۔ گالیوں کے بغیر کسی کی کوئی بات مکمل ہی نہیں ہوتی۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں وہ گالی کی زبان میں بات نہیں کریں گے بات کسی کی سمجھ میں ہی نہیں آئے گی۔ وہ بھی اپنی طرف سے شاید ٹھیک ہی سمجھتے ہیں۔ کیونکہ محبت کی زبان اب کم لوگوں کی سمجھ میں آتی ہے۔ میں کوئی گالی دینے کے عمل کو درست قرار نہیں دے رہا۔ میں صرف یہ کہہ رہا ہوں معاشرہ اس قدر بگاڑ پن کا شکار ہو چکا ہے۔ جن معاملات میں گالی دینے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہوتی ان میں بھی گالی کو ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنی گفتگو میں اتنے الفاظ استعمال نہیں کرتے جتنی گالیاں دیتے ہیں۔ کچھ لوگ گالیاں دے کر خوش ہوتے ہیں، اور کچھ کھا کر خوش ہوتے ہیں۔ جیسے ہمارے ایک ”شیخ“ دوست کو کوئی گالیاں دے رہا ہو وہ سمجھتے ہیں چلیں کوئی کچھ دے ہی رہا ہے ناں لے تو نہیں رہا۔ یاد رہے شیخ سے میری مراد شیخ رشید ہرگز نہیں ہے۔ پورا معاشرہ گالم گلوچ کا شکار نظر آتا ہے۔ ایک زمانے میں گالیاں وغیرہ نہ دینے والے شریف آدمی کی معاشرے میں بڑی عزت ہوا کرتی تھی۔ اب ایسے شریف لوگوں کا مذاق اڑا دیا جاتا ہے۔ ہمارے بزرگ اپنی بچیوں کا رشتہ طے کرنے کے لئے بنیادی شرط یہ رکھا کرتے تھے ”ہمیں اور کچھ نہیں چاہئے بس لڑکا شریف ہونا چاہئے“....اگلے روز مجھے پتہ چلا ایک گھرانے نے ایک لڑکے کا رشتہ صرف اس لئے رد کر دیا وہ بے چارہ شریف تھا۔ حالات اب یہ ہوتے جا رہے ہیں لوگ اپنی بچیوں کا رشتہ طے کرنے سے پہلے یہ پتہ کرواتے ہیں ”منڈا کدھرے شریف تے نئیں؟“.... شرافت اب ایک گالی بنتی جا رہی ہے.... شادی کی ایک تقریب میں میر ی موجودگی میں لاہور کے ایک نامی گرامی بدمعاش کے ساتھ لوگ سیلفیاں بناتے ہی چلے جا رہے تھے اس دوران اس بدمعاش نے میرے کان میں کہا ”مجھے اجازت دیں میں کسی اور ٹیبل پر جا کر بیٹھ جاتا ہوں مجھے بڑی شرم آ رہی ہے آپ جیسے پڑھے لکھے شخص کی موجودگی میں لوگ میرے ساتھ سیلفیاں بنا رہے ہیں “.... معاشرہ بداخلاقی کے بدترین مقام پر جا کر کھڑے ہو گیا ہے۔ بلکہ ڈٹ کر کھڑے ہو گیا ہے۔ شرم و حیا نام کی کوئی شے کسی طرف دیکھائی ہی نہیں دے رہی۔ پاکستان میں تمیز سے سلیقے سے بات کرنے کا رنگ ڈھنگ باقی ہی نہیں رہا۔ ایک زمانے میں گالی بھی سلیقے سے دی جاتی تھی۔ ایک بار ایک بڑے شاعر نے دوسرے بڑے شاعر کو خط لکھا جس میں انہوں نے انہیں ”کتے کا بچہ“ کہہ دیا“.... دوسرے بڑے شاعر نے اپنے جوابی خط میں لکھا ” آپ کا خط ملا جس میں آپ نے میرے والد محترم کو گالی دی ہے، میں بھی آپ کے والد محترم کو گالی دینا چاہتا ہوں، آپ مجھے ان کا نام لکھیں، اگر آپ کو معلوم ہو تو .... ہمارے معاشرے کی گندگی پر تھوڑا بہت جو پردہ پڑا ہوا تھا خلیل الرحمان قمر اور ماروی سرمد کے ”مبینہ تنازعے“ سے وہ بھی اٹھ گیا ہے.... ماروی سرمد کے مقابلے میں خلیل الرحمان قمر کو ہم ذرا مہذب انسان سمجھتے تھے۔ نیو نیوز پر چلنے والے سنسر شدہ ٹاک شو کی جھلکیاں دیکھنے کے بعد ہمارا خیال تھا خلیل الرحمان قمر اتنا قصور وار نہیں ہے۔ اب غیر سنسر شدہ ٹاک شو کی جھلکیاں دیکھنے کے بعد اندازہ ہوا بداخلاقی کے معاملے میں ماروی سرمد سے دو ہاتھ وہ آگے نکل گیا تھا.... میں سمجھتا ہوں”عورت مارچ“ کو کامیاب کروانے میں خلیل الرحمان قمر کی گالیوں اور بدزبانی نے بڑا اہم کردار ادا کیا۔ بلکہ سچ پوچھیں مجھے یوں لگتا ہے کچھ عورتوں نے خلیل الرحمان قمر کو اپنے اپنے کچھ فحش اور مذموم مقاصد کے لئے بڑی کامیابی سے استعمال کر لیا ہے۔ البتہ یہ معلوم نہیں وہ استعمال ہوئے ہیں یا کسی این جی او کے خفیہ فنڈ سے انہیں اس کا معاوضہ دیا گیا ہے۔ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں بے شمار گھریلو عورتیں، عورت مارچ کا حصہ نہیں بننا چاہتی تھیں، خلیل قمر کے جارحانہ رویئے خصوصاً ماروی سرمد کو جو گندی گندی ، یعنی اپنے جیسی گالیاں اس نے دیں اس کے نتیجے میں وہ پورے جوش و جذبے سے عورت مارچ میں شریک ہوئیں۔ سو میرے نزدیک پاکستان میں عورت مارچ کی کامیابی کا سارا کریڈٹ خلیل الرحمان قمر کو جاتا ہے.... مجھے یہ باقاعدہ ایک پلاننگ لگتی ہے۔ خلیل الرحمان قمر کی گندی گندی گالیوں کے جواب میں ماروی سرمد نے اسے کوئی گندی گالی نہیں دی۔ عورت مارچ کی کامیابی کے لئے شاید دونوں نے مل کر یہ طریقہ کار طے کر لیا ہو گا۔ خلیل الرحمان قمر ایسے ایک شخص کی بیگم ایک عالم دین کے پاس گئی۔ ان سے کہنے لگی ”حضرت میرا شوہر نامرد ہے، میں خلع لے سکتی

ہوں؟“....وہ وبولے ”بالکل ایسی صورت میں آپ لے سکتی ہیں“....اگلے روز اس عورت کا شوہر اس عالم دین کے پاس گیا ، ان سے پوچھا ”آپ نے میری بیوی کو خلع لینے کا مشورہ کیوں دیا؟“.... حضرت بولے ”اس لئے کہ آپ کی بیوی کے بقول آپ ”نامردہو“.... وہ کہنے لگا ”میرے تو اس عورت سے چار بچے ہیں“ .... عالم دین نے اس عورت کو بلایا۔ اس سے پوچھا ”آپ نے مجھ سے جھوٹ کیوں بولا کہ میرا شوہر نامرد ہے؟“.... وہ بولی ”حضرت میں نے جھوٹ نہیں بولا۔ وہ واقعی نامرد ہے، وہ مجھے گالی دیتا ہے“.... سو مرد کو زیب نہیں دیتا وہ عورت پر ہاتھ اٹھائے یا اسے گالی دے۔ یہ ”مردانگی“ نہیں ، ایک طرح کی ”انانگی“ ہوتی ہے.... ماروی سرمد نامناسب لہجے میں بات کر رہی تھی۔ خلیل الرحمان قمر زیادہ سے زیادہ اس کے ساتھ اسی تلخ لہجے میں بات کر لیتے۔ اس نے شٹ اپ کہا تھا۔ وہ جواباً ”یو شٹ اپ“ کہہ لیتا۔ جس انداز میں اس نے گالیاں دیں میں یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا وہ شدید ترین ”مردانہ کمزوری“ کا شکار ہو گیا ہے جس کا اسے علاج کروانا چاہئے.... پھر ایسی ہی بداخلاقی کا مظاہرہ اس نے ایک مرنجا مرنج نوجوان صحافی فرخ شہباز وڑائچ کے ساتھ کیا۔ جس متکبرانہ انداز میں اس نوجوان صحافی سے وہ بات کر رہا تھا صاف ظاہر ہو رہا تھا شہرت اسے کچھ زیادہ ہی چڑھ گئی ہے۔ وہ اپنی تقریروں میں اپنے عاجز ہونے کا بار بار اعتراف کرتا ہے جبکہ اس کا انداز اور رویہ اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ ایک طرف وہ اپنی گفتگو اور تقریروں میں بڑے مذہبی حوالے دیتا ہے ، دوسری جانب وہ یہ بھول جاتا ہے ہمارے دین میں صبر اور برداشت کا یہ عالم ہے ایک عورت نے آپ پر کوڑا پھینکا ، جواباً آپ نے نہ صرف یہ کہ اسے دعا دی، اس کی عیادت کے لئے بھی تشریف لے گئے۔.... خلیل الرحمان قمر کو چاہئے منافقت بند کرے۔ اور وہ ”ایکٹنگ بھی بند کرے جس کے مسلسل مظاہرے سے مجھے یقین ہے بہت جلد وہ اپنی آنے والی تھاں بلکہ دو ٹکے والی تھاں پر واپس آ جائے گا۔ ایک اور ٹی وی ٹاک شو میں ”مردوں کی ماروی سرمد“ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے جو غلیظ الفاظ اس کے لئے استعمال کئے ، جس قدر اس کی بے عزتی کی۔ اور جواباً جس اندازمیں وہ چپ رہا اس سے ثابت ہو گیا وہ صرف عورتوں سے ہی لڑ سکتا ہے.... مجھے ایک ”کھسرا“ یاد آ گیا محلے کی ایک عورت اسے چھیڑ کر اپنے گھر گھس گئی تو وہ اس کے گھر کے آگے کھڑے ہو کر یہ ”بڑھکیں“ مارنے لگا۔ ”باجی جے تو مرد ایں تے ہن باہر آ “....


ای پیپر