کیوں ضروری؟
10 مارچ 2019 2019-03-10

یہ سوال بہت ہی اہم بلکہ اہم ترین ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کیوں ضروری ہے۔ یہ سوال اتنا اہم ہے کہ وقتی طور پر بہت سے سوالات کو کسی بہت نچلے دراز میں رکھنا ہوگا۔ مثلاً یہ سوال کہ جن کارروائیوں کے متعلق محض رائے دینے والے غدار ہوجاتا تھا۔ اب وہ کارروائیاں کیسے جائز ہوگئیں۔ کل تک اگر کوئی اپنا گھر ٹھیک کرنے کا مشورہ دیتا تو پھر راندہ درگاہ ٹھرتا۔ اب ہر قابل ذکر حکومتی عہدیدار راہ چلتے صحافی کو پکڑ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کا کریڈٹ لیتا ہے۔ تھپکی نہ دی جائے تو باقاعدہ ماتھے پر شکنیں اور آنکھوں میں خفگی ہلکورے لینے لگتی ہے۔ یہ بھی سوال بھولنا ہوگا کہ گزرے کل میں اس پلان پر عمل درآمد نہ ہوسکا اور اب کیوں یہ سب ممکن ہوا۔یہ بحث بھی غیر ضروری ہے عمل درآمد اپنی مرضی سے ہورہا ہے یا پھر کہیں سے بازو مروڑا جارہا ہے۔ یقین مانیں یہ سوال اتنے جائز ہیں کہ نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ لیکن یہ موقع اس بحث کا نہیں۔ ہاں یہ سوال پوچھیں گے جن کی ذمہ داری جواب دینا ہے۔ لیکن وقت آنے پر ہم نہ پوچھ پائے تو تاریخ کا سخت گیر محتسب یہ سب سوال پوچھے گا۔ تاریخ کے اس ممتحن کے سامنے تو ڈنڈی مارنا ممکن نہیں۔ اس راہ میں جو کھیت رہے وہ ہیرو بن کر ابھریں گے اور جنہوں نے قوم کا راستہ کھوٹا کیاوہ مجرم کہلائیں گے۔ سو لوٹتے ہیں اس سوال کی جانب کہ عمل درآمد کیوں ضروری ہے۔ خیال کو ذرا ہلکا سے چابک لگائیں تاکہ وہ سولہ دسمبر کے اس منحوس یوم سیاہ تک پہنچ جائے جب سانحہ آرمی پبلک سکول برپا ہوا۔ ہم سب روئے تھے۔ سب نے ماتم کیا۔ گریہ زاری کی۔ ان نونہالان چمن کی یاد میں نوحہ گری کی۔ لیکن صرف۔ سینہ کوبی ہی تو کافی نہ تھی۔ کیوں کہ اس سے پہلے تو ہم لاشیں اٹھانے کے عادی ہوچکے تھے۔ خود کش دھماکہ، دہشت گردی قتل و غارت معمول تھی۔ کراچی سے چترال تک۔ بس ہم لاشیں اٹھاتے تھے اور ہاتھ پر ہاتھ رکھے اپنے کرموں کو کوستے تھے۔ لیکن پھر اس سانحہ نے عجیب اثر ڈالا ہم پر۔ ہم گڈ اور بیڈ کی بحث بھول گئے۔ یہ بھی بھول گئے کہ اب کوئی اثاثہ نہیں۔ سب خسارہ ہے۔ تاریخ یہ کریڈٹ نواز شریف کے کندھے پر سجائے گی کہ اس آل پارٹیز کانفرنس میں نیشنل ایکشن پلان بنا۔ جس کا وہ میزبان تھا۔ اب تو خیر اس پر اہل اختیار نے غداری کا الزام بھی تھوپ دیا۔ لیکن اس الزام کا سامنا تو محترمہ فاطمہ جنا ح سے بینظیر بھٹو تک ہر عوامی لیڈر کو کرنا پڑا۔ خیر وہ بیس نکاتی ایکشن پلان منظور ہوا۔ اور اس پر عمل درآمد شروع ہوا۔ قلیل اور مختصر مدت میں پاکستان نے دہشت گردی کو پسپا کردیا۔ بین الاقوامی برادری نے کشادہ دلی سے پاکستان کی فتح کا اعتراف کیا۔ اور بند دروازے کھلنے لگے۔ معمولی کی سر گرمیاں بحال ہوتی گیءں۔لیکن پھر بھی ابھی بہت کچھ کرنا باقی تھا۔ گھر سے باہر کی ستھرائی تو خوب ہوئی۔ لیکن اندر کی یعنی گھر کی صفائی باقی تھی۔ یہ صفائی بوجوہ نہ ہوسکی۔ اصل مسئلہ تو اندر کی انتہا پسندی کا قلع قمع تھا۔ کچھ تو ایسے بھی تھے جنہوں نے پرانے چولے اتارپھینکے اور نئے لبادے اوڑھ لیے۔ کچھ تو باقاعدہ جمہوریت پسند بن گئے اور انتخابی اکھاڑے میں کود گئے۔الیکشن تو خیر کیا جیتنا تھا۔ البتہ کسی کی ہار میں وہ حصہ دار بن گئے۔ سکرپٹ رائٹر کی قلم سے ان کا کردار تھا بھی اتنا ہی۔اس دوران بیرون ممالک سے آنے والے سندیسے وارننگ کی گھنٹیاں بجاتے رہے۔ کبھی فیٹف کے دفتر سے کبھی سیکورٹی کونسل کے کسی سیکشن سے، لیکن ہم نیا پاکستان بنانے میں لگے ہوئے تھے۔ اب ذرا فاسٹ فارورڈ کی تکنیک اپناتے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد اچانک نہیں شروع ہوا۔ دسمبر دو ہزار چودہ کے بعد نیکٹا اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے تھا۔ اعداد شمار بتاتے ہیں کہ چھ نکات ایسے ہیں جن پر عمل درآمد پر توجہ مبذول کرنا ضروری ہے۔ان میں نیکٹا کو مزید فعال کرنا. بلوچستان میں مصالحتی اقدامات۔ کراچی آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانا۔ فاٹا اصلاحات کو تیزی سی مکمل کرنا۔ ذرائع ابلاغ کے ذریعے ذہن سازی۔ عسکریت پسندی پر مکمل قابو پا لینا۔ فرقہ وارانہ دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا دہشت گردی کیلئے استعمال اور اس پر قابو پانا۔لیکن سب سے بڑھ کر فوجداری عدالتی نظام میں بہتری اور تیزی تاکہ مجرموں کو بروقت اور عبرتناک سزا دی جاسکے۔ اس کے علاوہ اس بات کو یقینی بنانا کہ دینی مدارس کو قومی دھارے میں لایا جائے اور افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے متعلق حتمی پالیسی۔ آپریشن ردالفساد کا آغاز فروری دو ہزار سترہ میں ہوا تھا۔ اس دوران میں فوجی عدالتوں کے ذریعے دہشت گردوں کو پھانسیاں بھی دی گئیں۔ اسی ہزار سے زائد خفیہ آپریشن بھی کیے گئے۔ پاک افغان بارڈر پر دہشت گردی کی ایک سو اکیاسی کوششیں ناکام بنای گیءں۔ اس دوران پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کا کام شروع ہوا۔تیئس سو کلومیٹر بارڈر میں سے ساڑھے چھ سو کلومیٹر کام مکمل ہوچکا۔

نیشنل ایکشن پلان پر عمل در آمد کا اگلا مرحلہ شروع ہوچکا۔ ایک کے بعد دوسرا فیصلہ ساز ادارہ اس مرحلہ کی حمائت و تائید میں کھڑا ہوچکا۔کور کمانڈروں کی حالیہ کانفرنس کا اعلامیہ بہت اہم ہے۔سپہ سالار اعلی کا پیغام بہت واضح ہے۔ ہتھیار اٹھانے کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے۔ وائلنس صرف ریاستی اداروں کی اتھارٹی ہے بالکل درست۔ جمہوری معاشرے میں کسی فرد کو لشکر بنانے کی اجازت ہوتی ہے نہ ملیشیا کھڑی کرنے کی۔ ہم نے ماضی میں بہت غلطیاں کیں۔لیکن غلطیاں کرنے والوں کو انہیں درست کرنے کا موقع میسر آیا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان قومی اتفاق رائے کی دستاویز ہے۔ اس پر عمل درآمد میں ہی قو م کا بھلا ہے۔ ساری قوم کو اس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔اس معاملہ پر قومی اتفاق موجود ہے۔ لیکن خطرہ ہے خوے انتقام کہیں اس اتفاق کو برباد نہ کردے۔


ای پیپر