حالات سازگار نہیں ہیں
10 مارچ 2019 2019-03-10

ملکی حالات سازگار نہیں ہیں جنگ کے بادل چھائے ہوئے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر نے گزشتہ دنوں ہی تو کہا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی میں کمی آئی ہے جنگ کا خطرہ اب بھی موجود ہے اخبارات بھی مسلسل خطرے کی گھنٹیاں بجا رہے ہیں کہ دونوں ملکوں میں ایٹمی جنگ چھڑ سکتی ہے، چاروں درویش اس بات پر متفق کہ ملکی حالات سازگار نہیں ہیں پانچواں درویش سر پکڑ کر بیٹھ گیا کہ جب تک حالات سازگار نہیں ہوں گے جنگ کا خطرہ نہیں ٹلے گا۔ عمران خان کی حکومت قائم رہے گی ،کالے منہ والا مودی حالات سازگار نہیں ہونے دے گا۔ پوری قوم فوجی و سیاسی قیادت متحدکہ بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، بہادر افواج بیرونی جارحیت کے مقابلے کے لئے مشرقی سرحد پر الرٹ، حکومت اندرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار، قومی اسمبلی میں بلاول بھٹو اور اسد عمر میں لفظی گولہ باری دن بھر جاری رہی دونوں اپنے اپنے مورچوں سے لفظوں کے گولے پھینکتے رہے، فنانس بل منظور کرانا تھا اس لیے گولہ باری ضروری تھی، اپوزیشن پسپا ہوئی واک آؤٹ کر گئی، مورچے خالی دیکھ کر حکومتی پارٹی اور اس کے اتحادیوں نے ایوان پر قبضہ کرلیا اور بل منظور کر کے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے اس کے بعد بھی لفظی گولہ باری بند نہیں ہوئی۔ سندھ اسمبلی میں اندرونی جارحیت کا عملی طورپر منہ توڑ جواب دیا۔ اجلاس کے دوران جماعت اسلامی کے سید عبدالرشید کی تقریر کے دوران ’’جنگ‘‘ شروع ہوگئی۔ پی ٹی آئی کے ایک ’’جنونی‘‘ نے رکن اسمبلی کے منہ پر تھپڑ مار کر منہ توڑ جواب دیا۔ جماعت اسلامی والے منہ توڑنے کی پوزیشن میں نہیں لیکن منہ سے جواب دے رہے ہیں۔ پانچواں درویش اسی بات پر پریشان تھا اس کا کہنا تھا کہ اب کے بگڑے حالات آئندہ پانچ سال تک سازگار نہیں ہوں گے،نورا کشتی جاری رہے گی چنانچہ حکومت برقرار رہے گی۔ پانچواں درویش غالباً مولانا فضل الرحمان کی نمائندگی کر رہا تھا جو مسلسل کہے جا رہے ہیں کہ حکومت کو مزید وقت دینا جعلی مینڈیٹ کو تسلیم کرنے کے مترادف ہوگا۔ سرحدوں پر منہ توڑ جواب دینے کا فریضہ فوج بحسن و خوبی انجام دے رہی ہے۔ 26 سے 28 فروری تک اس نے اپنے آپ کو دنیا کی بہترین تربیت یافتہ اور پروفیشنل فوج منوالیا ،ایوانوں میں ’’منہ توڑنے‘‘ کا فریضہ حکومت نے اپنے ذمہ لے لیا ہے اور ما شاء اللہ اس نے بھی اپنے آپ کو بہترین تربیت یافتہ ثابت کردیاہے، 2013ء سے یہی تربیت دی گئی گالم گلوچ کی تہذیب، مارپیٹ کی تربیت کہاں سے سیکھی، لوگ کہتے ہیں۔

کالج کی کتابوں میں تہذیب نہیں ملتی

بیٹے کے لیے گھر کے مکتب کو کھلا رکھیے

مگر اس کا کیا کیا جائے کہ مکتب بند کردیے گئے، بند کیے جا رہے ہیں، اچھی تربیت دینی تہذیب کالعدم قرار، پوچھا ایسا کیوں کر رہے ہیں جواب ان کا آیا حالات سازگار نہیں ہیں۔ پانچواں درویش مصر تھا کہ حالات آئندہ پانچ سال تک ساز گار نہیں ہوں گے۔اس لیے بادی النظر میں حکومت اپنی مدت پوری کرلے گی اگر اس کے بعد بھی حالات اسی ڈگر پر چلتے رہے تو آئندہ پانچ سال بھی اللہ خیر کرے، حالات سازگار نہ ہونے کی دو وجوہات ہیں پہلی وجہ بھارت کی ازلی و ابدی دشمنی، دوستی ہو ہی نہیں سکتی جس سیاستدان نے دوستی کی کوشش کی وہ اقتدار سے گیا یا جان سے گیا۔ ادھر بھی یہی حال ہے۔ مودی جب سے اقتدار میں آیا ہے اپنی خباثتوں سے باز نہیں آ رہا۔ حالات اسی صورت سازگار ہوسکتے ہیں کہ وہ انتخابات میں متوقع طور پر ہار جائے اور کانگریس برسر اقتدار آجائے لیکن یہ ضروری تو نہیں کہ کانگریس آتے ہی دوستی کا ہاتھ بڑھا دے، دونوں پارٹیاں اول درجے کی پاکستان دشمن فرق اتنا ہے کہ بی جے پی منہ پھٹ اور کھلی دشمن کانگریس منافق پہلے سازشوں کا جال بنے گی پھر حملہ کرے گی۔ مشرقی پاکستان میں یہی کچھ تو ہوا تھا۔ ’’چھیڑ دشمن سے چلی جائے اسد‘‘ چھیڑ چھاڑ چلتی رہے گی۔ وزیر اعظم عمران خان خوش قسمت ہیں کہ حالات نے پلٹا کھایا ہے۔ ایک ماہ قبل تک ان کی نئی نویلی حکومت ادھر ڈوبے ادھر ابھرے کی کیفیت سے دوچار تھی اپوزیشن متحد ہونے جا رہی تھی لوگوں نے سیٹوں کی تعداد گننا شروع کردی تھی چار نشستیں یا بارہ نشستیں، ایم کیو ایم اور اختر مینگل دونوں پر حکومت کا انحصار، دونوں کے سینگ تھک گئے تو ایوانوں میں زلزلہ آجائے گا۔ تحریک عدم اعتماد کی تیاریاں ہو رہی تھیں، اچانک حالات ناسازگار ہوگئے اپوزیشن سب کچھ چھوڑ چھاڑ بھارتی جارحیت کیخلاف یک زبان ہوگئی۔ قوم سب کچھ بھول کر ریلیاں نکالنے لگی۔ قومی ترانوں کی گونج میں ہنگامے، بیانات، پریس کانفرنسیں، ٹی وی ٹاکس سب کچھ دب گیا۔لیکن افسوس اس وقت ہوا جب حکومت نے حالات سے فائدہ اٹھایا اور بجلی گیس اور پیٹرول سمیت تمام اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کردیا۔ عوام کچھ نہ کہہ سکے کچھ نہ کرسکے، کیا کہتے کیا کرتے، حالات ساز گار نہیں تھے، اب تک نہیں ہیں، سازگار ہوتے تو اپوزیشن جینے نہ دیتی۔ عوام ناک میں دم کردیتے، لیکن اب سارے دم بخود ہیں ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم۔ آصف زرداری حکومت کی قلابازی لگوانے کے لیے کچھ کرنے والے تھے چپ ہوگئے۔ محب وطن لوگ ہیں ذاتی مفادات پر قومی مفادات غالب آگئے ورنہ بقول پانچویں درویش آصف زرداری کے پاس 101 طریقے، فارمولے اور جادو ٹونے تھے جن سے وہ حکومت کو مشکلات میں ڈال سکتے تھے اچھے وقتوں میں بلوچستان حکومت اور سینیٹ نے نون لیگ کا دھڑن تختہ کر دیا تھا۔ ناسازگار حالات میں جادو ٹونے اچھے نہیں لگتے، اس لیے بقول زرداری وہ چپ ہوگئے ایک زرداری ہی کیا پوری اپوزیشن کا رویہ یکسر تبدیل ہوگیا۔ قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیوں، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں سب دفاع وطن پر متحد، پوری قوم سیسہ پلائی دیوار، ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز، اتحاد کا مرکز پاک فوج، اللہ کے سپاہیوں کی حمایت، جو محاذ جنگ پر اللہ اکبر کا نعرہ لگائیں تو کوہ و دمن کانپ اٹھیں، دشمن پر لرزہ طاری ہو جائے مادر وطن کے محافظوں کو کون سلام پیش نہیں کرے گا۔ ہمارے غازی ہمارے مجاہد، ہمارے شہید، پوری قوم کے اتحاد کی علامت۔ 22 کروڑ عوام، 375 سیاسی جماعتیں ان کے قائدین سب یک زبان اور متحد، تین دنوں میں پوری قوم کو سیاست بھول گئی، دفاع وطن کا جذبہ غالب رہا، حکومت کیسے مضبوط ہوئی، دو اہم باتیں سامنے آئیں۔ حکومت اور دیگر اداروں میں کہیں اور کسی مرحلہ پر بھی اختلافات کا شائبہ نظر نہ آیا۔ جو بات ایک نے کہی دوسرے تیسرے نے بھی وہی دہرائی۔ اللہ جھوٹ نہ بلوائے یہ استحکام کی علامت ہے (پہلے والے سیاستدان اس رمز کو نہ سمجھ سکے بھگت رہے ہیں) دوسری وجہ پاک بھارت کشیدگی، قوم حکومت کا پیچھا چھوڑ کر مودی کے پیچھے پڑ گئی، کم بخت نے اتنی گالیاں پوری زندگی میں نہ سنی ہوں گی۔ پتلے جلائے گئے تپش دہلی تک پہنچی، پانچوں درویش سرجوڑ کر بیٹھ گئے، کشیدگی کم ہونے لگی ہے حالات سازگار ہو رہے ہیں، سینیٹ میں احتجاج، قومی اسمبلی میں واک آؤٹ اور تلخ ترش بیانات شروع ہوگئے ہیں۔ آصف زرداری ٹھوڑی پر ہاتھ رکھے سوچ میں گم ہیں، حکومت گرانے کے سو حربے 101 طریقے لیکن کسی اشارہ غیبی کے منتظر باقی سیاستدان بھی بجلی کوندنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہلچل ہوگی تو بجلی گرائی جائے گی لیکن اگر حالات اسی طرح ناسازگار رہے تو کیا ہوگا؟ درویش اسی بات پر غور کر رہے ہیں، پتا نہیں مولا بخش چانڈیو کو کیسے احساس ہونے لگا ہے کہ حکومت کا خاتمہ پر سکون طریقے سے نہیں ہوگا۔


ای پیپر