خواتین کا عالمی دن
10 مارچ 2019 2019-03-10

8 مارچ خواتین کا عالمی دن ہے۔ پاکستان سمیت پوری دنیا میں اس دن کو منایا گیا۔ مختلف تقریبات منعقد کی گئیں۔ اہم حکومتی، سیاسی اور سماجی شخصیات نے اس دن کے حوالے سے بیانات جاری کیے اور اس بات کا اعادہ کیا کہ خواتین کی حالت کو بہتر بنانے کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ مگر تمام تر بیانات اور عزم کے باوجود خواتین کے حالات اور حقوق کے حوالے سے وہ بہتری نہیں آتی جو کہ آنی چاہیے۔

خواتین کا عالمی دن ہمیں یہ سوچنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم حقیقت پسندی سے خواتین کے حالات کا جائزہ لیں۔ اس دن خواتین اپنی کامیابیوں ، جدوجہد اور قربانیوں کو یاد کرتی ہیں۔ جشن مناتی ہیں اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہیں کہ جب تک تمام حقوق اور برابری حاصل نہیں ہو جاتی اس وقت تک وہ اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گی۔ یہ دن اس بات کی بھی یاد دلاتا ہے کہ خواتین کو آج جتنے بھی سیاسی، جمہوری، معاشی، قانونی اور ثقافتی حقوق حاصل ہیں یہ دراصل انہیں کسی نے پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیئے بلکہ انہوں نے یہ سب حقوق اپنی جدوجہد اور قربانیوں کے نتیجے میں حاصل کیے ہیں۔

خواتین کا عالمی دن دراصل ان عام خواتین کی کہانی ہے جنہوں نے تاریخ کو بنانے میں اہم ترین کردارا دا کیا۔ اس دن کی جڑیں خواتین کی صدیوں پرانی جدوجہد کی روایت میں موجود ہیں جنہوں نے مردوں کے شانہ بشانہ سماج کو بہتر بنانے کی جدوجہد میں شرکت کی۔ یہ عالمی سطح پر خواتین کی معاشی، سیاسی، ثقافتی اور سماجی کامیابیوں کو اجاگر کرنے اور منانے کا دن ہے۔

یہ دن وہ موقع ہوتا ہے جب ہم ماضی کی کامیابیوں کاجائزہ لیتے ہیں۔ تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہیں اور عام خواتین کی جرأت اور استقلال کو خراج تحسین کرتے ہیں۔ ان کے اس غیر معمولی کردار کو سراہتے ہیں جو انہوں نے اپنے ملکوں، سماجوں اور کمیونٹی کی حاصلات اور کامیابیوں میں ادا کیا۔

8 مارچ کا دن خواتین کی جدوجہد کی علامت ہے۔ یہ دن خاص طور پر محنت کش خواتین کی جدوجہد کی روایت کا امین ہے۔ اس دن نے 20 ویں صدی کے آغاز میں جنم لیا تو اس کا محنت کش طبقے اور سوشلزم کی تحریک سے گہرا تعلق تھا۔ خواتین کے حقوق کی جدوجہد نے محنت کش طبقے کی تحریکوں کے ساتھ ہی جنم لیا اور ان تحریکوں سے اس کا گہرا تعلق تھا۔ خواتین کے حقوق کی ابتدائی تحریکیں اور جدوجہد محنت کش عوام کی انقلابی تحریکوں کے ساتھ جڑی ہوئی تھیں اور یہ تحریکیں سماجی تبدیلی اور سماج کی ریڈیکل بنیادوں پر تعمیر نو کی جدوجہد کا حصہ تھیں۔

تاریخی طور پر یہ دن سرمایہ داری نظام اور خواتین پر جبر کے درمیان موجود تعلق کو اجاگر کرتا اور آج بھی اس کی اہمیت موجود ہے۔ سرمایہ دارانہ استحصال ، جبر، سیکس ازم، امتیازی سلوک، جنسی عدم مساوات اور سماجی ناہمواری آج بھی موجود ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں خواتین کو آج بھی مختلف قسم کی قدغنوں، پابندیوں اور سماجی تفریق ، رجعتی رسم و رواج اور قرون وسطیٰ کی روایات کا سامنا ہے۔ قدیم اور فرسودہ جاگیردارانہ اور قبائلی رسم و رواج آج بھی کئی ممالک میں موجود ہیں۔

کشمیر اور فلسطین میں نوجوان لڑکیوں اور خواتین کو قابض افواج کے ہاتھوں ظلم و جبر اور بربریت کا سامنا ہے۔ ان کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ آزادی کے اپنے جائز حق کے حصول کی تحریک اور جدوجہد کا حصہ ہیں۔ افغانستان، شام، یمن، لیبیا، عراق اور دیگر ممالک میں لاکھوں خواتین یا تو ہلاک ہو چکی ہیں یا پھر بے گھر ہو گئی ہیں۔ جنگوں یا خانہ جنگیوں کے نتیجے میں وہ نہ صرف جنسی تشدد کا نشانہ بنی ہیں بلکہ انہیں غربت، بھوک اور عدم تحفظ کا بھی سامنا ہے۔

خواتین کے عالمی دن نے احتجاج ، سیاسی تحرک اور سرگرمی کو وراثت میں پایا ہے۔ خواتین کے معاشی اور سماجی حالات نے انہیں مجبور کیا کہ وہ جدوجہد کے میدان میں اتریں اور اپنی تحریکوں کو منظم کر کے اپنے حالات کو بدلیں۔ 20 ویں صدی کی ابتداء میں صنعتی ممالک میں خواتین کی بڑی تعداد نے اجرتی مزدوری شروع کر دی تھی۔ وہ مختلف کارخانوں، فیکٹریوں اور کام کی جگہوں پر کام کر رہی تھیں۔ وہ زیادہ تر ٹیکسٹائل ، مینو فیکچرنگ اور گھریلو خدمات کے شعبوں سے وابستہ تھیں۔ ان شعبوں میں حالات کار بہت خراب تھے۔ تنخواہیں بہت کم تھیں اور انہیں کام بہت زیادہ کرنا پڑتا تھا۔ ان کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ جدوجہد کریں۔ خود کو منظم کریں اور متحد ہو کر اپنے حالات کار اور اجرتوں میں بہتری کے لیے میدان عمل میں نکلیں۔

خواتین کے عالمی دن کی بنیاد1908ء میں گارمنٹس کی خواتین محنت کشوں کی 11 ہفتوں پر محیط طویل ہڑتال اور جدوجہد بنی۔ خواتین محنت کشوں نے نیو یارک میں اوقات کار میں کمی ، تنخواہوں میں اضافے اور حالات کار میں بہتری کے لیے گارمنٹس فیکٹریوں میں ہڑتال کی۔

انہوں نے اپنی جرأت، مستقل مزاجی ، بلند حوصلے اور استقامت کی بدولت فتح حاصل کی۔ اس فتح کی یاد میں 1909ء میں امریکہ کی سوشلسٹ پارٹی نے قومی سطح پر خواتین کے دن کے طور پر مارچ منظم کرنے کا اعلان کیا۔ نیو یارک میں ہونے والے مارچ نے تنخواہوں میں اضافے، بہتر حالات کار اور خواتین کے لیے ووٹ کے حق کا مطالبہ کیا۔ نیو یارک کی گارمنٹس فیکٹریوں میں کام کرنے والی خواتین محنت کشوں کی ہڑتال اور جدوجہد امریکہ کے محنت کشوں کی تاریخ کی اہم ترین ہڑتال اور جدوجہد تھی۔

اس جدوجہد کی یاد میں 1910ء میں خواتین کی عالمی سوشلسٹ کانفرنس میں جرمن انقلابی خاتون راہنما کلارا زٹیکن کی تجویز پر خواتین کا عالمی دن منانے کا فیصلہ کیا۔ یہ کانفرنس کوہن ہیگن (ڈنمارک) میں منعقد ہوئی۔ روس کا 1917ء کا انقلاب بھی دراصل خواتین کے عالمی دن کے موقع پر خواتین محنت کشوں کی ہڑتالوں اور مظاہروں سے شرو ع ہوا تھا۔ محنت کش خواتین نے جنگ اور بڑھتی ہوئی اشیائے ضرورت کی قیمتوں کے خلاف ہڑتالیں اور مظاہرے منظم کیے۔ اس ہڑتالی تحریک کا بنیادی نعرہ روٹی اور امن تھا۔ یہ تحریک بہت جلد پورے ملک میں پھیل گئی۔ اس تحریک کے نتیجے میں زار روس کی آمرانہ حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور روس میں انقلاب کی ابتداء ہوئی جو کہ اکتوبر 1917ء میں دنیا کے پہلے مزدور انقلاب کی صورت میں مکمل ہوا۔ خواتین کا عالمی دن جدوجہد، قربانی اور جرأت کی روایت ہے۔ یہ دکھ، تکلیف، غم ، بے بسی اور مصائب کو اپنی طاقت اور مضبوطی بنانے کی روایت ہے۔ 8 مارچ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ خواتین کی برابری، تمام تر امتیازات اور مکمل حقوق کے حصول کی جدوجہد دراصل محنت کش خواتین کی جدوجہد، تحریک اور تحاد کے بغیر ممکن نہیں۔ پاکستان کی خواتین نے کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ ان کی جدوجہد اور قربانیوں کی طویل تاریخ ہے مگر ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ خواتین نے قومی آزادی کی تحریکوں، محنت کش طبقے کی انقلابی تحریکوں، جنگ مخالف امن تحریک ، آمریتوں اور غیر جمہوری حکومتوں کے خلاف جمہوریت کی تحریکوں اور بنیادی انسانی حقوق کی تحریکوں میں جو کہ 20 ویں صدی میں برپا ہوئیں۔ خواتین نے کلیدی کردار ادا کیا۔ خواتین، امن، برابری ، جمہوری حقوق اور انقلابی تبدیلی کے لیے لڑیں۔ 8 مارچ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جدوجہد ابھی جاری ہے ختم نہیں ہوئی۔


ای پیپر