نریندر مودی کو سزا دیں
10 مارچ 2019 2019-03-10

آجکل بھارتی میڈیا میں نریندر مودی صاحب کے بیان کی گونج سنائی دے رہی ہے کہ اگر بھارت کے پاس رافیل طیارے ہوتے تو پاکستان کے ساتھ جنگ کے نتائج مختلف ہوتے۔ یہ رافیل طیارے اور رافیل سکینڈل کیا ہے اور یہ کیوں اب تک بھارتی فضائیہ میں شامل نہیں ہو سکے۔ آئیے ایک جائزہ لیتے ہیں۔

31 جنوری 2012ء کو بھارتی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ بھارت فرانس سے126 ڈیسالٹ رافیل لڑاکا طیارے خریدے گا۔ اس معاہدے کے تحت فرانسیسی کمپنی ڈیسالٹ ایوی ایشن نے 18 لڑاکا طیارے مکمل تیار کر کے بھارت کو دینے تھے اور باقی 108 طیارے بھارت کے سرکاری ادارے ہندوستان ایروناٹکس لمیٹدااورفرانسیسی کمپنی ڈیسالٹ ایوی ایشن کے اشتراک سے بھارت میں تیار ہونے تھے۔ اس معاہدے میں یہ بھی طے ہوا کہ ڈیسالٹ ایوی ایشن جنگی جہاز بنانے کی ٹیکنالوجی بھارت منتقل کرے گی۔ معاہدے کی شرائط اور طریقہ کار طے کرنے کے لیے مذاکرات شروع ہوئے۔ 2014ء آگیا لیکن معاملات طے نہ ہو سکے۔اس ڈیل کے بعد ہندوستان دفاعی سامان درآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بن گیا ۔یہاں تک سب کچھ اصولوں کے مطابق چل رہا تھا۔لیکن اس کے بعد جو ہوا اس نے مودی حکومت کو جڑ سے ہلا دیا۔

طیاروں کا بجٹ دو گنا بڑھ گیا۔ مودی حکومت نے فیصلہ کیا کہ وہ 126 طیاروں کی بجائے مکمل تیار شدہ صرف 36 ڈیسالٹ رافیل طیارے خریدیں گے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے 36 طیاروں کی خریداری کے لیے10 اپریل 2015ء میں فرانس کا دورہ کیا۔ اس دورے میں انیل امبانی ان کے ساتھ تھے۔ انیل امبانی نے نریندر مودی کے فرانس جانے سے 13دن پہلے ریلائنس ڈیفنس کے نام سے نئی کمپنی بنا لی حالانکہ انیل امبانی کی کسی بھی کمپنی نے آج تک جہاز نہیں بنائے تھے۔ معاہدہ ہونے کے اگلے دن بھارتی کانگریس پارٹی کے ترجمان منیش تیواری نے انیل امبانی کی سرکاری معاہدے کے دوران موجودگی اور خریداری کے طریقہ کار پر سوالات اٹھا دیے۔ انھوں نے الزام لگایا کہ مودی سرکار نے رافیل طیارے تین گنا مہنگے خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے سے انیل امبانی کو فائدہ ہوا ہے۔ انیل امبانی نے وضاحت دی کہ وہ بزنس مین کی حیثیت سے اجلاس میں شامل ہوئے۔ڈیفنس منسٹر نرملا سیتا رمن نے معاہدے کو صاف اور شفاف قرار دیا اور ائیر چیف مارشل برندر سنگھ نے خریداری کو قانونی اور شفاف قرار دے دیا۔کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے معاہدے کو عوام کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ کیا جسے مودی سرکار نے ماننے سے انکار کر دیا۔ مودی سرکار نے بہانہ بنایا کہ رافیل ڈیل میں ملکی راز افشا ہونے کا خدشہ ہے لہذا قومی سلامتی کے پیش نظر بھارتی حکومت رافیل ڈیل اسمبلی میں پیش نہیں کر سکتی۔

یہ کشمکش ابھی عروج پھر تھی کہ اگست 2018ء میں سابق فرانسیسی صدر فرانسس اولاند نے فرانسیسی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ‘‘بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے انیل امبانی کے ریلائینس گروپ کے ساتھ طیاروں کی ڈیل کرنے پر زور دیا۔’’اس کے بعد انھوں نے یہ بیان بھارت کے NDTV پر بھی دیا۔ فرانسس اولاند کا یہ بیان مودی سرکار پر بم بن کر گرا۔ میڈیا نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور اپوزیشن جماعت کے صدر راہول گاندھی کے بیانیے کو تقویت مل گئی۔

اس کے علاوہ میڈیا پر یہ رائے بن چکی ہے کہ مودی سرکار رافیل سکینڈل میں مجرم ہے اور نریندر مودی نے اپنے دوست انیل امبانی کو اربوں روپوں کا فائدہ پہنچایا ہے اور رافیل طیارے اربوں روپے اضافی قیمت پر خریدے گئے ہیں۔''میرا وزیراعظم چور ہے''کئی دنوں تک راجیو گاندھی کا یہ نعرہ انڈیا ٹویٹر کا ٹاپ ٹرینڈ رہا ہے۔

معاملے کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے سپریم کورٹ میں رافیل طیاروں کی خریداری کے خلاف درخواست دا ئر کی گئی۔سپریم کورٹ آف انڈیا نے رافیل منصوبے کو صاف اور شفاف قرار دے دیا۔ اپوزیشن نے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیا۔ اپوزیشن کا موقف ہے کہ مودی سرکار نے جھوٹے کاغذات سپریم کورٹ میں جمع کروائے ہیں۔ جب معاملہ طول اختیار کر گیا تو اٹارنی جزل نے سپریم کورٹ میں بیان دیا کہ رافیل معاہدے کے کاغذات وزارت دفاع سے چوری ہو گئے ہیں۔ الیکشن سے دو ماہ قبل مودی سرکار کے سب سے بڑے کرپشن سکینڈل کے کاغذات چوری ہو جانے کے بیان نے سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ کہیں مودی سرکار نے یہ چوری خود تو نہیں کروائی؟ کیونکہ بڑے کرپشن سکینڈلز میں ریکارڑ کا جل جانا یا چوری ہو جانا سرکاری سطح پر ایک معمول کی بات ہے اور ہندوستان پاکستان جیسے ممالک میں سرکاری ریکارڑ د کا عین الیکشن سے پہلے جل جانا یا چوری ہو جانا دراصل ایک سازش کے تحت ثبوت ختم کرنے کا پرانا آزمایا ہوا کارآمد طریقہ ہے۔ لہذا رافیل طیارے اگر خرید لیے جاتے تو بظاہر پاکستان کی صحت پر تو کوئی اثر نہ پڑتا لیکن مودی سرکار کی جیب ضرور بھاری ہو جاتی۔

ان حالات کے پیش نظر مودی حکومت کے پاس دوبارہ حکومت بنانے کا صرف ایک ہی نعرہ ہے اور وہ نعرہ پاکستانی دشمنی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ 2013ء کے بھارتی الیکشن میں بھی مودی سرکار کا یہی نعرہ تھا جو کامیاب ہوا تھا لیکن امید ہے کہ اب بھارتی عوام اس دھوکے میں نہیں آئیں گے اور جس نے ان کے پیسوں میں خیانت کی اسے اس کی سزا ضرور دیں گے۔


ای پیپر