عوام کی آخری امید دھندلانے لگی؟
10 مارچ 2019 2019-03-10

ملک کے سب سے بڑے صوبے کے سر براہ عثمان بزدار اب باقاعدہ بیانات جاری کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کے بیانات سے عوامی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے۔ کہ وزیر اعلیٰ اب روایتی طرز حکومت اختیار کرنے جا رہے ہیں کہ لوگوں کو خوش کن جملوں سے محظوظ کیا جائے ان کی نفسیات سے کھیل کر انہیں اطمینان قلب مہیا کیا جائے وجہ اس کی وہ یہ بتاتے ہیں کہ خزانے میں تو ہے کچھ نہیں اور جو ہے وہ معیشت کو دھکا لگانے کی حد تک ہے لہٰذا انہوں نے بھی پچھلی حکومتوں کی طرح کی مخصوص حکمت عملی کو اپنا کر ڈنگ ٹپانے کا فیصلہ کیا ہے؟

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس وقت وطن عزیز کو ایک معاشی بحران کا سامنا ہے اس کا سماجی ڈھانچہ بھی کمزور پڑ چکا ہے۔ بے چینی و بے قراری روز بروزبڑھتی جا رہی ہے مگر اس حوالے سے حکومتی اقدامات نہیں کیے جا رہے ہیں بس پیسے کی کمی کا رونا رویا جا رہا ہے ابھی تک گزشتہ حکومت کی تقاریر و بیانات یاد کر ا کر عوام کو الجھانے و لبھانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ قصور وار نہیں جبکہ سات ماہ ہونے کو ہیں مگر حکوت کی سمت کا واضح طور سے تعین نہیں ہو سکا کہ وہ کرنا کیا چاہتی ہے اور جو دکھائی دیا ہے وہ یہ کہ عوام میں موجود تھوڑی بہت سکت ہے اسے بھی ختم کرنے کا ارادہ ہے کہ اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ آکاس بیل کی مانند بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ بے روز گاری بھی اسی طرح بڑھ رہی ہے ۔ اداروں کے ملازمین و کارکنان خوفزدہ ہیں انہیں ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں فارغ ہی نہ کر دیے جائیں ۔اظہار رائے کی آزادی پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ عرض کرنے کا مقصد کہ پی ٹی آئی کی حکومت تو آسیں امیدیں لیکر آئی تھی، عوام کو ان کے بنیادی حقوق دلانے آئی تھی مگر اب تک کے مطابق وہ مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے۔ لہٰذا عثمان بزدار بیانات سے اپنے عوام کا دل نہیں بہلا سکتے یہ وہ بہت سن چکے انہیں اگر واقعی کچھ کرنا ہے تو خاموشی سے کر گزریں!

میں دو تین بار کہہ چکا ہوں کہ صوبہ پنجاب میں بالکل کچھ نہیں بدلا ویسے کا ویسا ہے۔ سرکاری محکموں میں اندھیر مچا ہوا ہے۔ ناجائز تجاوزات کے رجحان میں زرہ بھر بھی کمی نہیں دیکھی گئی، قبضہ مافیا قطعی قانون کا احترام نہیں کرتا، عوام کو ڈرانے دھمکانے والا عنصر جوں کا توں موجود ہے۔!

در اصل اس سب کی ذمہ دار پی ٹی آئی کی قیادت ہے کیونکہ وہ براہ راست انتظامی معاملات چلا رہی ہے اور اسے سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ درپیش مسائل سے کیسے نمٹے جو بھی اسے مشورہ دینا چاہتا ہے اسے وہ یکسر نظر انداز کر دیتی ہے۔ میڈیا کو وہ اپنا حریف تصور کر رہی ہے جس نے اسے سماج کا آئنہ دکھانا ہوتا ہے۔ مگر وہ پروا ہی نہیں کرتی بلکہ اس کے بعض عہدیدار یہ کہتے ہیں کہ ذرائع ابلاغ کچھ بھی کہیں وہ پریشان نہیں ہو گی ۔ فوٹو سیشن کیے جا رہے ہیں یعنی دکھاوے کی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ مکرر عرض ہے کہ اگر حکومت انتظامی پہلوؤں پر توجہ دے تو اس کو پچاس فیصد مسائل سے نجات مل سکتی ہے مگر مجال ہے وہ ٹس سے مس ہو الٹا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ بیورو کریسی اس کا ساتھ نہیں دے رہی اس نے بیورو کریسی کو اعتماد میں کب لینا ہے اور اگر اسے یہ معلوم ہے کہ وہ اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے تو وہ قانونی کارروائی کیوں نہیں کر رہی۔ ناچ نجانے آنگن ٹیڑھا والی صورت حال ہے شاید اسے اقتدار میں آنے کا شوق تھا سو وہ آ گئی مگر عوام کی خواہشات کو ملحوظ خاطر رکھنا اس کے نزدیک لازمی نہیں لہٰذا ایک اضطراب ہے جو ہر لمحہ بڑھتا جا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ اب لوگوں نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ صدر ایوب کا دور بہت بہترتھا کہ اس میں ترقی بھی ہو رہی تھی اور سہولتیں بھی ملنا شروع ہو گئی تھیں۔ اس سے مراد ان کی یہ ہے کہ پارلیمانی نظام نے انہیں مایوس کیا ہے لہٰذا ملک میں صدارتی جمہوری نظام حکومت ہونا چاہیے۔ مگر بعض دانشور اس سے اتفاق نہیں کرتے۔

چند روز پہلے جب فاروق امجد میر سابق پی پی رہنما سے ایک ملاقات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ ملک کو پارلیمانی نظام ہی کی ضرورت ہے اگرچہ اس میں خرابیاں ہیں اور عوام کے نمائندے ان سے چشم پوشی بھی اختیار کرتے ہیں اور اپنی تجوریوں کا بھی خیال رکھتے ہیں اس کے با وجود اس عمل کو آگے بڑھنا چاہیے۔ جہاں یہ نظام رائج ہے وہاں بتدریج عوام کی حالت بدل رہی ہے ان کے حقوق کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔ لہٰذا اس میں اصلاحات کی ضرورت ہے اس سے انحراف نہیں کرنا چاہیے وہ انقلاب کے بارے میں کہہ رہے تھے کہ یہ یہاں نہیں آ سکتا اور نہ ہی ہمارا ملک اس کا متحمل ہو سکتا ہے۔ لہٰذا پارلیمانی جمہوریت کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرنا چاہیے حالات آہستہ آہستہ ٹھیک ہوتے جائیں گے۔!

سوال مگر یہ ہے کہ عوامی نمائندے اور عوامی حکومتیں تہیہ تو کریں کہ انہیں عوام کی خدمت کرنا ہے اور اس ے اپنے لیے نرم گوشہ پیدا کرنا ہے تاکہ حقیقی جمہوریت کا قیام عمل میں لایا جا سکے مگر افسوس اس بات کا ہے کہ وہ مسائل سے دو چار عوام کو بھول جاتی ہیں اور خود کو سامنے رکھتے ہوئے حکمرانی کے فرائض ادا کرتی ہیں جس سے مایوسی پھیلتی ہے اور عوام کسی دوسرے نظام کی خواہش کرنے لگے ہیں؟

بہر حال یہ بھی حقیقت ہے کہ جوں ہی کوئی ایک حکومت بنتی ہے حزب اختلاف لٹھ لے کراس کے پیچھے پڑ جاتی ہے ادھر عالمی مالیاتی ادارے شرائط کے ساتھ اس کے سامنے آن کھڑے ہوتے ہیں اور وہ ان سب کو ہکا بکا تکتی ہے اور اس سوچ میں پڑ جاتی ہے کہ وہ کرے تو کیا لہٰذا ہونا یہ چاہیے کہ فریقین مل کر عوام کے دکھوں کو ختم کرنے کی کوشش کریں کیونکہ دونوں ہی ان کے لیے تڑپتے ہیں اور آہیں بھرتے ہیں پھر کیوں وہ ایک دوسرے کو نیچا دکھاتے ہیں کیوں آپس میں الجھے ہیں۔ انہیں اس وقت تو اتحاد کی اشد ضرورت ہے کہ وطن عزیز کو چاروں طرف سے خطرات لاحق ہیں بھارت تو جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ اس سے یہاں ہونے والی متوقع سرمایہ کاری ہضم ہی نہیں ہو رہی۔ مگر مودی سرکار جنگی ماحول جنم دے کر کامیاب نہیں ہو سکے گی اس کا مکروہ چہرہ پوری دنیا دیکھ رہی ہے وہاں کے عوام بھی اچھی طرح سے دیکھ رہے ہیں۔لہٰذا ہمیں محبت و یگا نگت کا عملی مظاہرہ کرنا چاہیے۔ بات وزیر اعلیٰ پنجاب سے شروع ہوئی تھیں کہ وہ بھی روایتی ہوتے جا رہے ہیں انہیں مختلف نظر آنا چاہیے کیونکہ پی ٹی آئی نئے پاکستان کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئی ہے ان کی قیادت کا بھی فرض ہے کہ وہ عوامی امنگوں کو کسی صورت نظر انداز نہ کرے کیونکہ وہ لوگوں کی آخری امید ہیں!


ای پیپر