10 مارچ 2019 2019-03-10

میں نے جامعہ نعیمیہ میں مدارس دینیہ اور قومی تعلیمی پالیسی کے موضوع پر فکری نشست کے دوران سوچا ، ایک مقدمہ مدارس پر ہے اور دوسرا مقدمہ مدارس کا ہے۔ مدارس پر مقدمہ یہ ہے کہ یہ فرقہ واریت کو ہی فروغ نہیں دیتے بلکہ دہشت گردی کے کارخانے بھی رہے ہیں۔ نائین الیون کے بعد اسی مقدمے پر کام ہو رہا ہے مگر دوسری طرف مدارس کا مقدمہ کیا ہے اسے لڑنے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے ، مدعی بھی نہیں۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ جامعہ نعیمیہ جیسے مدارس جو فکری مغالطو ں اور ابہاموں سے بالاتر ہیں، اس سلسلے میں اپنا کردارادا کر سکتے ہیں مگر ٹھہرئیے جس جامعہ نعیمیہ کا چہرہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلا ف جنگ میں امن کی خاطر شہید پاکستان علامہ سرفراز احمد نعیمی کے لہو سے روشن ہے وہیں اسی درسگاہ میں سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کو بلا کے انہیں جوتا بھی مارا گیا تھا، یہ بھی تو انتہا پسندی ہے، یہ بھی تو دہشت گردی ہے، ڈاکٹر راغب نعیمی کو اپنے دادا مفتی پاکستان مفتی محمد حسین نعیمی اور اپنے والد شہید پاکستان علامہ سرفرا ز نعیمی شہید کے راستے پر چلتے ہوئے اس سوچ کا قلع قمع کرنا ہے جن کی یاد میں آج بالترتیب اکیسواں اور دسواں سالانہ سیمینار اور عرس منعقد ہو رہا ہے اور میرے خیال میں یہ نوجوان قیادت اتنی باصلاحیت اور مدبر ہے کہ وہ ایسا کر سکتی ہے۔

بات مدارس کے مقدمے او رمدارس پر مقدمے کی ہے، جب ہم مدارس کی بات کرتے ہیں تویوں لگتا ہے کہ ہم دو متحارب گروہوں میں تقسیم ہو گئے ہیں، جو مخالف ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مدارس ہی پسماندگی اور انتہا پسندی سمیت تمام معاشرتی برائیوں کی جڑ ہیں مگر وہ اس امر کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ یہی مدارس محمد عربی کے دین کے محافظ اور تسلسل کی ضمانت ہیں، یہ مدارس نہ ہوں تو دین دشمنوں اور منافقوں کے ہاتھوں کھلواڑ بن کے رہ جائے۔ مدرسے کے ایک طالب علم نے بہت طنزیہ انداز میں پوچھا، دہشت گردوں کوبنیاد بنا کے مدارس کے خلاف کارروائی اور انہیں بند کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو کتنے ہی دہشت گردپروفیشنل یونیورسٹیوں سے پکڑے گئے، ان کو بند کرنے کا مطالبہ کیوں نہیں ہوتا۔ یہ سوال ظاہر کرتا ہے کہ تقسیم صرف دنیا اور دین کے علوم میں ہی نہیں بلکہ ان کے پڑھنے والوں کے درمیان بھی بہت واضح ہے۔ایجوکیشن یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر روفِ اعظم نے کتابی جواب دیا کہ جب تک ہم اس تقسیم میں رہیں گے کہ ہمارے خلاف سازش ہو رہی ہے اور سازش کرنے والے اغیار ہیں تو ہم کسی بھی مسئلے کو حل نہیں کر سکیں گے مگر ایشو یہی ہے کہ جدید دنیاوی تعلیم سے آراستہ طبقہ دینی طبقے کو اپنا دشمن سمجھتا ہے تو دینی طبقہ کون سا امن اور صلح کے پرچم لہراتا پھر رہا ہے، وہ بھی یہی سمجھتا ہے اور ڈنکے کی چوٹ پر نجانے کون کون سی مثالوں کے ذریعے ثابت کرتا ہے کہ ہمارے حکمران امریکا اور یورپ کے ایجنٹ ہیں۔ جب دونوں طرف سے سوچ یہ ہوگی تو پھر یقینی طور پر لڑائی ہی ہو گی اور دونوں اطراف مسئلے کو حل کرنے بارے سوچا بھی نہیں جا سکے گا۔ دنیاوی تعلیم اور طاقت والے مسئلے کا یہی حل سمجھیں گے کہ دینی تعلیم کے اداروں کو جتنا دبایا جا سکتا ہے، دبا دیا جائے اور دینی تعلیم والے مزاحمت کی طرف نکل جائیں گے۔

دینی مدارس کی حالت پرویز مشرف کے دور سے ہی بہت پتلی ہے۔ ڈاکٹر راغب نعیمی بتا رہے تھے کہ کسی بینک میں کسی دینی مدرسے کا اکاو¿نٹ نہیں کھل سکتا۔ دینی مدارس کو عطیات دینے والوں پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے اور پوچھا جاتا ہے کہ یہ عطیات کہاں سے آئے اوردینے والے نے کہاں سے کمایا مگر یہ بات عطیہ کرنے والے سے کیسے پوچھی جا سکتی ہے کہ وہ اس کی کمائی کے ذرائع کیا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مدارس کی رجسٹریشن کے لئے تین وزارتیں آپس میں مقابلے میں ہیں، وزارت مذہبی امور کہتی ہے کہ دینی مدارس اسی کا موضوع ہیں لہٰذا رجسٹریشن کا اختیار بھی اس کے پاس ہی ہونا چاہئے جبکہ وزارت تعلیم کا کہنا ہے کہ دینی مدارس میں تعلیم دی جاتی ہے لہٰذا ان کا کنٹرول اس کے پاس ہونا چاہئے مگر ایک تیسری طاقت ور وزارت ، وزارت داخلہ ہے جو دہشت گردی اور امن و امان کو بنیاد بنا کے دینی مدارس کی رجسٹریشن کا رجسٹر اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے مگر دلچسپ امر یہ ہے کہ اس وقت تک دینی مدارس اور مساجد کو جو وزارت رجسٹرڈ کر رہی ہے وہ صنعتوں کی ہے یعنی منسٹری آف انڈسٹریز ہے اور اس میں مزید دلچسپ امر یہ ہے کہ انڈسٹریز کی ڈپیارٹمنٹ ، انڈسٹریز سے کہیں زیادہ، مدارس کی رجسٹریشن اور ان کی تجدید میں روڑے اٹکاتی ہے ، مسجد اور مدرسے کی رجسٹریشن کے لئے بھی ہزاروں روپے رشوت لی جاتی ہے حالانکہ انہی مدارس میں پڑھایا جاتا ہے کہ رشوت لینے اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں۔ مساجد اور مدارس کی رجسٹریشن اسی طرح مشکل اور ناممکن ہے جس طرح پیمرا سے مذہبی چینل کا لائسنس لینا اور اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ریاست اسلام کے ان محافظوں اور نام لیواو¿ں سے خوفزدہ ہے۔

اگر یک طرفہ طور پر دیکھا جائے تو مدارس او رمساجد کی بہت ساری شکایات جینوئن نظر آتی ہیں مگر سوال تو یہی ہے کہ اگر ریاست مدارس کا آڈٹ کرنا چاہتی ہے تو اسے چاہئے کہ وہ مدارس کے بینک اکاونٹ کھولے تاکہ علم ہو کہ کتنی ٹرانزیکشنز ہو رہی ہے ، روپے کہاں سے آ رہے اور کہاں جا رہے ہیں اور اگر آپ اس معاملے کونقد اور افراد کے درمیان لین دین پر چھوڑ دیں گے تویقینی طور پر بہت سارے لنکس مس کر دیں گے۔د وسری بات یہ ہے کسی دینی مدرسے کو کس نے کتنا عطیہ دیا اور یہ رقم کہاں سے آئی، اس کا جواب اسی طرح جائز اور لازم ہے جس طرح کسی بھی رقم لینے والے کے لئے ہو سکتا ہے۔ یہ ملکی قوانین کا معاملہ ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ پرویز مشرف کے دور میں اعجاز الحق نے بطور وزیر مذہبی امور اس پر بات چیت شروع کی مگر وہ درمیان میں ہی رہ گئی، نجانے حکومت ہچکچا رہی تھی یامدارس والوں کے دلوں میں کچھ کھوٹ تھا یہ اللہ بہتر جانتا ہے مگر بعد کی حکومتوں میں بھی بڑی بڑی داڑھیوں ، عماموں اور جبوں والے وزیر بنتے رہے مگر انہوں نے مدارس کے معاملات کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ حالات یہ ہیں کہ ہمیں ان مدارس کی درست تعداد بھی موجود نہیں ، کوئی پچیس لاکھ بتاتا ہے کوئی تیس تو کوئی پینتیس ہزار، جب مدارس کی اصل تعداد کا ہی علم نہیں تو طالب علموں کی تعداد کا کیسے اندازہ ہوسکتا ہے۔ سونے پر سہاگہ، مدارس کے تمام بورڈ اپنا نصاب خود ہی تشکیل دیتے ہیں، جو چاہتے ہیں اس میں داخل کر لیتے ہیں اور جو چاہتے ہیں وہ نکال دیتے ہیں ،یہاں حکومت کی عدم توجہی بے حد خطرناک ہے۔ یہ عدم توجہی اس حد تک ہے کہ ہمیں قومی اور صوبائی سطح پر سامنے آنے والی کسی بھی تعلیمی پالیسی میں مدارس کا کوئی باقاعدہ ذکر نہیں ملتا اور اگر کوئی ذکر ہے بھی تو وہ گا، گی اور گے کے اندر پھنسا ہوا ہے۔

کیا آپ مدارس کے وجود کو ختم کر سکتے ہیں جو لاکھوں پاکستانی بچوں کو نہ صرف تعلیم بلکہ ان کی بڑی تعداد کو بورڈنگ کی سہولیات بھی فراہم کر رہے ہیں۔ ہم مذہبی انتہا پسندی کو ایک خطرہ سمجھتے ہوئے نیشنل ایکشن پلان بنانے کے باوجود ان مدارس کی رجسٹریشن، نصاب اورقومی تعلیمی پالیسی میں جگہ کا تعین نہیں کر سکے اور شائد اس کی وجہ دینی مدارس کا ان دیکھا اور ان جانا خوف ہے۔ میں سو فیصد یقین رکھتا ہوں کہ کوئی بھی ریاست ان مدرسوں اور اداروں کو ختم نہیں کر سکتی تو پھر ان سے مکالمہ ہونا چاہئے اور انہیں قومی دھارے میں اسی طرح لایا جا سکتا ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی اور بجٹ مرتب کرتے ہوئے ان کے لئے فنڈز مختص کئے جائیں ، ان کی رجسٹریشن اور آڈٹ کا فول پروف نظام بنایا جائے اور نصاب کے سلسلے میں بھی مادر پدر آزادی نہ دی جائے مگر یہ بات لڑائی اور چڑھائی سے ممکن نہیں، ہاں، باہمی افہام و تفہیم اور مکالمے سے ضرور ہو سکتی ہے۔اس کا آغاز کون کرے گا؟


ای پیپر