10 مارچ 2019 2019-03-10

ایک دانشور کا قول ہے:

”جب تک جسم میں لذت کوشی، غصہ، غرور، کینہ، حسد اور دنیاسے لگاﺅ کی کانیں موجود ہیں، عالم اور جاہل ایک سے ہیں۔“

بات دل کو لگتی ہے، واقعتاً خواہشات نفسانی کے دم سے دل اِن بیماریوں کا گھر بن جاتا ہے اور خواہشاتِ نفسانی اور اللہ، اکٹھے نہیں ہوسکتے بالکل ایسے جیسے رات اور دن ایک مقام پر کبھی اکٹھے نہیں ہوسکتے۔

کیا علم کسی ڈگری کا نام ہے، نہیں ہرگز نہیں۔ ہمارے بیشتر تعلیمی ادارے ڈگریاں بنانے یا بانٹنے کی فیکٹریاں بن چکے ہیں۔ عوام بھی علم کے بجائے، ”برانڈ“ تعلیمی اداروں کے جھانسے میں آئے ہوئے ہیں۔ غریب اور سفید پوش بھی اپنے بچے کو ایک ایسے تعلیمی ادارے میں داخل کرانا چاہتے ہیں جو معاشرے میں ”سٹیٹس سمبل“ بن چکا ہو ان میں بعض تو بالکل ”اونچی دکان پھیکا پکوان“ کی طرح ہیں۔ ان کی فیسیں اور دیگر اخراجات ایک عام آدمی افورڈ ہی نہیں کرسکتا، مگر ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو نامی گرامی اور انہی برانڈڈ تعلیمی اداروں کے لیے اپنا سب کچھ داﺅ پر لگادیتے ہیں اور اپنا بچہ انہی اداروں میں داخل کرانے کی بھاگ دوڑ میں رہتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل بڑے بڑے ایسے اداروں کی ماہانہ فیس کم کرنے کے لیے باقاعدہ عدالتِ عالیہ کو نوٹس لینا پڑا۔ اور 5ہزار روپے ماہانہ سے زائد فیس نہ لینے کے احکامات صادر کیے۔ والدین خوش ہوئے مگر پھر انہی مہنگے تعلیمی اداروں کے مالکان نے والدین کو قائل کیا کہ ہم عدالت کی حکم عدولی نہیں کرسکتے، یعنی ماہانہ فیس تو وہی لی جائے گی جس کا حکم عدالت نے دیا مگر اتنی تھوڑی ماہانہ فیس سے ہمارے ادارے کے اخراجات اور کوالیفائیڈ اساتذہ کی تنخواہیں پوری نہیں ہوسکتیں لہٰذا فیس کے علاوہ باقی ” پوشیدہ اخراجات“ کی مد میں بھی پرانی وصولی جاری رکھی جائے گی۔ شنید ہے کہ اب والدین بھی طوعاً کرہاً ان کی باتوں میں آکر وہی ماہانہ رقوم ادا کررہے ہیں۔ پڑھائی کے لیے یا اعلیٰ گریڈکے لیے پھر بھی بچوں کو الگ سے اکیڈمیز اور ٹیوشن مراکز کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ حکومت تعلیم کو سستا معیاری اور ہر شہری کے لیے لازمی کرنے کی حامی ہے مگر تعلیم کے سوداگر یا تاجر حضرات ”خدمت“ کو کاروبار سمجھتے ہوئے لوگوں کی کھال اتارنے میں مصروف ہیں۔ یوں قدرے معیاری درس گاہوں میں کوئی مڈل کلاس شخص اپنا بچہ داخل ہی نہیں کراسکتا۔

میرا ذاتی ایک خواب تھا کہ ایک ایسا تعلیمی ادارہ قائم کیا جائے جہاں معمولی فیس ہو بلکہ نادار اور مستحق بچوں کو مفت تعلیمی سہولیات میسر ہوں۔ اس تعلیمی ادارے میں بچوں کی رہائش بھی ہو۔ بچہ سکول میں داخل ہو تو اس کے رات دن اسی تعلیمی ماحول میں بسرہوں۔ اسے معاشرے کے ”آلودہ“ ماحول سے بچا کر اس کی تربیت اور تہذیب کا بندوبست کیا جائے۔ والدین بھی انہیں وہےں آکر ملیں۔ یا بہت کم دنوں کے لیے اسے چھٹیوں میں گھربھیجا جائے۔ اس ادارے میں سائنس کے ساتھ ساتھ ہمارے مشرقی علوم وفنون کی تعلیم بھی دی جائے۔

اگلے روز مجھے اپنے اسی خواب کی تعبیردیکھنے کا موقع مل گیا۔ ڈاکٹر شاہد رشید ایک ”ماڈرن صوفی“ ہیں وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ مقابلے کا امتحان پاس کرنے کے باوجود انہوں نے سول سروس کو خیرباد کہہ کر ایک ایسی درس گاہ کی بنیاد رکھ دی ہے جو بلاشبہ مجھے ایک ” درگاہ“ کی صورت دکھائی دی۔ میں ان ننھے طلبا سے مل کر بہت خوش اور مطمئن ہوا کہ یہاں ملک بھر کے پسماندہ علاقوں سے بھی طلبا موجود تھے۔ سندھ کے علاقے بدین، سے لے کر بالاکوٹ، اور بلوچستان سے بھی نمائندگی نظر آئی۔ ڈاکٹر شاہد نے اپنے مستقبل کو داﺅ پر لگاکر آنے والی نسلوں کے لیے خود کو وقف کردیا ہے۔ اور صرف پچیس تیس بچے اس درگاہ میں فنون سے آراستہ ہورہے ہیں پہلی اور دوسری کلاس سے اس درس گاہ کا آغاز کیا گیا ہے۔ بچوں کے لیے رہائشی کمروں میں بہترین سہولیات کے ساتھ مانسہرہ سے ایک بہترین کک یہاں موجود ہے یہ نیک سیرت بزرگ بچوں کے لیے حفظان صحت کے عین مطابق خوراک تیار کرتا ہے۔ ناشتہ ، دوپہر کا کھانا ، فروٹ اور پھر دودھ ہرطالب علم کو دیا جاتاہے۔ جسمانی نشوونما کے لیے انسٹرکٹر موجود ہے جو جوڈو کراتے تک سکھا رہا ہے۔ کمپیوٹر کی تعلیم کے علاوہ علوم و فنون کے لیے قابل محنتی اساتذہ دستیاب ہیں۔ بچوں کو باادب بنانے کی کاوشیں بھی دیدنی ہیں۔ اتنے چھوٹوں بچوں کو بیت بازی میں معیاری اشعار سناتے دیکھ کر دل مسرت سے بھرگیا۔ یہی نہیں انہیں شعراءکے نام اور اشعار کے معنی بھی آتے ہیں۔ اور تو اور صوفیا کا کلام بھی ازبر ہے۔ پھولوں کا یہ گوشہ دیکھ کر میں حیران رہ گیا کہ اسی لاہور میں ایک ایسا چمن آباد ہے جہاں اس قوم کی وہ ”پنیری “ تیار ہورہی ہے جو مستقبل میں اخلاق و کردار کا پیکر اور انسان کامل بننے میں ممدومعاون ثابت ہوگی۔ اقبال نے ایسے ہی شاہینوں کی آرزو کی تھی وہ انہی سے مخاطب رہے۔ یہ وہ شاہین بنیں گے جو کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتے۔ جو مُردار نہیں کھائیں گے اور جو دنیاوی آلائشوں حرص وہوس حسد کینہ سے پاک ہوں گے۔

ڈاکٹر شاہد رشید نے پودے لگادیئے ہیں یہ سوچے بغیر کہ ان کی چھاﺅں اور پھل کس کے حصے میں آئیں گے۔ ایسا اچھا جُوا کسی صاحب علم نے کم ہی کھیلا ہوگا۔ یہ ایثار اور قربانی دینا سہل نہیں درگاہ کے درودیوار پر اردو پنجابی پشتو سندھی بلوچی کے اشعار پڑھ کر احساس ہوا یہ خوبصورت چمن واقعتاً ایک نئے صوفی کا ڈیرہ ہے۔ اسے زاویہ (ٹرسٹ) سکول کا نام دیا گیا ہے۔ بڑے بڑے مہنگے اور اونچی دکانوں جیسے سکولوں کی نسبت یہ آئیڈیل سکول مجھے بہت اچھا لگا۔ بتایا گیا کہ صرف 15بجے مزید داخل کیے جائیں گے اور پھر انہی کو اے لیول تک لے جایا جائے گا۔ یہ سہانا خواب کاش سبھی پاکستانی دیکھ سکیں۔ یہ سکول کمرشل نہیں۔ بس ایک فقیر کا جدید آستانہ ہے جہاں مرد قلندر بنائے جاتے ہیں۔


ای پیپر