اعلانِ بغاوت
10 مارچ 2018 2018-03-10

جنوبی پنجاب کے اہم مقام بہاولپور کے بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے برطرف شدہ وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے وہ ستر سالہ گلے سڑے اس نظام سے بغاوت کا اعلان کرتے ہیں جس میں ووٹ کی حرمت پامال کی جاتی ہے… یہ عجیب حقیقت ہے پاکستان کی بنیاد 1945-46ء کے ہندوستان گیر ووٹ کی بنا پر رکھی گئی… جس میں پورے برصغیر کے مسلمانوں کی بھاری اکثریت نے کھل کر پاکستان کی شکل میں مسلمانوں کے لیے علیحدہ اور آزاد مملکت کے حق میں رائے دی … یہ ووٹ کی طاقت تھی جس نے انگریز سلطنت اور ہندو اکثریت دونوں کو پاکستان کے مطالبے کے آگے جھک جانے پر مجبور کر دیا اور مملکت خداداد وجود میں آئی… اس ایک نکتے پر تحریک پاکستان اور تحریک آزادی ہند کے تمام مسلمان یا غیرمسلم اور غیرجانبدار مؤرخین اتفاق کرتے ہیںاگر 1945-46ء کے انتخابات منعقد نہ ہوتے، مسلمان ان میں قائداعظمؒ کی قیادت میں اور آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر حصول پاکستان کو اپنا واحد مطالبہ قرار دے کر حصہ نہ لیتے،ووٹ کی طاقت رو بہ عمل نہ آتی تو شاید 14 اور 15 اگست 1947ء کی درمیانی شب کی عہد آفرین گھڑی تک پہنچنا آسان نہ ہوتا… لیکن حیرت کی بات ہے پرچی کی جس طاقت کے آگے قیام پاکستان کی مخالف دو سب سے بڑی قوتوں نے بالآخر سرتسلیم خم کر لیا… اسی کو مسلمانوں کی آزاد اور علیحدہ مملکت حاصل کر لینے کے بعد مسلسل روندا جا رہا ہے… یہ ہماری ستر سالہ تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی مسئلہ بلکہ المیہ ہے… اس مدت کے دوران ایک مرتبہ جو ملک دولخت ہو گیا تو ہماری قومی تاریخ کے اس سب سے بڑے صدمے کی تہ تک اتر کر دیکھیے تو یہ امر کسی بھی آنکھ سے چھپا نہیں رہتا اس المیے کا سب سے بڑا محرک انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکار اور ووٹ کی طاقت کے آگے ہار نہ ماننا تھا… اس میں شک نہیں 1970ء کے پہلے عام اور قومی انتخابات کو مشرقی پاکستان کے علیحدگی پسند اچک کر لے گئے… ان کے ارادوں اور عزائم کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کیا جا سکتا تھا… لیکن ہماری پون صدی کی تاریخ پر نگاہ رکھنے والے کئی اہل بصیرت آج بھی سوال اٹھاتے ہیں اگر واحد اکثریتی جماعت کی حیثیت سے پورے ملک کا اقتدار شیخ مجیب الرحمن اور ان کی عوامی لیگ کے سپرد کر دیا جاتا… ان کے چھ نکات بھی من و عن تسلیم کر لیے جاتے (حالانکہ وہ بھٹو، مجیب، یحییٰ مذاکرات کے آخری مرحلے پر ان میں لچک پیدا کرنے کے لیے تیار تھے) تو زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا پاکستان فیڈریشن کی جگہ کنفیڈریشن بن جاتا… ملک تو ایک رہتا… قوم دو حصوں میں تقسیم نہ ہوتی… سب سے بڑھ کر یہ بھارت کو ہمارے خلاف جارحیت کا موقع نہ ملتا… 1971ء کی جنگ نہ ہوتی… ہماری بہادر اور محب وطن فوج کی دیرینہ اور کمینے دشمن کے آگے ہتھیار پھینکنے کی نوبت نہ آتی… ہماری مقتدر قوتوں کا المیہ اور ملکی قومی امور کے بارے میں ان کا ’’اعلیٰ‘‘ شعور ملاحظہ کیجیے ووٹ کی طاقت کو نہ مانا… پاکستان کی فیڈریشن کو زیادہ سے زیادہ کنفیڈریشن بنتے دیکھنا گوارا نہ کیا… لیکن قومی اور ملکی وحدت کواڑا کر رکھ دینے والے وہ بھی دشمن کے ہاتھوں ان واقعات کا جنم لینا برداشت کر لیا جس کا ذکر تک کرنا آج بھی ہمارے لیے سوہان روح بنا ہوا ہے۔

اس سے بھی بڑھ کر المیہ یہ ہے سبق آج تک نہیں لیا گیا… ووٹ کی حرمت 1971ء کے بعد ایک دفعہ پامال نہیں ہوئی… مسلسل ہو رہی ہے کبھی کرپشن کی آڑ میں کبھی نا اہلی کے بہانے… قومی انتخابات کے بعد عوامی مینڈیٹ کی حامل طاقتوں کو اگر شومیٔ قسمت سے اقتدار مل بھی جاتا ہے تو وقت سے پہلے اکھاڑ پھینکا جاتا

ہے … کسی ایک وزیراعظم نے آئینی مدت پوری نہیں کی… پہلے دوچار مرتبہ آئین اکھاڑ پھینکا گیا… پھر اس کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دینے کی وارداتیں کی گئیں… یہ دونوں کام بدنام ہو گئے ہیں… ساکھ کھو بیٹھے ہیں… نئی ترکیب یہ وضع کی گئی ہے مرضی کے عدالتی فیصلوں کی بنا پر ووٹ کی طاقت کے بل بوتے پر وزیراعظم بننے والے سیاستدان کو گھر کی راہ دکھا دو… زندگی بھر کے لیے نااہل قرار دے دو… اسے قریبی ساتھیوں اور خاندان کے لوگوں سمیت نت نئے مقدمات میں الجھا دو… اس کے ساتھ سازشوں کا ایسا جال بچھا دو کہ انتخابات کے انعقاد سے پہلے مرضی کے نتائج یقینی بنا لیے جائیں… اس کا کسی حد تک کامیاب اور ابھی تک جاری تجربہ سینٹ کے حالیہ چنائو میں کیا گیا ہے… بلوچستان اسمبلی سے شروعات ہوئیں… گزشتہ ماہ فروری میں عام انتخابات کو جبکہ ساڑھے پانچ مہینے رہ گئے تھے وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر دی گئی… اسے کامیاب بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا…اراکین اسمبلی کو خفیہ ٹیلیفون موصول ہوئے… زرداری صاحب کہ مفاہمت کے بادشاہ تصور کیے جاتے تھے اس مقام پر سیاسی توڑ پھوڑ کے کاریگر بن کر سامنے آئے… حالانکہ پوری اسمبلی میں ان کی جماعت کا ایک رکن بھی نہیں … ان کے پہلو بہ پہلو خفیہ کاری کا ایک بڑا افسر بھی سرگرم عمل تھا… دونوں کے جادو نے مل کر کام دکھایا… صرف چھ ووٹوں کی جماعت والا وزیراعلیٰ لایا گیا… کمزور شخص ہے… جیسے چاہو استعمال میں لائو… انکاری نہیں ہو گا… سینٹ کے چیئرمین کے انتخاب کا مرحلہ درپیش ہے… نئے وزیراعلیٰ کے ساتھ درجن بھر آزاد اراکین اسمبلی بھی پوری طرح متحرک ہیں… صوبے کے سیاسی حلقوں کی جانب سے انہیں عسکری گروپ کے خطاب سے نوازا ہے… اسی ایک ترکیب سے پوری کہانی عیاں اور اصل عزائم واضح ہو جاتے ہیں… مقصد وحید یہ ہے سب سے بڑے مینڈیٹ کی حامل اور ملک بھر میں ووٹوں کی طاقت رکھنے والی جماعت کا چیئرمین منتخب نہ ہونے پائے… اس سے قبل ایک نادر روزگار عدالتی فیصلے کی وجہ سے اس جماعت کے امیدواروں کو اپنے معلوم و معروف انتخابی نشان شیر کے جھنڈے تلے چنائو میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا… اس کے باوجود وہ بڑی آن اور بان کے ساتھ آزاد امیدواروں کے طور پر جیتے ہیں اور اپنی سیاسی وفاداری پر آنچ نہیں آنے دے رہے… ووٹ کی طاقت اور غیرمنتخب قوتوں کے درمیان جو آویزش پاکستان کے قیام کے روز اوّل سے جاری ہے دونوں کے سپاہی اس وقت بھی ایک دوسرے کے مقابلے پر صف آراستہ ہیں۔

اب جو نوازشریف صاحب نے ذاتی اور اپنی جماعت کی سیاست کو درپیش پے در پے تلخ تجربات کے بعد ستر سالہ پرانے اس گلے سڑے نظام کے ساتھ ٹکر لینے کے ارادے کا اعلان کیا ہے تو انہیں معلوم ہونا چاہیے اس کا ایک موقع وہ پہلے کھو چکے ہیں… 2007ء میں انہوں نے نوّے کی دہائی کی اپنی سب سے بڑی سیاسی رقیب مرحومہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ میثاق جمہوریت نامی دستاویز پر دستخط کیے تھے… اس کا جذبہ محرکہ بھی یہ تھا جو غیرمنتخب قوتیں ووٹ کی طاقت کے آگے آن کھڑی ہوتی ہیں… آئینی و جمہوری نظام چلنے نہیں دیتیں… ان کا مل کر مقابلہ کیا جائے… یوں آئندہ ان کے عزائم کو کامیاب نہ ہونے دیا جائے… اس دستاویز پر جزوی طور پر عمل ہوا… آج عالم یہ ہے اصل الفاظ موجود ہیں مگر میثاق جمہوریت کی روح بری طرح پامال ہو چکی ہے… میاں نوازشریف اور بے نظیر مرحومہ کے سیاسی وارث آصف علی زرداری صاحب دونوںاپنی اپنی جگہ اس کے ذمہ دار ہیں… کوئی کم کوئی زیادہ… اگر اس عہدنامے کی زیادہ نہیں صرف دوشقات پر پوری طرح عمل درآمد ہو جاتا تو شاید آج کی قومی اور جمہوری پراگندگی کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور موجودہ حالات کے اندر ووٹ کی طاقت بھی اتنی ماند نہ پڑتی… ایک یہ کہ میثاق جمہوریت کے مطابق آزاد احتساب کمیشن کو وجود میں لے آیا جاتا… نیب جیسی چوتھے فوجی آمر جنرل مشرف کی باقیات کو صفحہ ہستی سے مٹا کر رکھ دیا جاتا… تاکہ کرپشن اور کرپٹ عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور منصفانہ مقدمات کی روایت جنم لیتی… سیاسی انتقام کے تحت کارروائیاں نہ کی جاتیں جن سے نیب کا خمیر اٹھایا گیا تھا… دوم تمام آئینی و دستوری تنازعات کے حل کے لیے آزاد سپریم کورٹ قائم کر لی جاتی… جو صرف آئینی مقدمات کا فیصلہ کرتی… جسٹس منیر سے لے کر بابے رحمت تک کی جاری روایت تاریخ کے صفحات کی نذر ہو جاتی… دونوں ضروری کام نہ ہو سکے… نتائج آج جناب نوازشریف سمیت پورے آئینی و جمہوری نظام کو بھگتنا پڑ رہے ہیں… اب جو تین مرتبہ ووٹوں کی طاقت سے منتخب ہونے والے برطرف شدہ وزیراعظم نے ملک کی ووٹ مخالف قوتوں اور ان کی پشت پر کھڑے گلے سڑے نظام کے خلاف اعلان بغاوت کیا ہے… عوامی جلسوں میں اپنی اس طرز سیاست کی بنا پر غیرمعمولی پذیرائی حاصل کر رہے ہیں… انہیں اس پر ڈٹے رہنا ہو گا… آخری نتائج کے حصول تک دم نہ لینا ہو گا… وہ چوتھی مرتبہ وزیراعظم بنیں یا نہ بنیں قوم اور ملک کے لیے ووٹ اور آئین و جمہوریت کی حقیقی سربلندی کی طاقت بحال کرا جائیں… اس سے بڑھ کر خدمت کوئی نہ ہو گی۔


ای پیپر