مجرمانہ خامشی
10 مارچ 2018 2018-03-10

ہم چونکہ عالمی برادری کے رکن ہیں، لہٰذا ہمارے عالمی چرواہے اپنے رپورٹر کو ہانکتے ہوئے جب جس چراگاہ میں لے جاتے ہیں ہم بھی وہاں چر چگ لیتے ہیں۔اگرچہ زہریلی بوٹی چر کر اونٹ (اور شاید بھیڑ بکری بھی) کا جسم پھول کر پھٹ جاتا ہے اور موت واقع ہوجاتی ہے۔ یہ ’حبط‘ کہلاتا ہے۔ اسی سے ’حبط اعمال‘ …اعمال کا ضائع ہوجانا ہے۔ آج امت کے اعمال اسی کا شکار ہیں بد نصیبی سے بھیڑ چال کی بنا پر !8 مارچ دنیا بھر میں بھیڑ بکریوں کی طرح رلتی ’عورت‘ کا دن تھا۔ عالمی ادارے(یو این) نے ہر منہ میں تکا دینے کو ایک ایک دن مختص کر رکھا ہے۔ مزدوروں ، کسانوں ، ماں، باپ، استاد…!زندگی مصروف بہت ہے۔ سال کے 365 دنوں میں سے ایک دن اپنے حقوق کے راگ الاپو ، سیمینار، تصاویر، آڈیو، ویڈیو، کاغذ، سکرین سب تمہارے لئے ہونگے۔ ٹشو پیپر کی دنیا میں سنوار سجا کر خوشبو میں بسا کر، اشتہار میں خوبصورت ناموں اور پیکنگ میں آنے والا ٹشو پیپر بہت جلد کوڑے کی ٹوکری کی زینب بن جاتا ہے! یہ پوری مغربی تہذیب کی علامت ہے۔ ’یورونیوز‘ نے 2017ء میں حقوق نسواں کے حوالے سے جو غیر معمولی کامیابی کی خبریں سجائیں ان میں سے دو ملاحظہ فرمالیں…باقی پوری مغربی دنیا میں روزانہ چھپنے والی پڑھی جااتی ہی ہیں۔اکتوبر 2017ء میں ہالی وڈ پروڈیوسر سرہاروی وینسٹین پر خواتین پر جنسی زیادتی کے الزامات کے حوالے سے کامیاب تحریک ’’می ٹو‘‘ اٹھا کھڑی کی گئی۔ جس کے نتیجے میں حقوق نسواں زدہ پورا مغرب ’’می ٹو‘‘ کے (شرمناک) نعروں سے گونج اٹھا۔ نہ سیاست دان بچے نہ شوبز والے نہ سائنس دان!( یعنی بے حد و حساب عورتیں چلا اٹھیں کہ ’میں بھی‘، ’میں بھی‘ اس ظلم /ہراسانی کا نشانہ بنی) اقبال نے تو صدی بھر پہلے کہہ دیا تھا… فساد کا ہے فرنگی معاشرت میں ظہورٖ! وہ فساد اب اپنی آخری انتہائی کو چھو رہا ہے۔ دیوانگی کا یہ عالم کہ گھٹ گھٹ کر ،سسک سسک کر عورت کا اپنی ہتک اور توہین پامالی برداشت کرتے کرتے 21 ویں صدی کے سترہ سالوں بعد کھل کر اظہار کرنا ممکن ہوگیا! یہ سالہا سال کی بہت بڑی کامیابی ٹھہری ۔ یورو نیوز نے کہا کہ یہ سال عورت اور نو خیز لڑکیوں کیلئے غیر معمولی رہا۔ لاکھوں اٹھ کھڑی ہوئیں جنسی تشدد، عدم مساوات اوربنیادی انسانی حقوق کے لئے ! اسی ضمن کی دوسری کامیابی بھی نفسیاتی بیماری کی ہی علامت ہے۔ اور وہ یہ کہ آسٹریلیا میں دسمبر2017ء میں ہم جنس شادی کی اجازت کا بل پاس ہوگیا! صرف عالمی جنگوں کی درندگی اور وحشت، موت کا کھیل ہی نہیں بلکہ اہل مغرب کے نفسیاتی، ذہنی عوارض بھی اب اسے دنیا کی سربراہی سے معزول کردینے کے متقاضی ہیں۔ شرمناک رویوں، عادات و اخلاق، سیرت و کردار کی گراوٹ کو کب تک خوبصورت اصطلاحوں کے پردے میں ملفوف ،سجا سنوار کر پیش کیا جاتا رہے گا؟ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم لنڈے بازار سے یہ بدبو دار تہذیب لا کر اپنے ہاں پھیلانے میں دن رات ایک کئے دے رہے ہیں۔ ہمیں(پاکیزہ ، باوقار، تقدس بھری اقدار کے وارث!) شرمسار کرنے کو میڈیا پر ایک چیختا چنگھاڑتا عنوان عورت کو حواس باختہ، برین واش کر رہا تھا۔

’خواتین اپنے شوہروں کی ملازمائیں ہیں؟‘ کمال ہے! ہوش کے ناخن لو ذرا، اپنے سگے پاکیزہ شوہر کی خدمت گزاری سے تو ملازمہ بن گئی۔ اور ہوٹلوں میں پرائے مردوں کے بستر کی چادریں بدلتی، کمرے صاف کرتی، جہازوں میں غیر مردوں کے سامنے جھک کر کھانے کی ٹرے پیش کرتی، کوچوں میں سفر کی صعوبت میں رات دن سیٹوں کے درمیان دھکے کھاتی ان کی خدمت گزاری کے عوض چند ٹکے حاصل کرتی تم ترقی یافتہ بن گئی ؟ ویٹرس، سیلز گرل ، ہوسٹس ہو تو معزز۔ ناز برادری کرنے والے شوہر کو کھانا کھلانے میں ’ملازمہ‘ کی پھبتی؟ تو کیا وہ (بحیثیت شوہر) گاڑی چلاتا ڈرائیور ٹھہرا…؟ بازاروں سے سردی گرمی آندھی طوفان بارش میں ضروریات زندگی فراہم کرتا ملازم ہوگیا؟ عورت کو سرد و گرم ، تھکاوٹ ، پرائے مردوں

بدنگاہی ، ہرسانی اور ’’می ٹو‘‘ کی ہولناکی سے بچا کر اپنی محنت کی کمائی بیوی بچوں پر لٹاتا، مردانگی کی عظمت کا ثبوت دیتا نوکر بن گیا۔ نہ پردہ نہ تعلیم نئی ہو کہ پرانی ، نسوانیت زن کا نگہبان ہے فقط مرد! مسلم عورت وفا شعار، ایثار کیش، سکینت، محبت، مروت کا پیکر ، اپنی عزت و عفت کی حفاظت کرتی اسے پاکیزہ نسب اولاد سے نوازتی ، حسنِ تربیت سے آراستہ کرتی ، گھر کو پاکیزہ رفاقت سے جنت کی سی خوشبو میں بساتی حقیر ہوگئی؟ بندر کیا جانے ادرک کا سواد! بنی آدمؑ کی اٹھان ، اس کی اقدار، اس کی تہذیب سیکولر ڈارون کی اولاد سمجھنے سے بھی قاصر ہے۔ پاکستان اس وقت دیوانہ وار امریکہ کو راضی کرنے FATF میں ’گرے‘ قرار دیئے جانے سے نکلنے کیلئے ہاتھ پائوں مار رہا ہے۔(اندیشہ ہے کہ اس کے بعد ’سیاہ‘ قرار نہ دیے جائے) سو ’فیئر اینڈ لولی‘کے بڑے اشتہاروں کے مصداق ’گورا چٹا‘ بن بن کر دکھانے کو کیا کچھ نہیں کیا جارہا! 8 مارچ جہاں عالمی یوم نسواں میں دنیا بھر میں بہت کچھ ہوا، ہمارے ہاں 8 مارچ کو بہار کی خوشی کے عنوان سے اسلام آباد سے لاہور پی آئی اے کی فلائیت PK-304 میں مسافروں نے کیبن کے مردو زن عملے کو رقص کرتے پایا موسیقی پر۔ ناچتے ناچتے مسافروں کو تحائف پیش کرتے تصاویر ، خبریں سوشل میڈیا کے ذریعے ہمارا ’فیئر اینڈ لولی‘ سافٹ امیج ہمیں ’گرے‘ سے نکالنے میں مدد دے گا۔ اسی تسلسل میں بعض خبریں بھاری المیہ بن کر بجلی گرا دیتی ہیں قومی وجود پر۔ ثقافت یکایک کثافت کا بد بو دار تعفن دینے لگتی ہے۔ راولپنڈی کے ایک پوش علاقے بحریہ ٹائون میں رات دو بجے (غیر متوقع طورپر) فلیٹ کا مالک اچانک آگیا تو فلیٹ میں دو نوجوان لڑکے اور دو لڑکیاں پارٹی منا رہے تھے( منیجر سے چابی لے کر)۔ غضبناک ہو کر مالک نے ہوائی فائرنگ کی اور نوجوان کی خوشیاں غارت کردیں۔ المیہ یہ ہوا کہ دونوں لڑکیوں نے گھبرا کر پانچویں منزل سے چھلانگ لگا دی۔ ایک انتقال کر گئی دوسری کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں۔ چار خاندان سافٹ امیج، ترقیٔ نسواں اور آزادی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ مغرب کی تقلید میں کہاں تک جائیں گے؟ فرانس میں آزادی کی دیوانگی میں دو گیارہ سالہ لڑکیوں نے ’زنا بالرضا‘ پر قوم کو حیران پریشان کردیا۔

اب فرانسیسی پارلیمنٹ نے مجبوراً (قانونی!) زنا کی عمر 15 سال لڑکی کیلئے کردی ہے۔ (5 مارچ۔ واشنگٹن پوسٹ) گویا یہ آزادیٔ نسواں کی تحریک کی نئی کامیابی ہے! نکاح کی پاکیزگی کا تو تذکرہ ہی کیا۔ فرانس کے صدر نے کہا ہے کہ ’’اگرچہ ہمارا معاشرہ پارسا تو نہیں ہے تاہم ملک پورا معاشرتی حوالے سے جنسی (Sexism) کے مرض میں ڈوبا ہوا ہے‘‘۔ (ایکسپریس یو کے۔ 7 مارچ) ہمارے ہاں یہ چھوٹی عمر کی شادیوں کے خلاف طوفان کھڑے رکھتے ہیں۔ اور اب قصور کے واقعات کے بہانے بچوں کی ’تعلیم‘ میں یہ عنصر شامل کرنے کا ارادہ بھی ہے (چھوٹی عمر کی شادی کی حوصلہ شکنی) اس بد بو دار عالمی یوم نسواں نے دنیا کی قوت شامہ ختم کردی ہے۔ ان سے مسلم معاشروں کی اقدار کی مہک برداشت نہیں ہو پا رہی۔ (یاد رہے کہ حقوق نسواں کے نعروں، جلسوں، جلوس میں مظلوم عافیہ ، روہنگیا، سری لنکا ، شام کی بچے گود میں لئے بمباریوں کی زد میں بیٹھی عورت کیلئے سرگوشی تک نہیں!) اب شامت ہے انڈونیشا کی عالمی چوہدریوں کو یکایک تیز بخار چڑھ گیا ہے۔دنیا کی سب سے بڑی مسلم ریاست میں عورت بعض رپورٹوں کے مطابق 80 فیصد سکارف اوڑھ رہی ہے اور ساتر لباس پہن رہی ہے۔کلیجہ ہلا دینے والی ایک تصویر (پشت سے لی گئی) میں خواتین قطار اندر قطار سفید با پردہ کھڑی ہیں۔ بڑا سنگین سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ انڈونیشیا کا ’ماڈریٹ اسلام‘ (مشرف، ایم بی ایس برانڈ) خطرے میں ہے۔ پانچ نمازیں پڑھنا، حجاب پہننا ، قرآنی کلاسوں میں جانے کی فضا/دبائو بڑھ گیا ہے۔ مزید یہ کہ تعلیم اور آمدنی جوں جوں بڑھتی ہے سکارف بڑھتا جارہا ہے اپر کلاس اسلام! بوسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر جیریمی مینچیک کے مطابق ’’انڈونیشی مسلمان دنیا بھر میں احیائے اسلام کی روکا حصہ ہیں۔ جس میں اسلام سے بڑھتی ہوئی وابستگی اور مذہبیت کا اظہار ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ سیکولرازم اور سرمایہ داری نظام کا اخلاقی بحران، خلا اور کھوکھلا پن ہے‘‘۔ DW 12 ستمبر 2017ء (اسلام بھر پور، توانا اخلاقی اقدار اور روحانی قوت کا حامل ہے۔ طمانیت سکینت سے تمام رخنے پر کردینے والا!)جاوا کی یونیورسٹی میں نقاب پر پابندی عائد کردی ہے۔41 طالبات اس ’جرم‘ کی مرتکب تھیں! انہیں سمجھایا بجھایا جانا بے سود ہوا تو گریجویشن نہیں کرسکیں گی! دوسری جانب مغرب تو ابھی بنیادی فیصلوں سے بھی قاصر ہے۔ بچے کو آزاد چھوڑ دو بڑا ہو کر خود فیصلہ کرے گا۔ مرد بنے گا یا عورت… اور ان کے ہاں تو بڑے بھی تا دیر دو دنیائوں کے درمیان(مردو زن) لڑھکتے رہتے ہیں۔ طب، سرجری کی ترقی کے ہاتھوں المناک، خوفناک بات یہ ہے کہ یورپ کے چند ممالک میں چونکہ خود مرد ، مرد اور عورت ، عورت جوڑے بنا کر رہتے ہیں لہٰذا ایسی خبریں تسلسل سے آرہی ہیں کہ بچوں کے تحفظ کے قوانین کی آڑ میں چھوٹے چھوٹے عذرات کو بہانہ بناتے ہیں۔ مسلمان بچے…گر کر ہڈی ٹوٹ گئی، کوئی اور بیماری بگڑ گئی تو والدین پر فرد جرم عائد کر کے(عدم توجہ ، لاپروائی) بچے چھین لئے اور ان ’جوڑوں‘ کی گود بھردی۔ مسلم دشمنی کی یہ تشویشناک جہت اس کے علاوہ ہے جو مہاجر شامیوں کے بچے اٹھائے گئے۔ اپنی حرام کاری کی زندگی میں مسلم گھر اجاڑ کر خوشیاں بھری جارہی ہیں۔ فتنۂ دجال اپنی پوری قوت اور قہر سے بڑھا چلا آرہا ہے۔ ہم انہی کے قدموں میں جا پڑنے پر مصر ہیں! ہر مسلمان کو اپنے ایمان کیلئے فیصلہ تو کرنا ہوگا جب قرآن پڑھنا، پڑھانا سرڈھانپنا بھی جرم بن جائے! کب تک ریت میں سردیئے خود فریبی میں رہیں گے؟

اک مجرمانہ خامشی پھیلی ہے چار سو


ای پیپر