خبردار!
10 مارچ 2018

یہ 8فروری 2016ء کی ایک سرد شام کی بات ہے…وسط مغربی امریکی ریاست اوہائیو (Ohio)کے گنجان آباد علاقے اوروِل (Orrville)کے عین وسط میں واقعے ریسکیو 911 کے ایک ایمرجنسی دفتر میں کالز کا تانتا لگا ہوا تھا ، ریسکیو سٹاف معمول کے مطابق ان کالز کی چھان بین کے بعد اپنے سٹاف کو کوئیک ریسپانس کے تقاضوں کے ساتھ ریسکیو کے لئے مختلف مقامات پر بھیج رہا تھا کہ اچانک ایک فون کی گھنٹی بجی ، دوسری طرف ایک کمسن بچی تھی ، جو بار بار مدد کو پکار رہی تھی… یہ تیسرے درجے کی آتشزدگی سے نمٹنے کے لئے ایمرجنسی کال تھی… کوئیک ریسپانس ٹیم نے اپنے بہترین فائر فائیٹرز رابرٹ ایوانز (Robert Evans)اورکریگ ہوسٹیٹلر(Craig Hostetler)کی نمائندگی میں فائر بریگیڈ ٹیم کو جائے حادثہ پر لگی آگ کو بجھانے اور پھنسے ہوئے لوگوں کو ریسکیو کرنے کے لئے روانہ کیا… امریکی معیارات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ٹیم لگ بھگ پندرہ منٹ میں جائے حادثہ پر پہنچ گئی ، آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس نے پورے کاٹیج کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا… ایوانز اور کریگ نے جوانمردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر ممکن کوشش کی کہ تیسرے درجے کی اس آگ کو کسی نہ کسی طرح بجھا لیا جائے لیکن بین الاقوامی معیارات کے اصولوں کا کوئی فارمولا اس آگ کو بجھانے میں کارگر ثابت نہ ہوا… غرض دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے فائر بریگیڈ کی ٹیم کے سامنے پورے گھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔۔ سپیکر پر اعلانات ہونا شروع ہو گئے کہ عمارت کے اند ر اگر کوئی انسان زندہ ہے توعمارت میں اپنی موجودگی کی نشاندہی کرے تاکہ اسے بچانے کی کوشش کی جا سکے… اعلانات کی آواز اتنی اونچی تھی کہ اڑوس پڑوس کے لوگ بھی اکٹھے ہونا شروع ہو گئے… اتنے میں وہ بچی جس نے آگ پر قابو پانے کے لئے فائر بریگیڈ اور ریسکیو ادارے کو کال کی تھی وہ سامنے سے بھاگتے ہوئے آئی اور زور زور سے چلانا شروع کر دیا
Please help and save my Daisy stuck inside the basement
یعنی میری ڈیزی تہہ خانے میں پھنسی ہوئی ہے اس کی مدد کیجئے
ایوانز اور کریگ یہ سنتے ہی چونکے اور ڈیزی کو بچانے کے لئے آگ میں کود پڑے…مرتے مراتے تہہ خانے میں پہنچے اور زور زور سے ڈیزی ڈیزی پکارنے لگے… کافی دیر تک کوئی انسانی آواز نہ آئی تو انہیں احساس ہوا کہ شاید ڈیزی نامی بچی آگ کا ایندھن بن گئی ہے… کافی تگ و دو اور تلاش کے بعد انہیں تہہ خانے میں کتابوں کے شیلف کے پیچھے سے ایک بلی کے میاؤں کی آواز آئی، کریگ نے زورسے ایک دفعہ پھر ڈیزی کہا تو بلی شیلف کے پیچھے سے باہر آ گئی۔۔ یہی وہ ڈیزی تھی جس کی مدد کے لئے اس بچی نے ایمرجنسی نمبر پر کال کی تھی… ڈیزی ظاہری طور پر جھلسی ہوئی تھی اور اسے فرسٹ ایڈ کی ضرورت تھی… اسی لئے تمام تر تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ایوانز اور کریگ نے ڈیزی کو فورا ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال پہنچایا جہاں کسی بھی انسان کی طرح ڈیزی کا باقاعدہ چیک اپ کیا گیا ، ایکسرے اور الٹراساونڈ کے ذریعے اپنی تسلی کی گئی اور بعد ازاں مختصر سے علاج کے بعد ڈیزی کو ا س بچی کے خاندان کے حوالے کر دیا گیا … اس موقعے پر فائر فائیٹرز کے جذبات دیدنی تھے ۔
’ کہنے کو تو ہم نے محض ایک پالتو جانور کو بچایا ہے لیکن یقینی طور جن کا مال ومتاع یعنی گھر آتشزدگی کی نذر ہو گیا ہو … کیا ہم ان کی اتنی قیمتی چیز کو بچا کر ان کے لئے خوشی کا سامان نہیں کر سکتے ، کیا بلی کے حقوق نہیں ہوتے، کیا بلی کو درد نہیں ہوتا، ہمیں فخر ہے کہ ہم آتشزدگی کی زد میں لٹے اس خاندان کے لئے محبت کا کچھ تو بندوبست کر سکے ‘ یہ رابرٹ کے الفاظ تھے …
خواتین و حضرات اور معزز قارئین ! یہ مہذب دنیا کے ترقی یافتہ ملک امریکا کی ایک ترقی یافتہ ریاست کے ایک کم تعلیم یافتہ فائیر مین کے الفاظ ہیں۔ جس کے ارادوں کی پختگی اور سنجیدگی آ پ کو سوچنے پر مجبور کر دے گی۔ اب تیسری دنیا کے ترقی پذیر ملک یعنی پاکستان کے سب سے پڑھے لکھے صوبے پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے ایک نجی ہسپتال کے تعلیم یافتہ سرجن ڈاکٹر کی سنجیدگی کا احوال بھی آپ کو بتا دیتے ہیں۔ ہوا یوں کہ گزشتہ دنوں میرے ایک دوست کی اہلیہ کے دائیں پاؤں کی چھوٹی انگلی کا فریکچر ہوا تو انہیں نیشنل ہسپتال لاہور کے آرتھو پیڈک ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ستر سالہ سرجن ڈاکٹر سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا… ڈاکٹر نے تمام تر فیس وصولی کے بعد اپنے وقت مقررہ سے آدھے گھنٹے بعد چیک اپ کے لئے بلایا… سوال جواب کا سلسلہ شروع ہوا ، قصہ مختصر ڈاکٹر صاحب نے مشورہ دیا کہ انگلی کا آپریشن ہوگا اور لگ بھگ آدھے گھنٹے کے آپریشن کے بعد مریض کو ڈسچارج کر دیا جائے گا… آپریشن کی مد میں اخراجات کی لاگت کا تخمینہ بھی پچیس سے تیس ہزار روپے لگایا گیا… میرے دوست نے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے فیصلہ کیا کہ چلو کم خرچ میں علاج ہو رہا ہے اس لیے ہامی بھر لی لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ تیسری دنیا کے بظاہر فائیو سٹارہوٹل نما ہسپتالوں کے ڈاکٹروں اور مینجمنٹ کا مریضوں کو پھانسنے کا یہی طریقہ واردات ہے…آپریشن والے دن جب مریضہ کو لوکل انستھیسیا دینا تھا تو کہا گیا کہ مریض کو لوکل نہیں بلکہ جنرل دینا ہو گا… پھر آپریشن کی باری آئی تو آدھے گھنٹے کا آپریشن چار گھنٹوں میں ہوا… میرے دوست نے ڈاکٹر سے استفسار کیا تو جواب میں ڈانٹ سننے کو ملی… غرض ایک دن کا آپریشن تین دن پر چلا گیا لیکن مریضہ کو ڈسچارج نہ کرنے کے تمام تر بہانے کئے جاتے رہے اور جب ڈسچار ج کیا گیا تو یہ بھی کہا گیا کہ ان کی انگلی کو سیدھا رکھنے کے لئے لوہے کی ایک پن ڈالی گئی ہے جو چھے ہفتوں کے بعد مزید ایک آپریشن کے ذریعے نکالی جائے گی۔ جو آپریشن پچیس ہزار میں ہونا تھا اس کے اخراجات پانچ لاکھ کو جا پہنچے اور اسے دوسرے آپریشن سے مشروط کر دیا گیا۔ میرا دوست سر پکڑ کر بیٹھ گیا… اور سونے پہ سہاگا … ڈاکٹر صاحب میرے دوست سے کچھ یوں گویا ہوئے…
بھیا ، ابھی تو سستا چھوڑ دیا ہے ، کام اور بھی سیریس ہو سکتا تھا۔ آپ کی جیب سے تھوڑی جا رہا ہے خرچ تو کمپنی اٹھا رہی ہے اس لئے ٹینشن مت لو…
خواتین وحضرات ! یہ پنجاب کا کوئی سرکاری ہسپتال نہیں بلکہ بظاہر بہترین سمجھے جانے والے نجی ہسپتال کے ڈاکٹرز کا رویہ ہے… امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک جہاں انسان تو انسان جانور کی بھی قدر کی جاتی ہے ، ان کے معیارات ، ترجیحات اور اخلاقیات کا معیار ہم تیسری دنیا کے لوگوں سے نہ صرف بہتر ہے بلکہ قابل ستائش بھی ہے … دوسری طرف ہم اورہمارے خادم اعلیٰ کا پنجاب چیخ چیخ کر صدائیں لگا رہاہے ، اپر پنجاب سے جیسے جیسے جنوبی پنجاب کی طرف جائیں ، غربت کی بے پناہ داستانیں ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی صورت گونجنا شروع کر دیتی ہیں… اور چیخ چیخ کر پوچھتی ہیں کہ ہیپا ٹائیٹس اور ایڈز کے مرض سے مرے جا رہے لوگ سڑکوں اور پلوں کے کنکریٹ سے اپنا سر پھوڑیں یا کچھ اور کریں کہ جن کے پاس علاج معالجے کی بنیادی سہولت تک نہیں… عورتیں بچے سکوٹر ، رکشوں پر اور ہسپتالوں کے باہر جنم دے رہی ہیں… اور حکمران نئے پلوں اور فلائی اوورز کی آڑ میں آنے والے دور کے لئے اپنی حکومت کو پکا کر رہے ہیں… پورے پورے ڈویژن میں ایک بھی برن یونٹ نہیں اور اگر ہے بھی تو سرکاری ہسپتالوں اور ڈاکٹرز کے رویوں کی کسے خبر نہیں… وہ جن کی ترجیحات تعلیم ، صحت اور ثقافت ہونی چاہئے تھی ، ان کے لئے میٹرو اور اورنج لائن ہی مقدم ٹھہری… اور شاید ہماری قوم بھی اسی لائق ہے جو تیسری دنیا میں لگی بدعنوانی کی تیسرے درجے کی آگ کو بجھانے کی بجائے تیسرے درجے کی سطحی سوچ میں دھنستی چلی جا رہی ہے اور بار بار اسی کو منتخب کرتی ہے جو ہربار انتخابات میں ووٹ تو لیتا ہے مگر سہولت نہیں دیتا… خبردار ! اس سوچ کو بدلئے… اوراس سوچ کو بدلنے کے لئے ہمیںاس ’تیسرے درجے‘ سے نکلنا ہوگا… اپنے آپ کے ذریعے ، اپنے ووٹ کے ذریعے اور اپنی سوچ کے ذریعے… ورنہ ہم… ہمیشہ تیسری دنیا کے لوگ ہی کہلائے جاتے رہیں گے…


ای پیپر